FreeCurrencyRates.com

इंडियन आवाज़     25 Sep 2018 02:21:17      انڈین آواز
Ad

کیرلا سیلاب پر گھناؤنی سیاست

Army, Navy, AIF, Coast Guard in aid to Kerala to cope with unprecedented floods
حسام صدیقی

 گزشتہ سو سالوں میں کیرلا میں سب سے بھیانک سیلاب آیا، لاکھوں بے گھر ہو کر ریلیف کیمپوں میں پہونچ گئے، لاکھوں مویشی مر گئے پورا ملک ہی نہیں دنیا بھر میں رہنے والے ہندوستانیوں نے کیرلا کی مد میں ہاتھ بڑھا دیئے۔ ملک کے فوجی جوانوں نے دن رات کام کرکے ایک بار پھر ثابت کردیا کہ وہ اپنی جان پر کھیل کر ملک اور ملک کے لوگوں پر پڑنے والی کسی بھی پریشانی سے لوگوں کو بچانے میں اپنا سب کچھ قربان کرسکتے ہیں۔ خبر لکھے جانے تک سیلاب کا پانی شہروں، گاؤں اور دیگر آبادیوں سے تیزی کے ساتھ اترنے لگا تھا لیکن پانی اترنے کے ساتھ ہی کیرلا کے عوام اور سرکار دونوں اس خوف میں مبتلا نظر آرہے تھے کہ اب پانی اترنے کے بعد وبائی امراض کا خطرناک حملہ ہوگا۔ اس سے کیسے نمٹا جائے۔ اس بھیانک آفت کے دوران بھی فرقہ پرست طاقتوں خصوصاً آر ایس ایس اور بی جے پی سے متعلق تنظیمیں اور افراد اپنی گھناؤنی اور شرمناک حرکتوں میں ملوث نظر آئے ۔ سب سے پہلے تو وزیراعظم نریندر مودی نے ہی کیرلا کے ساتھ اس وقت بھونڈا مذاق کیا جب سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا ہوائی معائنہ کرنے کے بعد انہوں نے اتنی سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لئے کیرلا سرکار کو صرف پانچ سو کروڑ کی مرکزی مالی امداد دینے کا اعلان کیا۔ ان سے پہلے وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے بھی کیرلا کا ہوائی دورہ کرنے کے بعد سو کروڑ روپئے کی مرکزی امداد کا اعلان کیا تھا۔ کیرلا میں ہوئے پچیس سے تیس ہزار کروڑ کے نقصان کی بھرپائی کے لئے مودی سرکار نے صرف چھ سو کرور کی مدد دینا ہی مناسب سمجھا۔ مودی کے دورے کے بعد بی جے پی اور آر ایس ایس سے جڑے لوگوں نے جس بے شرمی کا مظاہرہ کیا اس سے پورے ملک کا سر شرم سے جھک گیا۔ آر ایس ایس کے تھنک ٹینک کہے جانے والے چارٹرڈاکاؤنٹنٹ ایس گرو مورتی نے اٹھارہ اگست کو کہہ دیا کہ سپریم کورٹ نے سبری مالا مندر میں خواتین کے داخلے کا آرڈر کردیا تھا اس لئے بھگوان ایبتن کی ناراضگی کی وجہ سے کیرلا پر یہ آفت سیلاب کی شکل میں آئی ہے۔ آر ایس ایس کے مقامی لوگوں نے پروپگینڈہ شروع کردیا کہ کیرلا میں گائے کا گوشت کھایا جاتا ہے اس لئے بھگوان نے ناراض ہو کر چار کروڑ آبادی میں سے تین کروڑ کو سیلاب میں ڈبو دیا۔ خود کو بی جے پی میڈیا اور آئی ٹی سیل کا عہدیدار بتانے والے سریش کوچاٹل نے ٹوئیٹ کرکے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ کیرلا کی مدد میں جو بھی پیسہ یا سامان دے رہے ہیں وہ وزیر اعلیٰ فنڈ میں بھیجنے کے بجائے آر ایس ایس کی تنظیم ’سیوا بھارتی‘ کو بھیجیں۔ اس بے شرم شخص نے اپنی اپیل میں کہا کہ اگر وزیر اعلیٰ فنڈ میں پیسہ گیا تو اس کا زیادہ بڑا حصہ مسلمانوں کے پاس چلا جائے گا۔ عمان کے لولو سینٹر میں مسلمانوں کے پیسوں پر پلنے والے ایک راہل چیرو پلامٹو نام کے سانپ نے تو بے شرمی کی تمام حدیں توڑ دیں۔ اس نے سوشل میڈیا پر پوسٹ ڈال دی کہ کیا راحت امداد ی سامان کے ساتھ کنڈوم بھی بھیج دوں۔ متحدہ عرب امارات کی جانب سے سات سو کروڑ کی مدد دینے کا اعلان کیا گیا تو سرکاری بابو سے ریٹائر ہو کر مودی سرکار میں وزیر بننے والے الفونس نے کہہ دیا کہ ہماری سرکار اس پر غور کرے گی کہ غیر ملکی مدد لینی بھی چاہئے یا نہیں۔ دبئی میں رہ کر کیرلا کے یوسف علی نے چودہ کروڑ پچاس لاکھ روپئے کی مالی امداد دی اور کہا کہ متحدہ عرب امارات میں رہ کر کیرلا کے جو لوگ تجارت کرتے ہیںیا صنعتکار ہیں ان کی ایک کمیٹی بنا کر وہ اور بھی زیادہ بڑی رقم اکٹھا کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ دبئی کے امیر شیخ محمد نے کہا کہ ان کی سرکار ڈیڑھ ہزار کروڑ تک کی مدد کرے گی۔عمان سرکار نے بھی مودی سرکار کے برابر ہی پانچ سو کروڑ کی مدد کی پیشکش کی۔ تلنگانہ نے پچیس کرور دینے کا اعلان کیا۔
سیلاب جیسی قدرتی آفت کے وقت بھی وزیر اعظم نریندر مودی نے کیرلا کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا اس پر انگلیاں اٹھنی لازمی ہیں۔ کیرلا کی چار کروڑ میں سے تین کروڑ سے زیادہ آبادی اس سیلاب کا شکار ہوئی ہے۔ مودی کی مرکزی سرکار نے صرف چھ سو کروڑ کی مدد دی مطلب یہ کہ سیلاب کا شکار ہوئے ایک شخص کو ایک سو ساٹھ سے ایک سو ستر روپئے۔ اتنے میں تو تین دنوں کے کھانے کا بھی انتظام نہیں ہو سکتا ہے۔ سودیشی کے نام پر پورے ملک کودونوں ہاتھوں سے لوٹنے والے یوگ کاروباری رام دیو نے اپنی پتن جلی انڈسٹری کی جانب سے صرف دو کروڑ دینے کا اعلان کیا۔ فلم اداکار شاہ رخ خان نے پانچ کروڑ اکیس لاکھ دیئے۔ ممبئی فلم انڈسٹری سے اکشئے کمار سمیت بڑی تعداد میں اداکاروں اور اداکاراؤں نے بھی کھلے دل اور کھلے ہاتھوں سے کیرلا کی مدد کرنے کا کام کیا۔ حیدرآباد سے لوک سبھا ممبر اسد الدین اویسی نے دس لاکھ روپئے کا چیک وزیراعلیٰ فنڈ میں دیا اور دس لاکھ کی ہی دوائیں بھی بھیجیں۔ مودی کی قریبی کمپنی پے ٹی ایم نے تو صرف دس ہزار کا ہی چیک دیا۔
ایس گرومورتی کو چند دن پہلے ہی نریندر مودی نے ریزرو بینک آف انڈیا کے بورڈ میں شامل کیا ہے، آر ایس ایس میں وہ بہت قابل سمجھے جاتے ہیں۔ اٹھارہ اگست کو انہوں نے ٹوئیٹ کیا کہ سپریم کورٹ کے جج کو اس بات پر بھی غور کرنا چاہئے کہ انہوں نے گزشتہ دنوں بھگوان ایبتن کے خلاف جو فیصلہ دیا اس کا سبری مالا میں آئے سیلاب کی تباہی سے کیا کوئی تعلق ہے؟ یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے سبری مالا مندر میں عورتوں کے داخلے پر لگی پابندی ہٹانے کا فیصلہ دیا تھا۔ گرو مورتی کے اس ٹوئیٹ کو کیرلا کی بی جے پی اور آر ایس ایس نے ہاتھوں ہاتھ لیا ساتھ ہی یہ پروپگینڈہ بھی شروع کردیا کہ کیرلا میں گائے کا گوشت کھایا جاتا ہے اس لئے بھگوان نے غصہ میں کیرلا کو سیلاب سے تباہ کردیا۔ ان عقل کے اندھوں سے کون پوچھے کہ اگر گائے کا گوشت کھانے کی سزا بھگوان دیتا تو گوا اور بنگال کو تو وہ سمندر میں ہی ڈبو دیتا کیونکہ انہی دو ریاستوں میں سب سے زیادہ گائے کا گوشت کھا یا جاتا ہے۔
ان فرقہ پرستوں کے گرنے کا عالم یہ ہے کہ پہلے تو ان لوگوں نے سالوں پہلے ۲۰۱۲ کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کرکے جھوٹے دعوے کئے کہ آر ایس ایس والینٹیرس دن رات محنت کرکے سیلاب سےمتاثرہ لوگوں کی مدد کررہے ہیں۔ بی جے پی میڈیا اور آئی ٹی سیل کے لئے کام کرنے والے سریش کوچاٹل نے ٹوئیٹ کرکے کیرلا کو مدد کرنے والوں سے کہا کہ وہ لوگ مدد میں دی جانے والی رقم وزیر اعلیٰ ریلیف فنڈ میں بھیجنے کے بجائے آر ایس ایس کی سیوا بھارتی کے کھاتے میں بھیجیں کیونکہ وزیر اعلیٰ فنڈ میں بھیجی گئی رقم مسلمانوں کو مل جائے گی۔ سریش ملیالی ہے وہ کیرلا کے رہنے والا ہے ، اب وہ دہلی اور سنگا پور میں رہتا ہے۔ اس کی اس حرکت پر ملیالی اخبارات اور مقامی ٹی وی چینلوں نے اس کے اس بیان کے لئے اس کی جم کر مذمت کی۔ سریش جیسا ہی کیرلا کا رہنے والا ایک اور شخص راہل چیرو پلامٹو عمان میں رہ کر لولو سینٹر میں کیشیئر کا کام کرتا تھا اس نے کیرلا میں سیلاب کا شکار لوگوں کا مذاق اڑاتے ہوئے باقاعدہ سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ وائرل کرکے پوچھا کہ کیا ریلیف کے سامان کے ساتھ کنڈوم بھی بھیج دوں۔ اس کے اس پوسٹ کے سامنے آتے ہی اسے نوکری سے برخاست کر دیا گیا۔ نوکری گئی تو وہ بزدل رونے لگا اور بولا کہ اس نے تو شراب کے نشہ میں یہ پوسٹ ڈال دی تھی اب وہ اپنی غلطی کے لئے معافی مانگتا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Ad
Ad
Ad

MARQUEE

Policy for Eco-tourism will provide livelihood to local communities

AMN / NEW DELHI GOVERNMENT OF INDIA has prepared a policy for Eco-tourism in forest and wildlife areas, which ...

Living index: Pune best city to live in, Delhi ranks at 65

The survey was conducted on 111 cities in the country. Chennai has been ranked 14 and while New Delhi stands a ...

Ad

@Powered By: Logicsart