Last Updated on March 25, 2026 1:52 pm by INDIAN AWAAZ

ڈاکٹر پریتی گدداد، کنسلٹنٹ ماہرِ اطفال، کنڈر وومنز ہاسپٹل، بنگلورو

والدین اکثر ماہرِ اطفال کے پاس ایک عام سوال لے کر آتے ہیں: “میرا بچہ ہمیشہ تھکا ہوا اور بےدل کیوں رہتا ہے؟ کیا وہ صرف سست ہے؟”

آج کی تیز رفتار زندگی میں بچوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ تعلیم، غیر نصابی سرگرمیوں اور سماجی زندگی کے درمیان توازن قائم کریں۔ ایسے میں اگر بچہ تھکا ہوا یا کمزور نظر آئے تو اسے اکثر سستی سمجھ لیا جاتا ہے۔ مگر حقیقت میں جو چیز بظاہر سستی دکھائی دیتی ہے، وہ بعض اوقات کسی پوشیدہ صحت کے مسئلے کی علامت بھی ہو سکتی ہے۔

عام طور پر سستی کو کسی کام میں دلچسپی یا حوصلے کی کمی سمجھا جاتا ہے۔ لیکن بچوں میں حقیقی سستی نسبتاً کم ہوتی ہے۔ زیادہ تر بچے فطری طور پر متجسس اور توانائی سے بھرپور ہوتے ہیں۔ اگر کوئی بچہ مسلسل تھکا ہوا، الگ تھلگ یا بےدل دکھائی دے تو ضروری ہے کہ والدین اس صورتحال کو سنجیدگی سے دیکھیں اور اس کی اصل وجہ سمجھنے کی کوشش کریں۔

رویّے کے پیٹرن کو سمجھنا ضروری

سب سے اہم بات یہ ہے کہ بچے کے رویّے میں آنے والی تبدیلیوں کو غور سے دیکھا جائے۔

  • کیا تھکن مسلسل رہتی ہے؟
  • کیا اس کی وجہ سے اسکول، کھیل کود یا دوستوں کے ساتھ وقت گزارنے پر اثر پڑ رہا ہے؟
  • کیا حال ہی میں اس کے رویّے یا تعلیمی کارکردگی میں تبدیلی آئی ہے؟

ایسے سوالات والدین کو یہ سمجھنے میں مدد دیتے ہیں کہ مسئلہ صرف عادت یا رویّے کا ہے یا کسی طبی مسئلے سے جڑا ہوا ہے۔

کم توانائی کے ممکنہ طبی اسباب

کئی طبی حالتیں بچوں میں کم توانائی یا سستی کی شکل میں ظاہر ہو سکتی ہیں۔

1. غذائی کمی
آئرن کی کمی سے ہونے والی خون کی کمی (اینیمیا) بچوں، خصوصاً نو عمر بچوں میں تھکن کی ایک عام وجہ ہے۔ ایسے بچوں کا چہرہ زرد دکھائی دے سکتا ہے، وہ جلد تھک جاتے ہیں اور توجہ مرکوز کرنے میں مشکل محسوس کرتے ہیں۔

2. تھائرائیڈ کی خرابی
تھائرائیڈ گلینڈ کی کم کارکردگی (ہائپو تھائرائیڈزم) سستی، وزن میں اضافہ، خشک جلد اور تعلیمی کارکردگی میں کمی کا باعث بن سکتی ہے۔ اگرچہ یہ مسئلہ عام نہیں، لیکن مسلسل تھکن کی صورت میں اس کی جانچ ضروری ہو سکتی ہے۔

3. نیند سے متعلق مسائل
ناکافی یا غیر معیاری نیند بچوں میں دن بھر کی تھکن کا بڑا سبب بن سکتی ہے۔ دیر رات تک موبائل یا اسکرین استعمال کرنا، غیر منظم نیند کا شیڈول یا نیند کی بیماریاں جیسے سلیپ ایپنیا بچے کی توانائی پر گہرا اثر ڈال سکتی ہیں۔

4. بار بار ہونے والی بیماریاں یا کمزور مدافعتی نظام
جو بچے بار بار بیمار ہوتے ہیں انہیں مکمل صحت یاب ہونے کا وقت نہیں ملتا، جس کے نتیجے میں مسلسل تھکن اور کمزور جسمانی قوت پیدا ہو سکتی ہے۔

5. دائمی بیماریاں
دمہ، الرجی یا بعض اوقات غیر تشخیص شدہ دل کی بیماریاں بھی بچوں کو اپنے ہم عمر بچوں کے مقابلے میں جلد تھکا دیتی ہیں۔

جدید طرزِ زندگی کا اثر

آج کی جدید زندگی بھی بچوں کی توانائی اور رویّے پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ضرورت سے زیادہ اسکرین ٹائم، باہر کھیلنے میں کمی اور غیر صحت بخش غذا بچوں میں سستی اور بے دلی پیدا کر سکتی ہے۔

جو بچے زیادہ وقت موبائل، ٹیبلٹ یا کمپیوٹر پر گزارتے ہیں وہ اکثر جسمانی سرگرمی کی کمی اور ڈیجیٹل تھکن کی وجہ سے غیر متحرک دکھائی دیتے ہیں۔

اسی طرح اگر غذا میں ضروری غذائی اجزاء کی کمی ہو اور پراسیسڈ فوڈ زیادہ استعمال ہو تو یہ بھی بچے کی توانائی اور مجموعی صحت کو متاثر کر سکتا ہے۔

جذباتی صحت بھی اہم ہے

بچوں کی ذہنی اور جذباتی صحت کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ آج کل بچوں کو تعلیمی دباؤ، سماجی مسائل اور آن لائن دنیا کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

تھکن، دلچسپی میں کمی یا تنہائی بعض اوقات اضطراب، ذہنی دباؤ یا ڈپریشن کی ابتدائی علامات بھی ہو سکتی ہیں۔ بچے اکثر اپنے جذبات کو الفاظ میں بیان نہیں کر پاتے، اس لیے وہ اپنے رویّے، نیند یا بھوک میں تبدیلی کے ذریعے اپنی کیفیت ظاہر کرتے ہیں۔

کب ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے

اگرچہ کبھی کبھار تھکن ہونا معمول کی بات ہے، لیکن کچھ علامات ایسی ہیں جن پر خاص توجہ دینا ضروری ہے، جیسے:

  • کئی ہفتوں تک مسلسل تھکن رہنا
  • اسکول کی کارکردگی میں اچانک کمی
  • پہلے پسندیدہ سرگرمیوں میں دلچسپی ختم ہو جانا
  • بغیر وجہ وزن میں اضافہ یا کمی
  • چہرے کا زرد نظر آنا یا بار بار سر درد
  • نیند کے معمولات میں تبدیلی
  • سانس پھولنا یا جسمانی طاقت میں کمی

اگر یہ علامات ظاہر ہوں تو ماہرِ اطفال سے مکمل معائنہ کروانا بہتر ہے۔

والدین کیا کر سکتے ہیں

خوش آئند بات یہ ہے کہ بہت سی صورتوں میں چند آسان اقدامات سے بچوں کی صحت اور توانائی بہتر بنائی جا سکتی ہے۔

  • آئرن، پروٹین اور وٹامنز سے بھرپور متوازن غذا فراہم کریں
  • باقاعدہ جسمانی سرگرمی اور باہر کھیلنے کی حوصلہ افزائی کریں
  • نیند کا باقاعدہ شیڈول بنائیں اور سونے سے پہلے اسکرین ٹائم محدود کریں
  • گھر میں ایسا ماحول پیدا کریں جہاں بچے اپنی بات کھل کر کہہ سکیں
  • بچے کو سمجھے بغیر اسے “سست” کا لیبل نہ دیں

بروقت توجہ ہی بہترین حل

ہر تھکا ہوا بچہ بیمار نہیں ہوتا اور ہر خاموش مرحلہ کسی سنگین مسئلے کی علامت بھی نہیں ہوتا۔ تاہم اگر والدین بچے کے رویّے اور صحت پر توجہ دیں تو وہ کسی بھی ممکنہ مسئلے کو وقت پر پہچان سکتے ہیں۔

جسمانی یا ذہنی مسائل کی جلد تشخیص سے بروقت علاج ممکن ہوتا ہے اور بچے کی صحت بہتر رہتی ہے۔

ماہرینِ اطفال کے طور پر ہم والدین کو یہی مشورہ دیتے ہیں کہ اپنے احساسات پر بھروسہ کریں۔ اگر آپ کو اپنے بچے کے رویّے یا توانائی میں کوئی غیر معمولی تبدیلی محسوس ہو تو اسے نظر انداز نہ کریں۔

کبھی کبھی جو چیز ہمیں سستی نظر آتی ہے، دراصل وہ بچے کا مدد مانگنے کا ایک طریقہ ہوتی ہے۔