Last Updated on January 30, 2026 6:45 pm by INDIAN AWAAZ


ڈاکٹر دیویا ساہتیہ نمبالا

عام طور پر خواتین میں مینوپاز کی اوسط عمر 50 سے 52 سال کے درمیان ہوتی ہے، لیکن حالیہ برسوں میں یہ مشاہدہ کیا جا رہا ہے کہ بہت سی خواتین چالیس کی دہائی میں، اور کچھ تو 40 سال سے پہلے ہی مینوپاز کا سامنا کر رہی ہیں۔ یہ صرف عمر سے جڑی ایک تبدیلی نہیں بلکہ بیضہ دانی (اووری) کے وقت سے پہلے کام کرنا بند کر دینے سے دل، ہڈیوں، تولیدی صلاحیت اور ذہنی صحت پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

“ارلی” مینوپاز کیا ہے اور یہ کتنا عام ہے؟

45 سال کی عمر سے پہلے مینوپاز ہونے کو ارلی مینوپاز کہا جاتا ہے۔ اگر یہ 40 سال سے پہلے ہو جائے تو اسے پری میچیور اوویرین انسفیشنسی (POI) کہا جاتا ہے۔ اندازوں کے مطابق تقریباً 5 سے 10 فیصد خواتین میں 45 سال کی عمر تک مینوپاز ہو جاتا ہے، جبکہ 1 سے 3 فیصد خواتین میں یہ 40 سال کی عمر تک ہو سکتا ہے۔ اعداد و شمار کچھ بھی ہوں، ایک بات واضح ہے کہ یہ کوئی نایاب مسئلہ نہیں ہے۔

بنیادی اسباب: جینیات، طبی علاج اور آٹو امیون بیماریاں

ارلی مینوپاز کے پس منظر میں حیاتیاتی عوامل کا بڑا کردار ہوتا ہے۔ خاندانی تاریخ یہاں نہایت اہم ہے—اگر آپ کی والدہ کو جلد مینوپاز ہوا تھا تو آپ میں بھی اس کا امکان بڑھ سکتا ہے۔ کچھ جینیاتی اور کروموسوم سے متعلق مسائل بھی اس کی وجہ بن سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ بعض طبی اسباب بھی ہیں، جیسے بیضہ دانی کو نکالنے کی سرجری، کینسر کے علاج میں کیموتھراپی یا ریڈیوتھراپی، اور کچھ ایسی ادویات جو بیضہ دانی کی کارکردگی کو تیزی سے متاثر کرتی ہیں۔ بعض آٹو امیون بیماریوں میں جسم کا مدافعتی نظام بیضہ دانی کے خلیات پر حملہ کرتا ہے، جس سے وقت سے پہلے مینوپاز ہو سکتا ہے۔

طرزِ زندگی اور ماحولیاتی عوامل

حیاتیاتی وجوہات کے علاوہ طرزِ زندگی اور ماحول بھی اس میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اب تک تسلیم شدہ خطرات میں تمباکو نوشی سب سے نمایاں ہے، جو بیضہ دانی کی عمر بڑھنے کے عمل کو تیز کر دیتی ہے، اور یہ اثر مقدار کے ساتھ بڑھتا ہے۔

بچپن میں بہت کم وزن ہونا، بعض انفیکشنز، اور حالیہ مطالعات کے مطابق—طویل ذہنی دباؤ، غربت اور سماجی مسائل بھی ارلی مینوپاز سے وابستہ ہو سکتے ہیں۔

کیا مینوپاز کی اوسط عمر کم ہو رہی ہے؟

اس سوال پر ماہرین میں ابھی مکمل اتفاق نہیں ہے۔ کچھ علاقوں میں معمولی تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں، جبکہ کئی خطوں میں اوسط عمر مستحکم ہے۔ مختلف تحقیقی طریقۂ کار، یادداشت پر مبنی معلومات، اور بچوں کی پیدائش کے رجحانات میں تبدیلی بھی نتائج کو متاثر کرتی ہے۔ تاہم انفرادی سطح پر دیکھا جائے تو تمباکو نوشی، خراب میٹابولزم اور بچپن کے ذہنی دباؤ جیسے عوامل اب زیادہ عام ہو رہے ہیں، جس کے باعث کم عمر میں تشخیص کے کیسز بڑھ رہے ہیں۔

تولیدی صلاحیت سے آگے بھی کیوں اہم ہے؟

قدرتی عمر سے پہلے ہارمونز کی کمی کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔ ارلی مینوپاز سے ہڈیوں کی کمزوری (آسٹیوپوروسس)، دل کی بیماریاں، یادداشت میں کمی اور موڈ سے متعلق مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تولیدی مدت کم ہو جاتی ہے، جس سے بہت سی خواتین کو جذباتی اور ذہنی صدمہ بھی پہنچتا ہے۔

اگر بروقت تشخیص ہو جائے اور کوئی طبی رکاوٹ نہ ہو تو ہارمون تھراپی طویل مدتی خطرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، اسی لیے وقت پر جانچ نہایت ضروری ہے۔

خواتین کیا کر سکتی ہیں؟ — عملی اقدامات

1. خاندانی تاریخ جانیں: یہ ابتدائی اشارہ فراہم کر سکتی ہے۔
2. تمباکو نوشی سے پرہیز کریں: یہ ایک ایسا خطرہ ہے جسے بدلا جا سکتا ہے۔
3. تولیدی منصوبہ بندی کریں: اگر فکر ہو تو مشاورت کے بعد ایگ فریزنگ یا جلد خاندان شروع کرنے پر غور کیا جا سکتا ہے۔
4. بروقت جانچ اور علاج: اگر ماہواری بے قاعدہ ہو جائے تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ سادہ خون کے ٹیسٹ سے بیضہ دانی کی حالت معلوم ہو سکتی ہے اور دل و ہڈیوں کی صحت کے تحفظ کے لیے علاج پر بات کی جا سکتی ہے۔

آخر میں ایک اہم بات

ارلی مینوپاز اچانک آ سکتا ہے اور خواتین کو تنہا محسوس کرا سکتا ہے، لیکن اچھی خبر یہ ہے کہ اس کی بہت سی وجوہات کی نشاندہی ممکن ہے اور کئی نقصانات سے بچاؤ بھی کیا جا سکتا ہے۔ سب سے اہم چیز آگاہی ہے—خود خاتون کے لیے، اس کے فیملی ڈاکٹر کے لیے اور ماہرِ امراضِ نسواں کے لیے بھی۔ اگر ماہواری میں تبدیلی محسوس ہو یا خاندانی تاریخ موجود ہو تو بلا جھجھک اپنے ڈاکٹر سے بات کریں۔