Over 15 lakh people administered Covid-19 vaccines in India so far
Farmers’ tractor rally will begin after R-Day Parade on Jan 26: Delhi police
WHO thanks India for continued support in fight against COVID-19
Thousands of farmers march to Mumbai to protest new agriculture laws
122 Bangladesh Armed Forces personnel to participate in India’s Republic Day parade
FreeCurrencyRates.com

इंडियन आवाज़     25 Jan 2021 08:42:17      انڈین آواز

خواجہ کی شان میں گستاخی : شرم تم کو مگر نہیں آتی

!خواجہ کی شان میں گستاخی تم کو بربادی تک نہ پہنچا دے


مولانا ارشد مدنی


ابھی ابھی چند روز کی بات ہے کہ نیوز 18/ٹی وی چینل کے اینکرم امیش دیوگن نے اللہ کے ولی دنیا کے مال ودولت سے بے نیاز درویش اپنی روحانی کمالات کی وجہ سے سینکڑوں سال سے لاکھوں ہندو اور مسلمانوں کے دلوں کی دھڑکن سلطان الہند خواجہ اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں انتہائی احمقانہ اور جاہلانہ جملہ کہا تھا، جس سے پورے ہندوستان میں کہرام مچ گیا، راقم الحروف اگرچہ کبھی سلطان الہند خواجہ اجمیریؒ کے عرس میں شریک نہیں ہوا؛ لیکن خود میں اور میرے بزرگ جو اپنے آپ کو خواجہ اجمیریؒ کے در کا غلام مانتے ہیں ان کے آستانہ تک حاضری اور فاتحہ خوانی کو باعث سعادت گردانتے ہیں۔


سلطان الہند حضرت خواجہ اجمیریؒ علماء دیوبند کے اکابر کے سلسلہ قدوسیہ چشتیہ صابریہ کے نہایت اہمیت کے حامل اعلیٰ مرتبت ایک شیخ طریقت ہیں؛ چنانچہ بانی دار العلوم دیوبند حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتویؒ نے اپنے شجرہئ منظومہ میں ان لفظوں میں ان کو یاد فرمایا ہے:
بحق آنکہ شاہ اولیا شد ٭  در او بوسہ گاہ اولیا شد
معین الدین حسن سجزی کہ برخاک ٭ندیدہ چرخ چوں او مرد چالاک
”اے اللہ ان کے طفیل اور صدقہ میں جو اولیا کے بادشاہ ہوئے ہیں، جن کی چوکھٹ اولیاء اللہ کی بوسہ گاہ ہے، یعنی خواجہ معین الدینؒ کہ ان جیسا باکمال ولی آسمان نے زمین پر دیکھا نہیں ہے“۔(میرے دل کو ہر باطل کی محبت سے پاک فرما)۔
اسی طرح مجھے جہاں تک یاد پڑتا ہے  ۱۵۹۱؁ء یا  ۲۵۹۱؁ء میں شیخ الاسلام حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ اجمیر شریف تشریف لے گئے تھے وہاں کے سجاد گان نے حضرت مدنی رحمہ اللہ کا بڑا احترام کیا تھا سر پر پگڑی باندھی تھی اور کچھ تبرکات بھی پیش کئے تھے رات کے پروگرام میں حضرت مدنیؒ نے تقریر فرمائی: ”کہ جس طرح آج سے کم وبیش ۳۱/سو سال پہلے انوار نبوت وہدایت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات والا صفات سے ظاہر ہوئے اور تمام عالم کے لئے آپ کی ذات والا صفات سر چشمہ ہدایت بنی اور رہتی دنیا تک بنی رہے گی اسی طرح ہندوستان کے لئے غلام مصطفی حضرت خواجہؒ کی ذات کو اللہ نے راہ ہدایت سے بھٹکی ہوئی اپنی مخلوق کے لئے سر چشمہ ہدایت بنایا ہے صرف ان کی مبارک صورت کو دیکھ کر دہلی سے اجمیر تک بے شمار لوگ ان کے قدموں پر گرے اور شرک وکفر سے تائب ہو کر اپنے اللہ کے سچے فرماں بردار بنے ہیں“  اسی لئے باوجودیکہ خواجہ رحمہ اللہ ایک فقیر اور درویش تھے لیکن لوگوں کے دلوں پر ان کی حکومت تھی ان کو سلطان الہند آج تک کہا جاتا ہے اور لاکھوں کی تعداد میں ہندو اور مسلمان خواجہ کی بارگاہ پہنچتے رہتے ہیں ایسی ذات والا صفات جو اپنے مشائخ کے حکم سے اجمیر پہنچے اور اللہ کے دین کو لوگوں کے دلوں میں اتارنے کے کام کرتے کرتے دنیا سے چلے گئے اور اجمیر شریف ہی کو قیامت تک اپنا مسکن بنا ڈالا ان کو ”لٹیرا“ کہنا، کہنے والے کی بدبختی نہیں تو اور کیا ہے؟۔


باہر سے آنے والے مسلم بادشاہوں کو ہندوستان میں کچھ لوگوں نے یہ لقب دیا ہے کہ وہ ہندوستان کی دولت کو سمیٹ کر باہر لے گئے، یہ بات ان بادشاہوں کے لئے کہی جا سکتی ہے جو حملہ آور ہوئے اور لوٹ گئے اگرچہ وہاں بھی تاریخی اعتبار سے دلائل کو بنیاد بنانا پڑے گا، لیکن وہ بادشاہ جو آئے اور ہندوستان ہی کو انھوں نے اپنا وطن بنا لیا وہ اور ان کی اولاد اور خاندان سینکڑوں سال حکومت کرتے رہے اور مرتے رہے ان کی قبریں ہندوستان ہی میں موجود ہیں تو ان کو لٹیرا کیسے کہا جا سکتا ہے؟ لیکن اس سے آگے بڑھکر اللہ کے ولی فقیروں اور ولیوں کو لٹیرا کہنا یہ تو کہنے والے کی اپنی نادانی اور تاریخ سے بے خبر ہونے کی دلیل ہے۔
لٹیرا اگر کہا جاسکتا ہے تو انگریز اور خاص طور پر (ایسٹ انڈیا کمپنی) کو کہا جاسکتا ہے کیونکہ وہ لوگ ہندوستان کو لوٹنے کھسوٹنے کے لئے ہی آئے تھے اور انھوں نے اپنے دور اقتدار میں ہمارے ملک کی دولت کو لوٹ کھسوٹ کر اپنے خزانے کو آباد کیا ہے، ”معیشت الہند“ کے مصنف لکھتے ہیں کہ:  ۱۰۶۱ ؁ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی کا سرمایہ کل ۰۳/ ہزار پونڈ تھا لیکن ۰۶/ سال کی مدت میں ”چارلس دوم“ ”کرام ول“ کو ایسٹ انڈیا کمپنی نے ۳/ سے لیکر ۴/ لاکھ پاونڈ تک نذرانہ پیش کیا ہے، یہ غور کرنے کی بات ہے کہ کمپنی جب نذرانہ ۴/لاکھ پاونڈ دے رہی ہے تو اس کا اپنا سرمایہ کتنے کروڑ پاونڈ ہو گیا ہوگا؟ جو صرف ۰۶/سال میں سونے کی چڑیا ہندوستان کی دولت کو لوٹ کر بنا ہے۔ یہ بات سوچنی چاہئے کہ جب ساٹھ سال میں یہ لوٹ ہوئی ہے تو تین سوسال میں کتنی لوٹ ہوئی ہوگی۔
۷۵۷۱؁ء میں ”کتاب قانون تمدن وتنزل“ ”بروکس ایڈسن“ لکھتا ہے کہ بنگال کے خزانے یعنی کروڑوں آدمیوں کی کمائی ”نواب سراج الدولہ کی حکومت کو گرانے کے بعد انگریزوں نے ہتھیا کر لندن اسی طرح بھیج دی جس طرح رومن نے ”یونان اور پونٹس“ کے خزانے ”اٹلی“ بھیج دئے تھے، ہندوستان کے خزانے کتنے قیمتی تھے کوئی انسان بھی اس کا اندازہ نہیں کر سکتا، لیکن وہ کروڑوں اشرفیاں ہوں گی، اتنی دولت اور ثروت کہ مجموعی یورپین دولت سے بہت زیادہ تھی۔
”بروکس ایڈسن“ نے اپنی مذکورہ کتاب میں سرولیم دگبی کا یہ قول بھی لکھا ہے کہ بنگال میں نواب سراج الدولہ کے ساتھ اسی جنگ پلاسی  ۷۵۷۱؁ء کے بعد بنگال کی دولت لُٹ لُٹ کر لندن پہنچنے لگی اور اس کا اثر فوراً ہی ظاہر ہوگیا۔
”میجروینکٹ“ کہتا ہے کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے ڈائریکٹروں کے ساتھ سَرسَری اندازہ کے ساتھ بڑی آسانی کے ساتھ دعویٰ کیا جاسکتا ہے کہ جنگ پلاسی ۷۵۷۱؁ء اور جنگ واٹر لو ۵۱۸۱  ؁ء کے درمیانی زمانہ میں ہندوستان سے انگلستان کو پندرہ ارب روپیہ جا چکا تھا۔  (ماخوذ از نقش حیات)
اسی مدت کے اندر ۹۹۷۱  ؁ء میں ریاست میسور کے نواب سلطان ٹیپو رحمہ اللہ کو سرنگا پٹنم میں شہید کیا گیااور ان کی شہادت کے بعد انگریز فوجی لٹیروں نے ان کے خزانے اور وہاں کے رہنے والے ہندو اور مسلمانوں کی دولت وثروت بلکہ ان کی عورتوں کی عزت وآبرو کو جس طرح لوٹا ہے اس کو جاننے کے لئے ”سلطنت خداداد“ کتاب کے صفحات کو ۳۲۳/ سے ۷۳۳/ تک دیکھا جائے، ہم نے جو بھی باتیں نقل کی ہیں وہ خود انگریز مصنفین ہی کی لکھی ہوئی باتوں کو نقل کیا ہے۔
حیرت کی بات ہے کہ اس اینکر کو ایک خدارسیدہ درویش دنیا کی دولت کو ٹھوکر مارنے والا ہندو اور مسلمانوں کے دلوں پر حکومت کرنے والا خدا کا ولی تو ”لٹیرا“ نظر آتا ہے لیکن سونے کی چڑیا ہندوستان کی دولت کے خزانوں کو لوٹ کر انگلستان پہنچانے والا اور ہندوستان کوتنگ دست اور فقیر بنا کر پوری ہندوستانی قوم کو غلام در غلام بنانے والا ”لٹیرا“ نظر نہیں آتا، یہ اینکر اسی غلام بنانے والی قوم کی زبان، اس کی تہذیب اور اس کے تمدن کو ۰۷/ سال کے بعد بھی اپنے لئے باعث صد افتخار سمجھتا ہے جس کا مطلب ہے کہ آج بھی اسی ”لٹیری“ قوم کا غلام ہے اور غلامی کا احساس بھی اس کو نہیں ہوتا، بلکہ ملک کا ایک طبقہ انگریز جیسی لٹیری قوم کی محبت میں خود لٹیرا بنکر ہندوستان کے غریب عوام کی ہزاروں ہزار کروڑ کی دولت لوٹ کر بھاگتا ہے تو اپنے لئے پناہ گاہ یورپ اور خاص طور پر انگلینڈ ہی کو بناتا ہے۔ ان لٹیروں اور بھگوڑوں کی فہرست پارلیمنٹ میں پچھلے دنوں پیش کی گئی تھی لیکن میں نہایت خوش ہوں اور آپ لوگوں کو توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ سلطان الہند خواجہ غریب نواز رحمہ اللہ کی اپنی زندگی تو نہایت پاکیزہ اور بلند ترین ہے ان کی غلامی کا دم بھرنے والے کسی ایک کا نام بھی ہندوستان کے لٹیروں اور بھگوڑوں کی اس فہرست میں آپ کو نہیں ملے گا۔
میں آخر میں اس دریدہ دہن اینکر کو نصیحت کرتا ہوں کہ مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں تمہاری طرف سے خواجہ کی شان میں یہ گستاخی تم کو بربادی کی اوڑ تک نہ پہنچا دے،اس لئے خواجہ کی چوکھٹ پر پہلی فرصت میں جاؤ نذرانہ پیش کرو اور دونوں ہاتھ باندھ کراپنی گستاخی کی معافی مانگو تاکہ تم اس گستاخی کے بھیانک اور برے انجام سے محفوظ رہ سکو اور آئندہ کے لئے اس طرح کی توہین آمیز باتوں سے توبہ کر کے آؤ اور حلال روزی کما کرکے اپنے اور اپنی اولاد کے پیٹ کو پالو اور عزت کی زندگی گزارو۔
(مضمون نگار جمعیۃ علماء ہند کے صدر ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

SPORTS

Motorsport; Hemanth Muddappa retains National Drag Racing title

AMN / Chennai Bengaluru’s Hemanth Muddappa (Mantra Racing) retained his overall title in the 2020 MMSC fm ...

IPL: Kumar Sangakkara named Director of Cricket, Rajasthan Royals

Harpal Singh Bedi / New Delhi IPL franchise Rajasthan Royals on Sunday appointed former Sri Lankan captain ...

خبرنامہ

بھارت میں تیار کردہ دو ویکسین کفایتی ہیں اور مزید چار ویکسین تیاری کے مرحلے میں ہیں: وزیر اعظم

وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ بھارت اِس مہینے کی 16تاریخ ...

نوجوانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مستقبل کے بھارت کی قیادت کریں: وزیر اعظم نریندر مودی

وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ نئی قومی تعلیمی پالیسی میں ...

سپریم کورٹ کی تین نئے زرعی قوانین کے عمل درآمد پر مزید احکامات جاری ہونے تک روک

سپریم کورٹ نے تین زرعی قوانین کے عمل درآمد پر روک لگا دی ہے ۔ ...

TECH AWAAZ

Abu Dhabi Digital signs partnership agreement with Hewlett Packard Enterprise

WEB DESK The Abu Dhabi Digital Authority (ADDA)has signed a partnership agreement with Hewlett Packard Ente ...

Indian Army develops messaging application ‘Secure Application for Internet’

file phot AMN Indian Army has developed a simple messaging application named the Secure Application for ...

MARQUEE

Rashtrapati Bhavan Museum Complex to re-open from January 5

WEB DESK Rashtrapati Bhavan Museum Complex, which was closed for public viewing due to COVID-19 since 13th ...

Now Mt Everest height is 8,848.86 metres

WEB DESK 8,848.86 metres is now new official height of Mount Everest Nepal has announced. The new announcem ...

MEDIA

No station of All India Radio being closed anywhere in country: Prasar Bharati

WEB DESK Prasar Bharati today clarified that no station of All India Radio is being closed anywhere in any ...

50 journalists killed in 2020: RSF

Two-thirds killed in countries “at peace” AGENCIES / WEB DESK AT least 50 journalists were kille ...

@Powered By: Logicsart

Do NOT follow this link or you will be banned from the site!