Last Updated on February 1, 2026 7:06 pm by INDIAN AWAAZ

اے ایم این

نئی دہلی

معروف صحافی، نامور مزاح نگار، شاعر اور نقاد سید اسد رضا نقوی آج بروز اتوار دل کا دورہ پڑنے سے نئی دہلی کے فورٹیس اسپتال میں انتقال کر گئے۔

وہ 74 برس کے تھے۔ مرحوم قومی سطح کے ممتاز اردو اخبار روزنامہ راشٹریہ سہارا کے سابق مدیرِ اعلیٰ رہے اور اردو صحافت و ادب میں ایک معتبر اور توانا آواز کی حیثیت رکھتے تھے۔اطلاعات کے مطابق اسد رضا نقوی حال ہی میں عمرہ کی سعادت حاصل کر کے وطن واپس لوٹے تھے۔ دو روز قبل طبیعت میں اچانک ناسازی کے باعث انہیں فورٹیس اسپتال، نئی دہلی میں داخل کرایا گیا، جہاں آج صبح انہوں نے داعیٔ اجل کو لبیک کہا۔ مرحوم کی تدفین ان کے آبائی وطن بجنور میں عمل میں آئی۔ پسماندگان میں ایک بیٹا اور ایک بیٹی شامل ہیں۔مرحوم اسد رضا نقوی نے صحافت کے میدان میں کئی دہائیوں پر محیط خدمات انجام دیں۔ وہ متعدد کتابوں کے مصنف تھے اور ان کا شمار ان صحافیوں میں ہوتا تھا جنہوں نے خبر، ادب اور طنز و مزاح کو وقار کے ساتھ برتا۔ خاص طور پر ان کا مقبول کالم “تلخیاں” اردو صحافت میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے، جو مسکراہٹ کے ساتھ قاری کو فکر کی گہرائی میں لے جاتا تھا۔

ان کے انتقال کی خبر ملتے ہی صحافتی و ادبی برادری میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے اور مختلف حلقوں کی جانب سے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے۔روزنامہ راشٹریہ سہارا کے سابق گروپ ایڈیٹر اور معروف مصنف عزیز برنی نے مرحوم کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ماہنامہ راشٹریہ سہارا میں اسد رضا کے ساتھ کام کا آغاز کیا اور بعد ازاں روزنامہ سہارا کے اجرا کے بعد بھی دونوں ایک طویل عرصے تک ساتھ کام کرتے رہے۔ ان کے بقول، برنی صاحب کے بعد ادارے کی اہم ذمہ داری مرحوم کو سونپی گئی۔ دعا کرتے ہیں اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔