FreeCurrencyRates.com

इंडियन आवाज़     17 Aug 2018 10:35:35      انڈین آواز
Ad

مہیلا شکتی اسکیم

حکومت ہند نے 2017-18 سے لے کر 2019-20 کے دوران ایک نئی اسکیم کو منظوری دی ہے جس کا نام مہیلا شکتی کیندر ہے اور اس کا مقصد دیہی خواتین کو سماجی شراکت داری کے توسط سے بااختیار بنانا ہے۔ یہ اسکیم مرکز اور ریاستوں کے مابین 60:40 کے تناسب کے اخراجات کی شیئرنگ کے ساتھ نافذ کی گئی ہے، سوائے ان ریاستوں کے جو شمال مشرق میں واقع ہیں یا خصوصی زمرے کی ریاستوں کے تحت آتی ہیں، جہاں یہ تناسب 90:10 کا ہے، اس اسکیم کا مقصد قومی سطح پر مختلف مراحل کے تحت ( دائرہ کار پر مبنی علمی تقویت کے ساتھ) اور ریاستی سطح پر ( ریاستی وسائل مراکز برائے خواتین) کے لئے جس میں متعلقہ حکومتوں کا تکنیکی تعاون شامل ہوگا، خواتین کی بہبود کے لئے کام کرنا ہے اور ان امور میں خواتین سے متعلق موضوعات شامل ہوں گے۔ 115 توقعاتی اضلاع میں بلاک کی سطح پر کی جانے والی پہل قدمیوں کے تحت کالج کے طلباء رضاکاران کو سماجی کاموں میں لگایا جانا ہے۔ طلباء رضاکار مختلف اہم سرکاری اسکیموں، پروگراموں اور سماجی موضوعات کے سلسلے میں بیداری پیدا کرنے کے معاملے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ خواتین کے لئے ضلعی سطح کے مراکز کو بھی 640 اضلاع میں اس کام کے تحت شامل کرنے کا منصوبہ ہے اور یہ کام مرحلے وار طریقہ سے انجام پائے گا۔ یہ مراکز گاو¿وں ، بلاکوں اور ریاستی سطح پر کڑی کے طور پر کام کریں گے اور ضلعی سطح پر خواتین پر مرکز اسکیموں کے نفاذ کا راستہ ہموار کریں گے اور بیٹی بچاو¿ بیٹی پڑھاو¿ ( بی بی بی پی) اسکیم کی مقبولیت کو استحکام عطا کریں گے۔ یہ معلومات خواتین اور اطفال ترقیات کے وزیر مملکت ڈاکٹر ویریندر کمار نے راجیہ سبھا میں ایک جواب میں بتایا۔

مثالی سیاحتی مقامات
سیاحت کی وزارت نے 2019-2018 کے بجٹ کے مطابق مثالی سیاحتی مقامات ترقیاتی پروجیکٹ کے تحت ملک کے 12کلسٹروں میں 17مقامات کی نشاندہی کی ہے۔ان 17 مقامات میں اترپردیش میں تاج محل اور فتح پور سیکری، مہاراشٹر میں اجنتا اور ایلورا، دہلی میں ہمایوں کا مقبرہ، لال قلعہ اور قطب مینار، گوا میں کولوا بیچ، راجستھان میں ا?میر کا قلعہ، گجرات میں سومنات اور دھولا ویرا، مدھیہ پردیش میں کھجوراہو، کرناٹک میں ہمپی، تمل ناڈو میں مہابلی پورم، ا?سام میں قاضی رنگا، کیرل میں کمارا کوم اور بہار مہابودھی شامل ہیں۔وزارت مذکورہ مقامات کو جامع طریقے پر فروغ دے گی، جس میں ان سیاحتی مقامات تک ا?نے جانے سے متعلق معاملات ، ان مقامات پر سیاحوں کو بہتر سہولتیں دستیاب کرانا، ہنرمندی کا فروغ ، مقامی برادری کو اس کام میں شامل کرنا،تشہیر ،برانڈی اور نجی سرمایہ کاری جیسی چیزوں پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔مذکورہ پروجیکٹ کے تحت جن یادگاروں کا انتخاب کیا گیا ہے، وہ ہندوستان کی محکمہ ا?ثار قدیمہ (اے ایس ا?ئی)اور ا?ثار قدیمہ کے ریاستی محکموں کے دائرہ کار میں ا?تے ہیں۔ان یادگاروں میں وزارت کے ذریعے جو کام کرایا جائے گا، اس میں اے ایس ا?ئی اور ریاستی حکومتوں کی شراکت داری ہوگی اور سبھی ترقیاتی منصوبوں میں ہمہ جہت رسائی ، یادگاروں کی صفائی ستھرائی ، سبز ٹیکنالوجی کے استعمال اور سیاحوں کے لئے مزید حفاظتی انتظامات جیسے پہلوو¿ں کو شامل کیا جائے گا۔ یہ بات سیاحت کے وزیر مملکت جناب کے جے الفونس نے رجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں بتائی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Ad
Ad
Ad
Ad

MARQUEE

Living index: Pune best city to live in, Delhi ranks at 65

The survey was conducted on 111 cities in the country. Chennai has been ranked 14 and while New Delhi stands a ...

Jaipur is the next proposed site for UNESCO World Heritage recognition

The Walled City of Jaipur, Rajasthan, India” is the next proposed site for UNESCO World Heritage recognition ...

@Powered By: Logicsart