FreeCurrencyRates.com

इंडियन आवाज़     16 Dec 2017 08:18:46      انڈین آواز
Ad

ملک کے نوجوانوں کااشارہ سمجھیں مودی

حسام صدیقی

modi kashmirکسی بھی ریاستی اسمبلی اور لوک سبھا الیکشن سے پہلے اکثر کئی سروے ایجنسیوں اورسوشل میڈیایہ سروے کراتے ہیں کہ آنے والے الیکشن میں عام لوگوں کا رجحان کس پارٹی کی طرف رہے گا۔اس قسم کی سروے کرنے والی کمپنیوں اور میڈیا گھرانوں کا خاص فوکس ملک کے نوجوانوں پررہتا ہے ۔ہر الیکشن کا سروے سیمپل دس ہزار سے پچاس ہزار لوگوں تک رہتا ہے۔مطلب یہ ہے کہ دس سے پچاس ہزار لوگ خصوصاً نوجوانوں کی رائے معلوم کرکے سروے کمپنیاں اور میڈیا گھرانے ملک کو بتاتے ہیںکہ آنے والے الیکشن میں کے نتائج کیاہونے والے ہیں۔۲۰۱۵میں جب آرایس ایس اور بی جے پی کی بچہ تنظیم اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشدکے امیدواروں نے دہلی یونیورسٹی طلبا یونین کی چار سیٹیں جیت  لی تھیں تو اس وقت بی جے پی صد رامت شاہ نے کہا تھا کہ یہ جیت ان کے نظریات کی جیت ہے۔انہو ںنے یہ بھی کہا تھا کہ دہلی یونیورسٹی کے نوجوان طلبا نے اپنے ووٹ کے ذریعہ بتا دیا ہے کہ ملک میں بی جے پی اور وزیر اعظم نریندرمودی کی لہر چل رہی ہے۔اگر امت شاہ اور یونیورسٹیوں میںپڑھنے والے نوجوان طلبا کی رائے ہی ملک کی نبض کا اندازہ لگانے کا مناسب ذریعہ ہے تو امت شاہ اور نریندرمودی دونوں کو اب یہ بھی تسلیم کرلینا چاہئے کہ ملک کاماحول اب ان کے خلاف ہے۔یہی صورتحال ۲۰۱۹کے لوک سبھا الیکشن تک برقرار رہی تو مودی کا یہ پہلااور آخری دور ہے۔ کیونکہ ۲۰۱۴میں ملک نے ان کی جن باتو ںپر بھروسہ کرکے انہیں ووٹ دیا تھا پورا نہیں ہوا اس لئے آئندہ لوگ ان کے جھانسے میں پھنسے والے نہیں ہیں۔پہلی بار ملک کا وزیراعظم بننے اور بھارتیہ جنتا پارٹی پر مکمل طور پر قبضہ کرنے کے بعد پارٹی کے پرانے، سینئر، بزرگ، تجربے کار اور وفادار لوگو ںکے ساتھ ان کا جو ڈکٹیٹرانہ رویہ ہے اس کی وجہ سے پارٹی کے تین چوتھائی لوگ خود ہی ان کے خلاف کھڑے ہو جائیں گے۔ایسا نہیںہے کہ ابھی سبھی پارٹی کے لیڈران،عہدیدا اور ان کی وزارت میں شامل سبھی لوگ ان سے خوش ہیں۔ ناخوش تو لوگ ابھی بھی ہیں لیکن ابھی وہ کچھ بول یا کر نہیںسکتے۔بس بے عزتی کا گھونٹ پی کرکام کرتے جا رہے ہیں۔سبھی موقع کی تلاش میں ہیں۔

ہم بات کررہے تھے ملک کے نوجوانوںمیں مودی سرکار اور ان کی پارٹی کے لئے مخالفت بلکہ نفرت کے ماحول  کی اگر کسی علاقے یا ریاست کے دس پندرہ سے پچاس ہزار تک کو سیمپل سروے کی بنیادبنا کر ملک میں چل رہی سیاسی ہواؤں کا اندازہ لگا سکتا ہے تو اب تو کئی لاکھ نوجوانو ںنے اپنی -اپنی یونیورسٹیوں کی یونین کے الیکشن کے ذریعہ رائے دی ہے کہ مودی اور ان کی سرکار سے وہ اب مطمئن نہیں ہیں۔ ان کی جگہ کسی ایسے شخص کو وہ وزیراعظم کی حیثیت سے دیکھنا چاہتے ہیں جو لفاظی کرنے کے بجائے کچھ کر کے دکھائے ۔ صرف دہلی یونیورسٹی اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے والے نوجوانوں نے ہی مودی اور بی جے پی میں عدم اعتماد ظاہر نہیں کیا ہے،پنجاب،ہریانہ ، راجستھان، مہارشٹر، جموں-کشمیر، بنگال، حیدرآباد، آسام، کیرلا، تمل ناڈو سمیت ملک بھر کی یونیورسٹیوں کے طلبا نے ایک جیسی رائے ظاہر کی ہے۔پنجاب کی یونیورسٹی میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور شرومنی اکالی دل مل کر الیکشن لڑے اور ان دونوں کو شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔آسام میں تو کانگر یس کی ۱۵سال کی سرکار کو اکھاڑ کر بی جے پی نے اقتدار پر قبضہ کیا اس کے باوجود دو تین سالوں میں ہی آسامی نوجوانو ںکی دلچسپی بی جے پی سے ختم ہو گئی۔حیدرآبادمیں آندھرا تیلگو دیشم پارٹی اور تیلنگانہ کی ٹی آر ایس دونوں سرکاریں سرگرم ہیں۔ دونوں ہی نریندرمودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ ہیں۔دنوں سرکاروں کی تمام ہمدردیاں اور مدد کے باوجود اکھل بھارتیہ ویادرتھی پریشد کے پیر حیدرآباد یونیورسٹی سے اکھڑ گئے۔ طلبایونین پر قبضہ کرنے کی غرض سے آرایس ایس او ربھارتیہ جنتا پارٹی نے گزشہ تین سالوں میں جے این یو میں بڑی تعداد میں اپنے طلبا کے داخلے کرائے ہیں اس کے باوجود آرایس ایس پریوار الیکشن پر اثر نہیںڈال سکا۔

مطلب صاف ہے کہ ملک کی چاروں سمتوںکی یونیور سٹیوںکے ذریعہ نوجوانوں نے نریندرمودی کو وارننگ دے دی ہے کہ ’سنہاسن خالی کرو کہ تم وعدے کے پکے نہیں ہو‘اب ملک صرف نعرے بازی میں پھنسنے والا نہیں ہے۔سبھی جانتے ہیںکہ ۲۰۱۴میںملک کا نوجوان پرنریندرمودی کاجادو سر چڑھ کر بول رہا تھا۔ہر سال دو کروڑ روزگار دینے اور ملک سے بے ایمانی ختم کرنے جیسے ان کے نعرے نوجوانوں کو بہت اچھے لگے تھے اسی لئے نوجوانوں کا نوے فیصد سے زیادہ ووٹ مودی کو مل گیا تھا۔ یہ بھی صحیح ہے کہ مودی کا یہ جادو شمال اور مغربی بھارت کے نوجوانوں پر ہی تھا۔اسی لئے اترپردیش کی اسی میںسے تہتر،راجستھان، ہریانہ ، دہلی، گجرات کی لوک سبھا سیٹیںمودی نے جیت لیں تھیں۔ مہاراشٹرمیں بھی شیو سینا کے ساتھ مل کر تو کرناٹک اور بہارمیں اکیلے ہی بی جے پی نے کچھ کے علاقہ سبھی سیٹیں جیت لی تھیں۔

نوجوانو ںکو بڑی امیدیں تھیںکہ انہیں روزگار ملے گا، انہیں ویاپار کرنے کے زیادہ اور بہتر مواقع ملیں گے لیکن ملے کیا خاک مودی سرکار کے آنے کے بعد آر ایس ایس پریوار اورمودی سرکار نے پورے ملک کو گئو رکشا، راشٹر واد، مسلمانو ں میں تین طلاق، رواداری اور عدم رواداری، گنگا جمنا کی صفائی،گھر واپسی،لو جہاد، اینٹی رومیو مہم،بھارت ماتا کے جے اور وندے ماتر جیسے نعروں میں الجھا دیا۔اب اگلا الیکشن جیتنے کیلئے مودی اور اور آر ایس ایس کے پاس تین مدے بچے ہیں ایک ایودھیا میں شاندار رام مند ر کی تعمیر،دوسرا یونیفارم سول کوڈ اور تیسرا جموں وکشمیر کو خصوصی درج دینے والے آئین دفعہ-۳۷۰۔امید ہے کہ ۲۰۱۸میں سپریم کورٹ سے مندر کے حق میں فیصلہ آجائیگا تومودی او رآر ایس ایس بہت ہی ظاہرانہ طریقے سے اس کا کریڈٹ لینے کی کوشش کریں گے۔ ملک کے ہندؤں کو یہ بتانے کی کوشش کی جائیگی کہ مودی نے سپریم کورٹ سے یہ فیصلہ کرایا ہے ۔لیکن کیا خالی پیٹ بیٹھے کروڑوںبے روزگار نوجوان اب اس قسم کے جذباتی نعروں میں پھنسیں گے؟

ملک کے نوجوانوں کو وعدے کے مطابق نریندرمودی روزگار تو فراہم نہیں کرا سکے الٹے نوٹ بندی کے ذریعہ انہیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔ملک کے ہر کونے میں گزشہ پندرہ سولہ سالوں سے پراپرٹی کاایک ایسا کام تھا جس میں بے شمار نوجوان نہ صرف مصروف تھے بلکہ اچھی کمائی کر رہے تھے۔ نوٹ بندی کے بعد پراپرٹی کا کام تقریباً بند ہو گیا ہے۔شہروں اور دیہاتوں میں جو بھی گھریلو اور چھوٹی صنعتیں تھیں سب بند پڑے ہیں۔نوجوانوں کی کمائی کے سارے راستے بندکر دئے گئے او پر مہنگائی کی مار ستمبر کے پچھلے ہفتے میں مہنگائی اپنے شباب پہنچ گئی۔جی ڈی پی پہلے سے گر رہی تھی۔مودی حکومت نے پٹرول کے ذریعہ ملک میں جو لوٹ مچائی اس نے تو بڑے بڑو ں کی کمر توڑ دی۔اترپردیش میں پٹرول کی قیمت۷۵ روپئے لیٹر سے اوپر تو مہارشٹرکے کئی شہروںمیں اسی روپئے لیٹر سے اوپر ہو گئی۔ نوجوانوں اور عام لوگوں لوگوں کی پریشانیو ں پر دھیان دینے کے بجائے نریندرمودی ڈیڑلاکھ کروڑ کی لاگت سے بلیٹ ٹرین چلانے کاخواب دیکھ رہے ہیں۔پورا آرایس ایس چین میں بنے سامان کے بائیکاٹ کا نعرہ لگاتا پھررہا ہے اورنریندرمودی اسی چین سے ۳۶۰۰کروڑ وللبھ بھائی پٹیل کا مجسمہ بنوارہے ہیں ایسے حکمراں کو ہی عقل کے اندھے کہا جاتا ہے۔

Follow and like us:
20

Leave a Reply

You have to agree to the comment policy.

Ad

SPORTS

Official emblems for Beijing 2022 Winter Games unveiled

The emblems of the Beijing 2022 Olympic and Paralympic Winter Games have been named "Winter Dream" and "Flight ...

Dubai Open: PV Sindhu to take on Chen Yufei in semis

In Badminton, Rio Olympics and World Championships Silver medalist PV Sindhu will clash with China's Chen Yufe ...

Ad
Ad
Ad
Ad

Archive

December 2017
M T W T F S S
« Nov    
 123
45678910
11121314151617
18192021222324
25262728293031

OPEN HOUSE

Mallya case: India gives fresh set of documents to UK

AMN India has given a fresh set of papers to the UK in the extradition case of businessman Vijay Mallya. Ex ...

@Powered By: Logicsart

Help us, spread the word about INDIAN AWAAZ