FreeCurrencyRates.com

इंडियन आवाज़     28 May 2017 08:12:51      انڈین آواز

گوشت پر پابندی مویشی پالنے والوں کے لئے نوٹبدي سے کم نہیں

سنیتا نارائن /بزںس اسٹنڈرڈ
حال ہی میں آئی ہماری کتاب فرسٹ فوڈ: کلچر آف ٹیسٹ میں ہم نے مویشی کے اقسام ، غذائیت اور معیار زندگی پر بحث کی ہے. اسے لے کر مجھ سے ایک سوال پوچھا گیا کہ بطور ایک ماحولیات میں آخر روایتی اور مقامی کھانے کی حمایت اور گوشت خوری کی مذمت کیوں نہیں کرتی ہوں؟ اس کے حق میں یہ دلیل دی جاتی ہے کہ گوشت کی پیداوار آب و ہوا کے لئے خراب ہے. زرعی شعبے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 15 فیصد کے لئے ذمہ دار ہے اور اس کا آدھا حصہ گوشت کی پیداوار سے آتا ہے. زمین پر اور پانی کے استعمال کے معاملے میں بھی اس کی گہری چھاپ ہے. دنیا کی تقریبا 30 فیصد زمین جو برف سے نہیں ڈھکی ہے، وہاں جو اناج اگیا جاتا وہ انسانوں کے نہیں بلکہ جانوروں کے کھانے کے لئے ہوتا ہے. سال 2014 میں برطانوی کھانے پر آکسفورڈ یونیورسٹی کے ذارئیا کئے گئے ایک سروے سے پتہ چلا کہ گوشت خوری کی بات کریں تو ہر روز فی شخص 100 گرام سے زیادہ گوشت کھانے والے لوگوں نے ہر روز 7.2 کلو گرام کاربن ڈا آکسائڈ کا اخراج کیا جبکہ سبز غذا والوں نے صرف 2.9 کلوگرام کاربن ڈا آکسائڈ نکالی. مجھ سے کہا گیا کہ ایسے میں استحکام بھرے کھانے کی تلاش کرنا کوئی صحیح بات نہیں.
اس بات سے میں متفق نہیں ہوں . بطور ایک ہندوستانی ماحولیات میں کئی وجوہات سے سبزی خوری کی حمایت نہیں کروں گی. پہلی بات، بھارت ایک سیکولر ملک ہے اور یہاں كھانےپانے کی ثقافت کمیونٹیز، علاقے اور مذہب کے ساتھ بدلتی رہتی ہے. میں نے بھارت کے اس شکل سے کوئی سمجھوتہ نہیں چاہتی کیونکہ یہ ہماری انفرادیت کی شناخت کرتا ہے اور یہی ہماری حقیقت ہے.

دوسری بات، گوشت ایک بڑی آبادی کے لئے پروٹین کا ذریعہ ہے. لہذا غذائیت حفاظت کے نقطہ نظر سے بھی وہ اہم ہے.
تیسری بات ایسی ہے جو میرے موقف کو عالمی موقف سے جدا کرتی ہے . گوشت کھانا مسئلہ نہیں ہے بلکہ اس کی مقدار اور اس کی پیداوار کا طریقہ اہمیت کا حامل ہے . حال میں کئے گئے ایک جائزے کے کے مطابق امریکہ میں فی شخص فی سال گوشت کی اوسط کھپت 122 کلو ہے. جبکہ بھارت میں یہ 3 سے 5 کلو گرام ہے. گوشت کی اتنی زیادہ کھپت صحت اور ماحولیاتی دونوں کے لئے نقصان دہ ہے. اوسط امریکی گوشت کھپت اوسط پروٹین ضرورت سے ڈیڑھ گنا تک زیادہ ہے. ایسے میں دنیا میں پیدا 9.5 کروڑ ٹن گوشت میں سے زیادہ تر لاطینی امریکہ، یورپ اور شمالی امریکہ کے جانوروں سے حاصل ہوتا ہے. ان سب کا ماحول پر خاصا اثر ہے. وہیں بین الاقوامی پالتو جانوروں ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، کامن ویلتھ سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ آرگنائزیشن اور انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اطلاقی نظام اینالسس کے مطابق ترقی پذیر ممالک میں گوشت کی پیداوار مختلف طریقے سے ہوتا ہے. یہاں پالتو جانوروں کی بڑی تعداد حد تک گھاس اور فصل کے بچے كھچے حصے پر انحصار کرتے ہیں.

لیکن بھارتی ماہر ماحولیات ہونے کی وجہ سے میرے گوشت کے خلاف نہ ہونے کی سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں پالتو جانورہی کسانوں کی اقتصادی

سلامتی کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں. ہمارے ملک کے کسان زمین کا استعمال فصل اور درختوں کے ساتھ ساتھ جانوروں کے لئے بھی کرتے ہیں. یہی ان کا اصلی انشورنس ہے. ہمارے ملک میں ان جانوروں کو پالنے کا کام بھی بڑے گوشت کاروباری نہیں بلکہ بڑے، چھوٹے، معمولی اور بے زمین کسان ہی کرتے ہیں. یہ اس وجہ سے کامیاب ہے کیونکہ پالتو جانوروں کی ایک پیداواری مقصد ہوتا ہے: سب سے پہلے، وہ دودھ اور گوبر کرتے ہیں، ان سے گوشت ملتا ہے اور چمڑا ملتا ہے. اگر یہ سب چھین لیا جائے تو ملک کے لاکھوں لوگوں کی اقتصادی سلامتی ہی چھن جائے گی

.
اب ذرا چیزوں کو براہ راست نقطہ نظر میں دیکھتے ہیں. ماضی میں پالتو جانوروں کو خشک سالی کو ذہن میں رکھتے ہوئے بھی پا لا جاتا تھا. سن 1980 کی دہائی میں ملک کے اکلوتے جانوروں توانائی ماہر این ایس راما سوامی نے ایک اندازہ میں کہا تھا 9 کروڑ پالتو جانوروں سے ملنے والی توانائی ملک میں موجود بجلی کی صلاحیت کے برابر تھی. لیکن مشین نے حالات بدل دیے. سن 2000 تک پالتو جانوروں کو اہم طور پر دودھ کے لئے پا لا جاتا تھا. یہی وجہ ہے کہ بیل، بیل اور بھینسوں کی تعداد مسلسل کم ہونے لگی. فی الحال کل پالتو جانوروں میں بمشکل 28 فیصد نر ہیں. ان کا کام بس نسل بڑھانا رہ گیا ہے.
لیکن گائے اور بھینس آپ 15-20 سال کی زندگی میں 7-8 سال ہی دودھ دیتی ہیں. کسان اس دوران دودھ فروخت اور ان سے بچھرے ​​پیدا کرتے ہیں. آج کل جانوروں کی

دیکھ بھال سستی نہیں ہے. میرے ساتھیوں کا اندازہ ہے کہ اگر ان جانوروں کو مناسب کھان پان اور رکھ رکھاؤ کیا جائے تو اس کی قیمت تقریبا 70،000 روپے فی جانوروں فی سال ہوگی. یہی وجہ ہے کہ کسانوں کو غیر پیداواری جانوروں سے نمٹنے کا اختیار چاہئے. اگر اختیارات نہیں ہوا تو وہ جانوروں کو یوں ہی کھلا چھوڑ دیں گے. اس دقت بڑھے گی.
یہی وجہ ہے کہ میں گوشت یا چمڑے پر پابندی کے خلاف ہوں. ایسا کرکے ہم مویشی پالنے والوں کی آمدنی کا تقریبا نصف حصہ چھین لیں گے. یہ غریبوں کے گھر چوری کرنے جیسا ہے. اگر حکومت ہمارے گھر میں گھس کر نصف سامان اٹھا لے جائے تو ہم کیا کہیں گے؟ گوشت پر پابندی نوٹبدي جیسا ہی ظالمانہ رویہ ہے .
لیکن میں یہ بھی سمجھتی ہوں کہ مذہبی جذبات بہت مضبوط ہیں. گایوں کو نہ مارنے کی وکالت کرنے والوں سے یہی کہنا ہے کہ وہ کسانوں سے ایک ایک گائے خرید لیا کریں ، بڑی گوشالا بنوایں اور ان کی دیکھ بھال کریں . ایسا طریقہ تلاش کریں کہ ان گایوں کے مرنے کے بعد ان کی لاش کو بھی نمٹایا جائے تاکہ اس کا کوئی حصہ بازار میں استعمال میں نہ آئے. ایسے میں ان سوالات کا جواب سبزی خوری کو لے کر جارحانہ ہونے میں نہیں ہے، نہ ہی تشدد اور لوٹ مار میں اس کا حل ہے.

( سنیتا ناراین ملک کی جانی ما نی ماہر ماحولیات ہیں- بشکریہ بزںس اسٹنڈرڈ )

Ad
Ad
Ad
Ad

SPORTS

Team India arrive in England for Champions Trophy

Team India, led by Virat Kohli, arrived in England today ahead of their title defence of the ICC Champions Tro ...

ICC Cricket Committee recommends DRS for T20 Internationals

The ICC Cricket Committee chaired by India's head coach Anil Kumble has made a host of recommendations at its ...

Ad

Archive

May 2017
M T W T F S S
« Apr    
1234567
891011121314
15161718192021
22232425262728
293031  

OPEN HOUSE

NEPAL TRAGEDY: PHOTO FEATURE

[caption id="attachment_30524" align="alignleft" width="482"] The death toll from Saturday's deadly 7.9 magnit ...

@Powered By: Logicsart