Last Updated on March 27, 2026 11:54 pm by INDIAN AWAAZ

AMN / NEW DELHI

نئی دہلی: مغربی ایشیا میں حالیہ پیش رفت اور اس کے بھارت پر ممکنہ اثرات کے پیشِ نظر وزیرِ اعظم نریندر مودی نے جمعہ کے روز تمام ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لیفٹیننٹ گورنروں کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ایک اہم اجلاس کی صدارت کی۔ اس میٹنگ میں موجودہ صورتحال کے تناظر میں ملک کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا اور ممکنہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مرکز اور ریاستوں کے درمیان بہتر تال میل پر زور دیا گیا۔

وزیرِ اعظم نے اجلاس میں وزرائے اعلیٰ کی جانب سے پیش کیے گئے مفید مشوروں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ بدلتی ہوئی عالمی صورتحال میں چوکسی، تیاری اور مشترکہ حکمتِ عملی بے حد ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو عالمی بحرانوں سے نمٹنے کا تجربہ حاصل ہے اور کووِڈ۔19 وبا کے دوران مرکز اور ریاستوں نے “ٹیم انڈیا” کے طور پر مل کر سپلائی چین، تجارت اور روزمرہ زندگی پر پڑنے والے اثرات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

وزیرِ اعظم نے بتایا کہ موجودہ صورتحال مسلسل تبدیل ہو رہی ہے، اس لیے حکومت ہر پہلو پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ 3 مارچ سے ایک بین الوزارتی گروپ روزانہ کی بنیاد پر صورتحال کا جائزہ لے رہا ہے اور بروقت فیصلے کر رہا ہے۔ حکومت کی اولین ترجیحات میں اقتصادی اور تجارتی استحکام کو برقرار رکھنا، توانائی کی سلامتی کو یقینی بنانا، شہریوں کے مفادات کا تحفظ کرنا اور صنعت و سپلائی نظام کو مضبوط بنانا شامل ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پالیسی فیصلوں کا مؤثر نفاذ ریاستی سطح پر ہی ہوتا ہے، اس لیے مرکز اور ریاستوں کے درمیان مسلسل رابطہ، بروقت معلومات کا تبادلہ اور مشترکہ فیصلے انتہائی ضروری ہیں۔

وزیرِ اعظم نے ریاستوں کو ہدایت دی کہ ضروری اشیا کی سپلائی چین کو بلا رکاوٹ جاری رکھا جائے اور ذخیرہ اندوزی و منافع خوری کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ انہوں نے ریاست اور ضلع کی سطح پر کنٹرول روم فعال کرنے اور انتظامی مشینری کو چوکس رکھنے کی بھی تاکید کی۔ زراعت کے شعبے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کھاد کے ذخیرے اور اس کی تقسیم پر کڑی نظر رکھنے اور آنے والے خریف سیزن کے لیے پیشگی منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے افواہوں اور غلط معلومات کے پھیلاؤ کے بارے میں بھی خبردار کیا اور کہا کہ درست اور مستند معلومات کی بروقت فراہمی عوام میں غیر ضروری گھبراہٹ کو روکنے کے لیے ضروری ہے۔ وزیرِ اعظم نے آن لائن فراڈ اور جعلی ایجنٹوں سے بھی خبردار رہنے کا مشورہ دیا۔ سرحدی اور ساحلی ریاستوں کو خصوصی طور پر چوکس رہنے کو کہا گیا تاکہ جہاز رانی، ضروری سپلائی اور سمندری سرگرمیوں سے متعلق کسی بھی ممکنہ چیلنج سے بروقت نمٹا جا سکے۔

اجلاس میں وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ حکومت وزیرِ اعظم کی قیادت میں اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے سرگرمی سے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایل پی جی کی بروقت دستیابی کو یقینی بنانے اور پٹرول و ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی میں کمی جیسے اقدامات کیے گئے ہیں، جس سے عام شہریوں کو راحت ملے گی۔

کابینہ سکریٹری ٹی وی سومناتھن نے موجودہ صورتحال پر ایک تفصیلی پریزنٹیشن پیش کی اور ریاستوں کے لیے ضروری اقدامات اور سفارشات بیان کیں۔ مختلف ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ نے بحران کے دوران مرکز کی جانب سے کیے گئے اقدامات اور وزیرِ اعظم کی سفارتی کوششوں کی تعریف کی۔

وزرائے اعلیٰ نے یقین دہانی کرائی کہ ملک میں پٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی دستیابی مناسب ہے اور ضروری اشیا کی سپلائی کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر نگرانی کا نظام قائم ہے۔ انہوں نے ایندھن پر ایکسائز ڈیوٹی میں کمی اور ریاستوں کو کمرشل ایل پی جی کی فراہمی بڑھانے کے فیصلے کا بھی خیرمقدم کیا اور مرکز کے ساتھ مل کر صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹنے اور شہریوں کے مفادات کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا۔