FreeCurrencyRates.com

इंडियन आवाज़     16 May 2022 05:48:41      انڈین آواز

بھارت مخالف فرضی خبریں پھیلانے پر 35 یوٹیوب چینل، 2 ویب سائٹ بلاک

پاکستان کی مالی اعانت سے چلنے والی فرضی خبروں کے نیٹ ورک بلاک

WEB DESK

اطلاعات و نشریات کی وزارت نے 35یوٹیوب پر مبنی نیوز چینلوں اور 2 ویب سائٹس کو بلاک کرنے کا حکم جاری کیا ہے ،جو ڈیجیٹل میڈیا پر منظم طریقہ سے بھارت مخالف فرضی خبریں پھیلانے میں ملوث تھے۔ وزارت کے ذریعہ بلاک کیے گئے یوٹیوب اکاؤنٹس کے کل سبسکرائبرز کی تعداد 1 کروڑ 20 لاکھ سے زیادہ تھی اور ان کے ویڈیوز کو 130 کروڑ سے زیادہ بار دیکھا گیا تھا۔ اس کے علاوہ حکومت نے انٹرنیٹ پر بھارت مخالف پروپگنڈا کرنے میں شامل ہونے کی پاداش میں دو انسٹاگرام اکاؤنٹس اور ایک فیس بُک اکاؤنٹس کو بلاک کردیا ہے۔

اطلاعاتی ٹیکنالوجی (انٹرمیڈیری گائیڈلائنز اینڈ ڈیجیٹل میڈیا ایتھکس کوڈ) ضابطہ، 2021 کےضابطہ 16 کے تحت پانچ الگ الگ احکامات جاری کرکے، وزارت نے ان سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ویب سائٹس کو بلاک کرنے کا حکم دیا ہے۔ بھارت کی خفیہ ایجنسیاں ان سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ویب سائٹوں کی لگاتار نگرانی کررہی تھیں اور انہوں نے ان کے خلاف فوری کارروائی کے لیے وزارت کو اطلاع دی۔

طریقہ کار : مربوط طریقہ سے غلط خبریں پھیلانے کے نیٹ ورکس

وزارت کے ذریعہ بلاک کیے گئے 35 اکاؤنٹس پاکستان سے آپریٹ ہو رہے تھے، اور ان کی چار مربوط غلط خبریں پھیلانے والے نیٹ ورکس کے طورپر شناخت کی گئی تھی ۔ان میں 14 یوٹیوب چینلز چلانے والا اپنی دنیا نیٹ ورکس اور 13 یوٹیوب چینل چلانے والا طلحہ فلمس نیٹ ورک شامل تھے۔ چار چینلوں کا ایک سیٹ اور دو دیگر چینلوں کا سیٹ بھی ایک دوسرے کے ساتھ مل کرکام کررہے تھے۔

اس سبھی نیٹ ورک کا واحد مقصد بھارتی ناظرین کے درمیان فرضی خبریں پھیلانا تھا۔ ایک نیٹ ورک کے حصے کے طور پر کام کرنے والے چینل یکساں ہیش ٹیگز اور ایک جیسے ایڈیٹنگ کے طریقہ کا استعمال کرتے تھے۔ ساتھ ہی یہ ایک جیسے لوگوں کے ذریعہ آپریٹ کئے جاتے تھے اور ایک دوسرے کو پرموٹ کرتے تھے۔ کچھ یوٹیوب چینلوں کو پاکستانی ٹی وی نیوز چینلوں کے اینکروں کے ذریعہ آپریٹ کیا جارہا تھا۔

مواد کی نوعیت

وزارت کے ذریعہ بلاک کیے گئے یوٹیوب چینلز، ویب سائٹس اور دیگر سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا استعمال پاکستان کے ذریعہ بھارت سے متعلق حساس موضوعات سے جڑی فرضی بھارت مخالف خبروں کو پھیلانے میں کیا جارہا تھا۔ اس میں بھارتی فوج، جموں و کشمیراور بھارت کے دوسرے ملکوں کے ساتھ غیرملکی رشتے جیسے موضوعات شامل تھے۔ یہ دیکھنے میں آیا کہ سابق چیف آف ڈیفنس اسٹاف آنجہانی جنرل بپن راوت کے انتقال کے سلسلے میں یوٹیوب چینلوں کے توسط سے بڑے پیمانے پر فرضی خبریں پھیلائی گئیں۔ ان یوٹیوب چینلوں نے پانچ ریاستوں کے آئندہ انتخابات کے جمہوری عمل کو کمزور کرنے کے لئے بھی مواد پوسٹ کرنا شروع کر دیا تھا۔

ان چینلوں نے علیحدگی پسندی کو بڑھاوا دینے ، بھارت کو مذہب کی بنیاد پر بانٹنے اور بھارتی سماج کے مختلف طبقوں کے درمیان عداوت پیدا کرنے کے لیے مواد پوسٹ کئے۔ ایسی جانکاری سے ناظرین کو ملک کے امن عامہ پر منفی اثر ڈالنے والے جرائم کے لئے تحریک ملنے کا اندیشہ تھا۔

حالیہ کارروائی سے پہلے حکومت نے دسمبر 2021 میں 20 یوٹیوب چینلوں اور 2 ویب سائٹوں کو بلاک کیا تھا ۔اس وقت پہلی بار بھارت مخالف فرضی خبروں کے نیٹ ورک کے خلاف آئی ٹی ضابطے، 2021 کے تحت ملے ایمرجنسی اختیارات کا استعمال کیا گیا تھا۔ خفیہ ایجنسیوں اور وزارت بھارت میں مجموعی اطلاعاتی ماحول کو محفوظ بنانے کے سلسلے میں مل کر کام کرتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

SPORTS

History Created: India beat Indonesia 3-0 to lift maiden Thomas Cup trophy

AMN Indian Men's Badminton team on Sunday scripted history by winning the Thomas Cup for the first time eve ...

Thomas Cup Badminton: India to face Indonesia in summit clash

India play first-ever final in 73-year-history BangkoKIn Badminton, rejuvenated Indian male shuttlers s ...

Thomas Cup: Srikanth wins second singles, India leads 2-1

In Thomas Cup Badminton Tournament in Bangkok, India's ace shuttler Kidambi Srikanth registered a thumping win ...

MARQUEE

National Museum to celebrate International Museum Day 2022 from 16th-20th May

By SUDHIR KUMAR National Museum New Delhi will celebrate International Museum Day 2022 for five day from to ...

Indian Railways introduces separate seats for newly-born children in trains

AMN Indian Railways has introduced separate seats for newly-born children in trains. The facility has been ...

Finland tops world’s happiest country for fifth straight year

A family tests the water at Pyynikki Beach, just a short walk from downtown Tampere. Photo: Laura Vanzo/Visit ...

@Powered By: Logicsart