Last Updated on April 12, 2026 1:00 pm by INDIAN AWAAZ

ایرانی میڈیا نے کہا ہے کہ امریکاکےحد سے زیادہ مطالبات نے مشترکا فریم ورک اور معاہدے کی راہ میں رکاوٹ ڈالی، آبنائے ہرمز اور جوہری حقوق سمیت کئی مسائل مذاکرات میں اختلاف کا باعث بنے، امریکا نے وہ سب کچھ مانگا جو وہ جنگ کے دوران حاصل نہیں کر سکے تھے، معاہدے پر نہ پہنچنےکےباوجودہرمز کی صورتحال تبدیل نہیں ہوگی۔

AMN / WEB DESK

اسلام آباد: ایران اور امریکا کے درمیان جاری اہم مذاکرات بغیر کسی معاہدے کے ختم ہوگئے ہیں، جس کے بعد خطے میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق دونوں فریقین کئی اہم معاملات پر اتفاق رائے حاصل کرنے میں ناکام رہے۔

رپورٹس کے مطابق مذاکرات کی ناکامی کی بڑی وجہ امریکا کے سخت اور زیادہ مطالبات قرار دیے جا رہے ہیں۔

ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ واشنگٹن نے ایسے مطالبات پیش کیے جو اسے جنگ کے دوران بھی حاصل نہیں ہو سکے تھے، جس کے باعث مشترکہ فریم ورک اور ممکنہ معاہدے کی راہ میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔

مذاکرات کے دوران آبنائے ہرمز، ایران کے جوہری حقوق اور خطے میں سیکیورٹی صورتحال جیسے اہم معاملات زیر بحث آئے، تاہم ان نکات پر شدید اختلافات برقرار رہے۔

ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ معاہدہ نہ ہونے کے باوجود آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال میں فوری طور پر کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

دوسری جانب سفارتی ذرائع کے مطابق امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس مذاکراتی وفد کے ہمراہ اسلام آباد سے واپس امریکا روانہ ہو گئے ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ فی الحال مذاکرات کا عمل تعطل کا شکار ہو چکا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مذاکرات کی ناکامی سے خطے میں کشیدگی برقرار رہنے کا خدشہ ہے، جبکہ مستقبل میں دوبارہ بات چیت کے امکانات کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔

ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا ایک اہم مرحلہ مکمل ہو گیا ہے۔

ایرانی نیوز ایجنسی کے مطابق یہ مذاکرات پاکستان میں مقامی وقت کے مطابق آج اتوار کی صبح 3 بج کر 12 منٹ پر اختتام پذیر ہوئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مرحلے میں دونوں ممالک کے وفود کے درمیان بالمشافہ ملاقاتوں کا ایک اور دور ہوا جس کے بعد تکنیکی ماہرین کی ٹیموں نے تحریری مسودوں کا تبادلہ بھی کیا۔

رپورٹس کے مطابق یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ فریقین کسی ممکنہ معاہدے کی سمت عملی اقدامات اٹھا رہے ہیں، تاہم حتمی نتیجے تک پہنچنے کے لیے مزید مشاورت جاری ہے۔

ایرانی حکومت نے واضح کیا ہے کہ مذاکراتی عمل ختم نہیں ہوا بلکہ آج بھی بات چیت کا سلسلہ جاری رہے گا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اہم معاملات پر ابھی مزید پیش رفت متوقع ہے۔

اسلام آباد مذاکرات میں امریکی وفد کی سربراہی نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں، جس میں ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور مشرق وسطیٰ کے لیے نمائندے اسٹیو ویٹکوف شامل ہیں۔

بُری خبر ہے کہ ایران کے ساتھ حتمی معاہدہ طے نہیں ہوا، جے ڈی وینس امریکا روانہ

PHOTO SOCIAL MEDIA

اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان جاری طویل اور اہم مذاکرات کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہوتے دکھائی دے رہے ہیں، جہاں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ بغیر کسی ڈیل کے واپس جا رہے ہیں۔

اسلام آباد میں ایک مختصر پریس بریفنگ دیتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ 21 گھنٹوں سے زائد جاری رہنے والے مذاکرات میں مختلف اہم امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی، تاہم کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پا سکا۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی وفد اب واشنگٹن واپس جائے گا جہاں وہ ڈونلڈ ٹرمپ کو مذاکرات کی مکمل تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔

انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اس عمل میں اہم اور مثبت کردار ادا کیا۔

جے ڈی وینس نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے مذاکرات کے دوران بھرپور لچک اور نیک نیتی کا مظاہرہ کیا، جبکہ ایران کے سامنے اپنی ریڈ لائنز بھی واضح کر دیں۔

ان کے مطابق امریکی وفد نے ایرانی حکام کو ایک بہترین پیشکش دی تاہم معاہدے تک نہ پہنچنا ایران کے لیے زیادہ نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ نے صاف طور پر بتا دیا ہے کہ کن نکات پر اتفاق ممکن ہے اور کن پر نہیں اور ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ان شرائط کو تسلیم کرے۔

امریکی نائب صدر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ واشنگٹن چاہتا ہے کہ ایران واضح یقین دہانی کرائے کہ وہ ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش نہیں کرے گا جو اس پورے مذاکراتی عمل کا ایک مرکزی نکتہ رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری اہم سفارتی عمل پر غیر معمولی بے نیازی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے نتائج سے انہیں کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ ڈیل طے پا بھی سکتی ہے اور نہیں بھی، لیکن دونوں صورتوں میں امریکہ اپنے مؤقف پر قائم رہے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم دیکھ رہے ہیں آگے کیا ہوتا ہے مگر کامیابی یا ناکامی میرے لیے اہم نہیں۔

امریکی صدر نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکہ پہلے ہی ایران کے خلاف برتری حاصل کر چکا ہے, ایرانی قیادت ختم کر دی گئی ہے، ان کی نیوی، فضائی اور دفاعی نظام کو ختم کر دیا ہے اور اس تنازع میں کامیابی اس کے حصے میں آ چکی ہے۔

ٹرمپ نے حساس بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ وہاں بارودی سرنگوں کی موجودگی کا خدشہ ہے تاہم امریکی فورسز جدید مشینری کے ذریعے ان کی صفائی میں مصروف ہیں۔

ان کا ایران کو چین کی جانب سے اسلحہ فراہم کرنے کی اطلاعات پر کہنا تھا کہ اگر یہ بات درست ہوئی تو اس کے نتائج چین کے لیے انتہائی سنگین ہوں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ خطے میں ایران اور اس کی پراکسیز کے خلاف ہماری فوجی مہم ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے عوام سے خطاب میں کیا۔

وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا کہ اگرچہ جنگ بندی کی کوششیں ہو رہی ہیں لیکن اسرائیل کی کارروائیاں ابھی مکمل نہیں ہوئیں۔

نیتن یاہو کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے تاریخی نتائج حاصل کیے ہیں، ایرانی قیادت کو ختم کیا، فوجی طاقت تباہ کی لیکن یہ مہم ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ایران کے پاس موجود افزودہ یورینیم کے ذخائر کو یا تو کسی معاہدے کے ذریعے ختم کیا جائے گا یا پھر دیگر طریقے استعمال کیے جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ ایران جنگ بندی کے لیے بے چین ہے اور اس کی حکومت کمزور ہو چکی ہے اور وہ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔

نیتن یاہو نے یہ بھی بتایا کہ انھوں نے لبنان کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کی منظوری دے دی ہے جو آئندہ ہفتے واشنگٹن میں متوقع ہیں۔

  • Iran’s Foreign Ministry spokesperson said delegations reached an understanding on several points, but “views far apart” on two to three issues.
  • The US insisted on guarantees that Iran would not pursue nuclear weapons, which Tehran refused to accept.
  • Both sides held “substantive discussions” and exchanged proposals on issues like sanctions, nuclear policy, and regional conflict.
  • Iran said progress depends on US “good faith” and recognition of its rights, including sanctions relief and access to funds.
  • Pakistan was praised by both sides for mediating despite the deadlock.