Last Updated on February 13, 2026 12:51 am by INDIAN AWAAZ

بنگلہ دیش میں آج 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات کے لیے ووٹنگ مکمل ہونے کے فوراً بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ انتخابات ملک بھر کے 299 حلقوں میں منعقد ہوئے، جہاں سابق اتحادی رہنے والی دو بڑی سیاسی قوتوں کے درمیان سخت مقابلہ دیکھا جا رہا ہے، جن میں ایک طرف بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی قیادت والا اتحاد اور دوسری طرف اسلام پسند جماعت اسلامی کی قیادت والا اتحاد شامل ہے۔

ان انتخابات کے ساتھ ساتھ ملک میں “جولائی چارٹر” کے تحت آئینی اور ادارہ جاتی اصلاحات پر ایک اہم ریفرنڈم بھی کرایا گیا، جس میں عوام نے مجوزہ اصلاحات کے حق یا مخالفت میں ووٹ دیا۔

الیکشن کمیشن کے مطابق چند چھٹپٹ واقعات کے باوجود مجموعی صورتحال قابو میں رہی۔ تاہم دو اضلاع میں گرینیڈ دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔

ڈھاکہ سے ہمارے نمائندے کے مطابق، کمیشن کا کہنا ہے کہ کسی بھی پولنگ مرکز پر ووٹنگ معطل نہیں کی گئی، لیکن راجشاہی-3 میں ایک آزاد خاتون امیدوار پر مبینہ حملے کی خبر بھی سامنے آئی ہے۔ اس کے علاوہ دن بھر میں چار افراد صحت سے متعلق پیچیدگیوں کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

اسی دوران جماعت اسلامی کی قیادت والے 11 جماعتی اتحاد نے چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات کی اور تین حلقوں میں ووٹنگ روکنے کا مطالبہ کیا، جس کی بنیاد انہوں نے بے ضابطگیوں اور رکاوٹوں کے الزامات کو قرار دیا۔


رافیل سمیت جدید جنگی سازوسامان کی خریداری، زیادہ تر تیاری بھارت میں ہوگی

بھارت کی دفاعی طاقت کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ڈیفنس ایکوزیشن کونسل ( نے 12 فروری کو تقریباً 3.60 لاکھ کروڑ روپے کے دفاعی سودوں کی منظوری دے دی۔ اس تاریخی فیصلے میں فضائیہ کے لیے 114 ملٹی رول فائٹر ایئر کرافٹ (MRFA) رافیل، جدید ترین جنگی میزائل اور ‘ہائی ایلٹی ٹیوڈ سوڈو سیٹلائٹ’ کی خریداری شامل ہے۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کی سربراہی میں ہونے والے اس اجلاس میں آرمی کے لیے اینٹی ٹینک مائنز ‘ویبھو’ اور بحریہ کے لیے ‘P-8I’ سمندری جاسوس طیاروں کی منظوری بھی دی گئی۔ اس منصوبے کی خاص بات یہ ہے کہ زیادہ تر رافیل طیارے بھارت میں ہی تیار کیے جائیں گے، جو ‘میک ان انڈیا’ اور ‘آتم نربھر بھارت’ کے خواب کو حقیقت بنانے کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے بھارت کی سرحدوں کی حفاظت اور دشمن کے خلاف جنگی صلاحیتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوگا۔

مینوفیکچرنگ، سیمی کنڈکٹر مشن اور ایم ایس ایم ایز پر خصوصی زور

وزیر خزانہ نرملا سیتارامن نے آج کہا کہ حکومت معاشی ترقی کو تیز کرتے ہوئے اور جامع ترقی کو یقینی بنا کر ایک مضبوط اور خود کفیل بھارت کی تعمیر کے لیے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے راجیہ سبھا میں یونین بجٹ 2026-27 پر بحث کا جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے اعلیٰ شرحِ نمو برقرار رکھی ہے اور ساتھ ہی مہنگائی کو کم سطح پر رکھنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ اس بار کے بجٹ میں ملکی مینوفیکچرنگ صلاحیت کو مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بایوفارما، سیمی کنڈکٹر مشن 2.0، ریئر ارتھ کوریڈورز، کنٹینر مینوفیکچرنگ ایکو سسٹم، کھیلوں کا سامان، ٹیکسٹائل اور چیمپئن ایم ایس ایم ایز کے لیے خصوصی بجٹ مختص کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت انسانی وسائل (Human Capital) کی ترقی پر بھی توجہ دے رہی ہے تاکہ آنے والے برسوں میں بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔

وزیر خزانہ نے اپوزیشن کی جانب سے فلاحی اسکیموں میں کٹوتی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تمام اسکیموں کے لیے مناسب بجٹ فراہم کیا گیا ہے۔ انہوں نے مڈل کلاس پر دباؤ کے الزامات کو بھی رد کرتے ہوئے کہا کہ این ڈی اے حکومت کی معاشی اصلاحات کی وجہ سے متوسط طبقہ مزید مضبوط اور وسیع ہوا ہے۔

اس سے قبل کانگریس کے جی سی چندر شیکھر نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے الزام لگایا کہ بجٹ عوام کی توقعات پر پورا نہیں اترتا۔


بی جے پی ایم پی نشی کانت دوبے نے رکنیت منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا

لوک سبھا میں آج زبردست ہنگامہ آرائی کے بعد ایوان کو دن بھر کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔ صنعتی تعلقات کوڈ (ترمیمی) بل 2026 کی منظوری کے بعد جب ایوان میں فوری عوامی اہمیت کے معاملات پر بحث شروع ہوئی تو بی جے پی رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے نے اپوزیشن لیڈر اور کانگریس رہنما راہل گاندھی کے خلاف تحریک کا معاملہ اٹھایا۔

نشی کانت دوبے نے الزام لگایا کہ راہل گاندھی نے قوم کو گمراہ کیا ہے اور ان کے رویے پر بحث کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی کی رکنیت منسوخ کی جائے اور انہیں آئندہ انتخابات میں حصہ لینے سے روکا جائے۔

اس بیان کے بعد اپوزیشن ارکان نے شدید احتجاج شروع کر دیا اور ایوان میں شور شرابہ بڑھ گیا، جس کے بعد اسپیکر نے لوک سبھا کو ملتوی کر دیا۔

بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نشی کانت دوبے نے کہا کہ انہوں نے راہل گاندھی کے خلاف تحریک پیش کی ہے اور ان پر غیر ملکی اداروں سے روابط کا الزام بھی لگایا۔


جنوری میں ریٹیل مہنگائی 2.75 فیصد رہی، نئی سی پی آئی سیریز جاری

بیس ایئر 2024، آئٹمز کی تعداد 299 سے بڑھا کر 358 کر دی گئی

بھارت میں جنوری کے مہینے میں ریٹیل مہنگائی سالانہ بنیاد پر 2.75 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے، جو نئے کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) سیریز کے مطابق ہے۔ اس کے مقابلے میں دسمبر میں پرانے سیریز کے تحت مہنگائی 1.33 فیصد تھی۔

اگرچہ مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے، لیکن یہ اب بھی ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) کی مقررہ حد کے اندر ہے۔

اسی دوران وزارت شماریات و پروگرام نفاذ نے آج سی پی آئی کی نئی سیریز جاری کی، جس کا بیس ایئر 2024 مقرر کیا گیا ہے۔ یہ نئی سیریز 2012 والے بیس ایئر کی جگہ لے گی۔ اس کے علاوہ آئٹمز کی فہرست کو بھی وسیع کرتے ہوئے 299 سے بڑھا کر 358 کر دیا گیا ہے، تاکہ مہنگائی کی پیمائش کو مزید جامع اور حقیقی بنایا جا سکے۔


بھارتی معیشت اور بجٹ: وزیر خزانہ کا راجیہ سبھا میں خطاب

وزیر خزانہ نرملا سیتارامن نے 12 فروری 2026 کو راجیہ سبھا میں مرکزی بجٹ پر بحث کا جواب دیتے ہوئے بھارتی معیشت کی مضبوطی کا دعویٰ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 26-2025 میں بھارت کی جی ڈی پی کی شرح نمو 7.4 فیصد رہنے کا امکان ہے، جو عالمی سطح پر ایک بڑی کامیابی ہے۔ وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ افراط زر (مہنگائی) کو قابو میں رکھ کر 2 فیصد کی سطح پر لایا گیا ہے، جو ملک کی مستحکم مالیاتی بنیادوں کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے اپوزیشن کے ان الزامات کو مسترد کر دیا کہ متوسط طبقے کو دبایا جا رہا ہے، بلکہ یہ دعویٰ کیا کہ این ڈی اے حکومت کی اصلاحات کے باعث متوسط طبقے کے دائرے میں توسیع ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے 70 سال سے زائد عمر کے تمام بزرگ شہریوں کو وزیر اعظم جن آروگیہ یوجنا کے تحت 5 لاکھ روپے تک کا مفت ہیلتھ کور فراہم کرنے کے فیصلے کا بھی اعادہ کیا، جس سے کروڑوں بزرگوں کو فائدہ پہنچے گا۔

وندے ماترم پر تنازع: مسلم پرسنل لاء بورڈ کا شدید احتجاج

آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ ( نے مرکزی حکومت کے اس نوٹیفکیشن کی سخت مخالفت کی ہے جس میں سرکاری تقاریب اور اسکولوں میں قومی ترانے سے قبل ‘وندے ماترم’ کے تمام بند (stanzas) پڑھنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ 12 فروری کو جاری کردہ ایک بیان میں بورڈ کے جنرل سیکرٹری مولانا محمد فضل الرحیم مجددی نے اسے غیر آئینی اور مذہبی آزادی کی خلاف ورزی قرار دیا۔ بورڈ کا موقف ہے کہ اس گیت کے بعض حصوں میں ایسی عبارات شامل ہیں جو توحید کے اسلامی عقیدے سے متصادم ہیں، کیونکہ مسلمان صرف ایک اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ بورڈ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس فیصلے کو فوری طور پر واپس لے، بصورت دیگر اسے عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔ جمعیت علماء ہند نے بھی اس نوٹیفکیشن کو سیکولر اقدار کے منافی قرار دیتے ہوئے حکومت پر تنقید کی ہے۔

اسٹاک مارکیٹ میں زلزلہ: IT سیکٹر میں 1.3 لاکھ کروڑ روپے ڈوب گئے

12 فروری 2026 کو بھارتی اسٹاک مارکیٹ میں انفارمیشن ٹیکنالوجی () سیکٹر کو شدید دھچکا لگا۔ مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے خطرات اور امریکی معیشت کے اعداد و شمار کے باعث نٹی آئی ٹی انڈیکس (Nifty IT) میں تقریباً 4.7 فیصد کی تاریخی گراوٹ دیکھی گئی۔ اس مندی کے نتیجے میں ٹی سی ایس (TCS)، انفوسس (Infosys)، اور وپرو (Wipro) جیسی بڑی کمپنیوں کی مارکیٹ ویلیو میں سے ایک ہی دن میں 1.3 لاکھ کروڑ روپے ختم ہو گئے۔ ٹی سی ایس کے حصص 52 ہفتوں کی کم ترین سطح پر آگئے، جبکہ مجموعی طور پر سینسیکس 559 پوائنٹس گر کر بند ہوا۔ سرمایہ کاروں میں اس بات کا خوف پایا جاتا ہے کہ جدید AI ٹولز روایتی آئی ٹی سروسز کی جگہ لے سکتے ہیں، جس سے ان کمپنیوں کے مستقبل کی آمدنی پر منفی اثر پڑے گا۔