Last Updated on March 26, 2026 5:11 pm by INDIAN AWAAZ

نئی دہلی: مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ایران نے اشارہ دیا ہے کہ اہم بحری راستہ آبنائے ہرمز دوست ممالک کے تجارتی جہازوں کے لیے کھلا رہے گا، جن میں بھارت بھی شامل ہے۔ اس اعلان کو بھارت کی توانائی سلامتی کے لیے ایک اہم اور اطمینان بخش پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا کہ بھارت، چین اور روس جیسے دوست ممالک کے تجارتی جہاز اس اہم سمندری راستے سے گزر سکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے مخالف ممالک سے وابستہ جہازوں کو اس راستے سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں یہ خطہ جنگی کشیدگی کا شکار ہے، اس لیے ایران کے دشمن ممالک یا ان کے اتحادیوں کے جہازوں کو یہاں سے گزرنے دینے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ البتہ دوست ممالک کے ساتھ تجارتی سرگرمیاں جاری رہیں گی۔

بھارت کے لیے یہ پیش رفت خاصی اہم سمجھی جا رہی ہے کیونکہ ملک کی بڑی مقدار میں خام تیل کی درآمد خلیجی خطے سے ہوتی ہے اور ان میں سے زیادہ تر جہاز آبنائے ہرمز کے ذریعے ہی عالمی منڈیوں تک پہنچتے ہیں۔ یہ تنگ سمندری راستہ خلیج فارس کو دنیا کے بڑے تجارتی راستوں سے جوڑنے والا سب سے اہم توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے۔

ماہرین توانائی کے مطابق ایران کے اس بیان سے بھارت اور ایشیا کے دیگر ممالک کے لیے تیل کی فراہمی کے حوالے سے خدشات میں کچھ حد تک کمی آسکتی ہے۔ تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی تیل کی قیمتوں اور بحری نقل و حمل کے اخراجات پر اثر پڑ سکتا ہے۔

بھارت بھی مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے کیونکہ اس خطے میں کسی بھی بڑی کشیدگی کا براہِ راست اثر تیل کی قیمتوں، سمندری تجارت اور ملک کی معیشت پر پڑ سکتا ہے۔