FreeCurrencyRates.com

इंडियन आवाज़     21 Oct 2017 03:51:31      انڈین آواز
Ad

نواز شریف کو نااہل قرار دینے پر پاکستان میں ملا جلا ردعمل

انڈین آواز ویب ڈیسک

NAWAZپاکستان کی سپریم کورٹ کی طرف سے پاناما کیس میں وہاں کے وزیر اعظم نواز شریف کو نااہل قرار دینے کے فیصلے پر جہاں ملک کے سیاسی حلقے واضح طور پر منقسم نظر آ رہے ہیں، وہیں عام شہریوں کی رائے بھی اس فیصلے پر بٹی ہوئی ہے۔ایک طرف جہاں بعض افراد کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ملک میں آئین اور قانون کے تحت احتساب کا عمل تیز ہوگا، وہیں کئی عام شہریوں کو اس بات پر مایوسی ہے کہ اس فیصلے کے بعد نواز شریف بطور وزیر اعظم پانچ سالہ آئینی مدت پوری نہیں کر سکے۔جمعے کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد وفاقی درالحکومت میں لوگوں نے ملے جلے ردعمل‘‘ کا اظہار کیا۔اسلام آباد کےرہنے والے نے کہا کہ انہیں اس بات پر افسوس ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف اپنی پانچ سالہ مدت پوری نہیں کر سکے۔انہوں نے کہا کہ “ہر شخص بے چین ہے۔ یہ فیصلہ جان کر کچھ لوگوں کو شاید خوشی ہوئی ہو۔ مگر دیکھیں کہ جن کروڑوں لوگوں کے ووٹ لے کر نواز شریف مںتخب ہوئے تھے کیا وہ لوگ آج خوش ہوئے ہیں۔، نہیں۔ لیکن، پھر بھی ہم قانون کی بالادستی چاہتے ہیں۔ لیکن، ہم نواز شریف کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔”لیکن، دوسری طرف، اعجاز گجر کا کہنا ہے کہ ’’اس فیصلے سے ملک میں احتساب کے عمل میں بہتری آئے گی‘‘۔انہوں نے کہا کہ “سپریم کورٹ نے احتساب کا عمل جو اوپر سے شروع کیا اسے ساری قوم سراہتی ہے اور یہ بہت بہترین فیصلہ ہے۔۔۔عوام تمام طاقتور لوگوں کا احتساب چاہتی ہے۔”ایک خاتون کرن نے کہا کہ نواز شریف کے چلے جانے سے ترقی کے منصوبے متاثر ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ “عدالت معتبر ہے۔ لیکن، مجھے اس بات پر مایوسی ہوئی ہے کہ (نواز شریف بطور وزیر اعظم) اپنی پانچ سالہ مدت پوری نہیں کر سکے۔ اس سے عوام مایوسی کا شکار ہو گئے ہیں اور دوسری طرف کئی منصوبے نا مکمل رہ گئے ہیں۔”تاہم، اعجاز گجر نے کہا کہ اگر اس فیصلے سے پہلے نواز شریف اپنی جگہ کسی اور کو وز اعظم مقرر کر دیتے تو وہ اس صورت حال سے زیادہ بہتر طریقہ سے نمٹ سکتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ “اگر عقل مندی کرتے اور اگر اس فیصلے سے پہلے کسی اور کو اپنی جگہ وزیر اعظم بنا دیتے حکومت چلتی رہتی تو پھر نواز شریف سیاسی طور پر اس صورت حال کا اچھے طریقے سے مقابلہ کر سکتے تھے۔ “نواز شریف اس سے قبل دو بار ملک کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں۔ لیکن، وہ کبھی بھی اپنی پانچ سالہ مدت پوری نہیں کر سکے ہیں اور تیسری بار بھی وہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی وجہ سے بطور وزیر اعظم اپنی پانچ سالہ آئینی مدت پوری نہیں کر پائے، بلکہ وہ عوامی عہدے رکھنے کے لیے بھی نااہل قرار دے دیئے گئے ہیں۔ (وائس آف امریکہ اردو)

Leave a Reply

You have to agree to the comment policy.

Ad

NEWS IN HINDI

दिवाली पर व्यापारियों ने जीएसटी पोर्टल की भी पूजा की

AMN इस बार दिवाली पूजा में बाज़ारों में स्ति ...

बिहार में थाने का घेराव कर रही भीड़ पर फायरिंग, 1 की मौत; 25 घायल

AMN समस्तीपुर के ताजपुर में कारोबारी की हत ...

हिमाचल प्रदेश चुनाव: 9 नवंबर को वोटिंग, 18 दिसंबर को नतीजे

AMN / NEW DELHI चुनाव आयोग ने आज हिमाचल प्रदेश विध ...

Ad
Ad
Ad

SPORTS

Football: Coach Matos short lists 29 players for preparatory camp

H S BEDI / New Delhi U-19 national team head coach Luis Norton de Matos, has summoned 29 probables for the ...

India tharshes Malaysia 6-2 in Asia Cup hockey tournament

India defeated Malaysia 6-2 in their second Super 4 stage match of the Asia Cup hockey tournament at Dhaka tod ...

Ad

Archive

October 2017
M T W T F S S
« Sep    
 1
2345678
9101112131415
16171819202122
23242526272829
3031  

OPEN HOUSE

Mallya case: India gives fresh set of documents to UK

AMN India has given a fresh set of papers to the UK in the extradition case of businessman Vijay Mallya. Ex ...

@Powered By: Logicsart

Help us, spread the word about INDIAN AWAAZ

RSS
Follow by Email20
Facebook210
Facebook
Google+100
http://theindianawaaz.com/%D9%86%D9%88%D8%A7%D8%B2-%D8%B4%D8%B1%DB%8C%D9%81-%DA%A9%D9%88-%D9%86%D8%A7%D8%A7%DB%81%D9%84-%D9%82%D8%B1%D8%A7%D8%B1-%D8%AF%DB%8C%D9%86%DB%92-%D9%BE%D8%B1-%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86">
LINKEDIN