FreeCurrencyRates.com

इंडियन आवाज़     17 Jul 2018 01:57:35      انڈین آواز
Ad

ممتاز مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی کا انتقال

 یوسفی 4ستمبر 1923کو ریاست راجستھا ن کے شہر جے پور میں پیدا ہوئے تھے ۔

mushtaq yusufi

کراچی / اے ایم این /

ممتاز مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی 94 سال کی عمر میں آج انتقال کرگئے ہیں ۔. وہ گزشتہ کئی ماہ سے نمونیے میں مبتلا تھے اور کراچی کے نجی اسپتال میں زیر علاج تھے ۔
مشتاق احمد یوسفی 4ستمبر 1923کو ریاست راجستھا ن کے شہر جے پور میں پیدا ہوئے تھے ۔

وہ تقسیم کے بعد کراچی آئے تھے اور بینکنگ کے شعبے سے وابستہ رہے ،ان کی مزاح پر 5 کتابیں شائع ہوکر مقبول عام ہوچکی ہیں ۔ جن میں چراغ تلے (1961ء)، خاکم بدہن (1969ء)، زرگزشت (1976ء)،آبِ گم (1990ء)،شامِ شعرِ یاراں (2014ء) شامل ہیں۔

انہوں نے آگرہ یونیورسٹی سے فلسفے میں ایم-اے کیا جس کے بعد انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایل ایل بی کیا۔

تقسیم ہند کے بعد کراچی تشریف لے آئے اور مسلم کمرشل بینک میں ملازمت اختیار کی۔

ا ن کے والد ریاست کے پولیٹیکل سیکریٹری تھے اور جے پور کے پہلے مقامی مسلمان تھے جو گریجویٹ ہوئے۔

Legendary Urdu writer Mushtaq Ahmad Yusufi is no more

سن 1956ء میں یوسفی صاحب پاکستان آگئے اور مقامی بینک میں ملازمت شروع کی اور ترقی کرتے کرتے بینک کے صدر بن گئے۔

مشتاق احمد یوسفی کا ادبی سفر 1900ء میں مضمون’صنف لاغر‘ سے شروع ہوتا ہے جو لاہور سے شائع ہونے والے رسالہ ’سویرا‘ کی زینت بنا۔ اس طرح مختلف رسالوں میں ان کے مضامین شائع ہوتے رہے۔

انہیں حکومت پاکستان میں ادب میں نمایاں کارکردگی پر ہلال امتیاز اور ستارہ امتیاز سے نوازا گیا تھا۔

FOLLOW THE INDIAN AWAAZ

اردو نثر کو تخلیقی معراج عطا کرنے والی شخصیتوں میں مشتاق احمد یوسفی کا نام اگلی صف میں لیا جائے گا۔ بڑا فن کار زبان کے روایتی سانچے کو توڑ کر ایک نئی زبان خلق کرتا ہے، وہ زبان کے معنوی امکانات کو وسیع تر کردیتا ہے۔ یوسفی کا تخلیقی سفر اردو زبان کی معنوی توسیع کا بھی سفر ہے، نئے لکھنے والے اگر یوسفی کی زبان میں تخلیقی گہرائی اور گیرائی کا مطالعہ دل جمعی سے کریں تو طرزِ یوسفی کے ساتھ ساتھ اردو کی معنوی کائنات کے پھیلاؤ کا تسلسل بھی جاری رہے گا۔ بڑا ادیب کبھی نہیں مرتا، چوسر ہو کہ قلی قطب شاہ، شیکسپئیر ہو کہ غالب، حافظ ہوکہ سعدی، بیدل ہو کہ میر، جوائس ہو کہ حیدر۔ سب عالمی ادبی ورثے کا حصہ اور دانشوری کی غذا ہیں۔ یوسفی بھی دانشوری کی اسی روایت کا ایک ناگزیر حصہ ہیں۔
یوسفی صاحب نے 94 برس کی ایک. بھرپور طبیعی زندگی گزاری، ایک دنیا خلق کی ایک کو منہدم ہوتے دیکھا، جاتے جاتے ہمارے ذہن کے بند دریچوں کے لیے اپنی شگفتہ دانشوری کا سرمایہ چھوڑ گئے، یہ سرمایہ خوشبو کے جھونکوں کی طرح ہمارے ذہن کے دریچوں پر دستک دیتا رہے گا۔
یوسفی صاحب اللہ آپ کی مغفرت فرمائے، آمین۔

آبِ گم اگر مل جائے تو ہمیں بھی خبر کیجیے گا۔
ابرار مجیب

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Ad
Ad
Ad

MARQUEE

SC slams Centre for ‘lethargy’ over upkeep of Taj Mahal

AMN / NEW DELHI The Supreme Court today criticised the Central Government and its authorities for their, wh ...

India, Nepal to jointly promote tourism

AMN / KATHMANDU India and Nepal have decided to promote tourism jointly. This was decided at the 2nd meeting ...

@Powered By: Logicsart