Last Updated on March 23, 2026 8:53 pm by INDIAN AWAAZ

واشنگٹن / تہران AMN
امریکی صدر Donald Trump نے ایران کے توانائی کے مراکز پر ممکنہ فوجی حملے کو فی الحال مؤخر کرتے ہوئے پانچ دن کی مہلت دینے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے خفیہ سفارتی رابطے جاری ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے CNN کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ حالیہ رابطوں کے دوران کچھ پیش رفت ہوئی ہے۔

“مذاکرات میں تقریباً 15 اہم نکات پر اتفاق سامنے آیا ہے،” ٹرمپ نے کہا، اور مزید بتایا کہ سفارتی کوششوں کو موقع دینے کے لیے فی الحال ایران کے توانائی کے ڈھانچے پر حملے کو روک دیا گیا ہے۔

اس سے قبل ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایران نے اہم سمندری راستہ Strait of Hormuz کو مکمل طور پر بحری آمدورفت کے لیے نہ کھولا تو امریکہ ایرانی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ یہ آبنائے عالمی تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ہے اور دنیا کی تقریباً 20 فیصد سمندری تیل سپلائی اسی راستے سے گزرتی ہے۔


ایران نے براہِ راست مذاکرات کی تردید کر دی

ٹرمپ کے بیان کے فوراً بعد ایران نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی براہِ راست مذاکرات کے دعوے کو مسترد کر دیا۔

ایران کی وزارتِ خارجہ نے سرکاری میڈیا کے ذریعے کہا:

“تہران اور واشنگٹن کے درمیان کوئی براہِ راست مذاکرات نہیں ہو رہے۔”

تاہم خبر رساں اداروں Reuters اور CNN کے مطابق کئی ممالک پسِ پردہ دونوں فریقوں کے درمیان پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق خلیجی ممالک سمیت بعض بین الاقوامی طاقتیں اس ثالثی میں کردار ادا کر رہی ہیں۔


خطے میں حملے جاری، ہلاکتوں میں اضافہ

سفارتی کوششوں کے باوجود خطے میں فوجی کارروائیاں جاری ہیں۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق حالیہ دنوں میں Israel نے تہران کے مختلف مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ حملے مشرقِ وسطیٰ میں جاری وسیع تر کشیدگی کا حصہ ہیں جس میں Iran اور اس کے اتحادی بھی شامل ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ایران اور لبنان میں جاری جھڑپوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچ چکی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو خطے میں ایک بڑا انسانی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔


عالمی تیل مارکیٹ کا فوری ردِعمل

امریکی صدر کے بیان کے بعد عالمی تیل مارکیٹ میں فوری ردِعمل دیکھنے میں آیا۔

Reuters کے مطابق عالمی خام تیل کی قیمت 7 فیصد سے زیادہ گر کر 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئی، جبکہ اسی دن کے آغاز میں قیمت تقریباً 114 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی۔

ماہرین کے مطابق قیمتوں میں یہ کمی اس امید کی عکاسی کرتی ہے کہ سفارتی کوششیں کامیاب ہو سکتی ہیں اور خلیج میں تیل کی سپلائی کو درپیش بڑے خطرات کم ہو سکتے ہیں۔


آئندہ دن فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں

اگرچہ امریکہ نے فی الحال فوجی کارروائی مؤخر کر دی ہے، مگر صورتحال بدستور نہایت نازک ہے۔

اہم مسائل اب بھی حل طلب ہیں، جن میں شامل ہیں:

  • Strait of Hormuz میں بحری آمدورفت کی بحالی
  • خطے میں فوجی سرگرمیوں کا خاتمہ
  • عالمی توانائی سپلائی کا استحکام

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے چند دن انتہائی اہم ہوں گے۔ اگر سفارتی رابطے کامیاب ہوتے ہیں تو کشیدگی میں کمی آ سکتی ہے، لیکن مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں خطے میں مزید فوجی تصادم کا خطرہ برقرار رہے گا۔

اس وقت پوری دنیا کی نظریں واشنگٹن، تہران اور خلیج کے خطے پر مرکوز ہیں کیونکہ یہاں ہونے والی کسی بھی پیش رفت کا اثر نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔