Last Updated on April 5, 2026 5:41 pm by INDIAN AWAAZ

نمائندہ خصوصی
/ نئی دہلی
انڈین نیشنل کانگریس نے اتوار کے روز ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے آسام کے وزیرِ اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما اور ان کی اہلیہ رینیکی بھویان سرما کے خلاف سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ پارٹی کا دعویٰ ہے کہ وزیرِ اعلیٰ کی اہلیہ کے پاس متعدد غیر ملکی پاسپورٹ ہیں اور ان کے بیرونِ ملک کاروباری مفادات بھی موجود ہیں۔
قومی دارالحکومت میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس کے مرکزی ترجمان پون کھیڑا نے الزام لگایا کہ رینیکی بھویان سرما کے پاس تین فعال پاسپورٹ ہیں جو متحدہ عرب امارات، اینٹیگوا اور باربوڈا اور مصر کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے ان کی شہریت کی حیثیت اور بیک وقت متعدد پاسپورٹ رکھنے کی قانونی حیثیت پر سنگین سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
پون کھیڑا نے مزید دعویٰ کیا کہ رینیکی بھویان سرما امریکہ میں قائم ایک کمپنی سے وابستہ رہی ہیں اور وہاں کاروباری سرگرمیاں بھی انجام دیتی رہی ہیں۔ ان کے مطابق بیرونِ ملک اس نوعیت کے کاروباری مفادات کے بارے میں سامنے آنے والی تفصیلات تشویش کا باعث ہیں۔
کانگریس نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے میں فوری کارروائی کی جائے اور وزیرِ اعلیٰ کے خلاف قانونی کارروائی کے ساتھ انہیں انتخابی سیاست کے لیے نااہل قرار دیا جائے۔ پارٹی نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ ہیمنت بسوا سرما نے اپنے انتخابی حلف نامے میں دبئی میں موجود مبینہ اثاثوں کا ذکر نہیں کیا، جو لازمی انکشاف کے قواعد کی خلاف ورزی ہے۔
پارٹی نے حکومتِ ہند سے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، جس میں رینیکی بھویان سرما کی شہریت کی حیثیت، ان کے مبینہ غیر ملکی پاسپورٹ اور بیرونِ ملک کاروباری سرگرمیوں کی قانونی حیثیت کا جائزہ شامل ہو۔
اس کے علاوہ کانگریس نے الیکشن کمیشن آف انڈیا سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ مبینہ غیر ملکی اثاثوں کے عدم انکشاف کا نوٹس لے اور یہ جانچ کرے کہ آیا یہ معاملہ انتخابی قوانین کے تحت نااہلی کی بنیاد بن سکتا ہے یا نہیں۔
اپوزیشن جماعت نے ایک براہِ راست سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر رینیکی بھویان سرما بھارتی شہری ہیں تو وہ قانونی طور پر متعدد غیر ملکی پاسپورٹ کیسے رکھ سکتی ہیں۔ پارٹی نے اس معاملے میں وقت مقرر کرکے تحقیقات کرنے اور خلاف ورزی ثابت ہونے کی صورت میں سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
تاہم ان الزامات پر آسام کے وزیرِ اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما یا ان کے دفتر کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
