Last Updated on March 22, 2026 3:51 pm by INDIAN AWAAZ

اے ایم این ۔ یو این نیوز
اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او) نے بتایا ہے کہ مچھلی کی تجارت کے شعبے میں کئی طرح کی دھوکہ دہی عام ہو گئی ہے تاہم اس کا تدارک کرنے کے طریقہ کار بھی ترقی پا رہے ہیں۔ادارے نے ‘ماہی گیری اور آبی زراعت کے شعبے میں غذائی دھوکہ دہی’کے عنوان سے شائع کردہ رپورٹ میں اس پیچیدہ مسئلے کی جامع تصویر پیش کرتے ہوئے بتایا ہے کہ جدید تجزیاتی طریقے کس طرح اس شعبے میں دھوکہ دہی کی نشاندہی میں مدد دے سکتے ہیں۔دنیا میں ماہی گیری اور آبی زراعت کی صنعت کا حجم 195 ارب ڈالر ہے جس میں دھوکہ دہی کے پھیلا¶ کا کوئی مستند تخمینہ موجود نہیں، تاہم تحقیقی شواہد سے اندازہ ہوتا ہے کہ مچھلی کی تقریباً 20 فیصد تجارت میں کسی نہ کسی طرح کی دھوکہ دہی کا امکان ہو سکتا ہے۔ یہ شرح گوشت، پھلوں اور سبزیوں میں دھوکہ دہی کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ مچھلیوں کی ہزاروں اقسام ہوتی ہیں اور سبھی لوگ ان کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں رکھتے۔
دھوکہ دہی کے طریقے
مچھلی کی تجارت میں دھوکہ دہی حیاتیاتی تنوع، انسانی صحت یا معاشی نظام کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے۔ اس شعبے میں دھوکے کی بڑی اقسام درج ذیل ہیں:
ملاوٹ (مثلاً ٹونا مچھلی کو تازہ دکھانے کے لیے اسے رنگنا)
نقل سازی (سٹارچ سے نقلی جھینگا مچھلی کی تیاری)
بناوٹی مشابہت (مثلاً سوریمی کو کیکڑے کے گوشت کے طور پر فروخت کرنا)
غلط تقسیم (مچھلی اور دیگر آبی پیداوار کی غیر متعلقہ منڈیوں میں فروخت)
مچھلی کی چوری
غلط برانڈنگ (پائیداری کے جھوٹے دعوے)
اوور رن (مچھلی کا حد سے زیادہ شکار)
اقسام کی تبدیلی (مثلاً تیلاپیا کو ریڈ سنیپر کے طور پر بیچنا)
تبدیلیß غلط لیبلنگ (مچھلی پکڑنے کے اصل مقام یا تاریخ میں تبدیلی)
مچھلی کی سائنسی جانچ
رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ مچھلی کی لیبلنگ میں جہاں ممکن ہو سائنسی ناموں کا اندراج لازمی قرار دیا جائے اور سپلائی چین میں پیداوار کے ماخذ کی نشاندہی کے بہتر طریقے متعارف کرائے جائیں۔
اس مقصد کے لیے جدید تکنیک جیسا کہ انزائم اور آئسوٹوپ کا تجزیہ اور جوہری مقناطیسی تکنیک موثر ثابت ہو سکتی ہیں تاہم یہ ہر جگہ دستیاب نہیں۔ علاوہ ازیں، پورٹیبل ایکس رے فلوروسینس اور مشین لرننگ ماڈل بھی پیداوار کی ضابطہ کاری میں مدد دینے والی نئی اختراعات ہیں۔
سمندری خوراک اور جعلسازی
اگرچہ مچھلی کی تجارت کے شعبے میں دھوکہ دہی پر ہزاروں تحقیقی جائزے لیے جا چکے ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ یہ مسئلہ انٹارکٹکا کے سوا ہر براعظم میں موجود ہے، مگر اس کی درست عالمی شرح جانچنے کے لیے کوئی مستند بنیادی مطالعہ موجود نہیں۔
دنیا بھر میں کم از کم 12 ہزار سے زیادہ اقسام کی مچھلی استعمال ہوتی ہے لہٰذا اس شعبے میں دھوکہ دہی کی متعدد شکلیں رائج ہیں اور اس حوالے سے یکساں قانونی تعریفات کی بھی کمی ہے جس کے باعث عالمی سطح پر دھوکہ دہی کا تخمینہ لگانا آسان نہیں۔ بعض جائزوں کے مطابق، ہوٹلوں میں فروخت ہونے والی 30 فیصد تک سمندری خوراک غلط لیبل کے ساتھ پیش کیے جانے کا امکان ہوتا ہے۔ رپورٹ میں لاطینی امریکا کے سیویچے سٹال، چین میں سمندری خوراک پیش کرنے والے ہوٹلوں اور یورپی یونین میں ڈبہ بند ٹونا کی فروخت کی مثالیں دی گئی ہیں۔رپورٹ کے مطابق، امریکا میں فروخت ہونے والی آبی مصنوعات کا تقریباً ایک تہائی حصہ لیبل کے مطابق نہیں ہوتا جبکہ درآمدات میں سے ایک فیصد سے بھی کم کی جانچ کی جاتی ہے۔
صحت کے لیے خطرات
کچھ اقسام کی مچھلی میں دھوکہ دہی انسانی صحت کے لیے واضح طور پر خطرناک ہوتی ہے، جیسا کہ بعض مچھلیاں کچی حالت میں نقصان دہ ہو سکتی ہیں یا مچھلی کو دوبارہ منجمد کرنے سے اس میں بیکٹیریا بڑھنے کا خطرہ ہوتا ہے۔تاہم اس دھوکہ دہی کا سب سے بڑا سبب معاشی فائدہ ہے۔ مثال کے طور پر، فارم میں پالی جانے والی تقریباً تمام اٹلانٹک سالمن کو کھلے پانیوں کی پیسیفک سالمن کے طور پر بیچنے سے فی کلو پر تقریباً 10 ڈالر کا اضافی منافع حاصل ہوتا ہے۔
اسی طرح، یونان یا ترکی سے درآمدہ فارم کی سی باس کو اگر اٹلی کی مقامی مچھلی کے طور پر بیچا جائے تو اس کی قیمت دو سے تین گنا بڑھ جاتی ہے اور اگر اسے کھلے پانیوں سے حاصل کردہ مچھلی ظاہر کیا جائے تو قیمت مزید بڑھ جاتی ہے۔ وزن اور قیمت بڑھانے کے لیے مچھلی میں پانی شامل کرنا بھی ایک عام طریقہ ہے۔
مچھلی کے اصل جغرافیائی ماخذ کو چھپانے یا مقررہ کوٹے سے زیادہ شکار کے شواہد مٹانے کے لیے بھی دھوکہ دہی سے کام لیا جاتا ہے جس سے مچھلیوں کے ذخائر میں کمی آنے یا ان کے ختم ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔
دھوکہ دہی کی نشاندہی
مچھلی کی تجارت میں دھوکہ دہی کی نشاندہی ایک پیچیدہ عمل ہے، تاہم رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سائنسی ترقی کس طرح اس مسئلے سے نمٹنے میں مدد دے سکتی ہے۔یہ جانچنے کا کوئی معیاری طریقہ تاحال موجود نہیں کہ کسی سمندری خوراک کو کتنی بار منجمد کیا گیا، تاہم کھلے پانی سے پکڑی جانے والی اور فارم سے حاصل کردہ مچھلی کے فیٹی ایسڈز میں فرق اور کاربن و نائٹروجن کے تناسب کے ذریعے مچھلی کے جغرافیائی ماخذ کی نشاندہی ممکن ہو سکتی ہے۔رپورٹ میں اٹلی، ارجنٹائن اور امریکا میں دھوکہ دہی کے مشتبہ کیسز سے نمٹنے کے لیے کی گئی مشترکہ کوششوں کا جائزہ بھی لیا گیا ہے۔
امریکہ کے شہر لاس اینجلس میں ڈی این اے بارکوڈنگ کے ذریعے کی گئی ایک تحقیق سے معلوم ہوا کہ پراسیسنگ پلانٹس میں غلط لیبلنگ کی شرح کم، پرچون کی بڑی دکانوں پر معتدل، جبکہ سوشی فروخت کرنے والے ہوٹلوں میں خاصی زیادہ ہے۔ ٹونا، الباکور اور سالمن میں غلط لیبلنگ کم پائی گئی جبکہ ریڈ سنیپر اور ہالیبٹ میں یہ عام تھی۔تعلیمی اداروں، صنعت اور حکومتی شراکت سے شروع کی گئی ایک مقامی مہم کے نتیجے میں 10 سال کے دوران غلط لیبلنگ میں دو تہائی تک کمی آئی۔ رپورٹ کے مطابق، مچھلی اور ہر طرح کی خوراک کی تجارت میں دھوکہ دہی کے خاتمے کے لیے روک تھام اور موثر نفاذ قانون ناگزیر ہے جس میں نجی شعبے کی فعال شمولیت بھی ضروری ہے۔
