Ad
FreeCurrencyRates.com

इंडियन आवाज़     13 Nov 2018 11:57:19      انڈین آواز
Ad

کیرانہ، نور پور کے پیغامات اور چنوتیاں

حسام صدیقی
اترپردیش کے کیرانہ لوک سبھا حلقہ میں اپوزیشن پارٹیوں کی متحدہ امیدوار تبسم حسن نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی مرگانکا سنگھ کو ہرا کر کو ایک زبردست چوٹ پہونچائی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے لئے اس کے کئی پیغام ہیں تو متحدہ اپوزیشن کے لئے بھی کئی اہم پیغامات ہیں۔ سب سے پہلےہم اپوزیشن کو ملے پیغام کی بات کریں گے وہ یہ ہے کہ گورکھپور، پھول پور، کیرانہ اور نور پور سیٹیں جیت کر اپوزیشن کو اس خوش فہمی یا غلط فہمی میں نہیں پڑ جاناچاہئے کہ اس نے بھارتیہ جنتا پارٹی اور وزیر اعظم نریندر مودی کو سیاسی اعتبار سے کمزور کردیا ہے یا ریاست کی سیاست سے اکھاڑ پھینکا ہے۔ ایسا بالکل نہیں ہوا ہے۔ ہاں یہ صحیح ہے کہ مودی نے چونکہ اپنے وعدے پورے نہیں کئے خصوصاً کاشتکاروں اور بے روزگارنوجوانوں کو چار سال کی مودی سرکار کے دوران کچھ بھی نہیں ملا۔ ان حقائق کے باوجود یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہندوتو کا جو زہر گزشتہ چار سالوں میں سماج میں پھیلایا گیا اس کا اثر بہت کم ہوا ہے۔ اس لئے تو کیرانہ لوک سبھا حلقہ میں پڑنے والی شاملی ضلع کی دو سیٹوں کیرانہ ا ور شاملی میں بھارتیہ جنتا پارٹی ہی آگے رہی، تیسری سیٹ تھانہ بھون میں لوک دل امیدوار تبسم حسن کو بی جے پی کے مقابلے بارہ ہزار آٹھ سو چھتیس ووٹ زیادہ ملے تب جا کر ان تینوں حلقوں میں محض پینتیس ووٹوں سے لوک دل کو لیڈملی اگر عمران مسعود کا گٹھ جوڑ کہے جانے والے سہارنپور ضلع کے نکڑ حلقہ میں پچیس ہزار ایک سو ترسٹھ اور گنگوہ میں ساڑھے آٹھ ہزار کی لیڈ لوک دل کو نہ ملتی تو بھلےہی کل ووٹوں کے فرق سے تبسم حسن جیت جاتیں لیکن سرکار اور کے پاس پانچ سات ہزار وووٹوں کی ہیرا پھیری کا موقع رہتا۔ اس صورت میں اپوزیشن گٹھ جوڑ میں شامل پارٹیوں کے لئے یہی پیغام ہے کہ اگر انہوں نےمحنت کرکے اپنے کاڈر کے ذریعہ ہندو سماج کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ آپ لوگ سناتن دھرم کو پیچھے چھوڑ کر مودی، امت شاہ کی بی جے پی کے ہندوتو کے فریب میں نہ پھنسیں اور لوگ اس فریب میں پھنس گئے تو ۲۰۱۹ میں مودی کو روک پانے کے خواب کی تعبیر بہت مشکل ہو جائے گی۔ ان لوگوں کو اس خیال سے مطمئن ہو کر نہیںبیٹھ جانا چاہئے کہ پارٹیوں کے لیڈران اکٹھا ہو گئے تو عام ووٹر بھی ان کے ساتھ بی جے پی کے خلاف لام بند ہو گیا ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں کے سامنے یہ بھی ایک بڑا چیلنج ہے کہ کسی بھی طرح اترپردیش خصوصاً مغربی اترپردیش کو فرقہ وارانہ دنگوں سے بچائے رکھے۔ کیرانہ میںہارنے کے بعد بی جے پی کے آئی ٹی سیل نے گائے، ہندوتو اور دھرم کے نام پر اچانک جارحانہ مہم سوشل میڈیا کے ذریعہ چھیڑی ہے اس کو کاؤنٹر کرنے کا کام بھی اپوزیشن پارٹیوں کے ہندو سماج کے ہی لوگوں کو کرنا ہوگا۔ ورنہ یہ ویڈیو دیکھ کر کوئی بھی ہندو بڑی آسانی کے ساتھ ہتھیار اٹھانے کے لئے تیار ہو جائے گا۔اپنے ہی کسی سلاٹر ہاؤس میں گائے کے ذبح ہونے کی جو ویڈیو ان لوگوں نے وائرل کی ہے اسے دیکھ کر ہندو تو دور مسلمانوںکو بھی تکلیف ہو رہی ہے۔ ابھی تو شروعات ہے آگے اور بھی زیادہ بھڑکانے والی ویڈیو اور آڈیو سامنے آئیں گی بی جے پی مخالف پارٹیوں کے لئے یہی سب سے بڑاچیلنج ہے۔
کیرانہ اور نور پور کے بائی الیکشن سے بھارتیہ جنتا پارٹی کو بھی کئی اہم پیغام گئے ہیں۔ ان کے سامنے بھی کئی چیلنج ہیں۔ سب سے پہلے پیغام تو یہی گیا ہے کہ ۲۰۱۴ کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی کے اور آر ایس ایس کے بڑی تعداد میں ذمہ داران کو یہ بھرم ہوگیا تھاکہ اب ملک خصوصاً اترپردیش اس میں بھی ریاست کےمغربی حصے میں اب کسی بھی مسلمان امیدوار کا الیکشن جیت پانا آسان نہیں ہوگا کیونکہ کوئی بھی پارٹی مسلم امیدوار اتارے گی تو اس پارٹی کا کاڈر ہی اسے ووٹ نہیں دے گا۔ ۲۰۱۷ کے اسمبلی الیکشن کے بعد یہ بھرم اور بھی زیادہ مضبوط ہو گیاتھا۔ کیرانہ اور نورپور دونوں کے بائی ا لیکشن نے اس بھرم کو توڑا ہے۔ کیونکہ دونوں ہی حلقوں میں مسلم امیدوار جیتے ہیں اور ہندوؤں کے ووٹ سے جیتے ہیں اگر کسی کو یہ خیال ہو کہ دونوں مسلم ووٹروں کی مدد سے جیتے ہیں تو ان کی خام خیالی ہے۔ ۲۰۱۳ ستمبر میںمظفر نگر میں کرائے گئے مسلم جاٹ دنگوں کے بعد سے جو کشیدگی اور نفرت کا ماحول پورے مغربی اترپردیش میںپیدا ہو گیا تھا ان بائی الیکشن کا پیغام صاف ہے کہ اب اس حد تک نفرت باقی نہیں رہ گئی ہے ۔ ابھی یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ جاٹ اور مسلم طبقوں کے درمیان پیدا ہوئی نفرت کی کھائی پوری طرح پٹ گئی لیکن یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ اس کھائی کو پاٹنے کا کافی حد تک کام اجیت سنگھ ، ان کے بیٹے جینت چودھری اور کئی ذمہ دار مسلمانوں نے مل کر کیا ہے۔ بظاہر اب ا س کھائی کے دوبارہ چوڑا ہونے کے امکانات بڑی حد تک نہیںنظر آتے ہیں جاٹ اور مسلمان دونوں اچھی طرح سمجھ چکے ہیں کہ آپسی نفرت سے ان کے جو صدیوں پرانے رشتے ٹوٹے تھے ان سے نقصان دونوں کو ہی ہوا ہے، فائدہ صرف انہیں ہوا جنہوں نے اس نفرت کے ذریعہ اقتدار پراپنی پکڑ مضبوط کرلی۔ اس کے باوجود جاٹوں کو اقتدار کا ان کا جائز حق بھی نہیں دیا۔ انتہا یہ کہ کاشتکاروں خصوصاً جاٹوں کی اصل آمدنی کا ذریعہ گنا کی قیمتیں تک نہیں دیں۔ رہی بات ان کے مقدمے واپس لینے کی تو اس کا بھی پورا دارومدار عدالتوں پر ہے۔ سرکار کے آرڈر سے ہی تو مقدمے واپس نہیں ہونے والے۔
ان دونوں بائی الیکشنوں کا بی جے پی کے لئے یہ پیغام بھی ہے کہ محض دھرم اور ہندوتو کے نعرے پر ہی عوام کو زیادہ دنوں تک بے وقوف بنا کر ان کے ووٹ لوٹے نہیں جاسکتے ہیں۔ وزیر اعظم بننےسے پہلے ۲۰۱۴ کی انتخابی مہم کے دوران اور پھر وزیراعظم بننے کے بعد نریندر مودی نے نوجوانوں، کاشتکاروں، عورتوں اور پورے ملک کے لوگوں سے جو بڑے بڑے وعدے کئے تھے ان کو پورا کرنے کے علاوہ دوسرا کوئی راستہ ہمارے جمہوری سسٹم میں ہے نہیں۔ دھرم، ہندو تو اور گائے جیسے مدوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی دوسری تمام پارٹیوں کو الیکشن میں کڑی ٹکر تو دے سکتی ہے، الیکشن جیت نہیں سکتی۔ یہ بات گورکھپور، پھول پور، کیرانہ ، نور پور،بھنڈارا گوندیااور کرناٹک ہر جگہ ثابت ہو چکی ہے۔ ان تمام انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے چھوٹے سے بڑے تک سبھی لیڈران نے اپنی تقریروں کے ذریعہ دھرم ہندو تو اورگائے جیسے مدوں کو زور شور سے اچھال کر ا پوزیشن پارٹیوں کو کڑی ٹکر تو دی لیکن جیت نہیں سکی۔ جھار کھنڈ، بہار اور دیگر ریاستوں میں اسمبلی کے بائی الیکشنوں میں بھی ایسا ہی دکھا ہے۔ اس حقیقت کے باوجود بی جے پی لیڈران ابھی بھی اسی بھرم میں ہیںکہ شائد ہندووںکا پولرائزیشن جذباتی مسئلے چھیڑ کر آسانی سے کرا سکیں گے۔ اسی لئے کیرانہ کے بعد انتہائی جذباتی اور بھڑکیلے ویڈیو سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر وائرل کرائے جارہے ہیں اور ٹی وی چینلوں کی بحثوں میں سمبت پاترا جیسے پارٹی کے ترجمان کھلے عام ہندو مسلم کی باتیں کررہے ہیں سوال یہ ہے کہ دلت آپ کے مظالم سے پریشان ،بیک ورڈ آپ سے پریشان سرکاری نا انصافیوں سے تنگ آکر کاشتکار طبقہ آپ کے خلاف لام بند ہے پھر آپ کن ہندوؤں کو پورلرائز کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ غیر بی جے پی تمام پارٹیوں کے لیڈران کا ہندو سماج میں کوئی اثر ہی نہ ہو اور ملک کے ہندوؤں کی اکثریت صرف آپ کو ہندو تسلیم کرے۔
کیرانہ کے بائی الیکشن کا ایک سیدھا پیغام وزیراعظم نریندر مودی کے لئے یہ ہے کہ اب عام لوگوں پر ان کا ۲۰۱۴ والا جادو باقی نہیں رہا ہے۔ کیرانہ اور نور پور میں اترپردیش کے وزیراعلیٰ آدتیہ ناتھ یوگی پارٹی کے مرکزی اور ریاستی لیڈران کی ایک بھاری بھرکم فوج لئے ڈٹے تھے خود وزیراعلیٰ آدتیہ ناتھ یوگی نےکئی پبلک میٹنگیں کیں۔ بی جے پی کے مقامی لیڈران ممبران اسمبلی ممبران پارلیمنٹ اور مرکزی و ریاستی وزیر ترقیاتی کاموں اور گنے کی قیمتوں کی ادائیگی جیسے مسئلوں پر بات کرنے کے بجائے سیدھے سیدھے ہندو مسلم پولرائزیشن کی باتیں کرتے پھر رہے تھے۔ تھانہ بھون اسمبلی حلقے سے ممبراسمبلی اور گنا و شوگر مل وزیر سریش رانا اور شاملی کے ممبر اسمبلی تجیندر نوال دونوں بار بار کہہ رہے تھے کہ پولرائزیشن تو ہو گیا۔ اپوزیشن پارٹیوں نے کچھ ووٹوں کو پولرائز کرنے کا کام کیا تو ہماری طرف ہندوؤں کا پولرائزیشن ہونا فطری تھا جو ہو بھی گیا۔ اب ہمارے امیدوار کی جیت سو فیصد یقینی ہے۔ ایسی صورت میں وزیراعظم نریندر مودی کو اس بائی الیکشن سے خود کو الگ رکھنا چاہئے تھا۔ انہوں نے ایسا نہیں کیا کیونکہ انہیں یہ خوش فہمی یا غلط فہمی ہے کہ اگر وہ کسی بھی الیکشن میں چلے گئے تو ان کی پارٹی کی کامیابی یقینی ہوجاتی ہے۔ پولنگ سےٹھیک ایک دن پہلے انہوں نے کیرانہ کے دونوں طرف اپنےپرگرام لگا لئے ایک طر ف دہلی -میرٹھ ایکسپریس وے کی محض نو کلومیٹر بنی سڑک کا افتتاح کیا اور روڈ شو بھی کیا۔ دوسری طرف کیرانہ سے ملے ہوئے باغپت میں انہوں نے ریلی کرکے سیدھےسیدھے کیرانہ کے ووٹررس کو خطاب کیابولے کہ قانونی کاروائیوں اور ایجنسیز کے خوف سے تمام بے ایمان لوگ ایک چھت کے نیچے اکٹھا ہوگئے ہیں۔ لیکن میں صاف کہے دے رہا ہوں کہ کوئی بھی بے ایمان بچ نہیں پائے گا۔ ان کے روڈ شو ، باغپت ریلی اور ریلی میں ان کے عہدے سے نیچے کی سطح کی ان کی تقریر ان سب کے باوجود وہ کیرانہ کے ووٹرس پر کوئی اثر نہیںڈال سکے اور ان کا بھی رہا سہا بھرم ٹوٹ گیاکہ وہ ایک تقریر کردیں گے تو ووٹرس کو اپنی طرف کھینچ لیں گے۔
اس بائی ا لیکشن کا ایک میسج یہ بھی ہےکہ بی ایس پی سپریمو مایا وتی بھلے ہی لوک سبھا میں اپنا ایک بھی امیدوار جتا نہ پائی ہوں اسمبلی الیکشن میں بری طرح ہاری ہوں اپنی برادری کے ووٹ کسی بھی امیدوار کو ٹرانسفر کرانے کی ان کی طاقت میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ انہوں نے کوئی بیان دیا نہ کھل کر ا پنے لوگوں سے کہا کہ وہ لوک دل امیدوارتبسم حسن کو ووٹ دیں صرف ان کا اشارہ ہی کافی ثابت ہوا۔ جاٹو برادری کا ایک ایک ووٹ تبسم حسن کو ملا۔ ادھر سہارنپور میں بھیم آرمی کے بانی چندر شیکھر آزاد ’راون‘ پر این ایس اے لگا کر زبردستی انہیںجیل میں رکھنا بھی جی جے پی کو مہنگا پڑا۔ مسلمانوں میں عمران مسعود اور دلتوں میں چندر شیکھر آزاد کی جوڑی نے سہارنپور کی دونوں اسمبلی سیٹوں نکڑ اور گنگوہ میں بی جے پی امیدوار کواتنا دھکیل دیاکہ لوک دل کی جیت کا فرق چالیس ہزار سے بھی زیادہ ہوگیا۔ مایاوتی کی طرح اکھلیش یادو کے حامی ووٹروں نے بھی ا کھلیش کے جائے بغیر ہی ان کے اشارے پر لوک دل کا ساتھ دیا۔ مطلب یہ کہ ایک طرف مودی، یوگی اور ان کی پوری فوج اوپر سے الیکشن کمیشن کی پردے کے پیچھے سے مدد دوسری طرف مایا وتی اور اکھلیش کے اشارے اور موقع پر اجیت سنگھ ان کے بیٹے جینت چودھری اور کانگریس کے عمران مسعود پھر بھی مودی یوگی کی جوڑی کی قیادت میں بی جے پی پوری فوج کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سے بڑا اور اسٹرونگ میسج بی جے پی کے لئے کیا ہوسکتا ہے؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Ad
Ad
Ad

MARQUEE

US school students discuss ways to gun control

             Students  discuss strategies on legislation, communities, schools, and mental health and ...

3000-year-old relics found in Saudi Arabia

Jarash, near Abha in saudi Arabia is among the most important archaeological sites in Asir province Excavat ...

Ad

@Powered By: Logicsart