Last Updated on April 13, 2026 9:58 pm by INDIAN AWAAZ

نئی دہلی، 13 اپریل:
سینئر صحافی و ادیب معصوم مرادآبادی کی مرتب کردہ کتاب “ڈاکٹر عبدالجلیل فریدی: قائدِ ملت، مسیحائے قوم” کی رسمِ اجرا ایک باوقار تقریب کے دوران کانسٹی ٹیوشن کلب میں انجام پائی۔ یہ تقریب انڈین مسلمس فار سول رائٹس، نئی دہلی کے اشتراک سے منعقد ہوئی۔

تقریب کی صدارت سابق رکنِ پارلیمنٹ محمد ادیب نے کی، جبکہ دہلی کے سابق لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ مہمانِ خصوصی تھے۔ کتاب کا اجرا آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر ڈاکٹر ظفرالاسلام خاں اور دیگر معزز شخصیات کے ہاتھوں عمل میں آیا۔

اس موقع پر سابق چیف انفارمیشن کمشنر وجاہت حبیب اللہ، پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس جسٹس اقبال احمد انصاری، رکنِ پارلیمنٹ مولانا محب اللہ ندوی، پدم شری پروفیسر اخترالواسع اور ڈاکٹر ایس فاروق سمیت کئی ممتاز شخصیات موجود تھیں۔ تقریب کا آغاز مولانا محب اللہ ندوی کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔

نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے معصوم مرادآبادی نے کہا کہ شخصیت نگاری ان کا محبوب میدان ہے اور وہ متعدد اہم شخصیات پر کام کر چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر عبدالجلیل فریدی پر یہ کتاب وسیع تحقیق کا نتیجہ ہے، جس میں مختلف لائبریریوں سے مواد اکٹھا کر کے ان کی تقاریر، خطبات اور افکار کو یکجا کیا گیا ہے۔ کتاب میں قومی یکجہتی کونسل میں کی گئی ان کی ایک اہم تقریر کا اردو ترجمہ بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ کتاب کے اہم ابواب میں ڈاکٹر فریدی کی فکر، مشن اور خدمات کو جامع انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر ظفرالاسلام خاں نے کہا کہ ڈاکٹر فریدی کو اپنے زمانے میں ہندوستان کے ممتاز معالجین میں شمار کیا جاتا تھا، جنہوں نے اپنی زندگی ملک و ملت کی خدمت کے لیے وقف کر دی۔ انہوں نے مجلس مشاورت کے ابتدائی دور میں ان کے کردار کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ وہ مسلمانوں کی اجتماعی مضبوطی کے قائل تھے۔

پروفیسر اخترالواسع نے کہا کہ انہیں ڈاکٹر فریدی سے براہِ راست سیکھنے کا موقع ملا اور انہوں نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ مسلمانوں کے مسائل کو قومی مسائل کے طور پر پیش کیا جائے۔

نجیب جنگ نے اپنے خطاب میں کہا کہ آزادی کے بعد مسلم قیادت کئی مجبوریوں کا شکار رہی، جس کی وجہ سے وہ اپنے مسائل کھل کر پیش نہیں کر سکی۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر فریدی نے اس خلا کو محسوس کیا اور ایسی تنظیم کی ضرورت پر زور دیا جو بے خوف ہو کر حکومت سے مکالمہ کر سکے۔

صدارتی خطاب میں محمد ادیب نے کہا کہ آزاد ہندوستان میں ڈاکٹر فریدی جیسا مخلص اور باوقار قائد کم ہی دیکھنے کو ملا ہے۔ انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ ہم نے اپنے اس عظیم محسن کو فراموش کر دیا۔ انہوں نے معصوم مرادآبادی کو اس اہم کام پر مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس کتاب سے ڈاکٹر فریدی کی خدمات کو نئی شناخت ملے گی۔

تقریب سے جسٹس اقبال احمد انصاری، وجاہت حبیب اللہ اور ڈاکٹر ایس فاروق نے بھی خطاب کیا، جبکہ مختلف شعبۂ حیات سے تعلق رکھنے والی متعدد اہم شخصیات نے شرکت کی۔