Ad
FreeCurrencyRates.com

इंडियन आवाज़     20 Oct 2018 09:29:05      انڈین آواز
Ad

کم اور ٹرمپ کی ملاقات بارہ جون کو سنگاپور میں

US N Korea

AMN

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بارہ جون کو شمالی کوریائی رہنما کم جونگ ان سے سنگاپور میں ملاقات کریں گے۔ جنوبی کوریا نے اس تاریخی سمٹ کی تاریخ اور مقام کے طے ہونے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔
جنوبی کوریا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریائی رہنما کم جونگ کی تاریخی سمٹ کی تاریخ اور مقام کے طے ہونے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اس پیشرفت کو خطے میں قیام امن کے لیے اہم قرار دیا ہے۔ جنوبی کوریائی صدر مون جے ان کے ترجمان کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق، ’’ہم امید کرتے ہیں کہ یہ سمٹ جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک بنانے اور استحکام لانے کا باعث بنے گی۔‘‘

شمالی کوریا کی فوجیں 25 جون 1950ء کو جنوبی کوریا میں داخل ہو گئی تھیں۔ جنگ شروع ہونے کے چند دنوں بعد ہی جنوبی کوریا کے تقریبًا تمام حصے پر کمیونسٹ کوریا کی فوجیں قابض ہو چکی تھیں۔ تین سال جاری رہنے والی اس جنگ میں تقریباً 4.5 ملین افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کے دن تصدیق کی تھی کہ وہ بارہ جون کو سنگاپور میں کم جونگ ان سے ملیں گے۔ ٹرمپ اور کم جونگ ان کی اس مجوزہ ملاقات طے ہونے سے قبل ایک سال تک دونوں رہنماؤں کے مابین کاٹ دار جملوں کا تبادلہ جاری رہا تھا۔ اس دوران ٹرمپ نے اس کمیونسٹ ریاست پر حملوں کی دھمکی بھی دی اور پیونگ یانگ عالمی پابندیوں اور دباؤ کے باوجود میزائل تجربات بھی کرتا رہا۔

سنگاپور کے خارجہ امور کے وزیر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کا ملک خوش ہے کہ کم جونگ ان اور ڈونلڈ ٹرمپ کی اس تاریخی سمٹ کے لیے سنگاپور کا چناؤ کیا گیا ہے۔ اس بیان میں مزید کہا گیا کہ سنگارپور امید کرتا ہے کہ یہ سمٹ جزیرہ نما کوریا پر امن اور خوشحالی کا باعث بنے گی۔ سنگاپور کے وزیر اعظم لی شیئن لونگ نے اس سمٹ کو ’امن کے راستے کی طرف اہم قدم‘ قرار دیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ایک ٹوئٹ میں اس مجوزہ سمٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، ’’ہم دونوں (ٹرمپ اور کم) اس سمٹ کو عالمی امن کے لیے ایک اہم لمحہ بنا دیں گے۔‘‘ مارچ میں ٹرمپ نے کم جونگ ان کی طرف سے براہ راست ملاقات کی دعوت قبول کر کے سب کو حیران کر دیا تھا۔ اس سمٹ میں بنیادی ایجنڈا شمالی کوریا کا جوہری اور میزائل پروگرام ہو گا۔

ناقدین کے مطابق یہ انتہائی مشکل کام ہو گا کہ شمالی کوریا کو جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے حوالے سے رضا مند کیا جا سکے۔ پیونگ یانگ کی طرف سے ابھی تک یہ نہیں بتایا گیا کہ بارہ جون کو ہونے والی اس سمٹ کا ایجنڈا کیا ہو گا۔ تاہم اندازہ ہے کہ ٹرمپ سے ملاقات میں کم جونگ ان جنوبی کوریا میں  تیس ہزار امریکی فوجیوں کی تعیناتی اور اقتصادی پابندیوں پر بات کریں گے۔ ان پابندیوں کی وجہ سے شمالی کوریا کی معیشت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Ad
Ad
Ad

MARQUEE

3000-year-old relics found in Saudi Arabia

Jarash, near Abha in saudi Arabia is among the most important archaeological sites in Asir province Excavat ...

Instagram co-founders quit

WEB DESK The 2 co-founders of Instagram have resigned, reportedly over differences in management policy with ...

Ad

@Powered By: Logicsart