جاویدا ختر
ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی رکنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ایسے میں ایک عام آدمی کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ وہ آخر جائے تو جائے کہاں۔کھائے تو کھائے کیا؟ اور اگر بیمار ہے تو علاج کیسے کرائے؟اس کا تو نہانا دھونا بھی مشکل ہوگیا ہے۔حالت یہ ہے کہ اشیائے صارفین فروخت کرنے والی تمام کمپنیاں اپنی مصنوعات کی قیمتیں مسلسل بڑھارہی ہیں۔ ہندوستان میں سب سے بڑے ایم ایم سی جی برانڈ ہندوستان یونی لیور لمیٹیڈ نے 5مئی کو اپنی مصنوعات کی قیمتوں میں 15فیصد تک کا اضافہ کردیا۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق Pears صابن کی 125گرام کی ٹکیہ کی قیمت میں 2.4 فیصد اور ملٹی پیک میں 3.7فیصد کا اضافہ کردیا گیا۔Lux صابن کی قیمت 9فیصد بڑ ھ گئی ہے۔ کمپنی نے Sunslikشیمپو کی قیمتوں میں بھی 8سے 10روپے تک کا اضافہ کردیا ہے۔ Clinic Plus شیمپو کی 100ml کی قیمت میں 15فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے۔ صابن اور شیمپو کے علاوہ اسکن کریم، Glow & Lovelyکی قیمت میں 6-8فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے۔ Ponds کے ٹیلکم پاوڈر کی قیمت میں بھی 5-7فیصد کا اضافہ کردیا گیا ہے۔
اس سے قبل بھی اس سال مارچ میں ہندوستان یونی لیور اور نیسلے نے میگی، چائے، کافی اور ملک پاوڈر کی قیمتیں بڑھائی تھیں۔ 14مارچ کو ہندوستان یونی لیور نے Bru کافی کی قیمتیں 3-7فیصد، Bru Gold کافی جار کی قیمتیں 3-4 فیصد، انسٹینٹ کافی پاوچ کی قیمت 3سے لے کر 6.6 فیصد تک بڑھا دی تھیں۔اس کے علاوہ تاج محل چائے کی قیمتیں 3.7 فیصد سے 5.8فیصد اور بروک بانڈ ویرینٹ کے علاوہ مختلف چائے کی قیمتیں 1.5 فیصد سے لے کر 14 فیصد تک بڑھائی گئی ہیں۔
30برس میں نہیں دیکھی ایسی مہنگائی
ہندوستان یونی لیور لمیٹیڈ کے سی ای او اور مینیجنگ ڈائریکٹر سنجیو مہتا نے 2مئی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ انہوں نے کمپنی میں گذارے 30برسوں کے دوران اس طرح کی مہنگائی کبھی نہیں دیکھی۔
گیس سلنڈروں کی قیمت میں بھی اضافہ
دریں اثنا گیس سلنڈروں کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کردیا گیا ہے۔ ہفتہ 7مئی کو گھریلو گیس سلنڈروں کی قیمت میں 50روپے کا اضافہ کیا گیا۔ اس کے بعد دہلی میں نئی قیمت 999.50روپے ہوگئی ہے۔ اس کے علاوہ اس اضافے کی وجہ سے بہار میں گیس سلنڈر اب 1100روپے سے زیادہ میں ملیں گے۔ بہار کے سپول میں گیس سلنڈر 1104.50روپے میں مل رہے ہیں۔
اس سے قبل مارچ میں گیس سلنڈروں کی قیمت میں 50روپے کا اضافہ کیا گیا تھا۔ کمرشیل سلنڈروں کی قیمت میں 102روپے کااضافہ یکم مئی کو کیا گیا تھا۔ اس کے بعد ان کی قیمت 2355روپے ہوگئی ہے۔
پانچ ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے بعد تیل کمپنیوں نے 22مارچ کو گھریلو گیس سلنڈر کی قیمت میں 50روپے کا اضافہ کیا
تھا۔ اس کے بعد بہار، مدھیہ پردیش، جھارکھنڈ، اترپردیش اور چھتیس گڑھ میں 14.2 کلوکا بغیر سبسڈی والا سلنڈر ایک ہزار روپے سے اوپر نکل گیا تھا۔
ایک سال میں 190روپے سے زیادہ اضافہ
دہلی میں یکم مئی 2021کو گھریلو گیس سلنڈر کی قیمت 809روپے تھی جو اب 999.50 روپے ہوگئی ہے۔ یعنی گھریلو گیس سلنڈر کی قیمت میں 130.50روپے کا اضافہ ہوا ہے اور اس پر ملنے والی سبسڈی بھی ختم کردی گئی ہے۔مودی حکومت کے آنے کے بعد سے گزشتہ آٹھ برسوں میں گیس سلنڈر کی قیمت دوگنا ہوچکی ہے۔ یکم مارچ کو گیس سلنڈر کی قیمت 410.50روپے تھی جو اب 999.50روپے ہوچکی ہے۔
آر بی آئی بھی بے بس
بڑھتی ہوئی مہنگائی سے پریشان، ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) نے ریپو ریٹ کو 4% سے بڑھا کر 4.40% کر دیا ہے۔ یعنی، آپ کا قرض مہنگا ہونے والا ہے اور آپ کو زیادہ EMI ادا کرنا پڑے گا۔ مانیٹری پالیسی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس 2 اور 3 مئی کو ہوا جس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔۔مانیٹری پالیسی کا اجلاس ہر دو ماہ بعد ہوتا ہے۔ آخری میٹنگ 6-8 اپریل کو ہوئی تھی۔ آخری بار ریپو ریٹ میں تبدیلی 22 مئی 2020 کو ہوئی تھی۔ اس کے بعد سے یہ 4% کی تاریخی کم ترین سطح پر ہے۔ ریپو ریٹ وہ شرح ہے جس پر بینکوں کو آر بی آئی سے قرض ملتا ہے، جبکہ ریورس ریپو ریٹ وہ شرح ہے جس پر بینکوں کو اپنا پیسہ آر بی آئی کے پاس رکھنے پر سود ملتا ہے۔
مہنگائی آر بی آئی کی بالائی حد 6 فیصد سے تجاوز کر گئی۔اپریل میں جاری ہونے والے حکومتی اعداد و شمار کے مطابق کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) پر مبنی خوردہ افراط زر مارچ میں بڑھ کر 6.95 فیصد تک پہنچ گیا تھا۔ خوراک کی مہنگائی 5.85 فیصد سے بڑھ کر 7.68 فیصد ہو گئی۔ یہ مسلسل تیسرا مہینہ تھا جب افراط زر کی شرح RBI کی 6% کی بالائی حد سے تجاوز کر گئی۔ فروری 2022 میں خوردہ مہنگائی 6.07 فیصد اور جنوری میں 6.01 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ مارچ 2021 میں خوردہ افراط زر 5.52 فیصد رہا۔(اے ایم این)