Web Hosting
FreeCurrencyRates.com

इंडियन आवाज़     20 May 2019 04:05:20      انڈین آواز
Ad

بابری مسجد تنازعہ :’نماز کے لیے مسجد ضروری نہیں‘ سپریم کورٹ

babri

AMN

بابری مسجد تنازعے سے متعلق ایک مقدمے میں سپریم کورٹ نے مسجد کو نماز کے لیے لازمی قرار نہیں دینے کے حوالے سے اپنے سابقہ حکم کو برقرار رکھتے ہوئے اسے ایک وسیع تر آئینی بنچ کو بھیجنے کی درخواست مسترد کردی۔

ہندو تنظیمیں اس فیصلے کو اجودھیا میں عظیم الشان رام مندر کی تعمیر کی سمت میں ایک قدم آگے بڑھنے سے تعبیر کررہی ہیں جب کہ مسلم تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے بابری مسجد کی حق ملکیت اور مسجد کو منہدم کرنے کی مجرمانہ سازش کے مقدمات کا دور دور تک کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اسی کے ساتھ بابری مسجد معاملے پر سیاسی بیان بازی کا سلسلہ ایک بار پھرتیز ہو گیا ہے۔

دریں اثنا بابری مسجد کا مقدمہ لڑنے والی آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے سینیئر رکن اور وکیل ظفر یاب جیلانی نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے اس بات سے انکار کیا کہ اس فیصلے سے مسلمانوں کے موقف کو دھچکا پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’آج کے فیصلے کا بابری مسجد کے اصل تنازعے کی اپیلوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ سپریم کورٹ نے خود ہی کہا ہے کہ اس کا حق ملکیت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ ایک خاص تناظر میں دی گئی رائے تھی۔‘

اس پیش رفت کے بعد بابری مسجد تنازعہ ایک نئے اور دلچسپ مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔ اب اس تنازعے کے دونوں پہلوؤں پر مقدمہ شروع ہوجائے گا۔ پہلا حق ملکیت کا ہے جس کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیر غور ہے۔ جب کہ دوسرا مجرمانہ معاملہ ہے جس پر لکھنؤ ہائی کورٹ میں بحث ہوگی۔ اس میں بی جے پی کے کئی سینیئر لیڈران بشمول لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہرجوشی، اوما بھارتی وغیرہ پر بابری مسجد کو منہدم کرنے کی ساز ش میں ملوث ہونے کا مقدمہ چل رہا ہے۔

جمرات کو سپریم کورٹ کو یہ طے کرنا تھا کہ آیا سن 1994 کےاس فیصلے کو کہ ’نماز مسجد میں پڑھنا اسلام کا لازمی جز نہیں ہے‘ کو بڑی بینچ میں بھیجاجائے یا نہیں۔ مسلمانوں نے عدالت سے اسے بڑی بینچ میں بھیجنے کی درخواست دی تھی۔ عدالت عظمی کی تین رکنی بینچ نے اکثریتی فیصلے سے یہ درخواست مسترد کر دی اور کہا کہ بابری مسجد کی حق ملکیت کے معاملے سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

چیف جسٹس دیپک مشرا اور جسٹس اشوک بھوشن نے اس معاملہ کو بڑی بینچ بھیجنے سے انکار کیا جب کہ جسٹس عبدالنذیر نے بڑی بنچ کو بھیجنے سے اتفاق کیا۔

عدالت نے کہا، ’’ 1994میں اسماعیل فاروقی معاملہ میں جو فیصلہ آیا تھا اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت اسماعیل فاروقی بنام یونین آف انڈیا معاملہ میں سپریم کورٹ کا یہ تبصرہ کہ ’مسجد میں نماز ادا کرنا اسلام کا اہم جز نہیں‘ لینڈ ایکویزیشن کے حوالے سے تھا لہذا اُس تبصرہ کو اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔‘‘

اسماعیل فاروقی معاملہ کیا ہے؟
اجودھیا میں ہندو کارسیوکوں نے 6 دسمبر سن 1992 کو بابری مسجد کو منہدم کر دیا تھا۔ اس کے بعد حکومت نے 7 جنوری 1993ء کو آرڈیننس لا کر مسجد کی زمین کے پاس کی 67 ایکڑ زمین کو ایکوائر کر لیا۔ اس ایکویزیشن میں زمین کا وہ حصہ بھی تھا، جہاں بابری مسجد موجود تھی اور جسے آج بابری مسجد۔ رام جنم بھومی احاطہ کہا جاتا ہے۔

حکومت کے اس فیصلہ کو اسماعیل فاروقی نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا اور اپنی عرضی میں کہا تھا کہ حکومت کسی مذہبی مقام کو ایکوائر نہیں کر سکتی۔ اس معاملہ کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ مسجد میں نماز ادا کرنا اسلام کا لازمی جز نہیں ہے لہذا مسجد کی زمین کو بھی حکومت اگر چاہے تو ایکوائرکر سکتی ہے۔ واضح رہے کہ سن 2010 میں الہ آباد ہائی کورٹ نے اسماعیل فارقی فیصلہ کا حوالہ دیتے ہوئے مسجد اراضی سمیت 67 ایکڑ زمین کو تین برابر حصوں میں تقسیم کرنے کا حکم سنایا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Ad
Ad

ELECTIONS

63 % polling recorded in the final phase of Lok Sabha polls

Voters have already exercised their franchise for 483 out of the total 542 parliamentary seats in previous six ...

India’s most controversial and longest Elections come to an end

Results on May 23  AMN / Elections for the 17th Lok Sabha concluded today after sweet and sour incident ...

Ashok Lavasa letter Creates Unrest in Election Commission

CEC Sunil Arora denies internal rifts over MCC   By a Correspondent / New Delhi Election Commiss ...

Ad

SPORTS

Hockey: Australia defeat India 5-2 for their second successive win

India suffered their second successive defeat as they lost to host Australia 2-5 in their fifth and final matc ...

Boxing: Shiva Thapa hopeful of golden finish at India Open

Harpal Singh Bedi / New Delhi Olympian Shiva Thapa on Friday exuded the confidence of a golden finish in the ...

Rashid Khan fires superb final round of 66, bags second title of the season

Chandigarh Delhi’s Rashid Khan fired awesome final round of six-under-66 to register a two-shot victory at ...

Ad

MARQUEE

116-year-old Japanese woman is oldest person in world

  AMN A 116-year-old Japanese woman has been honoured as the world's oldest living person by Guinness ...

Centre approves Metro Rail Project for City of Taj Mahal, Agra

6 Elevated and 7 Underground Stations along 14 KmTaj East Gate corridor 14 Stations all elevated along 15.40 ...

CINEMA /TV/ ART

66th National Film Awards to be declared after General Elections

  The 66th National Film Awards will be declared after General Elections, 2019. In a statement, Informat ...

Priyanka Chopra is among world powerful women

AGENCIES   Bollywood actress Priyanka Chopra Jonas has joined international celebrities including Opr ...

Ad

ART & CULTURE

Sahitya Akademi demands Rs 500/- from children for Workshop

Andalib Akhter / New Delhi India’s premier literary body, the Sahitya Akademi, which gives huge awards, p ...

Noted Urdu writer Jamil Jalibi is no more

  Author of the seminal history of Urdu literature, editor of one and founder of another eminent literar ...

@Powered By: Logicsart