FreeCurrencyRates.com

इंडियन आवाज़     18 Jul 2018 10:08:49      انڈین آواز
Ad

مودی، یوگی، فرقہ پرستی سبھی ہارے

 حسام صدیقی
لکھنؤ: جھوٹ، نفرت،فرقہ پرستی، آدتیہ ناتھ یوگی کی میٹنگیں، آدھے ادھورے بنے ایکسپریس وے پر مودی کا روڈ شو،، ہندوتو اور محمدعلی جناح ان تمام مدوں کو اچھالنے کے باوجود اترپردیش کی کیرانہ لوک سبھا سیٹ پر وزیراعظم نریندر مودی اور ریاست کے وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ یوگی کی شرمناک شکست ہوئی ہے۔ کیرانہ سیٹ بی جے پی کے لوک سبھا ممبر حکم سنگھ کے انتقال ہونے سے خالی ہوئی تھی پارٹی نے حکم سنگھ کی بیٹی مرگانگا کو وہاں میدان میں اتارا تھا انہیں ہمدردی ووٹ بھی نہیں ملا۔ پورے ملک میں شمال، جنوب مشرق، مغرب اور نارتھ ایسٹ کے میگھالیہ میں ہوئے گیارہ اسمبلی اور چار لوک سبھا سیٹوں کے الیکشن میں بی جے پی صرف ایک اسمبلی اور ایک لوک سبھا سیٹ جیت سکی ہے۔ اترپردیش کی کیرانہ لوک سبھا اور نور پور اسمبلی سیٹیں آر ایل ڈی اور سماج وادی پارٹی نے جیتیں۔ بی جے پی نے ان دونوں علاقوں میںہندو مسلم کی بنیاد پر الیکشن لڑا تھا سب سے اہم بات یہ ہے کہ دونوں سیٹوںپر مسلم امیدوار تبسم حسن (کیرانہ) اور نعیم الحسن(نور پور) سے جیتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ نے ا پنی جان لگا دی الیکشن مہم کے دوران مظفر نگر دنگوں کا ذکر کرتے ہوئے یہاں تک کہا کہ اکھلیش یادو کے ہاتھ ہندوؤں کے خون سے سنے ہوئے ہیں۔ اس لئے وہ ووٹ مانگنے آنے کی ہمت نہیں کرپارہے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی سیدھے سیدھے کیرانہ میں ووٹ مانگنے نہیں آئے لیکن اپنی عادت کے مطابق پچھلے دروازے سے بے ایمانی اور غیر اخلاقی راستہ اختیار کرتے ہوئے دہلی میرٹھ ایکسپریس وے اور ایسٹرن پیریفرل ایکسپریس وے کے بہانے پولنگ سے ایک دن قبل سترہ مئی کو کیرانہ سے ملے ہوئے باغپت میں ایک ریلی کرکے کیرانہ کی الیکشن مہم پوری کی۔ بے حسی کا عالم یہ ہے کہ ۱۳۵ میں سے صرف نو کلومیٹر ہی بنے ایکسپریس وے کا مودی نے افتتاح کیا بلکہ روڈ شو بھی کیا۔ باغپت میں ان کے آنے کے دن ہی گنے کی قیمت نہ ملنے کے خلاف دھرنے پر بیٹھے ایک کاشتکار کی موت ہو چکی تھی اس کے باوجود مودی نے اپنی تقریر میں کاشتکاروں کو کچھ دینے کا اعلان کرنے کے بجائے کانگریس پر ہی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس میں ایک کنبہ کا مطلب ملک ہے جب کہ ہمارے لئے پورا ملک ہمارا کنبہ ہے اترپردیش ، اترا کھنڈ، مہاراشٹر، کرناٹک، کیرلا، مغربی بنگال، بہار، پنجاب اور میگھالیہ یعنی ملک کے ہر کونے میں ہوئے اسمبلی اور لوک سبھا کے پندرہ حلقوں کے بائی الیکشن میں بی جے پی اسمبلی اور لوک سبھا کی ایک ایک سیٹ ہی جیت پائی ہے۔ لوک سبھا میں اکثریت کے لئے ۲۷۲ سیٹیں چاہئے مودی کے پاس اب اتنی سیٹیں بھی نہیں ہیں۔ ملک کے ہر کونے میں بی جے پی کی یہ شکست صاف اشارہ کرتی ہے کہ اب مودی کے پیر اکھڑ چکے ہیں۔ اگلے سال یعنی ۲۰۱۹ کے لوک سبھا الیکشن میں مودی کی بی جے پی کی شکست یقینی ہے۔

کیرانہ اور نور پور حلقوں کے بائی الیکشن کا ایک بہت ہی اہم پیغام یہ ہے کہ ۲۰۱۳ میں بی جے پی نے مظفر نگر میں مسلم جاٹ دنگا کراکر پورے مغربی اترپردیش کی جاٹ برادری کو اپنا مضبوط ووٹ بینک بنا لیا تھا اور یہ پروپگینڈہ کیا کہ اب کبھی مسلمان اور جاٹ اکٹھا نہیں ہو سکتے۔ کیرانہ کے نتائج نے ثابت کردیا کہ جاٹ اور مسلمان تو ایک بار پھر ایک ساتھ آگئے، مغربی اترپردیش میں جاٹوں اور دلتوں میں ہمیشہ ٹکراؤ رہتا تھا اب دلتوں نے بھی مسلمانوں اور جاٹوں کے ساتھ کاندھے سے کاندھا ملا کر فرقہ پرستوں کو ہرانے کا کام کیا ہے۔ اشارہ صاف ہے کہ ۲۰۱۹ میں بی جے پی کا اترپردیش سے صفایا ہونا یقینی ہے۔ کیرانہ جیتنے کے لئے بھارتیہ جنتا پارٹی نے ہندو مسلم نفرت پھیلانے کی ہر ممکن کوششیں کیں کیرانہ سے ہندو بھاگ رہے ہیں یہ الزام حکم سنگھ نے لگایا تھا ان کا الزام غلط ثابت ہوا تو خود انہوںنے ہی اپنی غلطی مانتے ہوئے بیان دیا تھا کہ انہوں نے ہندوؤں کے کیرانہ سے بھاگنے کی بات غلط اطلاعات کی وجہ سے کہہ دی تھی اب اس الیکشن میں خود وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ یوگی نے اپنی تقریر میں یہ مدا پھر چھیڑا اور کہا کہ اب کیرانہ سے کسی ہندو کو گھر چھوڑ کر بھاگنا نہیں پڑے گا۔ انہوں نے محمد علی جناح کا راگ بھی چھیڑا۔ کیرانہ کو بی جے پی کے کئی سالوں سے ہندوتو کی لیبارٹری بنائے ہوئے تھی اس کے باوجود بی جے پی کیرانہ میںہاری وہ بھی ایک مسلم امیدوار کے ہاتھوں۔ تبسم حسن کی جیت سے ثابت ہوگیا کہ اترپردیش میں کچھ کٹر پنتھیوں کے علاوہ باقی تمام ہندو اور مسلمان ایک ساتھ ہیں کیونکہ اگر کیرانہ میں ہندؤں یعنی جاٹوں اور دلتوں کا ووٹ تبسم حسن کو نہ ملتا تو ان کا جیت پانا مشکل ہی نہیں نا ممکن تھا یہی صورتحال نور پور کی ہے۔

ایک طرف نریندر مودی کا روڈ شو، کیرانہ سے ملے ہوئے باغپت میں ریلی، وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی بھڑکیلی تقاریر دوسری طرف راشٹریہ لوک دل، کانگریس، سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کے مقامی کارکن۔ نہ تو اکھلیش یادو الیکشن مہم میں گئے نہ مایا وتی نہ کانگریس کا کوئی بڑا لیڈر اور نہ چودھری اجیت سنگھ نے زیادہ سرگرمی دکھائی پورا الیکشن دو نوجوانوں کے ہاتھوں میںتھا ایک اجیت سنگھ کا بیٹا جینت چودھری اور دوسرا خود تبسم حسن کا ممبر اسمبلی بیٹا نائش حسن انہی دونوں نوجوانوں نے عام ہندومسلمانوں کی مدد سے یوگی مودی فرقہ پرستی سبھی کو پٹخنی دے دی۔

ادھر بہار میں تیجسوی یادو کی قیادت میں لالو کے راشٹریہ جنتا دل نے نتیش کمار اور مودی کے جوڑی کو پٹخنی دینے کی ہیٹرک بناتے ہوئے جوکی ہاٹ اسمبلی سیٹ بھی جیت لی۔ اس سےپہلے ارریا لوک سبھا اور ایک اسمبلی سیٹ آر جے ڈی جیت چکی ہے۔ نتیجہ آنے کے بعد تیجسوی یادو نے نتیش کمار پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ موقع پرستی اور فرقہ پرستی پر لالو واد کی جیت ہے۔جھار کھنڈ میں اپوزیشن گٹھ جوڑ میں شامل جھار کھنڈ مکتی مورچہ نے گومیا اور سلی اسمبلی سیٹیں جیت لیں۔ بی جے پی اسمبیل کی گیارہ میں سے صرف ایک اترا کھنڈ کی تھرالی سیٹ اور لوک سبھا کی چار میں سے ایک مہاراشٹر کی پال گھر سیٹ پر ہی جیت درج کرا سکی ہے۔ اترپردیش کی کیرانہ اور مہاراشٹر کی بھنڈارا گوندیا لوک سبھا سیٹیں بی جے پی کے پاس تھیں وہ دونوں ہار گئی۔ مہاراشٹر میں ہی پولس کڈےگاؤںسیٹ بھی کانگریس نے اپنے پاس برقرار رکھی۔ کرناٹک میں راج راجیشوری سیٹ اور پنجاب میں شاہکوٹ اور میگھالیہ کی امپرت سیٹیں بھی کانگریس نے ہی جیتی ہیں۔ کیرلا کی چیگنور سیٹ مارکس وادی کمیونسٹ پارٹی اور بنگال کی مہیشلا سیٹ ترنمول کانگریس کے کھاتے میں گئی۔ وزیر اعظم نریندر مودی اپنی مقبولیت کے چاہے کتنے بڑے بڑے دعوے کیوں نہ کریں اگر ان نتائج کو سیمپل مانا جائے تو ملک کے ہر کونے سے ایک ہی پیغام آیا ہے کہ نریندر مودی اب یہ ملک جھوٹ اور فرقہ پرستی کے جعل میں پھنسنےوالا نہیں ہے، آپ اپنا بوریا بستر باندھ لیجئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Ad
Ad
Ad

MARQUEE

SC slams Centre for ‘lethargy’ over upkeep of Taj Mahal

AMN / NEW DELHI The Supreme Court today criticised the Central Government and its authorities for their, wh ...

India, Nepal to jointly promote tourism

AMN / KATHMANDU India and Nepal have decided to promote tourism jointly. This was decided at the 2nd meeting ...

@Powered By: Logicsart