Web Hosting
FreeCurrencyRates.com

इंडियन आवाज़     21 Apr 2019 09:43:47      انڈین آواز
Ad

بہار میں مسلمانوں کی سیاسی حصہ دار ی : ضرورت و اہمیت پر مشاورتی اجلاس

مسلمان گروہی،مسلکی اور ذاتی اختلاف کو مٹاکر اپنے صفوں میں اتحاد پیدا کریں، بالخصوص انتخابات کے مواقع پر اپنے ووٹ کو منتشر ہونے سے بچائیں اور متحدہوکرملک اورآئین کے پاسدار،ایماندار اوراخلاقی اقدار کے پابندامیدوار کے حق میں اپنا قیمتی ووٹ کریں– شرکا کی عوام سےاپیل

 

پٹنہ

آج ملک کی صورتحال بہت ہی نازک ہے ، معیشت خراب ہوگئی ہے ، تاجر پریشان ہیں ، چھوٹے کاروبار بند ہوگئے ہیں ، بے روزگاری بڑھ گئی ہے، غربت ، عدم تحفظ اور جرائم کا گراف اونچا ہوگیا ہے ، کسان خودکشی کر رہے ہیں ، ہجومی تشدد کے ذریعہ خوف و نفرت کو بڑھاوا دیا جارہا ہے ، ائین ہند کو بدلنے کی کوشش کی جارہی ہے ، مسلم پرسنل لاءکو ختم کرنے کی سازشیں ہورہی ہیں ، عدلیہ اور دیگر ائینی اداروں میں حکومت کی مداخلت بے نقاب ہو چکی ہے اور مسلمان سیاسی اور معاشی طور پر حاشیہ پر چلے گئے ہیں ۔ ایسی حالت میں ہم سب کو متحد ہوکر تبدیلی کیلئے آگے بڑھنا چاہیئے۔ عدل و انصاف فرنٹ کے کنوینر انوارالہدیٰ کی دعوت پر آج بہار اردو اکادمی کے سیمینار ہال میں بہار میں مسلمانوں کی سیاسی حصہ دار ی : ضرورت و اہمیت کے عنوان سے بلائے گئے مشاورتی اجلاس میں امارت شرعیہ بہار اڑیسہ و جھارکھنڈ کے ناظم مولانا انیس الرحمٰن قاسمی نے اپنے خطاب میں یہ باتیں کہیں ۔ مولانا موصوف نے مزید کہا کہ جمہوریت اور انصاف کے لئے ملک کے تمام سیکولر عوام میں اتحاد ، بھائی چارہ کا ہونا ضروری ہے ، خاص طور پر مسلمانوں کو اس کے لئے کوشش کرنی چاہیئے تاکہ اقلیتوں کو ان کا حق مل سکے ۔ انہوں نے مسلمانوں کی سیاسی حصہ داری کے کم ہونے پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ سیکولر پارٹیوں کو آبادی اور ووٹ کے تناسب سے حصہ داری دینی چاہیئے۔

جمعیت علماءہند بہار کے ناظم اعلیٰ الحاج حسن احمد قادری نے اس موقع پر کہا کہ موجودہ سیاسی صورتحال کے مدِ نظر یہ کہا جاسکتا ہے کہ چار فیصد سے چودہ فیصدکی آبادی والے مختلف مذہب وذات کے لوگوں نے اپنی سیاسی جماعت بنالی ہے، اور موجودہ حکومت اور مہا گھٹبندھن میں شریک ہیںاور زور دار طریقے سے اپنی حصہ داری کا مطالبہ کررہے ہیں۔ لیکن اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی سیاسی حصہ داری کی صورت حال یہ ہے کہ ریاست بہار میں سترہ فیصد آبادی کے باوجود سیاسی حلقوں میں نہ کوئی وزن ہے اور نہ ہی کوئی چرچا، یہ ایک المیہ ہے۔ جبکہ سترہ فیصدمسلمانوں کا ووٹ یک مشت سیکولر اتحاد کو ملتا رہا ہے لیکن اس کے باوجود ان کو ہر محاذ پر نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جمہوریت ، ملک وآئین کی حفاظت اور اسلامی تشخص کی حفاظت کے لئے تمام لوگ متحد ہوکر سیاسی بیداری پیدا کرنے کی کوشش کریں، سیاسی جماعت اتحاد پر دباو¿ بنایا جائے تاکہ ان کو آباد ی کے تناسب میںہر محاذ پر حصہ داری ملے۔ بہار میں کم از کم دس پارلیمانی حلقے ایسے ہیں جہاں مسلم ووٹر کسی بھی امیدوار کو کامیاب یا ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان حلقوں میںمسلم امیدوارکو ٹکٹ دے تاکہ سیاست میں ان کی بھی حصہ داری ہوسکے اور ان کے ساتھ حق تلفی کا سلسہ بند ہو۔

امیر مقامی جماعت اسلامی ہندپٹنہ رضوان احمدا صلاحی نے اپنے خطاب میں” بہار میں مسلمانوں کی سیاسی حصہ داری ۔۔۔ ضرورت اہمیت“ کے موضوع پر مشاورتی نشست منعقد کرنے کے لیے عدل وانصاف فرنٹ بہارکو مبارکبادی پیش کرتے ہوئے کہا کہ لوک سبھا الیکشن۹۱۰۲ ملک میں سیاسی رخ متعین کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا،اس کے لیے مسلمان تماشائی بننے کے لے بجائے سرگرم رول ادا کریں،جمہوری طاقتوں کو مضبوط کرنے کے لیے مسلسل جدوجہد کریںتاکہ فردکو حقیقی آزادی،ہرشہری کو برابری اور انصاف مل سکے ،ملک عالمی دوڑمیں آگے نکل سکے۔سیاسی پارٹیاں مذہبی اقلیتوں بالخصوص مسلم اقلیتوں کے ساتھ دوہری پالیسی کے بجائے انصاف کا برتاو¿کریں،سیٹوں کی تقسیم سے لیکرقیادت کی حدتک مسلمانوںکی مناسب حصہ داری یقینی بنائیں کیوں کہ مسلمانوں کا ووٹ ہی فیصلہ کن رول ادا کرے گا۔ کم ازکم بہار میںپندرہ پارلیمانی حلقے ایسے ہیں جہاں مسلمانوں کا ووٹ ۲۱فیصد سے لیکر 44فیصدتک ہے۔امیر مقامی نے اس موقع پر مسلمانوں سے بھی گذارش کی ہے کہ وہ اتحاد کا ثبوت پیش کریں،خیر امت کا حق ادا کریں،ملک میں قانون کی بالادستی قائم کرنے اور جمہوریت اور سیکرلزم کے بقاکے لیے سیاسی جماعتوں سے گفت وشنید کی جائے،میڈیا اور سوشل میڈیا پر نظر رکھی جائے،ہندومسلم نفرت اور عداوت کو یکسرختم کرکے سدبھاو¿ کا ماحول بنایا جائے کیوں کہ ہر الیکشن میںفرقہ پرست کا سب سے مضبوط ہتھکنڈایہی نفرت ہے۔خواص سے گذارش ہے کہ ملت کے اندر سیاسی شعور بیدارکیا جائے ،عصبیتوں کو بھڑکانے اور عوام کے اندرمنفی رحجانات ابھارنے والے بیانات سے گریزکیا جائے ۔

 

عدل و انصاف فرنٹ کے کنوینر و معروف صحافی انوارالہدیٰ نے میٹنگ بلانے کے مقصد کو بتاتے ہوئے کہا کہ ”بہار میں مسلمانوں کی سیاسی حصہ داری ۔۔۔ ضرورت اہمیت“ کے عنوان سے مشاورتی اجلاس وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ملک کی آزادی کے بعد سے لیکر آج تک مسلمانوں کی سیاسی حصہ داری کا جائزہ لیا جائے توبڑی مایوسی ہوتی ہے، آخر اس کی وجہ کیا ہے ؟اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے، میرے مشاہدہ میں جو باتیں آئی ہیں وہ یہ ہے کہ ہملوگوں نے اس جانب بہت کم غور کیا ہے ۔ یہی وجہ ہے ملک بالخصوص بہار میں مسلمانوں کے پاس خاطرخواہ ووٹ بنک ہونے کے باجود مسلمان تعلیمی،معاشی اور سیاسی طور پر بہت پچھڑ چکے ہیں ۔ جمہوریت ووٹ کی تعداد کے بل بوتے پر ہی بڑا بڑا معرکہ سر ہوتا ہے ۔ ہمارے پاس ووٹ بنک ہے مگر سیاسی کج فہمی کی وجہ سے ہماراووٹ منتشر ہے،ہمارے صفوں میں انتشار ہے جس کی وجہ سے ہماری اتنی بڑی تعداد بے اثر اور غیر موثر نظر آتی ہے ۔ اس اجلا س کو بلانے کا مقصد بھی یہ ہے کہ مسلمانوں کا اس جانب عملی اقدام نہیں کے برابر ہے،دوسری جانب سیاسی پارپارٹیاں بھی مسلمانوں کی حصہ داری کے تعلق سے سکوت کی پالیسی پر عمل کرتی ہیں کہ یہ بے چارے جائیں گے کہاں؟ میں نے دونوں طرف خاموشی توڑنے کے لیے اس اجلاس کا انعقاد کیا ہے یہ اجلاس کیا ہے بلکہ خاموش ندی میں ایک پتھر ڈال کر اس سکوت و خاموشی کو توڑنے کی ادنیٰ سی کوشش کی ہے ۔

سیمنار کی صدارت کررہے بزرگ صحافی خورشید انور عارفی نے کہا کہ ملک کے حالات سے ہم سبھی اچھی طرح واقف ہیں ، یہ ملک سیکولرہے، یہاں کی زمین سیکولر ہے یہاں کی فضا سیکولر ہے، کچھ لوگ ہیں جو ہندو مسلم اتحاد کو پارہ پارہ کرکے اپنا مفاد حاصل کرنا چاہتے ہیں ملک کے حالات سے عوام فکرمند ہے ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ ملک وآئین کے پاسدار سیکولر جماعت کو مضبوط کریں ۵۱ اپریل کو امارت شرعیہ کی ایک آواز پر مسلمانوں نے جس اتحاد کامظاہرہ کیا وہ قابلِ مبارک باد ہے ، اپنے علماءاور دینی اداروں کو بدنام نہ کریں، دشمن اس تاک میں ہے کہ وہ علماءاور دینی اداروں سے ہمیں بد ظن کریں۔
مولانا خورشید احمد مدنی ناظم جمعیت اہلِ حدیث بہارنے کہا کہ سیاست میں حصہ داری کے لئے ہمیں سیاسی بننا ہوگا، انہوں نے کہا کہ آزادی سے پہلے اور آزادی کے بعد علماءہی نے ہماری رہنمائی کی ہمیں حوصلہ دیا، آج بھی حضرت مولاناسید ارشد مدنی اور مولانا ولی رحمانی ہماری رہنمائی کا فریضہ انجام دے رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ مسلمان سیاسی میدان میں اتریں اسے عبادت سمجھ کر کریں۔
مولانا امانت حسین سکریٹری علماءخطباءامامیہ نے کہا کہ اچھا راستہ کسی کو منزل تک نہیں پہنچاتا بلکہ اچھا رہنما منزل تک پہنچاتاہے۔ مولانا ابوا کلام قاسمی سابق پرنسپل مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ نے کہا کہ سیاسی حصہ داری حاصل کرنے کے لئے آپسی اتحاد بہت ضروری ہے، ملکی آئین اور سیکولرزم کی بقاءکے لئے ضروری ہے کہ ہم سیکولر اتحاد کو مضبوط بنائیں۔ آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹری مولانا محمد عالم قاسمی نے سیاسی حصہ داری کے حصول کیلئے ہمیں صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہوگا اور ہماری ملی تنظیموں کو بھی مضبوط کرنا ہوگا۔

روزنامہ انقلاب کے مدیر مقامی احمد جاوید نے کہا کہ سیاست ایک مستقل کام ہے ، ہمیں چاہئے کہ جو لوگ اس سے ایمانداری کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں ان کا تعاون کریں، خدمتِ خلق کرکے ہم سیاسی حصہ داری حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ڈاکٹر ریحان غنی ایڈیٹر روزنامہ پندار نے کہا کہ ستر برسوں سے ہم صرف ناانصافی کا رونا روتے آرہے ہیں، عوام نے ۵۱ اپریل کو گاندھی میدان پٹنہ میں اپنے اتحاد کا مظاہرہ کردیا ہے اب دینی ملی تنظیموں کی ذمہ داری ہے کہ اب وہ اپنے اتحاد کا ثبوت پیش کریں۔سراج انور ایڈیٹر بہار منتھن نے کہا کہ سیاسی حصہ داری سیاسی لیڈر شپ بنا کرہی لی جاسکتی ہے بغیر لیڈر شپ کے نہ کسی کو سیاسی حصہ داری ملی ہے اور نہ مسلمانوں کو مل سکتی ہے۔خورشید ہاشمی مینجنگ ایڈیٹر روزنامہ تاثیر نے کہا کہ آئندہ پارلیمانی انتخاب میں بہار سے کم از کم آٹھ آٹھ مسلم امید وارکو مہاگٹھبندھن اور این ڈی اے سے ٹکٹ ملنا چاہئے ، مسلمانوں کو عوام سے جڑکو خدمت خلق کو اپنا ناہوگا۔ ڈاکٹر سید شہباز عالم ایڈیٹر روزنامہ راشٹریہ سہارا نے کہا کہ سیاسی حصہ داری حاصل کرنے کے لئے تعلیم یافتہ ہونا ہوگااور آپسی اتحا د پیداکرنا ہوگا۔پروگرام کا آغاز مولانا عبدالاحد سمستی پوری کے تلاوت قرآن پاک سے ہوا، نعت پاک قاری محب اللہ عرفانی نائب امام جامع مسجد پٹنہ جنکشن نے پیش کیا۔ اس موقع پر انسٹی ٹیوٹ آف ابجیکٹیو اسٹڈیز پٹنہ چیپٹر کے اعزازی ڈائریکٹر ڈاکٹر فضلِ رب،علی گڑھ اولڈ بوائز ایسو سی ایشن بہار چیپٹر کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر ارشد ایس حق ، ایس ائی او کے شاہد ، آل انڈیا ملی کونسل کے سکریٹری جاوید اقبال ایڈووکیٹ ، تحریک اردو کے سکریٹری مظہر عالم مخدومی، سماجی کارکن محمد جاوید ، وارڈ کونسلراسفر احمد ، مولانا سعد احمد قاسمی ، ، سید شکیل حسن ایڈووکیٹ، محمد جاوید، سعد احمد قاسمی، نجم الحسن نجمی،ڈاکٹر محمد قیصر، انجینیر ریاض احمد آتش، محمد شاہد، ڈاکٹر محبوب عالم، وغیرہ نے خطاب کیا ۔

آخر میں عدل وانصاف فرنٹ بہار کا یہ اجلاس اتفاق رائے سے یہ تجویز منظور کیا ہے کہ چونکہ بہار میں ۵۱ پارلیمانی حلقے ایسے ہیں جہاں مسلمان ووٹرس کی تعداد ۲۱فیصد سے لے کر ۲۴ فیصد تک ہے۔جبکہ کشن گنج پارلیمانی حلقہ میں مسلم ووٹ68فیصدہے ۔ سیاسی جماعتوں اتحاد سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ دس ایسے پارلیمانی حلقے میں مسلم امیدوار کو ٹکٹ دیاجائے جہاں مسلم ووٹرس کسی بھی امیدوار کو کامیا ب یا ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ تاکہ سیاست میں ان کی حصہ داری ہواور ان کے ساتھ انصاف ہوسکے۔ بہ حیثیت ایک امت مسلمان گروہی،مسلکی اور ذاتی اختلاف کو مٹاکر اپنے صفوں میں اتحاد پیدا کریں،بالخصوص انتخابات کے مواقع پر اپنے ووٹ کو منتشر ہونے سے بچائیں اور متحدہوکرملک اورآئین کے پاسدار،ایماندار اوراخلاقی اقدار کے پابندامیدوار کے حق میںاپنا قیمتی ووٹ کریں ۔ووٹ کاٹنے والے امیدوارکو ووٹ دے کراپنا ووٹ ضائع نہ ہونے دیں۔سیاسی جماعتیں اتحاد اپنے انتخابی منشور میں مسلمانوں کے بنیادی مسائل سے متعلق اپنا موقف واضح کریں۔

امارت شرعیہ بہار اڑیسہ و جھارکھنڈ کے ناظم مولانا انیس الرحمٰن قاسمی نے دعا کی اور انوارالہدیٰ کی شکریہ کی تجویز کے ساتھ میں مشاورتی اجلاس اختتام پذیر ہوا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Ad
Ad

ELECTIONS

EC issues notice to Siddhu for seeking votes on religious lines

  AMN The Election commission has issued a notice to Congress leader, Navjot Singh Siddhu for seeki ...

EC stops online streaming of web series on PM Modi

AMN / NEW DELHI The Election Commission has ordered to stop online streaming of a web series on Prime Ministe ...

Electioneering at its peak for 3rd phase of LS polls

AGENCIES Leaders across political spectrum holding rallies and roadshows for the third phase of Lok Sabha ele ...

Ad

SPORTS

Asian Weightlifting Championships begin in China

The Asian Weightlifting Championships began in Ningbo, China today. The competition will continue till the 28t ...

Asian Athletics Championships to begin in Doha tomorrow

The Asian Athletics Championships will begin in Doha tomorrow. The first day will decide eight gold medals. ...

IPL: Rajasthan defeat Mumbai by five wickets

In IPL Cricket, Rajasthan Royals defeated Mumbai Indians by five wickets in Jaipur this evening. Rajasthan ach ...

Ad

MARQUEE

116-year-old Japanese woman is oldest person in world

  AMN A 116-year-old Japanese woman has been honoured as the world's oldest living person by Guinness ...

Centre approves Metro Rail Project for City of Taj Mahal, Agra

6 Elevated and 7 Underground Stations along 14 KmTaj East Gate corridor 14 Stations all elevated along 15.40 ...

CINEMA /TV/ ART

Priyanka Chopra is among world powerful women

AGENCIES   Bollywood actress Priyanka Chopra Jonas has joined international celebrities including Opr ...

Documentary on Menstruation stigma ‘Period’ wins Oscar

  WEB DESK A Netflix documentary Period. End of sentence, on the menstruation taboo in rural India has ...

Ad

ART & CULTURE

Noted Urdu writer Jamil Jalibi is no more

  Author of the seminal history of Urdu literature, editor of one and founder of another eminent literar ...

Telugu poet K Siva Reddy selected for prestigious Saraswati Samman

  AMN Noted Telugu poet K Siva Reddy has been selected for the prestigious Saraswati Samman, 2018 for h ...

@Powered By: Logicsart