Last Updated on March 22, 2026 2:48 pm by INDIAN AWAAZ

عندلیب اختر
مشرقِ وسطیٰ میں پھیلتی ہوئی جنگ اب صرف ایک علاقائی تنازع نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات پوری دنیا کی معیشت اور تجارت پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مختلف اقتصادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ بحران طویل ہو گیا تو ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کو مہنگائی، توانائی کے بحران، غذائی عدم تحفظ اور تجارت میں رکاوٹ جیسے سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس صورتحال کے اثرات جنوبی ایشیا خصوصاً بھارت، پاکستان، سری لنکا اور نیپال تک محسوس ہونے لگے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں United Nations Economic and Social Commission for Asia and the Pacific اور United Nations Economic and Social Commission for Western Asia کی رپورٹس کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے ابتدائی دو ہفتوں میں ہی تقریباً 63 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہو چکا ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ اگر یہ تنازع مزید ایک ماہ جاری رہا تو مجموعی نقصان 150 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے جو پورے خطے کی مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً 3.7 فیصد بنتا ہے۔
اس بحران کا مرکز Strait of Hormuz ہے جو عالمی تجارت کا ایک نہایت اہم سمندری راستہ ہے۔ دنیا میں سمندری راستوں سے ہونے والی تیل کی تقریباً ایک چوتھائی تجارت اسی آبنائے سے گزرتی ہے جبکہ مائع قدرتی گیس اور کھاد کی بڑی مقدار بھی اسی راستے کے ذریعے عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث اس راستے پر جہاز رانی تقریباً رک گئی ہے اور اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق یہاں سے گزرنے والے جہازوں کی آمدورفت میں 97 فیصد تک کمی آ چکی ہے۔ اس تعطل کے نتیجے میں روزانہ تقریباً 2.4 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہو رہا ہے۔
جنگ کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں میں بھی واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ گیس اور کھاد کی قیمتیں بھی تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اس تنازع کے بعد تیل کی قیمتوں میں تقریباً 45 فیصد، گیس کی قیمتوں میں 55 فیصد اور کھاد کی قیمتوں میں 35 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔ توانائی اور زرعی شعبے سے وابستہ یہ مہنگائی اب صنعت، نقل و حمل اور خوراک کی قیمتوں کو بھی متاثر کر رہی ہے۔
اس صورتحال نے عالمی سپلائی چین کو بھی شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ کئی بڑی بحری تجارتی کمپنیوں نے مشرقِ وسطیٰ کے لیے اپنی خدمات عارضی طور پر معطل کر دی ہیں جبکہ متعدد بندرگاہوں پر کنٹینرز پھنس گئے ہیں۔ کم از کم 20 ہزار ملاح اس بحران سے براہ راست متاثر ہوئے ہیں اور مال برداری کے اخراجات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ انشورنس کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں جس سے عالمی تجارت مزید مہنگی ہوتی جا رہی ہے۔
اس جنگ کا اثر صرف توانائی تک محدود نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کے شعبے پر بھی پڑ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ہیلیم اور دیگر مخصوص گیسوں کی فراہمی میں رکاوٹ کے باعث سیمی کنڈکٹر اور جدید الیکٹرانک آلات کی تیاری متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔ اگر یہ بحران طویل ہوا تو ایشیا کی بڑی صنعتی معیشتوں میں پیداوار سست پڑ سکتی ہے۔جنوبی ایشیا کے لیے سب سے بڑا خطرہ کھاد کی فراہمی میں رکاوٹ ہے کیونکہ اس خطے کی آبادی تقریباً دو ارب کے قریب ہے اور زرعی پیداوار بڑی حد تک درآمدی کھاد پر منحصر ہے۔ اگر کھاد کی قیمتیں اور سپلائی کا بحران برقرار رہا تو آنے والے زرعی سیزن میں پیداوار کم ہو سکتی ہے جس کے نتیجے میں خوراک کی قیمتیں مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
بھارت کے لیے بھی یہ بحران کئی نئے معاشی چیلنجز لے کر آیا ہے۔ بھارت دنیا کے بڑے توانائی درآمد کنندگان میں شامل ہے اور اپنی تیل کی ضرورت کا بڑا حصہ مشرقِ وسطیٰ سے حاصل کرتا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ براہ راست بھارت کے درآمدی بل کو بڑھا سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں ملک میں ایندھن اور نقل و حمل کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔ اس کا اثر مہنگائی پر بھی پڑ سکتا ہے کیونکہ ایندھن مہنگا ہونے سے صنعتی پیداوار اور خوراک کی قیمتیں دونوں متاثر ہوتی ہیں۔
اس کے علاوہ بھارت کی کھاد کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ بھی خلیجی ممالک سے آتا ہے۔ اگر آبنائے ہرمز کے راستے کھاد کی ترسیل میں رکاوٹ برقرار رہی تو بھارتی زرعی شعبے کو بھی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس صورتحال میں حکومت کو متبادل سپلائی ذرائع تلاش کرنے اور ذخائر بڑھانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
ایک اور بڑا مسئلہ بیرونِ ملک کام کرنے والے بھارتی کارکنوں سے متعلق ہے۔ خلیجی ممالک میں لاکھوں بھارتی کارکن کام کرتے ہیں اور ان کی بھیجی ہوئی ترسیلات زر بھارتی معیشت کے لیے اہم ہیں۔ اگر خطے میں کشیدگی بڑھتی ہے تو نہ صرف ان کارکنوں کی سلامتی خطرے میں پڑ سکتی ہے بلکہ ترسیلات زر میں بھی کمی آ سکتی ہے۔جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک میں بھی اس جنگ کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔ پاکستان میں ایندھن کی فراہمی متاثر ہونے سے پٹرول اور خوراک کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور کئی شہروں میں پٹرول پمپوں پر لمبی قطاریں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ سری لنکا نے ایندھن کی راشن بندی شروع کر دی ہے جبکہ سرکاری سرگرمیاں محدود کر دی گئی ہیں۔ نیپال کو بھی خلیجی ممالک میں کام کرنے والے مزدوروں کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ لاکھوں نیپالی کارکن وہاں روزگار کے لیے موجود ہیں اور ان کی بھیجی ہوئی ترسیلات زر ملکی معیشت کا اہم ستون ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں فضائی سفر بھی شدید متاثر ہوا ہے۔
کشیدگی کے باعث خطے کے بڑے ہوائی اڈوں پر ہزاروں پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں جس سے فضائی کمپنیوں کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوا ہے جبکہ سیاحت اور کارگو نقل و حمل بھی متاثر ہوئی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ بحران جاری رہا تو ایشیا اور الکاہل کے خطے کی معاشی شرح نمو کم ہو کر تقریباً 4 فیصد تک آ سکتی ہے جبکہ گزشتہ سال یہ شرح 4.6 فیصد تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خطے میں غربت، بے روزگاری اور معاشی عدم مساوات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔اقوام متحدہ نے حکومتوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کمزور طبقات کے لیے مالی امداد بڑھائیں، مہنگائی کو قابو میں رکھنے کے لیے مؤثر مالیاتی پالیسیاں اپنائیں اور توانائی اور تجارت کے متبادل راستے تلاش کریں۔ ماہرین کے مطابق توانائی کے ذرائع اور سپلائی چین کو متنوع بنانا اس بحران سے نمٹنے کا ایک اہم طریقہ ہو سکتا ہے۔فی الحال عالمی معیشت کی نظریں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر لگی ہوئی ہیں۔ اگر کشیدگی جلد کم نہ ہوئی تو یہ جنگ صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں رہے گی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی منڈیوں اور خوراک کی فراہمی کے لیے ایک طویل المدتی بحران بن سکتی ہے جس کے اثرات ایشیا سمیت پوری دنیا کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔AMN
