Last Updated on March 31, 2026 12:43 am by INDIAN AWAAZ

نیوز ڈیسک

آج کے ڈیجیٹل دور میں مصنوعی ذہانت (AI) تیزی سے روزمرہ زندگی کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔ چیٹ بوٹس، وائس اسسٹنٹس اور تعلیمی ایپس جیسے کئی ٹیکنالوجی ٹولز اب گھروں اور اسکولوں میں استعمال ہو رہے ہیں۔ یہ نئی ٹیکنالوجی بچوں کو سیکھنے اور دنیا کو سمجھنے کے نئے مواقع فراہم کرتی ہے، لیکن اس کے ساتھ کچھ سنجیدہ خطرات بھی وابستہ ہیں۔

اسی موضوع کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے UNICEF نے Ying Xu سے گفتگو کی، جو Harvard University میں اے آئی اِن لرننگ اینڈ ایجوکیشن کی اسسٹنٹ پروفیسر ہیں اور بچوں پر اے آئی کے اثرات پر تحقیق کر رہی ہیں۔

بچوں سے اے آئی کے بارے میں بات کب شروع کریں؟

ماہرین کے مطابق والدین بچوں سے اے آئی کے بارے میں بات چیت کم عمری سے ہی شروع کر سکتے ہیں۔ آج کل بہت سے بچے چاہے خود اے آئی ٹولز استعمال نہ بھی کرتے ہوں، لیکن وہ گھروں میں موجود آلات، اسکول کی گفتگو، دوستوں کی باتوں یا میڈیا کے ذریعے اس ٹیکنالوجی کے بارے میں سن لیتے ہیں۔

ایسے میں بہتر طریقہ یہ ہے کہ والدین بچوں کے تجسس کو بنیاد بنائیں۔ جب بچہ اے آئی کے بارے میں کوئی سوال کرے یا کسی چیز میں دلچسپی دکھائے تو یہی وقت گفتگو شروع کرنے کے لیے سب سے موزوں ہوتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چھوٹے بچے بھی آسان انداز میں یہ سمجھ سکتے ہیں کہ اے آئی کیا کر سکتی ہے اور کیا نہیں۔ اگر انہیں ابتدائی مرحلے میں اس کی بنیادی سمجھ دی جائے تو وہ مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کو زیادہ اعتماد کے ساتھ استعمال کر سکتے ہیں۔

بچوں کو اے آئی کیسے سمجھائیں؟

کم عمر بچوں کو اے آئی سمجھانے کا بہترین طریقہ روزمرہ کی مثالیں ہیں۔ بہت سے گھروں میں پہلے ہی اے آئی سے چلنے والے آلات موجود ہوتے ہیں، جیسے اسمارٹ اسپیکر، روبوٹ ویکیوم کلینر یا روبوٹ کھلونے۔

والدین بچوں کو بتا سکتے ہیں کہ یہ آلات انسانوں کی طرح سوچتے یا محسوس نہیں کرتے بلکہ صرف دی گئی ہدایات پر عمل کرتے ہیں اور کچھ نمونوں کو پہچانتے ہیں۔

والدین بچوں کے ساتھ مل کر اے آئی کا استعمال بھی کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر بچے کو کوئی سوال ہو تو اسے کسی چیٹ بوٹ میں لکھ کر اس کا جواب ساتھ دیکھیں اور پھر اس پر بات کریں کہ جواب کا کون سا حصہ درست لگتا ہے اور کون سا حصہ مشکوک یا نامکمل ہے۔

تعلیم میں اے آئی کا کردار

اے آئی بچوں کی تعلیم میں کئی طریقوں سے مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ بہت سے اے آئی ٹولز مشکل موضوعات کو آسان انداز میں سمجھاتے ہیں، فوری طور پر سوالوں کے جواب دیتے ہیں اور ہر بچے کی ضرورت کے مطابق مشق فراہم کرتے ہیں۔

تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جب اے آئی نظام خاص طور پر تدریس کے لیے تیار کیے جائیں تو بچے ان سے اتنی ہی مؤثر انداز میں سیکھ سکتے ہیں جتنا کسی انسانی استاد سے۔

تاہم ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ اگر بچے ہر مسئلے کے حل کے لیے اے آئی پر انحصار کرنے لگیں تو اس سے ان کی خود سوچنے اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔

رازداری کا تحفظ ضروری

اے آئی ٹولز استعمال کرتے وقت بچوں کی ذاتی معلومات کا تحفظ بھی نہایت اہم ہے۔ کئی ایپس اکاؤنٹ بنانے کے لیے بنیادی معلومات طلب کرتی ہیں، جیسے بچے کی عمر، والدین کا رابطہ نمبر یا ادائیگی سے متعلق تفصیلات۔

کبھی کبھار بچے چیٹ کے دوران غیر ارادی طور پر اپنی ذاتی معلومات بھی شیئر کر دیتے ہیں، جیسے اسکول کا نام، گھر کا پتہ، دوستوں کے بارے میں معلومات یا اپنی ذاتی جذبات۔

اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے ساتھ مل کر پرائیویسی سیٹنگز دیکھیں اور انہیں سمجھائیں کہ کون سی معلومات شیئر کرنا محفوظ ہے اور کون سی نہیں۔

اے آئی خواندگی کیسے پیدا کی جائے؟

بہت سے والدین کو محسوس ہوتا ہے کہ اے آئی اتنی تیزی سے بدل رہی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی صحیح رہنمائی نہیں کر پاتے۔ ماہرین کے مطابق والدین کو خود کو ٹیکنالوجی کا ماہر سمجھنے کی ضرورت نہیں ہے۔

آج کے دور میں اکثر بچے اور بڑے دونوں ایک ساتھ نئی ٹیکنالوجی سیکھ رہے ہوتے ہیں۔ اس لیے بہتر طریقہ یہ ہے کہ والدین بچوں کے ساتھ مل کر سیکھنے اور دریافت کرنے کا عمل جاری رکھیں۔

کچھ بیرونی وسائل بھی اس سلسلے میں مددگار ہو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر Common Sense Media کئی اے آئی ایپس کی درجہ بندی اور جائزے فراہم کرتا ہے، جس سے والدین کو یہ فیصلہ کرنے میں آسانی ہوتی ہے کہ کون سی ایپس بچوں کے لیے زیادہ محفوظ ہیں۔

ممکنہ خطرات کو سمجھنا بھی ضروری

اے آئی کے خطرات صرف ڈیٹا پرائیویسی یا نامناسب مواد تک محدود نہیں ہیں بلکہ یہ بچوں کی سماجی اور جذباتی نشوونما کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔

کچھ بچے جذباتی مسائل یا تنہائی کے وقت اے آئی سے گفتگو کرنا آسان سمجھتے ہیں۔ لیکن طویل مدت میں اس بات کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے کہ وہ حقیقی لوگوں کے بجائے ٹیکنالوجی پر زیادہ انحصار کرنے لگیں۔

اسی طرح حقیقی تعلقات میں اختلاف، سمجھوتہ اور مکالمہ شامل ہوتا ہے، جبکہ بہت سے اے آئی نظام ہمیشہ مثبت اور متفق رہنے والے انداز میں جواب دیتے ہیں۔ اس سے بچوں کی تعلقات کے بارے میں توقعات غیر حقیقی ہو سکتی ہیں۔

والدین کے لیے اہم پیغام

ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی اہم ضرور ہے، لیکن بچوں کی نشوونما میں یہ صرف ایک عنصر ہے۔ بچوں کی زندگی میں خاندان، دوست، روزمرہ کی سرگرمیاں اور سماجی تجربات کہیں زیادہ اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ اے آئی کے بارے میں باخبر رہیں، مگر اسے حد سے زیادہ خوف یا تشویش کا سبب نہ بنائیں۔ اصل اہمیت اس ماحول کی ہے جس میں بچے سیکھتے ہیں، بڑھتے ہیں اور اپنی صلاحیتوں کو فروغ دیتے ہیں۔