FreeCurrencyRates.com

इंडियन आवाज़     21 Oct 2017 03:50:51      انڈین آواز
Ad

مودی نتیش کا جمہوریت پر ڈاکہ

سیکولر طاقتو ںکو کمزو رکرنے کیلئے آر ایس ایس سے مل کر رچی سازش
حسام صدیقی
nitish sushil oathپٹنہ۔ ملک کی سیاست کے سب سے بڑے دھوکے باز اور سیکولرطاقتو ںکے خلاف آرایس ایس کے ساتھ مل کر سازش کرنے والے نتیش کمار اپنا چہرہ ایک بار پھر خود ہی بے نقاب کرتے ہوئے وزیراعظم نریندرمودی کے قدمو ںمیں جا گرے ہیں۔انہو ںنے آر ایس ایس کے ساتھ مل کر سیکولر طاقتوں کے خلاف ایک بڑی سازش رچ کر بہار میںراشٹریہ جنتا دل،کانگریس او راپنے جنتا دل یونائیٹیڈ کی گٹھ جوڑ والی سرکار گرا کرخود بھارتیہ جنتاپارٹی کے ساتھ ملک کر فوراً ہی اپنی سرکار بنا لی۔انہیں یہ گھناؤنی حرکت کرنے میں ذرا بھی شرم نہیں آئی۔ انہیں ایک بار بھی خیال نہیں آیا کہ بیس مہینے قبل ہوئے بہار اسمبلی الیکشن میں انہوں نے فرقہ پرست طاقتو ںکے خلاف جن مسلمانو ں،یادوؤں ،دلتوں ا ور پچھڑوں کے ووٹ لے کرلالویادو کے ساتھ مل کر اقتدار میں واپسی کی تھی ان کے اس قدم سے ان طبقوں پر کیا گزرے گی؟کانگریس اور آر جے ڈ ی کو سرکار سے الگ کرنے کی وجہ یہ بتائی گئی کہ سی بی آئی نے ان کے نائب وزیراعلی رہے تیجسوی یادو کے خلاف بے ایمانی سے اکٹھا کی گئی دولت کے لئے رپورٹ درج کی تو انہوں نے ا ستعفی نہیں دیا اور نتیش کسی بھی صورت میں اپنی ایمانداری کی تصویرخراب کرنا پسند نہیں کرتے۔حقیقت یہ ہے کہ سب سے بڑے بے ایمان تو نتیش خود ہیں۔جب انہوںنے لالو یادو کے ساتھ گٹھ جوڑ کیا تھا اس وقت تک لالو یادو کو چارہ گھوٹالے میں تین سال کی سزا ہو چکی تھی اور وہ کوئی الیکشن نہیں لڑسکتے تھے۔نتیش بے ایمانی کے مقدمے میں دس سال کی سزا کاٹ رہے اوم پرکاش چوٹالہ سے ملکر ان کی انڈین نیشنل لوک دل کو اپنے گٹھ جوڑمیں شامل کرانے خود

گئے تھے۔ سیاست میں اس سے بڑی بے ایمانی او رکیا ہوسکتی ہے کہ بہار کے عوام سے انہو ںنے فرقہ پرست طاقتوں کے خلاف ووٹ لے کرسرکار بنائی او رانہی ووٹرو ںکی طاقت کو لیکر نریندر مودی کی گود میں جا بیٹھے۔بہار کے عوام کے ساتھ اس سے بڑی بے ایمانی اور دھوکہ بازی او رکیا ہو سکتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ۲۰۱۳سے ۲۰۱۵تک نتیش کمار اس غلط فہمی میں تھے کہ وہ اپوزیشن پارٹیوں کی مدد سے ملک میں نریندرمودی کا متبادل بن سکتے ہیں۔اس لئے انہوں نے ۲۰۱۳میں اپنا چولہ تبدیل کیا تھا جیسے ہی انہیں یہ اندازہ لگا کہ متبادل بن پانے کی صلاحیت ان میں نہیں ہے تو ’مہا گٹھ بندھن‘ میں رہتے ہوئے انہوں نے کوئی دس مہینے پہلے نریندرمودی اور آر ایس ایس کے ساتھ خفیہ طریقے سے مل کر سیکولر طاقتوں کے خلاف سازش رچنی شروع کر دی۔اسی سازش کے تحت اپوزیشن پارٹیوں میں وہ اکیلے لیڈر تھے جنہو ںنے نوٹ بندی کے مودی کے فیصلے کی حمایت کی پھرمبینہ سرجیکل اسٹرائک کی حمایت کی اور اب صدرجمہوریہ کے الیکشن میں اپنی پارٹی اور اپنے گٹھ بندھن کے لیڈران سے مشورے کے بغیر ہی مودی کے امیدوار رام ناتھ کووند کی حمایت میں اعلان کردیاتھا۔یہ نتیش ہی ہیں جنہوں نے ۲۰۱۵میںلالو یادواور کانگریس کے ساتھ گٹھ جوڑ کرتے وقت کہا تھا کہ وہ مٹی میںمل جائیں گے لیکن کبھی دوبارہ بی جے میں نہیں جائیں گے۔انہو ںنے کہا تھا کہ ملک کو آر ا یس ایس سے آزاد کرائیں گے۔نتیش کی بد نیتی کا عالم یہ ہے کہ اب انہوں نے استعفیٰ دے کر بی جے پی کے ساتھ جانے کا فیصلہ کیا تو شرد یادوسمیت ان کے کسی بھی ساتھی کو اعتماد میں نہیں لیا۔وہ ایماندار ہونے کا ڈھونگ چاہے کتنا کیوں نہ کریں بہار کے عوام کے ساتھ جو بے ایمانی اور دھوکے بازی کی ہے اس کی دوسری کوئی مثال ملنا مشکل ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی اور نریندرمودی بھی ا تنے جمہوریت پسند ہیں کہ گوا میں ان کے وزیراعلی اور سبھی چھ وزیر الیکشن ہار گئے۔انکی پارٹی تیسرے نمبر پر آگئی تھی۔پھر بھی خرید وفروحت کر کے انہوں نے منوہر پریکر کے ذریعہ گوا کی سرکار پر قبضہ کرلیا یہی منی پور میں کیا تھا اب وہی کام بہار میں ہو رہا ہے۔بہار اسمبلی میں ۲۴۳ممبران میں بی جے پی اور اس کے ساتھ این ڈی اے میں شامل پارٹیوں کو صرف ۵۳ سیٹیں ملی تھیں یعنی ایک چوتھائی سے بھی کم۔اس کے باوجود نریندرمود ی نے اپنے پریوار کے پرانے خوشامدی نتیش کما رکے ساتھ مل کر بہار کے اقتدا رکو بھی لو ٹ لیا۔
نتیش کمار کے اس فیصلے سے ان کی پارٹی میں بھی کافی ناراضگی کا ماحول پیدا ہوگیا ہے۔ان کی پارٹی کے سب سے سینئرلیڈر شردیادوراجیہ سبھا ممبر انو رعلی اور جنرل سکریٹری ارون سنہانے دہلی میں کھل کر اپنی ناراضگی ظاہر کردی۔ان کے ۷۱ممبران اسمبلی میں ۵ مسلمان او ربارہ یادو ہیں۔جنہیں نتیش نے اپنے سرکاری مکان میں قید رکر رکھا تھا۔وہ لوگ بھی اس فیصلے سے کافی ناراض بتائے جاتے ہیں۔شاید نتیش اور بی جے پی سرکار کی عمر زیادہ لمبی نہیں ہوگی۔
بھارتیہ جنتا پارٹی اور نتیش کی سازش کا ثبوت یہ ہے کہ نتیش نے استعفیٰ دیا تو دس منٹ کے اندر بی جے لیڈرسشیل مودی اپنی پارٹی کے ممبران اسمبلی کو لے کر ان کے پاس پہنچ گئے۔نریندر مودی نے فوراً ہی نتیش کی تعریفوں کے پل باندھنے شروع کر دئے او رفوراً اعلان ہو گیا کہ اب نتیش جے ڈ ی یو اور بی جے پی کی ملی جلی سرکار کے وزیراعلی ہونگے۔اسپیکر کی حیثیت سے اترپردیش میں پارٹیوںمیں توڑ پھوڑ اور دل بدل کرانے میں بے ایمانی کا ریکارڈ بنانے والے بہار کے گورنرکیشری ناتھ ترپاٹھی نے نتیش کے استعفی کے بعد سب سے بڑی پارٹی آر جے ڈی کو سرکار بنانے کا موقع دئے بغیر صبح دس بجے ہی نتیش کمار کو وزیراعلی اور سشیل مودی کو نائب وزیراعلی کاحلف دلا دیا۔لالو یادو کہتے ہیں کہ انہیں تو کافی پہلے سے پتہ تھا کہ نتیش کمار بی جے پی سے مل کر کے سازش کر رہے ہیںلیکن گٹھ بندھن بچائے رکھنے کیلئے وہ خاموش رہے۔لالوکی یہ بات صدفیصد سچ ہے کہ نتیش نے مودی کے ساتھ سازش کرکے ان کے پورے کنبے کے خلاف سی بی آئی کااستعمال کیا اور تیجسوی تک کے خلاف رپورٹ درج کرا دی۔
نتیش کمار اگر جمہوریت کے ڈاکو اور آج کی تاریخ میں ملک کے سب سے بڑے دھوکے باز سیاست داں نہیں ہوتے تو لالو اور ان کے بیٹے تیجسوی کے ساتھ سرکار نہیں چلا سکتے تھے تو اور ان میں ضمیر نام کی ذرا بھی کوئی چیز ہوتی تو آر ایس ایس کی گود میں بیٹھنے کے بجائے وہ عوام کے درمیان جاتے دوبارہ الیکشن کراتے عوام سے کہتے کہ وہ بے ایمانی کے ساتھ کھڑے ہونے کو مجبور ہوئے اس لئے ا نہیں دوبارہ مکمل اکثریت چاہئے تا کہ ایماندار سرکارریاست کو دے سکیں ایسا کرنے کے بجائے انہوں نے عوام کو دھوکہ دے کر اپنی کرسی پکی کر لی۔

نتیش کمارنے چھٹی باربہار کے وزیراعلی کا حلف لے لیا ہے ۔ ان کی اس حرکت پر پورے ملک میں تھو تھومچی ہوئی ہے۔کانگریس کے نائب صد رراہل گاندھی نے کہا کہ نتیش کمارنے بہارکے عوام ،کانگریس اور مہا گٹھ بندھن تینوں کو دھوکہ دیا ہے۔

راہل نے کہا کہ ’مہا گٹھ بندھن‘کو فرقہ پرست طاقتوں کے خلاف اکثریت ملی تھی لیکن انہو ںنے اپنے مفاد کیلئے ایسی طاقتوں سے ہاتھ ملا لیاہے۔انہو ںنے کہا کہ نتیش کمار نے کانگریس او رمہا گٹھ بندھن دونوںکو دھوکہ دیا ہے۔انہو ںنے کہا کہ ا نہیں توکئی مہینوں سے معلوم تھا کہ نتیش کمار اس قسم کی حرکت کر سکتے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ آج کی سیاست میں ہر کوئی ا صولوں کو چھوڑ کر اپنے مفاد زیادہ دیکھنے لگا ہے۔نتیش کمار کے بی جے پی سے ہاتھ ملانے کے خلاف جے ڈی یو میں پہلی بار بغاوت کے سر سامنے آنے لگے ہیں۔پارٹی کے راجیہ سبھا ممبر انور علی نے کہا کہ ان کاضمیر بی جے پی کے ساتھ جانے کی اجازت نہیں دیتا۔جے ڈی یو نے جن وجوہ سے آر جے ڈی سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا وہ وجوہ ابھی بھی ہیں۔میرا ضمیر بی جے پی کے ساتھ جانے کی اجاز ت نہیں دیتا۔انہو ںنے کہا اگر پارٹی نے انہیں ان کی بات رکھنے کا موقع دیا تووہ ضرور اپنی بات پارٹی کے سا منے رکھیں گے۔

کانگریس جنرل سکریٹری دگوجے سنگھ نے نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ کیا کوئی ٹرین چھوٹی جا رہی تھی جیسے کوئی چوری ڈکیتی ہو رہی ہو راتوں رات۔کوئی اخلاقیات کی با ت نہیں تھی۔نتیش ہمیشہ اخلاقیات کی بات کرتے ہیں کیایہی اخلاقیات ہیں؟جنتا نے آپ کو بی جے پی -سنگھ کے خلاف ووٹ دیا تھا۔
اب نتیش کمار ان کے ترجمان اورکچھ میڈیا نمائندوں نے پورے واقعے کے ذمہ داری کانگریس پر ڈالنے کا کام شروع کر دیا ہے۔سبھی نے کہنا شروع کر دیا ہے کہ کانگریس اور راہل گاندھی کو کئی مہینوں سے نتیش اور بی جے پی کی سانٹھ گانٹھ کا اندازہ تھا تو کانگریس نے کچھ کیو ںنہیں کیا۔سوال یہ ہے کہ ہم سے کانگریس کہہ سکتی تھی۔کانگریس صدر سونیا گاندھی نے راشٹرپتی کے اپوزیشن امیدوار کا نام طے کرنے کیلئے۲۲جون کو سبھی اپوزیشن پارٹیوں کی میٹنگ بلا رکھی تھی۔انہیں پتہ چلا کہ نتیش کمارکچھ گڑبڑ کرسکتے ہیں تو انہو ںنے اکیس کو صبح غلام نبی آزاد کو نتیش سے بات کرنے کیلئے پٹنہ بھیجا۔وہاں نتیش سے ا ن کی بات ہوئی۔غلام نبی آزاد پٹنہ ہوائی اڈے سے دہلی کیلئے روانہ بھی نہیں ہوئے تھے تبھی نتیش نے اعلان کر دیا کہ انہوںنے رام ناتھ کووند کی حمایت کرنے کا فیصلہ کرلیاہے۔مودی کے قدمو ں میں سرینڈر کرنے سے بمشکل تین چار دن پہلے نتیش دہلی آئے اور راہل گاندھی سے ملنے ان کے گھر گئے۔وہاں بھی بات چیت میں ا نہو ںنے راہل گاندھی سے جھوٹ ہی بولا ایسے میں راہل گاندھی کیا کرسکتے تھے۔

یہ کوئی نیا معاملہ نہیں ہے۔۲۰۰۵سے وہ بار بار دھوکے بازی کر کے چھٹی بار وزیراعلی بنے ہیں۔وہ کبھی خود کو لالویا دو کا چھوٹا بھائی بتایا کرتے تھے اچانک لالو کی پیٹھ میں چھرا گھونپ کر جاج فرنانڈیز کے ساتھ او رآر ایس ایس کی گودمیں بیٹھ گئے۔سمتاپارٹی نام کی الگ پارٹی بنائی جس کے صدر جارج بنے۔جارج کودھوکہ دے کر ا نہوں نے جنتا دل یونائیٹیڈ نام کی پارٹی بنا لی۔شردیادو ان کے لیڈر بنے۔پھر شردیادو کو دھوکہ دے کر خود ہی پارٹی کے سروے سروابن بیٹھے۔ بہار میں ان کی اپنی ذات کے چھ فیصد ووٹر ہیں۔ ۲۰۱۳ میں انہوں نے فرقہ پرست بی جے پی کو بھی دھوکہ دیا۔اس درمیان ا نہو ںنے وزیراعلیٰ کا عہدہ چھوڑدیا۔جتن رام مانجھی کو وزیراعلی بنایا لیکن زیادہ دن کرسی سے ا لگ نہیں رہ سکے اور جتن رام مانجھی کو ہٹاکر خود وزیراعلی بن گئے۔

’’نتیش کمار جمہوریت کے سب سے بڑے بے ایمان او رمجرم ہیں۔بے ایمانی صرف پیسوں کی نہیں ہوتی سب سے بڑی بے ایمانی تو یہی ہے کہ انہوںنے لالویادو کے ذریعہ بہار کے مسلمانوں،یادوؤں،دلتوں اور پچھڑوں کے ووٹ لے کر اقتدار پر قبضہ کیا پھر عوام کو دھوکہ دے کر انہی مودی کے قدموں میں جا گرے جن کے خلاف لوگوں نے انہیں ووٹ دے کر اقتدار پر قابض کرایاتھا‘‘۔

’’مٹی میں مل جاؤنگابی جے پی کے ساتھ کبھی نہیں جاؤنگا اور ملک کو آر ایس ایس سے آزاد کرانے والے نتیش پھر آر ایس ایس کی گود میں جا بیٹھے ہیں۔ نریندرمودی نے نتیش کے ڈی این اے پر سوال اٹھایاتھا اب اسی گھٹیا ڈی این اے کو اپنے ڈی این اے میں ضم کرلیا۔دنیا جانتی ہے جو اپنے قول پر قائم نہیں رہتے وہ خراب کردار کے لوگ ہوتے ہیں‘‘۔

’’نتیش کمار کی دھوکے بازی سے لا لو یادو بھلے ہی بہار کے اقتدار سے الگ ہو گئے ہیںعوام میں نتیش کی تصویر ہی داغدار ہوئی ہے۔نتیش شائد مودی اورآر ایس ایس کی بے رحمی سے خوفزدہ ہو گئے ہیں انہیں معلوم ہے کہ مودی کی سی بی آئی اس وقت ملک بھر میں صرف ممتابنرجی اور لا لو یاود پریوا رکے خلاف ہی سرگرم ہے اگلا نمبرانہی کا تھا‘‘

Leave a Reply

You have to agree to the comment policy.

Ad

NEWS IN HINDI

दिवाली पर व्यापारियों ने जीएसटी पोर्टल की भी पूजा की

AMN इस बार दिवाली पूजा में बाज़ारों में स्ति ...

बिहार में थाने का घेराव कर रही भीड़ पर फायरिंग, 1 की मौत; 25 घायल

AMN समस्तीपुर के ताजपुर में कारोबारी की हत ...

हिमाचल प्रदेश चुनाव: 9 नवंबर को वोटिंग, 18 दिसंबर को नतीजे

AMN / NEW DELHI चुनाव आयोग ने आज हिमाचल प्रदेश विध ...

Ad
Ad
Ad

SPORTS

Football: Coach Matos short lists 29 players for preparatory camp

H S BEDI / New Delhi U-19 national team head coach Luis Norton de Matos, has summoned 29 probables for the ...

India tharshes Malaysia 6-2 in Asia Cup hockey tournament

India defeated Malaysia 6-2 in their second Super 4 stage match of the Asia Cup hockey tournament at Dhaka tod ...

Ad

Archive

October 2017
M T W T F S S
« Sep    
 1
2345678
9101112131415
16171819202122
23242526272829
3031  

OPEN HOUSE

Mallya case: India gives fresh set of documents to UK

AMN India has given a fresh set of papers to the UK in the extradition case of businessman Vijay Mallya. Ex ...

@Powered By: Logicsart

Help us, spread the word about INDIAN AWAAZ

RSS
Follow by Email20
Facebook210
Facebook
Google+100
http://theindianawaaz.com/%D9%85%D9%88%D8%AF%DB%8C-%D9%86%D8%AA%DB%8C%D8%B4-%DA%A9%D8%A7-%D8%AC%D9%85%DB%81%D9%88%D8%B1%DB%8C%D8%AA-%D9%BE%D8%B1-%DA%88%D8%A7%DA%A9%DB%81">
LINKEDIN