FreeCurrencyRates.com

इंडियन आवाज़     13 Dec 2019 11:14:21      انڈین آواز
Ad

جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم : 370

نریندر مودی حکومت نے انتہائی دور رس مضمرات کے حامل اہم سیاسی فیصلہ کرتے ہوئے ریاست جموں و کشمیرکو خود مختاری کا درجہ دینے والی آئینی دفعہ 370 کو ختم کرنے کا اعلان کردیا۔

مرکزی حکومت کی طرف سے آج پانچ اگست کو آئینی شِق 370 کے خاتمے کے اعلان کے ساتھ ہی جموں و کشمیر کو حاصل خصوصی حیثیت ختم ہوگئی ہے۔
وزیر داخلہ امیت شاہ نے پارلیمان کے ایوان بالا (راجیہ سبھا) میں اعلان کیا کہ لداخ کو جموں و کشمیر سے الگ کر کے وفاق کے زیر انتظام علاقہ (یونین ٹیریٹری) بنایا جارہا ہے لیکن وہاں اسمبلی نہیں ہوگی، جبکہ جموں و کشمیر کوبھی ایک علیحدہ یونین ٹیریٹری بنایا جارہا ہے تاہم وہاں اسمبلی ہوگی۔ اس اعلان پر ایوان میں زبردست ہنگامہ ہوا۔ سابق وزیر اعلٰی محبوبہ مفتی کی جماعت پی ڈی پی کے رکن میر محمد فیاض نے آئین کی کاپی پھاڑ ڈالی جب کہ ایک اور رکن نے اپنے کپڑے پھاڑ لیے۔ ایوان میں اپوزیشن لیڈر اور کانگریسی رہنما غلام نبی آزاد ایوان کے درمیان میں آکر بیٹھ گئے۔ انہوں نے حکومت کے فیصلہ کی مذمت کرتے ہوئے اسے جمہوریت کا قتل قرا ردیا۔ البتہ متعدد دیگر سیاسی جماعتوں نے اس اعلان کاخیرمقدم کیا۔
بھارتی آئین کی دفعہ 370 کے تحت جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ حاصل تھا۔ اس دفعہ کی رو سے سکیورٹی اور خارجہ امور کو چھوڑ کر دیگر تمام معاملات میں ریاست کو فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل تھا۔ آئین سے اس دفعہ کو حذف کردینے کے ساتھ ہی کشمیر کو حاصل یہ خصوصی حیثیت ختم ہوگئی۔ جب کہ یونین ٹیریٹری ہوجانے کے بعد ریاستی عوام وزیر اعلٰی کا انتخاب تو کرسکیں گے لیکن تمام تر اختیارات بھارتی صدر کی طرف سے نامزد کردہ گورنر کے پاس ہوں گے۔ اس وقت بھارت کے نو صوبے یونین ٹیریٹری کے تحت ہیں۔

File photo

بھارتیہ جنتا پارٹی سے تعلق رکھنے والے افراد حکومت کے اس فیصلے پر ملک بھر میں جشن منا رہے ہیں۔ دوسری طرف جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلٰی محبوبہ مفتی نے مودی حکومت کے فیصلے کو بھارتی جمہوریت کا بدترین یوم سیاہ قرار دیا۔ انہوں نے اپنی ٹوئیٹ میں لکھا: ”بھارتی حکومت کا دفعہ 370 ہٹانے کا فیصلہ غیر قانونی اور غیر آئینی ہے اور اس سے جموں و کشمیر میں بھارت کی موجودگی ایک قابض فوج کی ہوگئی ہے۔” ان کا مزید کہنا تھا، ”1947 میں ملک کی تقسیم کے وقت جموں و کشمیر کی قیادت نے دو قومی نظریہ کو مسترد کرتے ہوئے بھارت کے ساتھ رہنے کا جو فیصلہ کیا تھا آج اس کا الٹا اثر ہوا ہے۔”

سابق وزیر اعلٰی عمر عبداللہ نے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

سماجی تجزیہ نگار اور سوراج پارٹی کے بانی سربراہ یوگیندر یادو نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے، ”واجپائی نے کشمیر پالیسی کے تین اصول دیے تھے: انسانیت، جمہوریت، کشمیریت۔ ان تینوں کو نظر انداز کرنے والا آج کا فیصلہ بالآخر علیحدگی پسندوں اور پاکستانی حمایت یافتہ دہشت گردوں کے ہاتھ مضبوط کرے گا۔ تاریخ گواہ ہے کہ گلے لگانے کے بجائے گلا دبانے کی پالیسی کا خمیازہ آنے والی نسلوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔”

مودی حکومت نے آج کا اتنا اہم فیصلہ کرنے سے قبل زبردست پیشگی تیاری کی تھی۔ جموں و کشمیر میں اچانک فوج کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ کردیا گیا، امرناتھ یاترا کو منسوخ کردیا گیا اور سیاحوں کو ریاست سے واپس چلے جانے کا حکم دیا گیا۔ انٹرنیٹ سروس بند کردی گئی اور امتناعی احکامات نافذ کردیے گئے۔ اس کے علاوہ تمام اہم کشمیری رہنماؤں کو یا تو نظر بند کردیا گیا ہے یا وہ پہلے سے ہی جیلوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ حکومت نے اپنے سیاسی نفع نقصان کا بھی بخوبی اندازہ لگا لیا تھا۔ آج ہی راجیہ سبھا میں سماج وادی پارٹی کے دو اراکین اور کانگریس کے ایک رکن نے اپنی رکنیت سے استعفی دے دیا جس کے بعد حکمراں بی جے پی راجیہ سبھا میں بھی اکثریت میں آگئی۔ لوک سبھا میں اسے پہلے سے ہی دو تہائی اکثریت حاصل ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مودی حکومت نے جموں و کشمیر کے حوالے سے ‘جو تاریخی فیصلہ‘ لیا ہے اس کے ملکی سیاست اور دیگر شعبوں پر کیا مضمرات ہوں گے یہ تو آنے والے دنوں میں ہی پتہ چلے گا۔ دفعہ 370کے خاتمہ کے بعد ملک کا کوئی بھی شہری اب جموں و کشمیر میں زمین خرید سکتا ہے۔ جموں و کشمیر کے مقامی لوگوں نے اس کی ہمیشہ اس لیے مخالفت کی ہے کیونکہ اس کے خاتمہ سے یہاں کی آبادی کا تناسب بگڑ جائے گا اور مقامی کشمیری اقلیت میں آجائیں گے۔ بی جے پی اور اس کی مربی تنظیم آر ایس ایس دفعہ 370 کی ہمیشہ مخالف رہی ہے اور اس کے خاتمہ کے لیے بی جے پی نے اپنے انتخابی منشور میں بھی وعدہ کیا ہوا تھا۔ دوسری مرتبہ اقتدار میں آنے کے بعد اس طرح کے فیصلے کا اندازہ لگایا جارہا تھا۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ آج کے بعد جموں و کشمیر میں سیاسی حالات کیسے رہتے ہیں۔ آنے والے دن ہی بتائیں گے کہ مودی حکومت کے فیصلہ سے بھارت کی سیاست پر کیا اثرت پڑتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Ad

SPORTS

Rohit Sharma becomes LaLiga’s First Ever Brand Ambassador in India

HSB Masterblaster Rohit Sharma has joined hands with LaLiga - Spain’s top division football league as its br ...

Motorsport: Bent Viscaal, David Schumacher set early pace

HSB Debutantes Bent Viscaal and David Schumacher set the early pace in Free Practice session as the second rou ...

Big Bout Indian Boxing League NE Rhinos pip Odisha Warriors 4-3

Harpal Singh Bedi  NE Rhinos survived a scare and then rode on Jasurbek Latipov’s disqualification  to ...

ART & CULTURE

Sanskrit Bharati Vishwa Sammelan begins

AMN Sanskrit Bharati Vishwa Sammelan, a three-day mega event for discussing ideas, theories and research f ...

Literature plays an important role in social transformation: VP Naidu

AMN Vice President M Venkaiah Naidu says poetry has the capability to change attitudes, mindsets and social ...

Ad

MARQUEE

IRCTC to operate Golden Chariot luxury train from March 2020

AMN The Indian Railway Catering And Tourism Corporation, IRCTC, will operate and manage luxury train, Golden ...

Qutub Minar glitters amid LED illumination

  QUTUB MINAR Staff Reporter / New Delhi The historic Qutb Minar came alive ...

CINEMA /TV/ ART

Protests against movie ‘Panipat’ intensify in Rajasthan

AMN Protests against the Hindi movie, Panipat have intensified in Rajasthan. Many organizations are de ...

The curtain comes down on 50th IFFI in Goa

AMN / GOA The nine-day long Golden Jubilee Edition of International Film Festival of India IFFI culminated ...

Ad

@Powered By: Logicsart

Do NOT follow this link or you will be banned from the site!