FreeCurrencyRates.com

इंडियन आवाज़     17 Dec 2017 01:28:25      انڈین آواز
Ad

یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے ٹرمپ کے فیصلے کی بین الاقوامی سطح پر مذمت

JERUSALEM

ویب ڈیسک

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلان کے بعد بین الاقوامی سطح پر اس کی سخت مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔ امریکی صدر نے ٦ دسمبر کی رات وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں یہ اقدام امریکہ کے بہترین مفاد اور اسرائیل اور فلسطین کے درمیان قیامِ امن کے لیے ضروری تھا۔

امریکا کے اس فیصلے کی نہ صرف مسلم ممالک بلکہ یورپی یونین، جرمنی اور برطانیہ نے بھی مخالفت کی ہے۔ دوسری جانب کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے یروشلم کی صورت حال پر شدید فکرمندی کا اظہار کیا ہے۔ امریکی صدر کے اعلان سے پہلے پوپ نے تمام حلقوں سے یروشلم کی موجودہ حیثیت اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کا احترام کرنے کی درخواست کی تھی۔ ان کے بقول یروشلم ایک منفرد شہر ہے اور یہ یہودیوں، مسیحیوں اور مسلمانوں کے لیے مقدس ہے۔

امریکی صدر کے اس اعلان سے پہلے ہی غزہ میں بھی احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ فلسطینیوں نے امریکی پرچم نذر آتش کرتے ہوئے ’یروشلم ہمارا ابدی دارالحکومت ہے‘ جیسے نعرے بلند کیے۔ حماس نے آئندہ دنوں میں بھی مزید احتجاجی مظاہرے کرنے کی اپیل کی ہے۔ حماس کے سیاسی دفتر کر سربراہ اسماعیل ہانیہ نے عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے، ’’فلسطینی اس کا مناسب جواب دیں گے۔ عوامی طور پر امریکا کا یہ انداز قابل قبول نہیں ہے۔‘‘

ان کا اس حوالے سے مزید کہنا تھا، ’’ٹرمپ یا اگر کوئی اور یہ سوچتا ہے کہ ہمارے لوگ، قوم یا مزاحمت سے ان کے منصوبوں کو واپس نہیں دھکیلا جا سکتا تو وہ غلط ہے۔‘‘ اسی طرح بیروت میں مظاہرین نے نعرے لگائے کہ ’’ٹرمپ تم پاگل ہو۔‘‘
عرب لیگ نے اپنے وزرائے خارجہ کا ایک ہنگامی اجلاس ہفتے کے روز طلب کیا ہے جبکہ ترکی نے صدر ٹرمپ کو جواب دینے کا موقع فراہم کرنے کے لیے آئندہ ہفتے اسلامی تعاون کی تنظیم ( او آئی سی) کا اجلاس بلایا ہے۔ دریں اثناء فلسطینی حکام نے کہا ہے کہ اب مشرق وسطیٰ کا امن عمل ’ختم‘ ہو گیا ہے۔

نئے امریکی صدر سے بڑھتی ہوئی قربت کے باوجود سعودی عرب کی جانب سے جاری کیے گئے شاہی بیان میں کہا گیا کہ صدر ٹرمپ کا یہ فیصلہ ‘بلاجواز اور غیر ذمہ دارانہ’ ہے اور ‘یہ فلسطینی عوام کے حقوق کے منافی’ ہے۔

دوسری جانب ایران نے بھی صدر ٹرمپ کے اعلان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے ‘اسرائیل کے خلاف ایک اور انتفادہ شروع ہو سکتی ہے۔ یہ اشتعال انگیز اور غیر دانشمندانہ فیصلہ سخت اور پرتشدد ردعمل کا باعث بن سکتا ہے۔ ‘

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے 15 میں سے آٹھ ممالک نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکی فیصلے کے حوالے سے رواں ہفتے کے اختتام تک ہنگامی اجلاس بلایا جائے۔
فرانس، بولیویا، مصر، اٹلی، سینیگال، سویڈن، برطانیہ اور یوراگوائے نے اس ہنگامی اجلاس کا مطالبہ کیا ہے جو جمعے کو منعقد ہوگا اور توقع ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اس میں خطاب کریں گے۔

حال ہی میں سعودی عرب میں اپنے استعفے کا اعلان کرنے کے بعد رواں ہفتے اسے واپس لینے والے لبنان کے وزیر اعظم سعد حریری نے کہا کہ ‘ہمارا ملک بھرپور طریقے سے فلسطینیوں کے ساتھ اپنے حمایت کا اعلان کرتا ہے اور ان کا علیحدہ ملک جس کا دارالحکومت یروشلم ہو، قائم کرنے کے مطالبے کا ساتھ دیتا ہے۔’انھوں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ امریکی فیصلے سے خطے میں خطرات کا اضافہ ہو گا۔

ادھر یورپ کے دوسرے ممالک کی طرح جرمنی سے بھی امریکی فیصلے کی مذمت سامنے آئی ہے جب جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل نے اپنے ترجمان کے ذریعے پیغام جاری کیا جس میں انھوں نے واضح طور پر کہا کہ ‘صدر ٹرمپ کے فیصلے کی قطعی حمایت نہیں کرتیں۔’انھوں نے مزید کہا کہ’یروشلم کے رتبے کے بارے میں فیصلہ صرف دو ریاستوں پر مبنی حل کے تحت ہو سکتا ہے۔’

فلسطین کے صدر محمود عباس نے امریکی صدر کے اس فیصلے پر کہا ’صدر ٹرمپ کے شرمناک اور ناقابل قبول اقدامات نے امن کی تمام کوششوں کو کمزور کر دیا ہے۔‘

فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے سیکریٹری جنرل کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے سے دو ریاستی حل کی امید کو تباہ کر دیا گیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گرتیرس نے یروشلیم پر اسرائیلی حاکمیت کے حوالے سے صدر ٹرمپ کے اقدام کو سختی سے مسترد کر دیا۔
انتونیو گتریس نے اپنے بیان میں صدر ٹرمپ کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یروشلم کے تنازع کو ہر صورت اسرائیل اور فلسطینیوں کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔

TRUMP DONALD

ان کا کہنا تھا کہ ‘اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے میں روز اوّل سے مسلسل کسی بھی ایسے یکطرفہ حل کے خلاف بات کرتا رہا ہوں جس سے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن کے امکانات کو زِک پہنچ سکتی ہے۔’

یورپی یونین کی فارن پالیسی کی سربراہ فیڈریکا مگیرینی نے صدر ٹرمپ کے اقدام پر’شدید تشویش‘ کا اظہار کیا ہے. فیڈریشنیکا مگیرینی نے کہا ’یروشلم کے بارے فریقین کی خواہشات کو پورا کیا جانا نہایت ضروری ہے اور مسئلے کو حل کرنے کے لیے ہر صورت مذاکرات کا راستہ ڈھونڈنا چاہیے۔‘

وہیں برطانوی وزیرِ اعظم ٹریزا مے نے ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے سے اختلاف کیا ہے۔ٹریزا مے کے ایک ترجمان کا کہنا تھا ’ہم امریکہ کے فیصلے سے متفق نہیں ہیں کہ وہ اپنا سفارت خانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کرے اور یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرے۔‘
اردن نے بھی ٹرمپ کے فیصلے کو بین الاقوامی اصول کے منافی قرار دیا ہے۔ادرن کی حکومت کے ایک ترجمان کا کہنا ہے ’امریکی صدر کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنا اور وہاں اپنا سفارت خانہ منتقل کرنا بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے۔‘

ترکی نے ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ‘ہم امریکی انتظامیہ کے اس غیر ذمہ دار بیان کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ بین الااقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کی قرار دادوں کے خلاف ہے۔’

ادھرترکی کے دارالحکومت استنبول میں واقع امریکہ قونصل خانے کے باہر لوگوں نے مظاہرے کیے جبکہ تیونس میں تمام بڑی لیبر یونینز نے مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔ مصر نے امریکہ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلان کو مسترد کر دیا۔
فرانسیسی صدر نے ٹرمپ کے اعلان کے ردعمل پر کہا کہ وہ امریکہ کے یکطرفہ فیصلے کو تسلیم نہیں کرتے جس میں اس نے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کیا ہے۔ ‘یہ فیصلہ افسوسناک ہے جس کو فرانس قبول نہیں کرتا اور یہ فیصلہ عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے خلاف جاتا ہے۔’

واضح ہو کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر لیا ہے۔ انہوں نے امریکی سفارت خانے کو بھی تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نے اسے ایک ’تاریخی سنگ میل‘ قرار دیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ کے تنازعے کے حل کے لیے ’نئی سوچ اور پالیسی‘ اپنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی سفارت خانے کو بھی تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا ٹیلی وژن پر براہ راست تقریر کرتے ہوئے کہنا تھا کہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت بنانے کا فیصلہ ایک طویل عرصے سے ملتوی کیا جاتا رہا ہے، ’’متعدد امریکی صدور اس حوالے سے کچھ کرنا چاہتے تھے لیکن وہ ایسا نہیں کر سکے۔‘‘ ٹرمپ کے مطابق اگر فریقن چاہیں تو وہ ابھی بھی دو ریاستی حل کی حمایت کرنے کے لیے تیار ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے امریکی صدر کے فیصلے کی تعریف کرتے ہوئے اسے ایک ’تاریخی سنگ میل‘ قرار دیا ہے۔ نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ کسی بھی امن معاہدے میں فلسطینیوں کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ یروشلم اسرائیل کا دارالحکومت ہے۔
نیوز ایجنسی کے مطابق امریکی وزارت خارجہ نے دنیا بھر میں موجود اپنے سفارت کاروں کو بیس دسمبر تک اسرائیل، یروشلم اور اور مغربی کنارے کا غیر ضروری سفر نہ کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔

Follow and like us:
20

Leave a Reply

You have to agree to the comment policy.

Ad

SPORTS

African champion Ernest Amuzu promises to stop Vijender in his track

HARPAL SINGH BEDI / New Delhi African Champion Ernest Amuzu on Friday promised to stop India's star boxer V ...

P V Sindhu storms into final in BWF Dubai World Super Series Finals

Olympic silver-medallist P V Sindhu has stormed into final of women's singles in the BWF Dubai World Super Ser ...

Ad
Ad
Ad
Ad

Archive

December 2017
M T W T F S S
« Nov    
 123
45678910
11121314151617
18192021222324
25262728293031

OPEN HOUSE

Mallya case: India gives fresh set of documents to UK

AMN India has given a fresh set of papers to the UK in the extradition case of businessman Vijay Mallya. Ex ...

@Powered By: Logicsart

Help us, spread the word about INDIAN AWAAZ