Last Updated on March 22, 2026 4:37 pm by INDIAN AWAAZ
مختصر تجارتی خبریں

عالمی تیل کا بحران اور آبنائے ہرمز کی صورتحال
توانائی کی عالمی منڈیوں میں اس وقت شدید بے چینی پائی جا رہی ہے کیونکہ آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے، تقریباً مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ اس تنا¶ کے باوجود، امریکی وزارت خزانہ نے اشارہ دیا ہے کہ وہ سمندر میں موجود ایرانی تیل پر عائد پابندیوں میں نرمی کر سکتی ہے تاکہ تقریباً 140 ملین بیرل تیل عالمی مارکیٹ میں لایا جا سکے اور قیمتوں کو قابو کیا جا سکے۔ بھارت، جو اپنی ضرورت کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، مبینہ طور پر اپنے ٹینکرز کو محفوظ طریقے سے نکالنے کے لیے متبادل راستوں اور حفاظتی تدابیر پر کام کر رہا ہے۔ دوسری جانب، عالمی سطح پر سونے کی قیمتوں میں 2020 کے بعد سب سے بڑی ہفتہ وار گراوٹ (7 فیصد) دیکھی گئی ہے، کیونکہ سرمایہ کار اسٹاک مارکیٹ کے نقصانات کو پورا کرنے کے لیے سونا فروخت کر رہے ہیں۔
۲
۔ امریکی ڈالر کے مقابلے بھارتی روپیہ تاریخی نچلی سطح پر**
غیر ملکی کرنسی مارکیٹ میں بھارتی روپے پر دبا¶ اس ہفتے مزید بڑھ گیا اور روپیہ ایک ہی سیشن میں 82 پیسے گر کر 93.71 فی ڈالر کی اب تک کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا۔ روپے کی اس قدر میں کمی کی بنیادی وجوہات میں خام تیل کی درآمدی لاگت میں اضافہ اور غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (FIIs) کی جانب سے بڑے پیمانے پر سرمائے کا انخلا شامل ہے۔ صرف مارچ کے مہینے میں اب تک 60,000 کروڑ روپے سے زائد کا سرمایہ بھارتی مارکیٹ سے نکالا جا چکا ہے۔ معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر روپیہ 93 کی سطح سے اوپر برقرار رہا تو اس سے نہ صرف ملک میں ایندھن اور ایل پی جی کی قیمتیں بڑھیں گی بلکہ ان بھارتی کمپنیوں کے لیے قرضوں کی واپسی بھی مہنگی ہو جائے گی جنہوں نے ڈالر میں ادائیگیاں کرنی ہیں۔
۳
۔ مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اور امریکی فیڈرل ریزرو کا فیصلہ
امریکی مرکزی بینک ‘فیڈرل ریزرو’ نے 18 مارچ کو اپنی اہم پالیسی میٹنگ میں شرح سود کو 3.5% سے 3.75% کی سطح پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ 2026 میں مسلسل دوسری بار ہے کہ شرح سود میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ فیڈرل ریزرو کے چیئرمین جیروم پاول نے واضح کیا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری حالیہ تنازعات کی وجہ سے عالمی معیشت غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے، جس کا براہ راست اثر توانائی کی قیمتوں اور سپلائی چین پر پڑ رہا ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر، بینک نے سال 2026 کے لیے افراط زر (مہنگائی) کے ہدف کو 2.4 فیصد سے بڑھا کر 2.7 فیصد کر دیا ہے۔ اگرچہ مارکیٹ کو امید تھی کہ اس سال شرح سود میں کمی کی جائے گی، لیکن تازہ ترین ”ڈاٹ پلاٹ” سے اشارہ ملتا ہے کہ اب پورے سال میں صرف ایک بار معمولی کمی کا امکان ہے، کیونکہ عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں مہنگائی کو کنٹرول کرنے کی کوششوں میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔
۴
بھارت کی کوئلہ پیداوار میں ریکارڈ کامیابی**
عالمی سطح پر توانائی کے بحران کے درمیان، بھارت کی وزارت کوئلہ نے اعلان کیا ہے کہ ملک نے مسلسل دوسرے سال ایک ارب ٹن کوئلہ پیدا کرنے کا سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ یہ کامیابی بھارت کی توانائی کی حفاظت (Energy Security) کے لیے انتہائی اہم ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ حکومت اگرچہ گرین انرجی کی طرف منتقلی پر زور دے رہی ہے، لیکن صنعتی پیداوار کو برقرار رکھنے کے لیے کوئلہ اب بھی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، بھارت کے صنعتی مینوفیکچرنگ سیکٹر میں 9.1 فیصد کی شرح سے ترقی ہوئی ہے، جس میں سستی گھریلو بجلی کی فراہمی نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
۶
بھارت میں ایف ڈی آئی پالیسی میں نرمی،
بھارت حکومت نے حال ہی میں بیرونی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) سے متعلق پالیسی میں اہم تبدیلیاں متعارف کرائی ہیں۔ اس فیصلے کا مقصد الیکٹرانکس، سولر توانائی اور صنعتی آلات کے شعبوں میں سرمایہ کاری کو تیز کرنا ہے۔
حکومت کے مطابق نئی پالیسی کے تحت ان ممالک سے آنے والی سرمایہ کاری کی منظوری کے عمل کو زیادہ شفاف اور تیز بنایا جائے گا جو بھارت کے ساتھ زمینی سرحد رکھتے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد مینوفیکچرنگ کے شعبے میں نئی صنعتوں کو فروغ دینا اور عالمی کمپنیوں کو بھارت میں سرمایہ کاری کے لیے راغب کرنا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام بھارت کی صنعتی پیداوار بڑھانے اور عالمی سپلائی چین میں اس کے کردار کو مضبوط بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔بھارت گزشتہ چند برسوں سے اپنی معیشت کو مینوفیکچرنگ کا عالمی مرکز بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں حکومت کی Production Linked Incentive Scheme بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے جس کے تحت کمپنیوں کو پیداوار بڑھانے پر مالی مراعات دی جاتی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
