Last Updated on April 9, 2026 3:22 pm by INDIAN AWAAZ

ڈاکٹر ڈی۔ سندھیا رانی
گرمی کا موسم ہر شخص کے لیے مشکل ثابت ہو سکتا ہے، لیکن جب کوئی خاتون حاملہ ہوتی ہے تو شدید گرمی کا اثر اس کے جسم پر اور زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ اس دوران جسم پہلے ہی اضافی محنت کر رہا ہوتا ہے—خون کی مقدار بڑھ جاتی ہے، پیٹ میں بچے کی نشوونما جاری ہوتی ہے اور ہارمونز میں مسلسل تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔ ایسے میں درجۂ حرارت میں اضافہ ان تمام عوامل کو مزید مشکل بنا دیتا ہے۔ اس لیے گرمیوں میں حاملہ خواتین کو خاص احتیاط برتنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
پیاس لگنے سے پہلے پانی پینا ضروری
حمل کے دوران پیاس کا احساس اکثر دیر سے ہوتا ہے۔ جب تک پیاس محسوس ہوتی ہے تب تک جسم میں ہلکی ڈی ہائیڈریشن شروع ہو چکی ہوتی ہے۔ گرمیوں میں پسینہ آنے، سانس لینے اور جسم کے درجۂ حرارت کو متوازن رکھنے کے عمل کے دوران جسم سے پانی تیزی سے خارج ہوتا ہے۔
اسی لیے روزانہ کم از کم 10 سے 12 گلاس پانی پینا ضروری ہے۔ ناریل پانی، چھاچھ اور تازہ لیموں پانی جیسے مشروبات جسم میں الیکٹرولائٹس کی کمی پوری کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ چائے، کافی اور کولڈ ڈرنکس جیسے کیفین والے مشروبات کا استعمال کم کرنا چاہیے کیونکہ یہ جسم سے پانی کی کمی کو بڑھا سکتے ہیں۔
ایک آسان پیمانہ یہ ہے کہ پیشاب کا رنگ ہلکا پیلا ہونا چاہیے۔ اگر رنگ گہرا ہو جائے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ جسم کو مزید پانی کی ضرورت ہے۔
باہر جانے کا وقت سوچ سمجھ کر طے کریں
شدید گرمی کے دنوں میں صبح 11 بجے سے شام 4 بجے تک باہر نکلنا عام لوگوں کے لیے بھی مشکل ہوتا ہے، لیکن حاملہ خواتین کے لیے یہ وقت زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے۔ اس دوران ہیٹ ایکزاسشن، چکر آنا یا جسم کا حد سے زیادہ گرم ہو جانا جیسی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں، جو بچے پر بھی اثر ڈال سکتی ہیں۔
اس لیے ضروری کام، چہل قدمی یا ڈاکٹر سے ملاقات صبح سویرے یا شام 5 بجے کے بعد طے کرنا بہتر ہے۔ حتیٰ کہ دھوپ میں کھڑی گاڑی میں چند منٹ بیٹھنا بھی چکر آنے یا کمزوری کا باعث بن سکتا ہے۔
گھر کو ہوادار رکھیں اور ضرورت پڑنے پر ایئر کنڈیشنر استعمال کرنے میں ہچکچاہٹ نہ کریں۔ حمل کے دوران آرام کوئی عیاشی نہیں بلکہ ضرورت ہے۔
مناسب لباس کا انتخاب
تنگ کپڑے جسم میں گرمی کو روک لیتے ہیں اور مصنوعی کپڑے ہوا کی آمد و رفت میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ اس سے بے آرامی بڑھ جاتی ہے اور جسم کا درجۂ حرارت بھی جلد بڑھ سکتا ہے۔
گرمیوں میں ہلکے رنگ کے ڈھیلے سوتی یا لینن کے کپڑے پہننا بہترین انتخاب ہے۔ ایسے جوتے یا چپل پہنیں جن میں پیروں کو مناسب جگہ ملے کیونکہ گرمی میں پیروں کی سوجن بڑھ سکتی ہے اور تنگ جوتے تکلیف دہ ہو سکتے ہیں۔
اگر باہر جانا ہو تو چوڑی ٹوپی پہنیں اور ایس پی ایف 30 یا اس سے زیادہ سن اسکرین استعمال کریں جو حمل کے دوران محفوظ سمجھی جاتی ہے۔
ہلکی اور ٹھنڈک بخش غذا کا استعمال
بھاری کھانے کو ہضم کرنے میں جسم کو زیادہ توانائی خرچ کرنا پڑتی ہے جس سے جسم کا درجۂ حرارت بڑھ سکتا ہے۔ گرمیوں میں ہلکا اور وقفے وقفے سے کھانا زیادہ بہتر رہتا ہے۔ اس سے سینے کی جلن اور پیٹ پھولنے جیسی شکایات بھی کم ہوتی ہیں جو اکثر حاملہ خواتین کو ہوتی ہیں۔
تربوز، کھیرا، خربوزہ اور ناشپاتی جیسے پھل پانی سے بھرپور ہوتے ہیں اور جسم کو ٹھنڈک دیتے ہیں۔ ٹھنڈی دہی، تازہ سلاد اور کم مصالحے والی دال بھی اچھی غذا ہے۔
اس کے برعکس زیادہ مصالحہ دار کھانے، تلی ہوئی اشیا اور زیادہ نمک والی غذا جسم میں سوجن پیدا کر سکتی ہے اور گرمی کی شدت کو بڑھا سکتی ہے۔
ایک اور اہم بات یہ ہے کہ گرمی میں دیر تک باہر رکھے ہوئے کٹے ہوئے پھل کھانے سے پرہیز کریں۔ گرمیوں میں کھانا جلد خراب ہو جاتا ہے اور حمل کے دوران فوڈ پوائزننگ کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
خطرے کی علامات کو نظر انداز نہ کریں
گرمی کے دوران حمل میں ہونے والی ہر علامت معمولی نہیں ہوتی۔ کچھ علامات ایسی ہوتی ہیں جن پر فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہوتا ہے۔
اگر درج ذیل علامات ظاہر ہوں تو فوراً ڈاکٹر سے مشورہ کریں:
- چہرے، ہاتھوں یا پیروں میں اچانک شدید سوجن
- ایسا سر درد جو آرام کے باوجود ٹھیک نہ ہو
- نظر دھندلا جانا یا آنکھوں کے سامنے چمک نظر آنا
- 100 ڈگری فارن ہائیٹ سے زیادہ بخار
- کئی گھنٹوں تک بچے کی حرکت کم محسوس ہونا
- بیہوشی آنا یا بار بار چکر محسوس ہونا
یہ علامات بعض اوقات ڈی ہائیڈریشن، ہیٹ ایکزاسشن یا پری ایکلیمپسیا جیسی سنگین حالت کی نشاندہی کر سکتی ہیں، جن کا فوری طبی معائنہ ضروری ہوتا ہے۔
نتیجہ
گرمیوں کا موسم حاملہ خواتین کے لیے پریشانی کا باعث بننے کی ضرورت نہیں۔ چند سادہ عادات—جیسے مناسب مقدار میں پانی پینا، دن کے سب سے گرم وقت سے بچنا، متوازن غذا لینا اور اپنے جسم کے اشاروں کو سمجھنا—اس موسم کو زیادہ محفوظ اور آرام دہ بنا سکتی ہیں۔
صحیح احتیاط اور مناسب دیکھ بھال کے ساتھ حمل کے اس اہم مرحلے کو صحت مند اور پرسکون انداز میں گزارا جا سکتا ہے۔
