Ad
FreeCurrencyRates.com

इंडियन आवाज़     16 Oct 2018 11:48:13      انڈین آواز
Ad

گوگل ڈوڈل نے مینا کماری کو یاد کیا

گوگل ڈوڈل نے  آج  بالیوڈ کی مشہور اداکارہ مینا کماری کو انکی  ٨٥ ویں سالگرہ پر یاد کیا

meena

WEB DESK

مینا کماری کا اصل نام تو مہ جبیں بانواور تخلص ناز تھا۔مگر عوام انہیں ایک فلمی اداکارہ کے طور پر ہی زیادہ جانتی ہے۔انہوں نے بے شمار فلمیں بنائیں ‘بے حد شہرت حاصل کیں اور بہت دولت کمائی مگر ان کی ذاتی زندگی اتنی ہی زیادہ ڈسٹرب تھی۔
یہ پہلی اداکارہ ہے جس نے پہلا فلم فیئر ایوارڈ حاصل کیا۔ اور یہ ایوارڈ فلم بیجو باوارا پر ملا تھا۔ بیجو باورا ہی وہ پہلی فلم تھی جس نے مینا کو شہرت اور پہچان دی-وہ ایک بہت بڑی اداکارہ تھی فلمی صنعت کے آسمان پر ایک چاند کی طرح اس کی جگمگاہٹ محسوس ہوتی ہے اور ساتھ ساتھ ایک ایسی شاعرہ ، جس کے درد بھرے ٹوٹے دل سے

ماہ جبیں بانو المعروف مینا کماری یکم اگست 1932 کو بمبئی میں پیدا ہوئیں اور صرف 7 سال کی عمر میں یعنی 1939 میں ہی انہوں نے ‘فرزند وطن’ نامی فلم سے اپنے فنی کریئر کا آغاز کیا، جس میں انہیں ‘مینا کماری’ کا نام دیا گیا۔

مینا کماری نے ’فرزند وطن‘ نامی فلم سے ڈیبیو کیا
جس زمانے میں برصغیر میں فلم اسکرین پر مینا کماری جلوہ گر ہوتی تھیں تو اسی دور میں ان کا مقابلہ نرگس، مدھوبالا، وحیدہ رحمٰن اور وجینتی مالا جیسی اداکاراؤں کے ساتھ تھا جو اپنے فن میں یکتا تھیں، ان اداکاراؤں کے ساتھ مقابلے میں فلم انڈسٹری میں اپنے لیے ایک علیحدہ مقام بنانا کوئی آسان کام نہ تھا۔

pakeezah
مینا کماری کی آواز میں ایک درد تھا اور سننے والوں کو اندازہ ہو جاتا تھا کہ ان کے الفاظ، زبان اور چہرے سے جو کرب نمایاں ہو رہا ہے وہ ان کے جذبات کی صحیح عکاسی کر رہا ہے۔

انہیں 1952 میں ریلیز ہونے والی فلم ‘بیجو باورا’ سے شہرت ملی اور وہ بہترین اداکارہ کا فلم فیئر ایوارڈ حاصل کرنے میں بھی کامیاب رہیں۔

اس کے بعد یکے بعد دیگرے پرینیتا، دیدار، ایک ہی راستہ، شردا اور دل اپنا اور پریت پرائی جیسی سپر ہٹ فلمیں دے کر مینا کماری نے المیہ کردار نگاری میں اپنی صلاحیتوں کو منوا لیا۔

تاہم انہیں عروج کی بلندیوں پر پہنچانے والی 1962 میں ریلیز ہونے والی فلم ‘صاحب بیوی اور غلام’ رہی، جس نے ہر شعبۂ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو متاثر کیا۔

فلم ’پاکیزہ‘ کو مکمل ہونے میں 14 سال کا عرصہ لگا
ان کی فلم ‘پاکیزہ’ اپنی مثال آپ تھی، جس کی تکمیل میں 14 سال کا عرصہ لگا، اس فلم کی ہدایت کاری ان کے سابق شوہر کمال امروہی نے کی تھی، اس فلم کے گانے خصوصاً ‘انہی لوگوں نے‘ اور ’سرِراہ چلتے چلتے’ آج بھی روز اوّل کی طرح مشہور ہیں۔

سن 1964 میں کمال امروہی سے ان کی شادی ٹوٹ گئی جس کا غم انہیں اس شدت سے ہوا کہ وہ جگر کی بیماری میں مبتلا ہو کر عالم شباب میں ہی 31 مارچ 1972 کو اس دنیا سے رخصت ہوگئیں۔

تاہم اپنی باکمال اداکاری کے باعث وہ آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Ad
Ad
Ad

MARQUEE

3000-year-old relics found in Saudi Arabia

Jarash, near Abha in saudi Arabia is among the most important archaeological sites in Asir province Excavat ...

Instagram co-founders quit

WEB DESK The 2 co-founders of Instagram have resigned, reportedly over differences in management policy with ...

Ad

@Powered By: Logicsart