Last Updated on April 11, 2026 5:39 pm by INDIAN AWAAZ

© UNHCR/Houssam Hariri
لبنان 8 اپریل کو اسرائیل کے تباہ کن فضائی حملوں کے صدمے سے سنبھلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ ایمبولینس گاڑیوں کو بھی نشانہ بنائے جانے کا خطرہ بڑھ گیا ہے اور ملک کے جنوبی علاقوں میں خوراک کی شدید قلت کا اندیشہ ہے۔
ملک میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے نمائندے ڈاکٹر عبد النصیر ابوبکر نے لبنان کی وزارت صحت کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان حملوں میں تقریباً 300 افراد ہلاک ہوئے جو 2 مارچ کو اسرائیلی افواج اور حزب اللہ کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی شدید جھڑپوں کے بعد ایک دن میں ہونے والی سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔ ان کارروائیوں میں 1,150 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
نہوں نے جنیوا میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تاحال بہت سے لوگ لاپتہ ہیں اور خیال ہے کہ وہ ملبے تلے دبے ہیں۔ بہت سی لاشیں ٹکڑوں میں بٹ گئی ہیں جن کی شناخت نہیں ہو سکی۔
ایمبولینس گاڑیوں کو خطرہ
آج صبح اسرائیل کی جانب سے انتباہ موصول ہوا ہے کہ ایمبولینس گاڑیوں کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے کیونکہ مبینہ طور پر حزب اللہ ایمبولینس گاڑیوں کو استعمال کر رہی ہے۔
‘ڈبلیو ایچ او’نے واضح کیا ہے کہ صحت کے شعبے کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ اگر ایسا ہو بھی جائے تو یہ ایمبولینس گاڑیوں یا طبی مراکز پر حملوں کا جواز نہیں ہو سکتا۔ طبی عملہ، ہسپتال اور ایمبولینس گاڑیاں بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت محفوظ ہیں۔ اگر یہ سہولیات دستیاب نہ ہوں تو جانیں نہیں بچائی جا سکتیں۔
انخلا کے احکامات
ڈاکٹر ابوبکر نے بتایا ہے کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے انخلا کے احکامات بیروت کے علاقے جنییہ تک پھیلا دیے گئے ہیں جہاں رفیق حریری اور الزہرا ہسپتال بھی واقع ہیں جن میں بڑی تعداد میں زخمیوں کا علاج کیا جا رہا ہے۔
فیصلہ ہوا ہے کہ ہسپتالوں سے انخلا نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے پاس مریضوں کو منتقل کرنے کے لیے کوئی اور جگہ موجود نہیں ہے۔ رات کو اطلاع ملی ہے کہ ان ہسپتالوں کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا لیکن یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ ایسا ہو گا یا نہیں۔
بے یقینی اور نقل مکانی
پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) کی ترجمان یوجین بیون نے کہا ہے کہ بیروت، وادی بقہ اور جنوبی لبنان سے پہلے ہی نقل مکانی کرنے والے خاندان اب دوبارہ بے گھر ہو گئے ہیں۔ جن علاقوں کو پہلے محفوظ سمجھا جاتا تھا وہ بھی بدھ کو حملوں کی زد میں آئے جس سے خوف و ہراس پھیل گیا۔
قاسمیہ پل کی تباہی نے شمال اور جنوب کے درمیان آمدورفت کو انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔ جنوبی دیہات کے بہت سے خاندانوں کے لیے واپسی اب ممکن نہیں رہی کیونکہ ان کی بستیاں جزوی یا مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔ جنوبی لبنان میں اب بھی تقریباً 1,50,000 افراد موجود ہیں جن تک انسانی امداد کی رسائی نہایت ضروری ہے۔ اگر انہیں دوبارہ نقل مکانی کرنی پڑے تو ان کے لیے محفوظ راستہ ہونا چاہیے۔
خوراک کا بڑھتا بحران
لبنان میں عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) کی ڈائریکٹر ایلیسن اومن نے جنوبی سرحدی علاقوں کے اپنے دورے کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔ صرف ایک ماہ میں سبزیوں کی قیمتوں میں 20 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے جبکہ روٹی کی قیمت 17 فیصد بڑھ گئی ہے۔ یہ ان خاندانوں کے لیے انتہائی تشویشناک حالات ہیں جو پہلے ہی مشکلات کا شکار ہیں۔
قیمتیں بڑھ رہی ہیں، آمدنی متاثر ہو رہی ہے اور طلب میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ جنوبی لبنان کے متاثرہ علاقوں میں 80 فیصد سے زیادہ بازار اب بند ہو گئے ہیں۔
UN NEWS
