Over 3,000 Ceasefire Violations by Pakistan Along LoC this year
RS passes Insolvency and Bankruptcy Code (2nd Amendment) Bill
NIA arrests 9 Al-Qaeda terrorists planning attacks at vital installations
IPL kicks off in Abu Dhabi
Army initiates disciplinary proceedings against its troops in killing of 3 men in kashmir
FreeCurrencyRates.com

इंडियन आवाज़     20 Sep 2020 09:52:19      انڈین آواز

!راحت اندوری : ایک بلند آواز کا گم ہوجانا

— مشرف عالم ذوقی
وہ مشاعروں میں قہقہہ لگاتے ہوئے حکومت کو چیلنج کرتا تھا . اس کا قہقہہ مشہور تھا . سیاہ چہرے پر طنز کی بجلیاں کوندتیں اور اس کی اسکی مسکراہٹ سے ہزاروں تیر برستے اور کروڑوں لہو لہان ہو جاتے . میں کیوں لکھتا اس پر ؟ لکھتا تو سنجیدہ مہذب دانشوروں کے درمیان نشانہ بن جاتا ..بازارو اور مشاعرہ باز .. یہ کویی شاعری ہے ؟ مگر ایوان سیاست میں اسی کے نام سے زلزلہ آ جاتا تھا . جب وہ کہتا تھا ،
تمہارے باپ کا ہندوستان تھوڑی ہے .

اور اتنا کہہ کر وہ تیز قہقہہ لگاتا جیسے حکمرانوں کو تنبیہ کر رہا ہو کہ سنبھل جاؤ .. ہم بھی کسی آندھی ، کسی طوفان سے کم نہیں .. ہم سے مت ٹکراو ..
سنجیدہ فلسفوں کا کاروبار کرنے والے ، جدیدیت اور پختہ ادب کی پہچان رکھنے والو ، ایک کہانی سنو . ایک ملاح تھا .اس کی کشتی میں ایک دانشور سوار ہوا . دانشور نے پوچھا ، کیا تاریخ سے تمہاری واقفیت ہے ؟ ادب سے ہے ؟ سائنس سے ہے ؟ جغرافیہ سے ہے .؟ ملاح ہر بار انکار میں گردن ہلا دیتا . اور دانشور ہر سوال کے بعد کہتا ، نہیں جانتے ، تمہاری زندگی بیکار ہے . اس درمیان کشتی میں پانی بھرنے لگا . ملاح نے دانشور سے سوال کیا ، آپ تیرنا جانتے ہیں ؟ دانشور نے انکار کیا – نہیں جانتا . دریا میں کودنے سے قبل ملاح نے کہا ، پھر آپ کی زندگی بیکار ہے .طوفان آ چکا .آندھیوں نے ہزاروں گھر پھونک دیے .بند کمروں میں ادب کی نمائش کرنے والے کیا جانیں کہ راحت اندوری کیا تھا ؟ منور رانا کی ضرورت کیوں ہے ؟ —– فسطائی طاقتیں پوری شدّت اور منصوبوں کے ساتھ مذہب ،مشترکہ وراثت اور تہذیب پر حملہ کر رہی ہیں …. دانشوری کو طاق پر رکھیے —کیا آپ حکومت کے ایسے منصوبوں کو خاک میں ملا سکتے ہیں ؟ منور رانا اور راحت اندوری جیسوں کی آواز پوری دنیا کو ہلا دینے کی طاقت رکھتی ہے . سنجیدہ ادب لکھنے والوں اور سنجیدہ قاری کا قصور یہ کہ وہ ابن صفی کو تو ضروری تسلیم کرتا ہے مگر راحت اندوری تک پہچنے میں روح فنا ہو جاتی ہے . آزادی یوں ہی مل گیی ؟ کیا اس وقت یہ پروپیگنڈا ضروری نہیں تھا کہ غلامی کی مخالفت کی جائے .آزادی کی چیخ کو آواز دی جائے اور اس وقت آزادی کے نغمے کس نے نہیں لکھے . سب نے لکھے . ہم آج اس مہذب دور میں زیادہ غلامی کے شکار ہیں . موب لنچنگ ، فسادات ، دو قانون . مسلمانوں کا الگ ، غیر مسلموں کا الگ . کوئی ادیب ہے جو مسلمانوں کے لئے جنگ کر رہا ہو .جنگ راحت کرتا تھا . ڈرتا نہیں تھا .بیباک تھا . کپل شرما شو میں بھی دو بار دعوت ملی .دونوں دفعہ چھا گیا اور پیغام بھی دے گیا کہ تمہارے باپ کا ہندوستان تھوڑی ہے ..
مزہ چکھا کے ہی مانا ہوں میں بھی دنیا کو
سمجھ رہی تھی کہ ایسے ہی چھوڑ دوں گا اسے
ایک ہی ندی کے ہیں یہ دو کنارے دوستو
دوستانہ زندگی سے موت سے یاری رکھو
یہ سانحہ تو کسی دن گزرنے والا تھا
میں بچ بھی جاتا تو اک روز مرنے والا تھا
گھر سے یہ سوچ کہ نکلا ہوں کہ مر جانا ہے
اب کوئی راہ دکھا دے کہ کدھر جانا ہے
بہت غرور ہے دریا کو اپنے ہونے پر
جو میری پیاس سے الجھے تو دھجیاں اڑ جائیں
آنکھ میں پانی رکھو ہونٹوں پہ چنگاری رکھو
زندہ رہنا ہے تو ترکیبیں بہت ساری رکھو
ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے
کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے
ہے میرے چاروں طرف بھیڑ گونگے بہروں کی
کسے خطیب بناؤں کسے خطاب کروں
ہاتھ خالی ہیں تِرے شہر سے جاتے جاتے

وہ گونگا نہیں تھا ، بولنا جانتا تھا . وہ اپنی قیمت پہچانتا تھا .. وہ جنگجو تھا . جب ضرورت ہوتی ، وہ بیدار کرنے آ جاتا . اب کورونا نے حقیقت سامنے رکھ دی اور یہ سوال خدا سے بھی ہے ..خدا ، میرے خدا ، راحت کا جرم سنگین اور سیاسی ایوانوں میں بیٹھے خداؤں کو معافی ؟ یہ کیسا انصاف میرے خدا . کورونا اپنے ساتھ کیسے کیسے لوگوں کو لے گیا ، ان لوگوں کو جن کے دم سے زندگی اور کائنات کا حسن باقی تھا . اور جو نفرتیں پھیلا رہے ہیں ، جو آگ لگا رہے ہیں ، جو ملک کو زخمی کر رہے ہیں ، تیری خوبصورت دنیا میں داغ لگا رہے ہیں ، انھیں زندہ رہنے کے لئے چھوڑ رکھا ہے . یہ تفریق کیوں خدا ؟ یہ کیسا انصاف ؟
میں پھر ان سوالوں پر آتا ہوں . . آزادی کے بعد کے فرقہ وارانہ فسادات –ادب کا خیمہ خاموش رہا — 1984ہوا۔ پھر1992 — کویی ہلچل اس خیمے میں نظر نہیں آئی — کچھ ہلکی پھلکی علامتی کہانیاں لکھ دی گئیں۔1992 کے بعد کا منظر نامہ دیکھ لیجئے — خاموشی کی روایت قائم ہے …. سیاسی عدم بیداری کی فضا قلم کے محافظ پیدا نہیں کرتی — جدیدیت کے علمبردار وں کو کوئی غرض نہیں کہ ملک کہاں جا رہا ہے– بیمار مریضوں ،سوکھی انتڑیوں کے باسی مردہ قصّوں میں اگر زندگی کی حرارت نہیں تو یہ قصّے فقط الفاظ کی بھول بھلیاں کے سوا کچھ بھی نہیں ہیں–ترقی پسند زندہ مکالمے کرتے تھے –بیانات دیتے تھے ۔حق کے لئے جنگ کرتے تھے ۔ 1992کے بعد کا عام رویہ ہے کہ ادب کو عام اذہان اور مسائل میں کوئی دلچسپی نہیں۔نیند میں سویے ادیبوں پر آپ فخر کر سکتے ہیں تو کیجئے …لیکن وہ ادیب ہی کیا جسے بدلتے سیاسی منظر نامے کی چیخ سنائی نہ دے

راحت یہ چیخ سنتا تھا . اور جب وہ لکھتا تھا تو اس کی چیخ ساری دنیا کی چیخ بن جاتی تھی .
ہم اپنی جان کے دشمن کو اپنی جان کہتے ہیں
محبت کی اسی مٹی کو ہندوستان کہتے ہیں
’میرے اندر سے ایک ایک کرکے سب ہوگیا رخصت
مگر اندر جو باقی ہے اسے ایمان کہتے ہیں‘
میں من کی بات بہت من لگا کے سنتا ہوں۔
یہ تو نہیں ہے تیرا اشتہار بولتا ہے۔
کچھ اور کام اسے جیسے آتا ہی نہیں۔
مگر وہ جھوٹ بہت شاندار بولتا ہے .

میں اس کے چہرے کو دیکھتا حضرت بلال حبشی کی یاد تازہ ہو جاتی . وہ چہرے سے سیاہ مگر اندر سے تندور .اور ایسے تندور کی ابھی ضرورت تھی . جب اسلام کی عظمت کا آفتاب بلند ہوا ، مکہ کی وادیوں سے ازاں کی جو پہلی آواز گونجی وہ حضرت بلال کی تھی . مودی کی اس انداز میں خبر کون لے گا کہ وہ جھوٹ بہت شاندار بولتا ہے . .. کون کہیگا ، تیرے باپ کا ہندوستان … یہ راحت ہی کہہ سکتے تھے اور راحت ہی چلے گئے . اپنے نغموں سے اقلیتوں کے زخم پر مرہم رکھنے والا ، راحت پہچانے والا چلا گیا ..

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

SPORTS

BFI President Ajay Singh and Executive Council’s tenure extended for 3 months

Harpal Singh Bedi/ New Delhi The Boxing Federation of India (BFI) Saturday extended the tenure of its presi ...

Ricky Ponting and Shreyas Iyer hope for a strong start from Delhi Capitals

Harpal Singh Bedi / New Delhi Delhi Capitals head coach Ricky Ponting and captain Shreyas Iyer on Saturday ...

خبرنامہ

کرونا وبا ‘کنٹرول سے باہر’ ہو چکی ہے: سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ

ویب ڈیسک —اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے خ ...

بھارتی فوج نے کہا ہے کہ اُس نے کسی بھی مرحلے پر ایل اے سی کو پار نہیں کیا ہے

فوج نے آج زور دے کر کہا ہے کہ بھارت، حقیقی کنٹرول لائن سے، فوج ...

ملک میں عالمی وبا سے تقریباً33 لاکھ 24ہزار افراد شفایاب

ملک میں عالمی وبا سے تقریباً33 لاکھ 24ہزار افراد شفایابہوچکے ہ ...

TECH AWAAZ

Covid 19 induces scientists to work for Fastest Innovations for Survival

From Touchless Soap & Water Dispenser, Mechanical Ventilator to Pioneering E-classroom Software or Low-cos ...

Digital tech companies have responsibility to abide by govt rules: India

WEB DESK India has said it remains open and continues to welcome FDI in the country including in the area o ...

MARQUEE

PMO ensures network connectivity for young girl for classes

WEB DESK A direct intervention by the Prime Minister’s Office has ensured that a young girl in Maharashtr ...

Woman gives birth to baby girl on NDRF rescue boat in flood-hit Bihar

It was the 10th childbirth including a twins on an NDRF boat while evacuating expecting mothers from flood-hit ...

@Powered By: Logicsart

Do NOT follow this link or you will be banned from the site!