FreeCurrencyRates.com

इंडियन आवाज़     21 Sep 2018 01:36:49      انڈین آواز
Ad

مسلمان اور اسلام جرمنی کا حصہ ہیں: جرمن چانسلر میرکل

Angela Merkel

برلن /
جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے کہا ہے کہ جرمنی میں رہنے والے مسلمان اور ان کا مذہب، اسلام دونوں جرمنی کا حصہ ہیں۔ جرمن چانسلر نے کہا ہے،’’جرمنی میں چالیس لاکھ مسلمان اور ان کا مذہب اس ملک کا اہم حصہ ہیں اور ہمیں ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے کہ مخلتف مذاہب کے ماننے والوں میں ہم آہنگی پیدا کی جائے۔‘‘
جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے چوتھی مرتبہ چانسلر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اکیس مارچ کو اپنے پہلے اہم پارلیمانی خطاب میں مہاجرین سے متعلق سخت موقف اختیار کرتے ہوئے اسلام کے بارے میں مثبت پیغام دیا۔ انہوں نے کہا کہ جرمنی تمام مسائل پر قابو پا سکتا ہے اور’ہم سب جرمن ہیں‘۔ جرمنی کی نومنتخب وسیع تر مخلوط حکومت کے قیام کے بعد میرکل نے اپنے اولین پارلیمانی خطاب میں نئی مدت کے لیے منصوبہ جات بیان کیے۔

حالانکہ میرکل نے اعتراف کیا ہے کہ سن دو ہزار پندرہ میں مہاجرین کی بڑی تعداد میں آمد کی وجہ سے جرمنی تقسیم ہوا تاہم انہوں نے اس عہد کا اعادہ کیا ہے کہ ان کی چوتھی مدت اقتدار کے دوران ایسا دوبارہ نہیں ہو گا۔
میرکل کا کہنا ہے کہ سن دو ہزار پندرہ اور سولہ میں مہاجرین کی بڑی تعداد میں جرمنی آمد کی وجہ سے مسائل پیدا ہوئے تاہم جرمنی نے اس ’غیرمعمولی بحران’ پر قابو پا لیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس مخصوص وقت میں ایک ملین مہاجرین کو جرمنی آنے کی اجازت دینا دراصل ’ایک غیرمعمولی استثنا‘ تھا لیکن اب ایسا دوبارہ نہیں کیا جائے گا۔

میرکل نے واضح کیا کہ جرمنی مستقبل میں بھی سیاسی پناہ کے متلاشی افراد کو قبول کرے گا لیکن ساتھ ہی ایسے تارکین وطن کی ملک بدری کا سلسلہ تیز کر دیا جائے گا، جن کی پناہ کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں۔

جرمن چانسلر میرکل کو نہ صرف عوامیت پسند ووٹرز بلکہ سیاسی سطح پر بھی دباؤ کا سامنا ہے کہ وہ اپنی مہاجرین سے متعلق پالیسی کو سخت بنائیں۔ گزشتہ برس کے انتخابات میں ان کی عوامی مقبولیت میں کمی اور مہاجرین مخالف سیاسی پارٹی اے ایف ڈی کی مقبولیت میں اضافے کی وجہ بھی ان کی مہاجر پالیسی کو قرار دیا جاتا ہے۔

انگیلا میرکل نے کہا کہ ترکی اور اٹلی سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن افراد نے دوسری عالمی جنگ کے بعد جرمنی کی تعمیر نو میں اہم کردار ادا کیا تھا اور اب ان کی نسلیں جرمنی کے مرکزی معاشرتی دھارے کا اہم حصہ ہیں۔

انہوں نے جرمنی میں مقیم مسلمان کمیونٹی کو خوش آمدید قرار دیا، ’’اس بارے میں سوال نہیں کیا جا سکتا کہ ہمارے ملک کے ارتقاء میں مسیحیت اور یہودیت نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ تاہم یہ بھی اہم ہے کہ اس وقت جرمنی میں 4.5 ملین مسلمان بھی ہمارے ساتھ رہ رہے ہیں۔ ان کا مذہب اسلام بھی جرمنی کا حصہ بن چکا ہے۔‘‘

واضح ہو کے جرمنی میں بننے والی نئی حکومت میں وزارت داخلہ کا قلمدان سنبھالنے والے قدامت پسند سیاستدان ہورسٹ زیہوفر نے گزشتہ روز ایک بیان میں کہا تھا کہ اسلام جرمن ثقافت کا حصہ نہیں ہے۔ سیاسی مبصرین نے اس بیان پر خدشات ظاہر کرتے ہوئےہوئے کہا ہے کہ جرمنی کی نئی حکومت دائیں بازو کی سیاست کی طرف مائل ہو سکتی ہے۔ گزشتہ برس نومبر میں ہوئے پارلیمانی الیکشن کے بعد جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی قیادت میں وسیع تر مخلوط حکومت نے حلف اٹھایا۔
واضح رہے کہ اس الیکشن میں کٹر نظریات کی حامل اسلام اور مہاجرت مخالف سیاسی پارٹی اے ایف ڈی نے دائیں بازو کی سیاست کا نعرہ لگاتے ہی کامیابی کی تھی۔ اس پارٹی نے میرکل کی مہاجرین سے متعلق پالیسی کو کھلے عام تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے عوامی مقبولیت حاصل کی۔ اگرچہ میرکل چوتھی مرتبہ چانسلر بننے میں کامیاب تو ہو گئی ہیں لیکن مبصرین کے مطابق دائیں بازو کی سیاست کے باعث ان کی سیاسی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

انگیلا میرکل نے اس خطاب میں اپنی اقتصادی پالیسی کے خدوخال بھی واضح کیے۔ انہوں نے کئی سماجی مراعات کا اعلان بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان منصوبہ جات سے تمام شہریوں کو فائدہ ہو گا۔

ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ جرمنی کا آئندہ چار سالہ بجٹ متوازن ہو گا، جس میں ملک میں بے روزگاری کی شرح کو مکمل ختم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس موقع پر میرکل نے دہرایا کہ یورپی یونین میں مزید مضبوطی استحکام کا باعث ہے، اس لیے تمام ممالک کو اتحاد کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

XXX
٢

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Ad
Ad
Ad

MARQUEE

Policy for Eco-tourism will provide livelihood to local communities

AMN / NEW DELHI GOVERNMENT OF INDIA has prepared a policy for Eco-tourism in forest and wildlife areas, which ...

Living index: Pune best city to live in, Delhi ranks at 65

The survey was conducted on 111 cities in the country. Chennai has been ranked 14 and while New Delhi stands a ...

Ad

@Powered By: Logicsart