FreeCurrencyRates.com

इंडियन आवाज़     16 Dec 2017 10:23:15      انڈین آواز
Ad

ميانمار ميں روہنگيا مسلمانوں پر مظالم ’انسانيت کے خلاف جرائم‘

Rohingya exodus

انسانی حقوق سے متعلق امور پر نگاہ رکھنے والے اقوام متحدہ کے کئی ماہرين نے کہا ہے کہ ميانمار ميں روہنگيا مسلمان کميونٹی کے خلاف سکيورٹی فورسز کے اقدامات ’انسانيت کے خلاف جرائم‘ کے زُمرے ميں آ سکتے ہيں۔

ميانمار کی رياست راکھين ميں سالہا سال سے بسنے والے روہنگيا مسلمانوں کے مبينہ قتل عام، جنسی زيادتی کے بے شمار واقعات اور انسانی حقوق کی سنگين خلاف وزرياں ’انسانيت کے خلاف جرائم‘ کے زُمرے ميں آ سکتے ہيں۔ يہ بات عورتوں اور بچوں کے حقوق کی نگران اقوام متحدہ کی ايک ذيلی کميٹی کے تحريری بيان ميں بدھ چار اکتوبر کے زور بتائی گئی ہے۔ بيان ميں لکھا ہے، ’’ہم بالخصوص روہنگيا عورتوں اور بچوں کے حوالے سے فکر مند ہيں، جنہيں انسانی حقوق کی سنگين خلاف ورزيوں، قتل، جبری گمشدگيوں اور جنسی زيادتی جيسے مسائل کا سامنا ہے۔‘‘

اقوام متحدہ ميں انسانی حقوق کے ادارے کے سربراہ زيد رعد الحسين شمالی راکھين رياست ميں جاری اقدامات کو ’نسل کشی‘ کی ’کتابی مثال‘ سے تعبير کر چکے ہيں۔ پچھلے پانچ ہفتوں کے دوران لگ بھگ پانچ لاکھ روہنگيا مسلم کميونٹی کے ارکان راکھين سے فرار ہو کر پناہ کے ليے بنگلہ ديش پہنچ چکے ہيں۔ اکثريتی پناہ گزين حکومتی فورسز پر قتل عام، ديہاتوں کو نذر آتش کر دينے، جنسی زيادتی اور مظالم کے الزامات لگاتے ہيں۔ ميانمار حکومت ايسے تمام تر الزامات رد کرتی آئی ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ صرف جنگجوؤں کے خلاف کارروائی جاری ہے۔

دريں اثناء انسانی حقوق کے ليے بين الاقوامی سطح پر کام کرنے والے نيو يارک ميں قائم ايک ادارے ہيومن رائٹس واچ کی جانب سے بھی بدھ چار اکتوبر کو ہی يہ کہا گيا ہے کہ ميانمار کے سرکاری دستے قتل عام، پر تشدد کارروائيوں اور آتش زدگی کے واقعات ميں ملوث ہيں اور ان کا نشانہ روہنگيا مسلمان ہيں۔ ادارے کے مطابق کئی ديہات سے فرار ہونے والی عورتوں نے فوجيوں پر جنسی زيادتی کے الزامات بھی لگائے ہيں۔ ہيومن رائٹس واچ ميں ايشيا کے ڈپٹی ڈائريکٹر فل رابرٹسن نے کہا، ’’ان مظالم کو روکنے کے ليے محض الفاظ سے زيادہ کچھ درکار ہے۔‘‘ ان کے ادارے نے اقوام متحدہ کی سکيورٹی کونسل سے مطالبہ کيا ہے کہ نہ صرف ميانمار کو ہتھياروں کی فروخت روکی جائے بلکہ مظالم کے ذمہ دار فوجی افسران کے خلاف سفری پابندياں عائد کی جائيں اور ان کے اثاثوں کو منجمد کيا جائے۔

دریں اثنا مینمار فوج کی جانب سے کريک ڈاؤن کے نتيجے ميں فرار ہو کر بنگلہ ديش ميں پناہ لينے والے روہنگيا مسلمانوں کو ميانمار واپس لانے کے ليے تيار ہو گيا ہے تاہم تاحال يہ واضح نہيں کہ اس مجوزہ منصوبے کو کس طرح آگے بڑھايا جائے گا۔
ميانمار کے ايک سينئر وزير نے عنديہ ديا ہےکہ ان کی حکومت پناہ کے ليے بنگلہ ديش فرار ہو جانے والے لاکھوں روہنگيا مسلمانوں کو واپس ميانمار ميں آباد کرنے کو تيار ہے۔ يہ بات بنگلہ ديشی وزير خارجہ اے ايچ محمود علی نے پير دو اکتوبر کو بتائی ہے۔ علی نے ميانمار کی نوبل امن انعام يافتہ خاتون رہنما آنگ سان سوچی کے ايک نمائندے کے ساتھ دارالحکومت ڈھاکا ميں رواں ہفتے کے آغاز پر بات چيت کے بعد يہ بيان ديا۔ ان کے بقول بات چيت دوستانہ ماحول ميں ہوئی، جس کے بعد روہنگيا مسلمانوں کی واپسی کے ليے ميانمار کی جانب سے ايک منصوبہ سامنے آيا۔ بنگلہ ديشی وزير خارجہ نے مزيد بتايا کہ اس سلسلے ميں ايک گروپ تشکيل دے ديا گيا ہے، جس کے ارکان روہنگيا کی واپسی کے عمل کو آگے بڑھائيں گے۔

ميانمار ميں فوجی دستوں کی مبينہ کارروائيوں يا کريک ڈاؤن کے نتيجے ميں راکھين رياست ميں رہائش پذير پانچ لاکھ سے زائد روہنگيا مسلمان پچھلے پانچ ہفتوں کے دوران اپنا گھر بار چھوڑ کر بنگلہ ديش فرار ہو گئے۔ بنگلہ ديش ميں يہ پناہ گزين عارضی کيمپوں ميں گزر بسر کر رہے ہيں اور حکام کو خوراک کی قلت، رہائش کی عدم دستيابی جيسے بہت سے انتظامی مسائل کا سامنا ہے۔ يہی وجہ ہے کہ ڈھاکا حکومت روہنگيا کی واپسی کا مطالبہ کرتی آئی ہے۔

يہ امر اہم ہے کہ آنگ سان سوچی نے پچھلے ماہ اپنے ايک خطاب ميں يہ حامی بھر لی تھی کہ ان کا ملک روہنگيا مسلمانوں کو واپس لينے کو تيار ہے تاہم انہوں نے واضح طور پر کہا تھا کہ صرف ان افراد کو واپس ميانمار ميں آباد کيا جائے گا، جن کی شناخت کی تصديق کی جا سکتی ہو۔ سوچی کے بقول يہ سن 1993 ميں ميں طے شدہ طريقہ ہائے کار کے مطابق ہی ہو گا، جب لاکھوں روہنگيا کو واپس بھيج ديا گيا تھا۔

ہونے والی بات چيت ميں بنگلہ ديشی وزير خارجہ نے روہنگيا کی واپسی کے بارے ميں ايک منصوبے کے بارے ميں تو آگاہ کيا تاہم انہوں نے يہ نہيں بتايا کہ يہ عمل کب اور کيسے شروع ہو گا۔ يہ بھی تاحال واضح نہيں کہ ينگون حکومت صرف پانچ لاکھ پناہ گزينوں کو ہی واپس لے گی يا پھر ان تين لاکھ کے قريب مہاجرين کی واپسی کا بھی کوئی امکان ہے، جو ميانمار ميں سابقہ برسوں ميں تشدد سے فرار ہو کر بنگلہ ديش ميں پناہ ليے ہوئے ہيں۔

Follow and like us:
20

Leave a Reply

You have to agree to the comment policy.

Ad

SPORTS

Official emblems for Beijing 2022 Winter Games unveiled

The emblems of the Beijing 2022 Olympic and Paralympic Winter Games have been named "Winter Dream" and "Flight ...

Dubai Open: PV Sindhu to take on Chen Yufei in semis

In Badminton, Rio Olympics and World Championships Silver medalist PV Sindhu will clash with China's Chen Yufe ...

Ad
Ad
Ad
Ad

Archive

December 2017
M T W T F S S
« Nov    
 123
45678910
11121314151617
18192021222324
25262728293031

OPEN HOUSE

Mallya case: India gives fresh set of documents to UK

AMN India has given a fresh set of papers to the UK in the extradition case of businessman Vijay Mallya. Ex ...

@Powered By: Logicsart

Help us, spread the word about INDIAN AWAAZ