Last Updated on February 13, 2026 6:41 pm by INDIAN AWAAZ

ڈھاکہ سے ذاکر حسین کی رپورٹ
ڈھاکہ: بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات میں قطعی اکثریت حاصل کر کے اقتدار میں واپسی کے لیے تیار ہے۔ اس شاندار کامیابی کے ساتھ ہی پارٹی کے چیئرمین طارق رحمان کے ملک کے اگلے وزیر اعظم بننے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے 299 میں سے 297 نشستوں کے لیے جاری کردہ نتائج کے مطابق، بی این پی اور اس کے اتحادیوں نے مجموعی طور پر 212 نشستیں حاصل کی ہیں۔ ان میں سے صرف بی این پی نے 209 نشستیں جیتیں، جو 299 رکنی پارلیمان میں اکثریت کے لیے درکار ہندسے سے کہیں زیادہ ہے۔
سالہ جلاوطنی کے بعد بنگلہ دیش واپس آنے والے طارق رحمان نے اپنا پہلا قومی انتخاب لڑا اور دو حلقوں—ڈھاکہ-17 اور بوگرا-6 سے فیصلہ کن فتح حاصل کی۔ ڈھاکہ-17 میں انہوں نے 72,699 ووٹ حاصل کر کے جماعت اسلامی کے امیدوار ایس ایم خالد الزماں کو 4,399 ووٹوں کے فرق سے شکست دی۔ بوگرا-6 میں ان کی جیت کا مارجن بہت زیادہ رہا، جہاں انہوں نے 2,16,284 ووٹ حاصل کیے، جبکہ ان کے قریبی حریف جماعت کے امیدوار عابد الرحمن سہیل کو محض 97,626 ووٹ ملے۔ ووٹ ڈالنے کے بعد طارق رحمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش کے عوام ایک دہائی سے زائد عرصے سے اس لمحے کا انتظار کر رہے تھے۔
الیکشن کمیشن کے سیکریٹری اختر احمد نے ڈھاکہ میں نتائج کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ چٹوگرام-2 اور چٹوگرام-4 کے نتائج عدالتی معاملات کی وجہ سے فی الحال روک دیے گئے ہیں، جن کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ ایک اور نشست کو پہلے ہی ملتوی کر دیا گیا تھا۔
جماعت اسلامی کی قیادت میں 11 جماعتی اپوزیشن اتحاد نے 77 نشستیں حاصل کیں، جن میں سے تنہا جماعت نے 68 نشستیں جیتیں۔ نو تشکیل شدہ ‘نیشنل سٹیزن پارٹی’ نے جولائی کی عوامی تحریک کے بعد پہلی بار پارلیمنٹ میں قدم رکھتے ہوئے 6 نشستیں حاصل کیں۔ دیگر چھوٹی جماعتوں بشمول اسلامی اندولن بنگلہ دیش، بنگلہ دیش خلافت مجلس اور گن ادھیکار پریشد کو ایک ایک نشست ملی، جبکہ سات نشستیں آزاد امیدواروں کے حصے میں آئیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق، اس بار ووٹنگ کا تناسب 60.26 فیصد رہا۔ انتخابات کے ساتھ منعقد ہونے والے ریفرنڈم میں 4.8 کروڑ سے زائد افراد نے ‘ہاں’ کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ 2.2 کروڑ سے زائد ووٹ ‘ناں’ کے حق میں پڑے۔ اس انتخابی عمل میں مجموعی طور پر 50 سیاسی جماعتوں کے 2,028 امیدوار میدان میں تھے۔
سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی قیادت میں عوامی لیگ نے ان انتخابات میں حصہ نہیں لیا، کیونکہ عبوری حکومت کے فیصلے کے بعد پارٹی کی سیاسی سرگرمیاں فی الحال معطل ہیں۔ دہائیوں بعد یہ پہلا موقع تھا جب عوامی لیگ انتخابی دوڑ سے باہر تھی۔ بی این پی کی اقتدار میں واپسی بنگلہ دیش کی سیاست میں خالدہ ضیاء اور شیخ حسینہ کی تقریباً 35 سالہ خاتون قیادت کے دور کے خاتمے کی علامت بھی ہے۔
عالمی رہنماؤں نے طارق رحمان اور بی این پی کو اس جیت پر مبارکباد دی ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے پیغام میں کہا کہ یہ نتیجہ عوام کے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے اور انہوں نے ایک جمہوری و ترقی پسند بنگلہ دیش کے لیے بھارت کے تعاون کا اعادہ کیا۔ مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی، پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف، صدر آصف علی زرداری اور ڈھاکہ میں چین و امریکہ کے سفارت خانوں نے بھی بی این پی کی کامیابی کو “تاریخی” قرار دیتے ہوئے تہنیتی پیغامات بھیجے ہیں۔
فتح کی تصدیق کے بعد طارق رحمان نے پارٹی کارکنوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ کوئی فاتحانہ جلوس یا ریلیاں نہ نکالیں۔ اس کے بجائے بی این پی نے جمعہ کی نماز کے بعد ملک بھر میں خصوصی دعاؤں کی اپیل کی ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے حتمی گزٹ نوٹیفکیشن کی اشاعت کے بعد نئی حکومت کی تشکیل کا باقاعدہ عمل شروع ہوگا۔
✅ طارق رحمان ڈھاکہ اور بوگرا، دونوں حلقوں سے بھاری ووٹوں سے کامیاب۔
✅ عوامی لیگ کی عدم موجودگی میں بی این پی کی یکطرفہ جیت۔
✅ طارق رحمان کی ہدایت: جیت کا جشن منانے کے بجائے ملک بھر میں خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیا جائے۔
✅ عالمی سطح پر مودی، شہباز شریف اور دیگر رہنماؤں کی جانب سے تہنیتی پیغامات۔
