FreeCurrencyRates.com

इंडियन आवाज़     16 Jan 2019 05:37:37      انڈین آواز
Ad

گڑ گاؤں میں نماز کے سلسلے میں وزیر اعلی ہریانہ کو دہلی اقلیتی کمیشن کا مکتوب

Gurgaon Namaz

نئی دلی:
دہلی کے مضافاتی علاقہ گڑگاؤں میں کھلی جگہوں پر نماز جمعہ کی ادائیگی کے بارے میں وزیر اعلی ہریانہ منوہر لال کھٹر کو صدر دہلی اقلیتی کمیشن ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے خط لکھ کر کچھ اہم امور کی طرف توجہ دلائی ہے۔ وزیر اعلی ہریانہ نے کہا تھا کہ اگر لوگوں کو اعتراض نہ ہو تو کھلی جگہ پر نماز پڑھی جا سکتی ہے۔ ڈاکٹر ظفرالاسلام نے اپنے مکتوب میں لکھا ہے کہ میں آپ کے موقف کی تایید کرتااگر یہی ضابطہ کھلی جگہوں کو مذہبی اور سماجی استعمال کے تمام واقعات کے بارے میں عادلانہ طور سے اپنایا جاتا۔ ڈاکٹر ظفرالاسلام نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ ’’میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ اپنے صوبے میں پولیس اور انتظامیہ کو حکم دیں کہ کھلی جگہوں، سڑکوں اور فٹ پاتھوں سے سارے مذہبی ڈھانچے ہٹادیں اور تہواروں کے دوران رہائشی اور تجارتی علاقوں میں کھلی جگہوں اور سڑکوں کو ہر سال کئی کئی دن کے لئے استعمال سے روکیں‘‘۔
ڈاکٹر ظفرالاسلام نے مزید لکھا ہے کہ گڑگاؤں میں پچھلے بیس سال سے مسجد تعمیر کرنے کی ایک درخواست معرض التواء میں ہے۔ اسی طرح ہریانہ وقف بورڈ کے مطابق گڑگاؤں میں انیس (۱۹) مسجدوں پر یا تو غیروں کے قبضے ہیں یا وہ کھنڈر ہیں۔ براہ کرم ان جگہوں پر مسلم سماج اور ہریانہ وقف بورڈ کو نماز ادا کرنے کی اجازت دی جائے۔ ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے اپنے مکتوب میں مزید لکھا ہے کہ گڑگاؤں کے علاوہ ہریانہ کے بہت سے شہروں مثلا سونی پت، پانی پت ،روہتک، حصار، جھجر، ہانسی، کرنال اور امبالا میں ہزاروں ایسی مسجدیں ہیں جن پر اغیار کے قبضے ہیں۔ صرف پانی پت میں ایسی تقریباسو مسجدیں ہیں جن پر دوسروں نے قبضہ کر رکھا ہے۔ ان کی تفصیلات ہریانہ وقف بورڈ سے مل جائیں گی۔آخر میں ڈاکٹر ظفرالاسلام نے اپنے خط میں وزیر اعلی ہریانہ کو لکھا ہے:” مجھے امید ہے کہ آپ راج دھرم کا لفظ اور روح کے مطابق پالن کریں گے تاکہ آپ کے صوبے میں قانون اور انصاف کا راج ہو”۔ اپنے خط کے ساتھ ڈاکٹر ظفرالاسلام نے گڑگاؤں کی انیس (۱۹) مسجدوں کی لسٹ منسلک کی ہے جسمیں ہریانہ وقف بورڈ کے مطابق نماز کی اجازت نہیں ہے۔

سرکاری قرضوں کی حقیقت
نئی دلی: دہلی کھادی اینڈ ویلیج انڈسٹریز بورڈ دہلی کی اقلیتوں کو قرضے فراہم کرتا ہے ، یا کم از کم اس کا دعوی کرتا ہے ،لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ دہلی اقلیتی کمیشن کے ایک استفسار پر بورڈ نے کمیشن کو مطلع کیا ہے کہ سال گذشتہ (۲۰۱۷ ۔ ۲۰۱۸) اس کو سینتیس (۳۷) درخواستیں قرض کے لئے موصول ہوئیں جنمیں سے صرف ایک (۱) درخواست منظور کی گئی۔ پچھلے سال اسی بورڈ نے اطلاع دی تھی کہ سابقہ سال اسے صرف ایک (۱) درخواست موصول ہوئی تھی اور وہ بھی منظور نہیں ہوئی۔ کمیشن نے مذکورہ بورڈ کو مزید لکھ کر پوچھا ہے کہ قرض کی درخواستوں کی تمام تفصیلات مہیا کی جائیں اور درخواستوں کی نامنظوری کا سبب بھی بتایا جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Ad
Ad

SPORTS

Punjab, Goa in the Semi finals of Boys U-21 Football at KIYG

HSB / Pune Trailing 0-1 till the 56th Minute Punjab staged a fine recovery to down Goa 2-1 but both the teams ...

Odisha bag KIYG Under-21 men’s hockey gold

HSB / Mumbai Odisha thwarted Haryana from completing a hockey double as they beat them 4-2 in the Boys Under- ...

India wins 2nd ODI against Australia by 6 wickets

Virat Kohli made a sublime 104-run knock as India defeated Australia by six wickets in the second One-day Inte ...

Ad

MARQUEE

Major buildings in India go blue as part of UNICEF’s campaign on World Children’s Day

Our Correspondent / New Delhi Several monuments across India turned blue today Nov 20 – the World Children ...

US school students discuss ways to gun control

             Students  discuss strategies on legislation, communities, schools, and mental health and ...

CINEMA /TV/ ART

Noted Film actor Kader Khan passes away in Canada

Born in Kabul, Khan made his acting debut in 1973 with Rajesh Khanna's "Daag" and has featured in over 300 fil ...

Mortal remains of Mrinal Sen cremated in Kolkata

    Mortal remains of Legendary filmmaker Mrinal Sen, the last of the triumvirate of directi ...

Ad

@Powered By: Logicsart