Last Updated on March 10, 2026 6:22 pm by INDIAN AWAAZ

نئی دہلی (اسٹاف رپورٹر)
Supreme Court of India نے کہا ہے کہ اب ملک میں یکساں سول کوڈ (UCC) کے نفاذ پر سنجیدگی سے غور کرنے کا وقت آ چکا ہے اور اس سلسلے میں قانون سازی پارلیمنٹ کو کرنی چاہیے۔ عدالت عظمیٰ نے یہ ریمارکس اس عرضی کی سماعت کے دوران دیے جس میں شریعت ایکٹ 1937 کی بعض دفعات کو مسلم خواتین کے ساتھ امتیازی قرار دیتے ہوئے منسوخ کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔
چیف جسٹس Surya Kant، جسٹس Joymalya Bagchi اور جسٹس R. Mahadevan پر مشتمل بنچ نے کہا کہ اگر عدالت شریعت کے تحت وراثت کے قانون کو کالعدم قرار دے دے تو ایک قانونی خلا پیدا ہو سکتا ہے، کیونکہ اس وقت مسلمانوں کی وراثت کے معاملات کو منظم کرنے کے لیے کوئی علیحدہ باقاعدہ قانون موجود نہیں ہے۔
عدالت نے یہ بھی کہا کہ یہ ایک اہم اور سنجیدہ معاملہ ہے جس پر مقننہ (پارلیمنٹ) کو غور کرنا چاہیے۔
پارلیمنٹ کو فیصلہ کرنا چاہیے: عدالت
سماعت کے دوران جسٹس جویمالیا بگچی نے کہا کہ صرف شخصی قوانین کو ختم کر دینا مسائل کا حل نہیں ہے کیونکہ اس سے قانونی خلا پیدا ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق بہتر یہی ہے کہ پارلیمنٹ اس مسئلے پر غور کرے اور ایک جامع قانون وضع کرے۔
انہوں نے کہا کہ اگر عدالت شخصی قوانین کو کالعدم قرار دے دے تو اس سے خاندانی قوانین جیسے شادی، طلاق اور وراثت کے معاملات میں پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ اس لیے اس معاملے کو قانون سازی کے لیے مقننہ کے سپرد کرنا زیادہ مناسب ہوگا۔
جسٹس بگچی نے مزید کہا کہ عدالت پہلے بھی یکساں سول کوڈ کی سفارش کر چکی ہے اور اس سلسلے میں آئینی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے پارلیمنٹ کو اقدام کرنا چاہیے۔
چیف جسٹس سوریا کانت نے بھی سماعت کے دوران اسی مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے کا عملی حل ممکنہ طور پر یکساں سول کوڈ کے نفاذ میں ہی پوشیدہ ہے۔
مسلم پرسنل لا کو چیلنج
عدالت کے سامنے زیر سماعت مقدمہ Muslim Personal Law (Shariat) Application Act, 1937 کی بعض دفعات کو چیلنج کرنے سے متعلق ہے۔ یہ قانون بھارت میں مسلمانوں کے درمیان شادی، طلاق اور وراثت جیسے معاملات کو منظم کرتا ہے۔
درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ اس قانون کی بعض شقیں خصوصاً وراثت کے معاملات میں مسلم خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کرتی ہیں۔
درخواست گزاروں کی جانب سے سینئر وکیل Prashant Bhushan نے عدالت کو بتایا کہ شریعت پر مبنی وراثتی قوانین کے تحت اکثر خواتین کو مردوں کے مقابلے میں کم حصہ ملتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر 1937 کے قانون کو غیر آئینی قرار دیا جائے تو وراثت کے معاملات کو Indian Succession Act, 1925 کے تحت چلایا جا سکتا ہے، جو مرد اور عورت کو برابر وراثتی حقوق فراہم کرتا ہے۔
قانونی خلا کا خدشہ
تاہم عدالت نے اس تجویز پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر 1937 کا قانون منسوخ کر دیا جائے تو اس کی جگہ کون سا قانونی ڈھانچہ نافذ ہوگا۔ چیف جسٹس سوریا کانت نے خبردار کیا کہ عدالت کی جانب سے براہ راست مداخلت بعض صورتوں میں مسلم خواتین کو حاصل موجودہ حقوق کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔
بنچ نے کہا کہ اگر موجودہ قانون کو کسی متبادل قانون کے بغیر ختم کر دیا گیا تو شادی، طلاق اور وراثت جیسے معاملات میں قانونی غیر یقینی پیدا ہو سکتی ہے۔
جسٹس بگچی نے یہ بھی نشاندہی کی کہ آئین ہند کے Article 372 of the Constitution of India کے تحت پرانے قوانین اس وقت تک نافذ رہتے ہیں جب تک انہیں باضابطہ طور پر منسوخ نہ کر دیا جائے۔
یکساں سول کوڈ پر نئی بحث
سپریم کورٹ کے ان ریمارکس کے بعد ملک میں یکساں سول کوڈ کے موضوع پر بحث ایک بار پھر تیز ہو گئی ہے۔ آئین ہند کے Article 44 of the Constitution of India میں یکساں سول کوڈ کا تصور پیش کیا گیا ہے، جس کے تحت شادی، طلاق، وراثت اور گود لینے جیسے معاملات میں تمام شہریوں کے لیے ایک ہی قانون نافذ کرنے کی بات کہی گئی ہے، چاہے ان کا مذہب کوئی بھی ہو۔
اس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس سے صنفی مساوات اور قانونی یکسانیت کو فروغ ملے گا، جبکہ ناقدین کا خیال ہے کہ اس قانون کو نافذ کرتے وقت بھارت کی مذہبی اور ثقافتی تنوع کو مدنظر رکھنا ضروری ہوگا۔
