FreeCurrencyRates.com

इंडियन आवाज़     15 Aug 2018 08:56:43      انڈین آواز
Ad

گڑ گاؤں میں نماز کے سلسلے میں وزیر اعلی ہریانہ کو دہلی اقلیتی کمیشن کا مکتوب

Gurgaon Namaz

نئی دلی:
دہلی کے مضافاتی علاقہ گڑگاؤں میں کھلی جگہوں پر نماز جمعہ کی ادائیگی کے بارے میں وزیر اعلی ہریانہ منوہر لال کھٹر کو صدر دہلی اقلیتی کمیشن ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے خط لکھ کر کچھ اہم امور کی طرف توجہ دلائی ہے۔ وزیر اعلی ہریانہ نے کہا تھا کہ اگر لوگوں کو اعتراض نہ ہو تو کھلی جگہ پر نماز پڑھی جا سکتی ہے۔ ڈاکٹر ظفرالاسلام نے اپنے مکتوب میں لکھا ہے کہ میں آپ کے موقف کی تایید کرتااگر یہی ضابطہ کھلی جگہوں کو مذہبی اور سماجی استعمال کے تمام واقعات کے بارے میں عادلانہ طور سے اپنایا جاتا۔ ڈاکٹر ظفرالاسلام نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ ’’میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ اپنے صوبے میں پولیس اور انتظامیہ کو حکم دیں کہ کھلی جگہوں، سڑکوں اور فٹ پاتھوں سے سارے مذہبی ڈھانچے ہٹادیں اور تہواروں کے دوران رہائشی اور تجارتی علاقوں میں کھلی جگہوں اور سڑکوں کو ہر سال کئی کئی دن کے لئے استعمال سے روکیں‘‘۔
ڈاکٹر ظفرالاسلام نے مزید لکھا ہے کہ گڑگاؤں میں پچھلے بیس سال سے مسجد تعمیر کرنے کی ایک درخواست معرض التواء میں ہے۔ اسی طرح ہریانہ وقف بورڈ کے مطابق گڑگاؤں میں انیس (۱۹) مسجدوں پر یا تو غیروں کے قبضے ہیں یا وہ کھنڈر ہیں۔ براہ کرم ان جگہوں پر مسلم سماج اور ہریانہ وقف بورڈ کو نماز ادا کرنے کی اجازت دی جائے۔ ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے اپنے مکتوب میں مزید لکھا ہے کہ گڑگاؤں کے علاوہ ہریانہ کے بہت سے شہروں مثلا سونی پت، پانی پت ،روہتک، حصار، جھجر، ہانسی، کرنال اور امبالا میں ہزاروں ایسی مسجدیں ہیں جن پر اغیار کے قبضے ہیں۔ صرف پانی پت میں ایسی تقریباسو مسجدیں ہیں جن پر دوسروں نے قبضہ کر رکھا ہے۔ ان کی تفصیلات ہریانہ وقف بورڈ سے مل جائیں گی۔آخر میں ڈاکٹر ظفرالاسلام نے اپنے خط میں وزیر اعلی ہریانہ کو لکھا ہے:” مجھے امید ہے کہ آپ راج دھرم کا لفظ اور روح کے مطابق پالن کریں گے تاکہ آپ کے صوبے میں قانون اور انصاف کا راج ہو”۔ اپنے خط کے ساتھ ڈاکٹر ظفرالاسلام نے گڑگاؤں کی انیس (۱۹) مسجدوں کی لسٹ منسلک کی ہے جسمیں ہریانہ وقف بورڈ کے مطابق نماز کی اجازت نہیں ہے۔

سرکاری قرضوں کی حقیقت
نئی دلی: دہلی کھادی اینڈ ویلیج انڈسٹریز بورڈ دہلی کی اقلیتوں کو قرضے فراہم کرتا ہے ، یا کم از کم اس کا دعوی کرتا ہے ،لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ دہلی اقلیتی کمیشن کے ایک استفسار پر بورڈ نے کمیشن کو مطلع کیا ہے کہ سال گذشتہ (۲۰۱۷ ۔ ۲۰۱۸) اس کو سینتیس (۳۷) درخواستیں قرض کے لئے موصول ہوئیں جنمیں سے صرف ایک (۱) درخواست منظور کی گئی۔ پچھلے سال اسی بورڈ نے اطلاع دی تھی کہ سابقہ سال اسے صرف ایک (۱) درخواست موصول ہوئی تھی اور وہ بھی منظور نہیں ہوئی۔ کمیشن نے مذکورہ بورڈ کو مزید لکھ کر پوچھا ہے کہ قرض کی درخواستوں کی تمام تفصیلات مہیا کی جائیں اور درخواستوں کی نامنظوری کا سبب بھی بتایا جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Ad
Ad
Ad
Ad

MARQUEE

Living index: Pune best city to live in, Delhi ranks at 65

The survey was conducted on 111 cities in the country. Chennai has been ranked 14 and while New Delhi stands a ...

Jaipur is the next proposed site for UNESCO World Heritage recognition

The Walled City of Jaipur, Rajasthan, India” is the next proposed site for UNESCO World Heritage recognition ...

@Powered By: Logicsart