Web Hosting
FreeCurrencyRates.com

इंडियन आवाज़     16 Oct 2019 08:20:47      انڈین آواز
Ad

مرکزی بجٹ 20-2019 کی جھلکیاں

خزانہ اور کمپنی امور کی وزیر محترمہ نرملا سیتا رمن نے آج اپنی اولین بجٹ کی تقریر کی اور پارلیمنٹ کے روبرو مرکزی بجٹ 20-2019 پیش کیا۔ مرکزی بجٹ 20-2019 کی کلیدی جھلکیاں درج ذیل ہیں:

دہائی کے لئے 10 نکاتی لائحہ عمل

جن بھاگیداری: کم سے کم حکومت ، زیادہ سے زیادہ حکمرانی کے ساتھ ٹیم انڈیا کی تشکیل
کثافت سے مبرا بھارت کے توسط سے سرسبز مادر ارض اور نیلا آسمان کا حصول
ڈیجیٹل انڈیا کو معیشت کے ہر شعبے تک پہنچانا
گگن یان، چندریان اور دیگر خلائی اور سیارچہ پروگراموں کا آغاز
طبیعاتی اور سماجی بنیادی ڈھانچے کی تعمیر
پانی، آبی انتظام، صاف ستھرے دریا
نیلگوں معیشت
خودکفالت اور اناجوں، دالوں، تلہنوں، پھلوں اور سبزیوں کی برآمد
آیوشمان بھارت کے توسط سے صحت مند معاشرے کی تشکیل، تغذیہ سے مالا مال خواتین اور بچے، شہریوں کا تحفظ
ایم ایس ایم ای، اسٹارٹ اپس، دفاعی مینو فیکچرنگ، موٹر گاڑی، الیکٹرانک، فیبس، بیٹریوں اور طبی آلات پر میک ان انڈیا کے تحت زور دینا
5 کھرب ڈالر معیشت کے حصول کی جانب

وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ عوام کے دل آشا (امید)، وشواس (اعتماد)، آکانکشا (توقعات) سے لبریز ہیں۔
بھارتی معیشت رواں سال کے دوران تین کھرب ڈالر کی معیشت بن جائے گی
حکومت کی خواہش یہ ہے کہ بھارت کو پانچ کھرب ڈالر کی معیشت بنادیا جائے
وزیرخزانہ کا کہنا ہے کہ بھارتی کمپنیاں بھارت میں روزگار کی خالق ہیں اور ساتھ ہی ساتھ دولت کی فراہم کار بھی ہیں
سرمایہ کاری درکار ہے:
بنیادی ڈھانچے میں
ڈیجیٹل معیشت میں
اوسط درجے کی فرموں میں روزگار پیدا کرنے کے لئے
سرمایہ کاریوں کے سلسلے کے آغاز کے لیے پہل قدمیوں سے متعلق تجاویز
مدرا قرضوں کے توسط سے عام انسان کی زندگی میں تبدیلی ، کاروبار آسان بنانے کے لئے
ایم ایس ایم ای سے متعلق اقدامات:
پردھامن منتری کرم یوگی مان دھن اسکیم
ایسے تقریباً تین کروڑ خردہ تاجروں اور چھوٹے دوکانداروں کیلئے پنشن کے فوائد ، جن کا سالانہ کاروبار، 1.5 کروڑ سے کم ہے۔
انرولمنٹ کا کام سہل رکھا گیا ہے، اس کے لیے صرف آدھار، بینک کا کھاتہ اور ایک از خود اعلانیہ درکار ہوگا
تمام درج رجسٹر جی ایس ٹی ، ایم ایس ایم ای اداروں کو ایم ایس ایم ای سے متعلق سود کی استثنائی کے تحت (تازے یا تغیراتی قرضوں پر) 2 فیصد کی سود استثنائی 20-2019 مالی سال میں فراہم کرنے کی غرض سے 350 کروڑ روپے کی تخصیص
ایم ایس ایم ای کے لئے ادائیگی کا پلیٹ فارم اس لئے قائم کیا جائے گا کہ وہ بلوں اور ادائیگیوں کو آسانی سے کرسکے اور سرکاری ادائیگیوں میں تاخیر نہ ہو۔
نقل و حمل کے لئے قومی مشترکہ موبلٹی کارڈ ( این سی ایم سی) معیارات پر مبنی ادائیگی کا ایکو نظام بھارت کے پہلے اندرون خانہ نظام کے طور پر مارچ 2019 میں شروع کیا گیا تھا۔
انٹر آپریبل ٹرانسپورٹ کارڈ، روپے کارڈ کی بنیاد پر چلتا ہے اور اس کے حاملین بس کے سفر، چنگی محصولات، پارکنگ محصولات، خردہ شاپنگ کیلئے اس کا استعمال کرسکتے ہیں۔
ہر طرح کی طبیعاتی رابطہ کاری کی تمام تر شکلوں کو زبردست طور پر درج ذیل اقدمات کے توسط سے بڑھاوا دیا گیا ہے۔
پردھان منتری گرام سڑک یوجنا
صنعتی گلیارے، وقف مال بھاڑہ گلیارے
بھارت مالا اور ساگر مالا پروجیکٹ، جل مارگ وکاس اور اڑان اسکیمیں
ریاستی سڑک نیٹ ورک کو بھارت مالا پروجیکٹ کے دوسرے مرحلے میں ترقی دی جائے گی
صاحب گنج اور ہلدیہ میں ملٹی ماڈل ٹرمنلوں کے توسط سے گنگا میں جہاز رانی کی صلاحیت بڑھائی جائے گی اور فرکہ میں 20-2019 تک نیویگیشنل لاک، جل مارگ وکاس پروجیکٹ کے تحت فراہم کرایا جائے گا
آئندہ چار برسوں کے دوران گنگا کے راستے کارگو کی مقدار میں چار گنا اضافے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں مال بھاڑہ لاگت میں کمی آئے گی اور سستی دروں پر مسافروں کی آمد و رفت ممکن ہوسکے گی اور درآمداتی مصارف کم ہوں گے۔
2030-2018 کے دوران ریلوے کے بنیادی ڈھانچے میں 50 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری دستیاب ہے
ریلوے پٹریوں کی ترقی اور تکمیل ،رولنگ اسٹاک کی مینو فیکچرنگ اور مسافروں کی مال بھاڑہ خدمات کی بہم رسانی کی ترقی کے لئے پبلک – پرائیویٹ- پارٹنر شپ کی تجویز ہے۔
ملک بھر میں میٹرو ریل نیٹ ورک کے تحت 657 کلومیٹر نیٹ ورک کام کرنے لگا ہے۔
ہوابازی کے شعبے میں خودکفالت کے حصول کے لئے رکھ رکھاؤ کرو، مرمت کرو اور کلی طو رپر نئی شکل دو (ایم آر او) کیلئے پالیسی دخل اندازی
بھارت کو طیاروں سے متعلق سرمایہ فراہمی کا ایک مرکز بنانے اور بھارتی ساحلوں سے پٹے پر دینے کی سرگرمیوں کا آغاز کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے ریگو لیٹری روڈ میپ نافذ کیا جائے گا
ایف اے ایم ای اسکیم کے مرحلہ دو کیلئے 3 برسوں کی مدت کے لیے 10 ہزار کروڑ روپے کے منصوبہ جاتی اخراجات
برقی موٹر گاڑیوں کو تیزی سے اپنایا جائے۔ اس عمل کی حوصلہ افزائی کے لیے ان کی خریداری اور چارجنگ کے بنیادی ڈھانچے کے سلسلے میں اعلیٰ درجے کی ترغیبات فراہم کرنے کی تجویز
ایف اے ایم ای اسکیم کے تحت صرف جدید ترین بیٹری سے چلنے والی اور درج رجسٹر ای موٹر گاڑیوں کو ترغیبات فراہم کی جائے گی
قومی شاہراہ پروگرام ایک قومی شاہراہ گرڈ تشکیل دینے کی غرض سے قابل سرمایہ ماڈل اپناکر اس پروگرام کی تشکیل نو کی جائے گی
ایک ملک ایک گرڈ کے تحت ریاستوں کو قابل استطاعت شرحوں پر بجلی
گیس گرڈ، واٹر گرڈ، آئی- ویز، علاقائی ہوائی اڈوں کیلئے بلیو پرنٹ کی تیاری
اعلیٰ سطحی بااختیار کمیٹی (ایچ ایل ای سی) سفارشات کا نفاذ
سال کوردہ اور غیر مؤثر پلانٹوں کو علیحدہ کرنا
قدرتی گیس کی قلت کی وجہ سے گیس پلانٹ کی صلاحیت کا کم استعمال
گراس سبسڈی سرچارج، کھلی فروخت تک رسائی یا صنعتی محدوود پیداوار اور بڑے مقدار میں بجلی کے صرفے پر عائد ناپسندیدہ محصولات کو اُجول ڈسکام اشو رینس یوجنا (یو ای اے وائی) کے تحت ختم کردیا جائے گا
بجلی کے شعبے کے لئے محصولات اور ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے پیکج کا اعلان جلد ہی کردیا جائے گا
رینٹل ہاؤسنگ کو فروغ دینے کے لیے اصلاحی اقدمات
نمونہ کرایہ داری قوانینان کا استعمال اور مشتہری ریاستوں کے لئے کی جائے گی
سرکاری بنیادی ڈھانچے کے لئے مشترکہ ترقیات اور رعایت کا میکانزم استعمال کیا جائے گا اور مرکزی حکومت اور سی پی ایس ای کے تحت دستیاب اراضیوں پر قابل استطاعت ہاؤسنگ فراہم کی جائے گی
بنیادی ڈھانچہ سرمایہ فراہمی کے لئے پونجی وسائل بڑھانے کے اقدامات:
20-2019 قرض ضمانت افزودگی کارپوریشن کا قیام عمل میں آئے گا
بنیادی ڈھانچے پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے طویل مدتی بانڈس کے لئے منڈی کی پیڈ بڑھانے کی غرض سے لائحہ عمل لایا جائے گا
مخصوص لاک ان مدت کے اندر کسی بھی گھریلو سرمایہ کار کو (آئی ڈی ایف این بی ایف سی کے ذریعے جاری کی گئی قرض تمسکات) کے سلسلے میں ایف آئی آئی/ ایف ٹی آئی کے ذریعے اپنی سرمایہ کاری کو منتقل کرنے، فروخت کرنے کی سہولت دینے کی تجویز
بانڈ منڈی کو مضبوط بنانے کے اقدامات
اسٹاک ایکسچنج ادارے ضامن کے طور پر اے اے شرحوں کے حامل بانڈ کے سلسلے میں اجازت دینے کے مجاز بنائے جائیں گے
کارپوریٹس بانڈ کے لئے تجارتی پلیٹ فارموں کو یوزر دوست بنانے کے سلسلے میں نظر ثانی کی جائے گی
سوشل اسٹاک ایکسچنج
سیبی کے ریگولیٹری دائرہ کار کے تحت الیکٹرانک فنڈ فراہم کرنے کا پلیٹ فارم
سماجی صنعتوں اور رضاکار اداروں کی فہرست بندی
سرمایہ حصص کے طور پر پونجی کے حصول کے لیے اسے میوچیول فنڈ کی شکل دینا
سیبی درج فہرست کمپنیوں میں کم از کم سرکاری حصص داری کے لئے حدود میں 25 فیصد سے 35 فیصد کا اضافہ کرسکے گی
نویور کسٹمر (کے وائی سی) کے اصول و ضوابط کو غیر ملکی فہرست بند سرمایہ کاروں کے لئے زیادہ سرمایہ کار دوست بنایا جائے گا۔
حکومت خردہ سرمایہ کاروں کو سرکاری ٹریزری بلوں اور تمسکات میں زیادہ سرمایہ کاری کے لیے راغب کرنے کی غرض سے ذیلی کوششوں میں تعاون دے گی اس کے لئے اسٹاک ایکسچنجوں کا استعمال کیا جائے گا
بھارت کو ایف ڈی آئی کے سلسلے میں مزید پرکشش منزل بنائے جانے کے اقدامات
ہوابازی، میڈیا (اینیمیشن اے وی جی سی) اور بیمہ کے شعبوں میں ایف ڈی آئی کو کثیر نوعیت والے حصص داروں کے تجزیے کے بعد ، سرمایہ کاری کے لئے کھولا جاسکتا ہے
بیمہ سے وابستہ ذیلی ادارے 100 فیصد ایف ڈی آئی حاصل کرسکیں گے
سنگل برانڈ ریٹیل شعبے میں ایف ڈی آئی کے لئے مقامی وسائل کے اصول کو آسان بنایا جائے گا۔
حکومت بھارت میں قومی بنیادی ڈھانچہ سرمایہ کاری فنڈ کوایک وسیلے کے طور پر استعمال کرکے سالانہ عالمی سرمایہ کار جلسے کا اہتمام کرے گی تاکہ تمام تر تینوں عالمی شرکات دار (پنش، بیمہ اور خودمختار دولت فنڈ) یہاں آسکیں گے
ایک کمپنی ایف پی آئی سرمایہ کاری کے لئے مقررہ قانونی حدود کو 24 فیصد سے بڑھاکر شعبہ جاتی غیر ملکی سرمایہ کاری حدود میں لایا جائے گا۔ متعلقہ کمپنی کو یہ متبادل حاصل ہوگا کہ وہ اس کی نچلی حدود کا تعین کرسکے
ایف پی آئی اداروں کو آر ای آئی ٹی اور آئی این وی آئی ٹی کے ذریعے جاری کئے گئے فہرست بند تمسکات میں سرمایہ لگانے کی اجازت ہوگی
این آر آئی پورٹ فولیو انویسمنٹ اسکیم روٹ کو غیر ملکی سرمایہ کاری روٹ میں ضم کرنے کی تجویز ہے۔
بنیادی ڈھانچہ سرمایہ کاری ٹرسٹ (آئی این وی آئی ٹی) زمین جائیداد سرمایہ کاری ٹرسٹ (آر ای آئی ٹی) اور اس کے ساتھ ساتھ ٹول- آپریٹ- ٹرانسفر (ٹی او ٹی) جیسے ماڈلوں کے سلسلے میں نئی مالی تمسکات کے ذریعے مجموعی وسائل بہم پہنچائے جائیں گے جو 24 ہزار کروڑ روپے سے زائد کے ہوں گے۔
نیو اسپیس انڈیا لمیٹڈ (این ایس آئی ایل) یہ ایک سرکاری دائرہ کار کی صنعت ہے جو خلائی محکمے کی نئی تجارتی شاخ کے طور پر قائم کی گئی ہے۔
اسرو کے ذریعے کی جانے والی ترقی اور تحقیقات کے فوائد کو بروئے کار لانے کے لئے جن میں خلائی گاڑیوں کا کاروباری استعمال، ٹیکنلوجیوں کی جانب منتقلی اور خلائی مصنوعات کی مارکیٹنگ شامل ہے، ضروری اقدمات۔
براہ راست ٹیکس

400 کروڑ روپئے تک کی سالانہ ٹرن اوور والی کمپنیوں کے لئے ٹیکس کی شرحوں میں 25فیصد کی تخفیف۔
ایسے افراد جن کی قابل ٹیکس آمدنی 2 کروڑ روپئے سے لیکر 5 کروڑ روپئے اور پانچ کروڑ روپئے سے زائد ہے ان پر سرچارج بڑھا دیا گیا ہے۔
ٹیکس ادائیگی کے زمرے میں ایز آف ڈوئنگ بزنس کے معاملے میں بھارت کی درجہ بندی 2017 میں 172 تھی وہ 2019 میں بڑھ کر 121 ہوگئی ہے۔
براہ راست ٹیکس مالیہ میں گزشتہ پانچ برسوں کے دوران 78 فیصد سے زائد کااضافہ ہوا ہے اور یہ مالیہ 11.37 لاکھ کروڑ روپئے کے بقدر پہنچ گیا ہے۔
ٹیکس کی سہل کاری اور زندگی بسر کرنا آسان۔ ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے اصول وقواعد پر عمل کرنا آسان ہوگیا ہے۔

پین اور آدھار کی باہم منتقلی یا ایک دوسرے کی جگہ استعمال
جن کے پاس نہ ہو وہ اپنا ٹیکس ریٹرن آدھار کارڈ کااستعمال کرکے داخل کرسکتے ہیں۔
آدھار کارڈ وہاں استعمال کیا جاسکتا ہے جہاں پین درکار ہو۔
انکم ٹیکس ریٹرن کو پہلے سے پُر کرنا۔ ٹیکس ریٹرنوں کے تیز رفتار فائلنگ اور زیادہ صحت والے ریٹرن بھرنے میں مدد گار ۔
پہلے سے بھرے ہوئے ٹیکس ریٹرن میں متعدد آمدنیاں اور کٹوتیاں درج ہوں گی۔
یہ اطلاع بینکوں ، اسٹاک ایکسچینجوں ، میچول فنڈ وغیرہ سے حاصل کی جائیں گی۔
بنا شناخت والے اسسمنٹ
بنا شناخت والے ای اسسمنٹ جن میں انسانی عمل دخل بالکل نہیں ہوگا، یہ سلسلہ جلد شروع ہوگا۔
ابتداءً اسے مخصوص لین دین یا سقم کی جانچ پڑتال کیلئے استعمال کیا جائے گا۔
قابل استطاعت ہاؤزنگ

31 مارچ 2020 تک ، 45 لاکھ روپئے تک کی مالیت والے مکان کی خریداری کیلئے حاصل کیے گئے قرض پر واجب الادا سود پر اضافی طور پر 1.5 لاکھ کی کٹوتی۔
15برسوں کی قرض مدت سے زائد کیلئے تقریباً 7 لاکھ روپئے کامجموعی فائدہ۔
برقی موٹر گاڑیوں کو فروغ دینا

برقی موٹر گاڑیوں کی خریداری کیلئے حاصل کیے گئے قرضوں پر عائد ہونے والے سود میں اضافی طور پر آمدنی ٹیکس میں 1.5 لاکھ کی کٹوتی کی جائے گی۔
کسٹم محصول کو برقی موٹر گاڑیوں کے چند پرزوں کیلئے ہٹالیا گیا ہے۔
دیگر براہ راست ٹیکس اقدامات

ٹیکس قوانین کی سہل کاری، تاکہ ٹیکس دہندگان کی اصل مشکلات ختم ہوسکیں۔
ٹیکس ریٹرن داخل نہ کرنے والوں کیلئے ٹیکس کی اعلیٰ شرحیں۔
مخصوص افراد کے طبقے کو دفعہ 50 سی اے اور دفعہ 56 آمدنی ٹیکس ایکٹ کے ناجائز استعمال سے روکنے کیلئے انسداد ناجائز استعمال تجاویز کی شمولیت۔
اسٹارٹ اپس کو راحت

اسٹارٹس اپس میں سرمایہ کاری کے لئے رہائشی مکانات کے فروخت سے حاصل ہونے والی پونجی پر ملنے والی استثنائی 2021 کے مالی سال تک بڑھا دی گئی ہے۔
‘اینجل ٹیکس’ کامسئلہ حل کرلیا گیا ہے۔ اسٹارٹ۔ اپس اور درکار اعلانیہ داخل کرنے والے سرمایہ کار اور اپنے ریٹرن میں جو اطلاعات فراہم کرائیں گے انہیں شیئر پریمیم کے معاملے میں جانچ پڑتال کے تحت نہیں لایا جائے گا۔
اسٹارٹ اپس کے ذریعے جو فنڈ بہم پہنچایا جائے گا اسے آمدنی ٹیکس محکمے کے ذریعے جانچ پڑتال کے تحت نہیں لایا جائیگا۔
سرمایہ کاری کرنے والے کی شناخت اور سرمائے کے وسیلے کے سلسلے میں قدم اٹھانے کیلئے ای۔ ویری فکیشن کا میکانزم ۔
التوا میں پڑے ہوئے اسسمنٹ اور شکایات کے ازالے کے لئے خصوصی انتظامی اقدامات۔
اسیسنگ افسر اپنے نگراں افسر کی منظوری حاصل کیے بغیر اس طرح کے معاملات میں کوئی جانچ پڑتال نہیں کرے گا۔
زمرہ II متبادل سرمایہ کاری فنڈ کو جاری کیے گئے حصص کے سلسلے میں کوئی جانچ پڑتال نہیں ہوگی۔
خساروں کو آگے لے جانے کے سلسلے میں عائد شرائط میں نرمی ۔
این بی ایف سی

جس سال میں اصلاً سود حاصل ہوگا، اس کے سلسلے میں کچھ فاسد یا مشتبہ قرضوں پر تمام تر جمع رقم اور غیرجمع سرمائے کو مدنظر رکھتے ہوئے وصولی صرف اصل معاملے کیلئے کی جائے گی۔
بین الاقوامی مالی خدمات اور قرض (آئی ایف ایس سی)

ایک آئی ایف ایس سی کیلئے براہ راست ٹیکس ترغیبات کی تجویز۔
15سالوں کی مدت کے اندر، کسی بھی دس سالہ بلاک میں منافع سے مربوط 100 فیصد کٹوتی۔
کمپنیوں اور میچول فنڈوں کو رواں اور جمع شدہ آمدنی کےسلسلے میں ڈیویڈنٹ تقسیم ٹیکس سے استثنائی۔
زمرہ ۔III متبادل سرمایہ کاری فنڈ کے سلسلے میں اہم منافع پر استثنائی۔
غیرمقیم فرد سے لئے گئے قرض پر ادا کیے جانے والے سود پر استثنائی۔
تمسکات لین دین ٹیکس (ایس ٹی ٹی)

ایس ٹی ٹی دعوے کے نمٹانے اور متبادل کے استعمال کرنے کےمابین واقع فرق تک محدود۔
بالواسطہ ٹیکس

میک اِن انڈیا

کاجو کےٹکڑوں ،پی وی سی، ٹائلوں، موٹر گاڑی کے پرزوں ، سنگ مرمر کی تختیوں ، آپٹیکل فائبر کیبل ، سی سی ٹی وی کیمرہ وغیرہ پر بنیادی کسٹم محصول میں اضافہ۔
چند الیکٹرانک اشیاء پر کسٹم محصول ادائیگی میں استثنائی جو اب یہ بھارت میں بنائے جارہے ہیں،واپس لے لی گئی ہے۔
پام اسٹیرین ، چکنائی والے تیلوں پر آخری صارف پرمنحصر استثنائیاں واپس لے لی گئیں۔
مختلف النوع کاغذات پر استثنائی واپس لے لی گئی ہے۔
درآمد شدہ کی گئی کتابوں پر 5فیصد بنیادی کسٹم محصول عائد کیا گیا ہے۔
چندخام اشیاء پر کسٹم محصولات میں تخفیف کی گئی ہے۔
مصنوعی پرزے کے لئے ساز وسامان اور ایک بار استعمال کرکےپھیکے جانےوالے ڈائیلیسر اور نیوکلیائی بجلی پلانٹوں میں استعمال ہونے والا ایندھن۔
مخصوص الیکٹرانک اشیا تیار کرنے کیلئے درکار اہم ساز وسامان۔
دفاع

ایسے دفاعی ساز وسامان جو بھارت میں نہیں بنائے جاتے ، انہیں بنیادی کسٹم محصول سےمستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔
دیگر بالواسطہ ٹیکس تجاویز

خام اور نیم خام چمڑے پر برآمداتی محصول کو معقول تر بنایا گیا ہے۔
خصوصی اضافی آبکاری محصول میں اضافہ اور سڑک اور بنیادی ڈھانچہ محصول میں پٹرول اور ڈیزل پر فی لیٹر ایک روپئے کااضافہ۔
سونے اور دیگر قیمتی دھاتوں پر محصول میں اضافہ۔
مرکزی آبکاری اور سروس ٹیکس ادارے کے تحت جی ایس ٹی کے نفاذ سے قبل التوائی مقدمات تیزی سے نمٹانےکیلئے مقدمہ بازی کے خاتمے اور تنازعات کاحل نکالنے کی اسکیم۔
گرامین بھارت / دیہی بھارت

اُجولایوجنااور سوبھاگیہ یوجنا نے ہردیہی کنبے کی زندگی بدل دی ہے اور ڈرامائی طور پر زندگی بسر کرنا آسان بنادیا ہے۔
2022 تک تمام ایسے دیہی کنبوں کو بجلی اور صاف ستھرے رسوئی کی فراہمی جو اس کے خواستگار ہوں ۔
پردھان منتر ی آواس یوجنا۔ گرامین (پی ایم اے وائی ۔جی) جس کا مقصد 2022 تک سب کے لئے مکانات کی فراہمی ہے۔
مستحق استفادہ کنندگان کو 1.95 کروڑ مکانات فراہم کرائے جائیں گے جن میں بیت الخلا، بجلی اور ایل پی جی کنکشن ہوں گے یہ دوسرے مرحلے (20-2019 سے 22-2021 کے دوران) ہوگا۔
پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی )
ایک مضبوط ماہی پروری انتظام فریم ورک پی ایم ایم ایس وائی کے توسط سے ماہی پروری کے محکمےکے ذریعے قائم کیاجائیگا۔
بنیادی ڈھانچہ، جدید کاری ، شناخت کرنے کی صلاحیت ، پیداوار، پیداواریت ، فصل تیار ہونے کے بعد کے انتظامات اور کوالٹی کنٹرول سمیت ویلو چین میں موجود اہم سقم کو دور کرنا۔
پردھان منتری گرام سڑک یوجنا (پی ایم جی ایس وائی )
تمام بستیوں کو باہم مربوط کرنے کیلئے مقررہ نشانے کو 2022 سے گھٹا کر 2019 کردیا گیا ہے اور 97 فیصد ایسی بستیوں کو پہلے ہی بارہ ماسا کنیکٹیویٹی سے جوڑا جاچکا ہے۔
گرین ٹیکنالوجی، ویسٹ پلاسٹک اور کولڈ مکس ٹیکنالوجی کا استعمال کرکے پی ایم جی ایس وائی کے تحت 30000 کلو میٹر سڑکیں تعمیر کی گئی ہیں جن کے ذریعے کاربن کا اثر کم ہوا ہے۔
آئندہ پانچ برسوں کے دوران پی ایم جی ایس وائی IIIکے تحت 80250 کروڑ روپئے کی تخمینہ لاگت سے 125000 کلو میٹر طویل سڑک تعمیر کی جائے گی۔
روایتی صنعتوں کی تازہ کاری اور احیاء کے لئے فنڈ کی اسکیم (ایس ایف یو آر ٹی آئی)
روایتی صنعتوں کو زیادہ پیداواریت والی ، مفید اور ہمہ گیر روزگار مواقع پیدا کرنے کے لائق بنانے کی غرض سے کلسٹر پر مبنی ترقی کے طرز پر مشترکہ سہولت مراکز قائم کیے جائیں گے۔
20-2019 کے دوران 100 نئے کلسٹر قائم کئے جائیں گے جن میں بانس ، شہد اور کھادی پر خصوصی توجہ دی جائے گی اور اس کے توسط سے 50000 صناع اقتصادی ویلو چین میں شامل ہوسکیں گے۔
اختراع ، دیہی صنعت اور صنعت کاری کو فروغ دینے کیلئے اسکیم (اے ایس پی آئی آر ای)کو مربوط بنایا گیا۔
20-2019 میں 80 روزی روٹی کاروبار پروان چڑھانے والے (ایل بی آئی) اور 20 ٹیکنالوجی کاروبار پروان چڑھانےوالے سرپرست ادارے قائم کئے جائیں گے۔
75000 صنعت کاروں کو زرعی۔ دیہی صنعت کے شعبوں میں ہنرمند بنایا جائیگا۔
کاشتکاروں کے ذریعے کی جانے والی پیداوار کی قدر وقیمت بڑھانے کیلئے یعنی ان کے کھیتوں سے لیکر اور جو لوگ ذیلی سرگرمیوں میں مصروف ہیں وہاں سے آگے ان کی کوششوں کو تقویت دینے کیلئے نجی صنعت کاری کو فروغ دیا جائیگا۔
امداد باہمی اداروں کے ذریعے دودھ کی صنعت کی حوصلہ افزائی ،جانوروں کیلئے چارہ تیار کرنے ، دودھ کی وصولی، اس کی ڈبہ بندی ، مارکیٹنگ کیلئے بنیادی ڈھانچہ فراہمی کے ذریعے کی جائے گی۔
1000 نئی کاشتکار پروڈیوسر تنظیمیں تشکیل دی جائیں گی تاکہ کاشتکاروں کیلئے اچھی معیشت کو یقینی بناسکیں۔
حکومت ،ریاستی حکومت ساتھ ملکر کاشتکاروں کو ای۔ نام کے ذریعے مستفید ہونے کی سہولت فراہم کرے گی۔
زیرو بجٹ فارمنگ اس کے تحت ریاست کے کاشتکاروں کو پہلے ہی دیگر ریاستوں جیسی تربیت دی جارہی ہے۔
بھارت میں آبی سلامتی
نیا جل شکتی منترالیہ مجموعی طور پر آبی وسائل کے انتظام کی نگرانی کرے گا اور ایک مربوط اور مجموعی طریقے سے آبی سپلائی کافرض انجام دیگا۔
جل جیون مشن کے تحت ہر گھر جل (پائپ کےذریعے پانی کی سپلائی) تمام تر دیہی کنوں تک 2024 تک یقینی بنائی جائے گی۔
مقامی سطح پر پانی کی مانگ اور سپلائی کے انتظام کے سلسلے میں مربوط مانگ اور سپلائی پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔
اس کے مقاصد کے حصول کیلئے دیگر مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی اسکیموں کے ساتھ انضمام کیاجائیگا۔
جل شکتی ابھیان کے لئے 256 اضلاع میں پھیلے ہوئے ، ان 1592 بلاکوں کی شناخت کی گئی ہے ، جہاں سے حد سے زیادہ پانی کی نکاسی کی گئی ہے ۔
اس مقصد کے لئے عوضی جنگل بانی فنڈ بندوبست اور منصوبہ بندی اتھارٹی ( سی اے ایم پی اے ) فنڈ کو استعمال میں لایا جا سکتا ہے ۔
سووچھ بھارت ابھیان
2 اکتوبر ، 2014 ء سے اب تک 9.6 کروڑ بیت الخلاء تعمیر کئے گئے ہیں ۔
5.6 لاکھ سے زائد گاؤوں ، کھلے میں اجابت سے آزاد گاوں بن گئے ہیں ۔
ہر ایک گاؤں میں ٹھوس فضلات کے پائیدار بندوبست کے لئے سووچھ بھارت مشن میں توسیع کی جائے گی ۔
پردھان منتری گرامین ڈجیٹل ساکشرتا ابھیان
دو کروڑ سے زائد دیہی ہندوستانوں کو ڈجیٹل طور پر خواندہ بنا دیا گیا ہے ۔
بھارت – نیٹ ٹو برج رورل – اربن ڈیوائڈ کے تحت ہر ایک پنچایت میں بلدیاتی اداروں میں انٹرنیٹ کنکٹی ویٹی کی گئی ہے ۔
پی پی پی انتظامات کے تحت ملک گیر ذمہ داری فنڈ کا بھارت – نیٹ کو تیز کرنے کے لئے استعمال کیا جائے گا ۔
شہری بھارت / شہری ہندوستان

پردھان منتری آواس یوجنا – شہری ( پی ایم اے وائی – شہری )
تقریباً 4.83 لاکھ روپئے کے سرمائے سے 81 لاکھ سے زائد گھروں کو منظوری دی گئی ہے ۔ ان میں سے تقریباً 47 لاکھ گھروں کی تعمیر کا کام شروع ہو گیا ہے ۔
26 لاکھ سے زائد گھروں کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے ۔ ان میں سے تقریباً 24 لاکھ گھر استفادہ کنندگان کے حوالے کر دیئے گئے ہیں ۔
اب تک تعمیر کئے گئے 13 لاکھ سے زائد گھروں میں نئی ٹیکنا لوجیاں استعمال میں لائی گئی ہیں ۔
95 فی صد سے زیادہ شہروں کو کھلے میں اجابت سے آزاد ( او ڈی ایف ) قرار دے دیا گیا ہے ۔
تقریباً ایک کروڑ شہریوں نے سووچھتا ایپ ڈاؤن لوڈ کیا ہے ۔
2 اکتوبر ، 2019 ء تک ہندوستان کو او ڈی ایف بنانے کے لئے گاندھی جی کے سووچھ بھارت کے ارادے کو پورا کرنا ہے ۔
اس موقع کی یاد میں 2 اکتوبر ، 2019 ء کو گاندھی درشن ، راج گھاٹ پر راشٹریہ سووچھتا کیندر کا افتتاح کیا جائے گا۔
گاندھیائی قدروں کے تئیں نو جوانوں اور سماج میں بیداری پیدا کرنے کے لئے نیشنل کونسل فار سائنس میوزیم کے ذریعہ گاندھی پیڈیا تیار کیا جائے گا ۔
دہلی – میرٹھ روٹ پر مجوزہ ریپڈ ریجنل ٹرانسپورٹ سسٹم ( آر آر ٹی ایس ) کی طرح ایس پی وی ڈھانچہ کے ذریعہ مضافاتی ریلویز میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کے لئے ریلویز کی حوصلہ افزائی کی جائے گی ۔
میٹرو – ریلویز پہل کو بڑھانے کی تجویز کی
زیادہ سے زیادہ پی پی پی پہل کی حوصلہ افزائی
منظور شدہ کاموں کی تکمیل کو یقینی بنانا
ٹرانزٹ ہب کے اطراف میں کاروباری سرگرمیوں کو یقینی بنانے کے لئے ٹرانزٹ پر مبنی ترقی ( ٹی او ڈی ) کی مدد کرنا۔
نو جوان

نئی قومی تعلیمی پالیسی بنائی جائے گی ، جس میں ذیل کی تجاویز ہوں گی ۔
اسکول اور اعلیٰ تعلیم دونوں میں بڑی تبدیلیاں
بہتر حکمرانی کے نظام
تحقیق اور اختراع پر خصوصی توجہ دینا
نیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن ( این آر ایف ) کی تجویز
ملک میں تحقیق کے شعبہ میں فنڈ کی فراہمی ، تال میل اور اسے فروغ دینا
آزدانہ تحقیق کے لئے مختلف وزارتوں کے ذریعہ فنڈ فراہم کرنا
ملک میں ایکو سسٹم میں ہمہ جہت تحقیق کو مستحکم کرنا
مالی سال ، 20-2019 ء کے لئے ‘‘ عالمی درجہ کے اداروں ’’ کے سلسلے میں 400 کروڑ روپئے مہیا کرائے گئے ہیں ۔ یہ گذشتہ سال کے نظر چانی شدہ تخمینوں سے تین گنا زیادہ ہے ۔
ہندوستان کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں حصول تعلیم کی جانب غیر ملکی طلباء کو متوجہ کرنے کے لئے ‘‘ اسٹڈی اِن انڈیا ’’ کی تجویز
اعلیٰ تعلیم کے ضابطہ جاتی نظام میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی جائیں گی ۔
زیادہ سے زیادہ خود مختاری کو فروغ دینا
بہتر تعلیمی نتائج پر توجہ مرکوز کرنا
ہائر ایجوکیشن کمیشن آف انڈیا ( ایچ ای سی آئی ) کے قیام کے لئے قانون کا ایک مسودہ پیش کیا جائے گا ۔
تمام مالی امداد کے ساتھ کھیلوں انڈیا اسکیم میں توسیع کی جائے گی ۔
تمام سطحوں پر کھیل کود کو مقبول بنانے کی غرض سے کھیلو انڈیا کے تحت کھلاڑیوں کی ترقی کے لئے نیشنل اسپورٹس ایجوکیشن بورڈ قائم کیا جائے گا ۔
نو جوانوں کو بیرون ملک روزگار حاصل کرنے کے لئے عالمی سطح پر لسانی تربیت ، اے آئی ، آئی او ٹی ، بِگ ڈاٹا ، تھری ڈی پرنٹنگ ، ورچوول رِیالٹی اور روبوٹکس سمیت بہ لحاظ قدر و قیمت ہنر مندی میں اضافے پر توجہ مرکوز کی جائے گی ۔
ریٹرن فائل کرنے اور رجسٹریشن میں آسانیاں پیدا کرنا نیز اسے معیاری بنانے کے لئے ملٹی پَل لیبر قانون بنانے کی غرض سے 4 لیبر کورٹ کی تجویز پیش کی گئی ہے ۔
ڈی ڈی چینل کے تحت اسٹارٹ اَپ کے لئے خصوصی طور پر ایک ٹیلی ویژن پروگرام کی تجویز ہے ۔
اسٹینڈ اَپ انڈیا اسکیم 25-2020 ء کی مدت میں بھی جاری رہے گی ۔ ڈیمانڈ پر مبنی کاروبار کے لئے بینک مالی امداد مہیا کرائیں گے ۔
ایز آف لیونگ

تقریباً 30 لاکھ کارکنوں نے پردھان منتری شرم یوگی مان دھن اسکیم اپنائی ہے ، جنہیں غیر منظم اور رسمی شعبے میں کام کرنے والے کارکنوں کے 60 کی عمر ہونے کے بعد پنشن کے طور پر ماہانہ 3000 روپئے دیئے جاتے ہیں ۔
اُجالا یوجنا کے تحت تقریباً 35 کروڑ ایل ای ڈی بلب تقسیم کئے گئے ہیں ، جس کے نتیجے میں سالانہ 18341 کروڑ روپئے کی بچت ہو رہی ہے ۔
ایل ای ڈی بلب کا مشن کو بروئے کار لیتے ہوئے سولر اسٹوو اور بیٹری چارجر کو فروغ دیا جائے گا ۔
ریلوے اسٹیشنوں کی جدید کاری کے لئے بڑے پیمانے پر پروگرام شروع کیا جائے گا ۔
ناری تُو نارائنی / خواتین

خواتین پر مبنی اقدامات اور تحریک بنانے کے لئے خواتین پر مبنی پالیسیوں میں طریقۂ کار میں تبدیلی
جینڈر بجٹنگ کو آگے بڑھانے کے لئے حکومت اور پرائیویٹ شراکت داروں کے ساتھ ایک کمیٹی کے قیام کی تجویز
ایس ایچ جی ( اپنی مدد آپ گروپ ) :
مالی اعانتی پروگراموں میں دلچسپی رکھنے والے خواتین ایس ایچ جی کو تمام اضلاع تک پھیلانے کی تجویز
ایسی تمام تصدیق شدہ خواتین ایس ایچ جی اراکین ، جو جن دھن بینک اکاؤنٹ رکھتی ہیں ، انہیں 5000 روپئے کے اوور ڈرافٹ کی اجازت ہو گی ۔
فی ایس ایچ جی میں ایک خاتون مُدرا اسکیم کے تحت 1 لاکھ روپئے تک کا قرض حاصل کرنے کے اہل ہو گی ۔
ہندوستان کی سافٹ پاور

ہندوستانی پاسپورٹ رکھنے والے این آر آئی کو ، اُن کی ہندوستان آمد پر 180 دن کے انتظار کےبغیر آدھار کارڈ جاری کرنے پر غور کرنے کی تجویز
ضروری پیٹنٹس اور جغرافیائی اشاریوں کے ساتھ عالمی منڈی میں مربوط روایتی صناعوں کے مشن کو ہم آہنگ کرنا
مارچ ، 2018 ء میں افریقہ میں 18 نئے ہندوستانی سفارتی مشن کو منظوری دی گئی تھی ۔ ان میں سے 5 مشن کھل گئے ہیں۔ 20-2019 ء میں مزید 4 نئی امبیسیاں کھولنے کا ادارہ ہے ۔
انڈین ڈیولپمنٹ اسسٹمنٹ اسکیم ( آئی ڈی ای اے ایس ) پر نظر ثانی کی تجویز
عالمی پیمانے کے سیاحتی مقامات کے ماڈل میں 17 اعلیٰ سیاحتی مقامات تیار کئے جائیں گے ۔
موجودہ ڈجیٹل ڈپوزیٹری ، جس کا مقصد مالا مال قبائلی تہذیبی ثقافت کی وراثت کو محفوظ رکھنا ہے ، اُسے مستحکم کیا جائے گا۔
بینک کاری اور مالی سیکٹر

گذشتہ سال کے دوران کمرشیل بینکوں کے این پی اے میں 1 لاکھ کروڑ روپئے سے زائد کی کمی آئی ہے ۔
گذشتہ 4 برسوں کے دوران 4 لاکھ کروڑ روپئے سے زائد کی ریکارڈ وصولی متاثر ہوئی ہے ۔
سات سالوںمیں کووریج کا تناسب اپنی سب سے بلندی پر رہا ۔
گھریلو کریڈٹ نمو میں 13.8 فی صد کا اضافہ ہوا ۔
پی ایس بی سے متعلق اقدامات :
کریڈٹ کو فروغ دینے کی غرض سے پی ایس بی کو 70000 کروڑ روپئے مہیا کرانے کی تجویز ہے ۔
پی ایس بی کی لیوریج ٹیکنا لوجی ، آن لائن پرسنل لون اور دروازے پر مبنی بینکنگ سے ایک پی ایس بی کا کسٹمر تمام پی ایس بی کی خدمات تک رسائی حاصل کر سکتا ہے ۔
کھاتہ داروں کو ، اُن کے کھاتے میں دوسروں کے ذریعے جمع کرائی گئی نقد رقم پر کنٹرول حاصل کرنے کے لئے اقدامات شروع کئے گئے ہیں ۔
پی ایس بی میں حکمرانی کے عمل کو مستحکم کرنے کے لئے اصلاحات کی جائیں گی ۔
این بی ایف سی سے متعلق اقدامات :
مالی بل میں این بی ایف سی سے متعلق آر بی آئی کی ریگولیٹری اتھارٹی کو مستحکم کرنے کی تجویز پیش کی جائے گی ۔
این بی ایف سی کو سرکاری شیئر سے فنڈ حاصل کرنے کی اجازت دینے کے لئے ڈبینچر ریڈیمشن ریزرو بنانے کی شرط کو ہٹایا جائے گا ۔
تمام این بی ایف سی کو ٹی آر ای ڈی ایس پلیٹ فارم میں براہ راست شریک ہونے کی اجازت دینے کے لئے اقدامات کئے جائیں گے ۔
ہاؤسنگ فائنانس سیکٹر میں ریگولیٹری اتھارٹی کو این ایچ بی سے آر بی آئی کو منتقل کرنے کی تجویز ہے ۔
آئندہ 5 برسوں کے دوران بنیادی ڈھانچے میں 100 لاکھ کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری کا ارادہ ہے ۔ مالی اداروں کے ذریعے بنیادی ڈھانچے اور مطلوبہ فنڈ سے متعلق سفارش کے لئے ایک کمیٹی کے قیام کی تجویز ہے ۔
این پی ایس ٹرسٹ کو پی ایف آر ڈی اے سے علیحدہ کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے ۔
نیٹ اونڈ فنڈ ریکوائرمنٹ کو 5000 کروڑ روپئے سے گھٹاکر 1000 روپئے کرنے کی تجویز ہے ۔
بین الاقوامی بیمہ لین دین میں آسانیاں پیدا کی جائیں گی ۔
بین الاقوامی خدمات مراکز میں غیر ملکی بیمہ کمپنیاں اپنی شاخیں کھول سکیں گی ۔
سی پی ایس ای سے متعلق اقدامات :
مالی سال 20-2019 ء کےلئے 105000 کرو ڑروپئے کی سرمایہ نکاسی کا نشانہ ۔
حکومت ایئر انڈیا سے اہم سرمایہ نکاسی کا عمل شروع کرے گی اور پرائیویٹ سیکٹر کی کلیدی شراکت کے لئے زیادہ سے زیادہ سی پی ایس ای کی پیشکش کرے گی ۔
حکومت پی ایس یو کی فروخت کرے گی اور غیر مالی شعبے میں پی ایس یوکو استحکام بخشنے کا عمل جاری رکھے گی ۔
حکومت پی ایس یو میں 51 فی صد سے نیچے کی سطح پر سرمایہ نکاسی پر غور کر رہی ہے ، جہاں حکومت کا ابھی بھی کنٹرول ہے اور وہ اس کنٹرول کو علیحدہ علیحدہ معاملات کی بنیاد پر برقرار رکھے گی ۔
حکومت کے کنٹرول والے اداروں کے حصے سمیت 51 فی صد حصہ اپنے پاس رکھنے کے لئے حکومت کی 51 فی صد کی موجودہ پالیسی میں تبدیلی کی جائے گی ۔
سی پی ایس ای میں خردہ شراکت کی حوصلہ افزائی کی جائے گی ۔
اضافی سرمایہ کاری مہیا کرانے کے لئے :
حکومت سی پی ایس ای میں اپنا حصہ برقرار رکھے گی ۔
بینکوں کو اپنے حصص کی دستیابی اور مارکیٹ میں اپنی پہنچ کو بنانے کی اجازت دی جائے گی ۔
حکومت ایکویٹی سے منسلک بچت اسکیم ( ای ایل ایس ایس ) کے خطوط پر ای ٹی ایف میں سرمایہ کاری کا متبادل پیش کرے گی ۔
حکومت تمام درج فہرست سرکاری دائرۂ کار کے اداروں ( پی ایس یو ) کے لئے 25 فی صد سرکاری حصص کے ضابطے کی پیروی کرے گی اور غیر ملکی حصص کی حد کو تمام پی ایس یو کمپنیوں میں ، جو مارکیٹ انڈیکس کا حصہ بن رہی ہیں ، قابلِ اجازت حد تک بڑھائے گی ۔
حکومت غیر ملکی منڈیوں میں اور غیر ملکی کرنسی میں اپنے مجموعی قرض پروگرام کے حصے کو بڑھائے گی ۔ اس سے گھریلو منڈی میں سرکاری سکیورٹیز کے لئے ڈیمانڈ کی صورت حال پر مفید اثر پڑے گا ۔
عوام کے استعمال کے لئے جلد ہی ایک روپئے ، دو روپئے ، پانچ روپئے ، دس روپئے اور 20 روپئے کے نئے سکوں کی سیریز دستیاب کرائی جائے گی ، جو بصری طور پر متاثر ہ افراد کے لئے آسانی سے پہچان کے قابل ہوں گے ۔
ڈجیٹل ادائیگی

بینک کھاتوں سے سال میں ایک کروڑ روپئے سے نقد کی نکاسی پر 2 فی صد ٹی ڈی ایس لگے گا ۔
کاروباری ادارے ، جن کا سالانہ لین دین 5 کروڑ روپئے سے زائد ہے ، انہیں اپنے کسٹمر کو لو کوسٹ ڈجیٹل موڈ ادائیگی کرنی ہو گی اور اس کے لئے کوئی چارج نہیں لگے گا یا کسٹمر کے علاوہ ، تاجروں پر بھی تاجر ڈسکاؤنٹ ریٹ عائد ہو گا ۔
سَن رائز اور ایڈوانس ٹیکنا لوجی شعبے میں بڑی سرمایہ کاری

سیمی کنڈکٹر فیبریکیشن ( ایف اے بی ) ، سولر فوٹو وولٹک سیلز ، لیتھیم اسٹوریج بیٹریز ، کمپیوٹر سرور اور لیپ ٹاپ وغیرہ جیسے شعبوں میں بڑے مینو فیکچرنگ پلانٹ قائم کرنے کے لئے عالمی کمپنیوں کو متوجہ کرنے کی اسکیم ۔
بالواسطہ ٹیکس فوائد کے ساتھ انکم ٹیکس سے مستثنیٰ سرمایہ کاری مہیاکرائی جائے گی ۔
19-2014 ء کی حصولیابیاں

گذشتہ پانچ برسوں کے دوران ہندوستان کی معیشت میں 1 ٹریلین ڈالر کا اضافہ ہوا ( 55 سال کے مقابلے میں پہلے ٹرین ڈالر تک پہنچانے کے لئے کوشش کی گئی ) ۔
ہندوستان پانچ سال قبل کی 11 بڑی معیشتوں کے مقابلے میں آج دنیا میں چھٹی سب سے بڑی معیشت ہے ۔
قوت خرید ( پی پی پی ) کے اعتبار سے ہندوستان کی معیشت دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت ہے ۔
19-2014 ء کے دوران مالی نظم و ضبط کے لئے ٹھوس عزم کیا گیا اور مرکز اور ریاست کے رشتوں کو بہتر بنایا گیا ۔
بالواسطہ ٹیکس کاری اور دیوالیہ پن نیز ریئل اسٹیٹ میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات کئے گئے ۔
سالانہ فوڈ سکیورٹی پر خرچ کی گئی اوسط رقم14-2009 ء کے مقابلے میں19-2014 ء کے دوران تقریباً دوگنی کر دی گئی ۔
پیٹنٹ کے معاملات 2014 ء کی تعداد کے مقابلے میں 18-2017 ء میں تین گنا سے زیادہ ہو گئے ہیں ۔
نیتی آیوگ کے ذریعے نیو انڈیا کا منصوبہ اور امداد کا عمل شروع ہو گیا ہے ۔
مستقبل کا خاکہ

طریقۂ کار کی سہل کاری ۔
کار کردگی پر ترغیب دینا ۔
افسر شاہی میں کمی ۔
ٹیکنا لوجی کا بہترین استعمال ۔
اب تک بڑے پروگرام میں تیزی لائی گئی ، خدمات شروع کی گئیں اور خدمات مہیا کرائی گئیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Watan – A patriotic Song by DD

Ad

SPORTS

Football is a way of life in the northeast

Redeem Tlang of Northeast United FC scoring goal and celebrating during the first leg of the first semi final ...

Indian junior team lose to Japan 4-3 at Sultan of Johor Cup

he Indian junior team lost to Japan 4-3 at the Sultan of Johor Cup in Johor Bahru, Malaysia today. India wi ...

FIFA WC Qualifier match between India, Bangladesh ends in a draw

the Group-E match between India and Bangladesh in FIFA World Cup Qualifier match at Kolkata's Salt Lake Stadiu ...

ART & CULTURE

Literature plays an important role in social transformation: VP Naidu

AMN Vice President M Venkaiah Naidu says poetry has the capability to change attitudes, mindsets and social ...

Bangladeshi novelist Rizia Rahman passes away

AMN Renowned Bangladeshi novelist and the Ekushey Padak winning author Rizia Rahman passed away today in D ...

Ad

MARQUEE

Qutub Minar glitters amid LED illumination

  QUTUB MINAR Staff Reporter / New Delhi The historic Qutb Minar came alive ...

1 Kg Of Rare Assam Tea Sold For Rs. 70,500

AMN / GUWAHATI A rare variety of tea in Assam was auctioned for Rs. 70, 501 a kg at the Guwahati Tea Auctio ...

CINEMA /TV/ ART

Khasi cinema flies high; Iewduh wins Busan award, Lorni in Tallinn Competition

Utpal Borpujari / New Delhi Khasi-language film “Iewduh (Market)”, directed by Shillong-based director ...

Marathi cinema dominates but Gujarati “Hellaro” to open Indian Panorama at 50th IFFI

By Utpal Borpujari / New Delhi Gujarati film “Hellaro” directed by Abhishek Shah, which had won the Bes ...

Ad

@Powered By: Logicsart