Ad
FreeCurrencyRates.com

इंडियन आवाज़     15 Nov 2018 03:04:00      انڈین آواز
Ad

قومی خبریں- اکتوبر ٣١

ہاشم پورہ قتل عام معاملہ: 42افرادکے قتل معاملے میں16 سابق پی اے سی اہلکاروں کوعمرقید

نئی دہلی، 31 اکتوبر(اے یوایس) دہلی ہائی کورٹ نے ہاشم پورہ قتل عام معاملے میں ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو مسترد کردیا۔ ہائی کورٹ نے 42 افراد کے قتل عام کیلئے اترپردیش صوبائی مسلح کانسٹبلری(پی اے سی)کے 16 سابق پولیس اہلکاروں کو عمرقید کی سزا سنائی ہے۔ یہ قتل عام میرٹھ کے قریب ہاشم پورہ میں 31 سال قبل پیش آیا۔ تمام متاثرین مسلمان تھے۔ دو مئی 1987 میں یہ قتل عام ہوااور ابتدائی ٹرائل میں 19 پی اے سی کو ملزم بنایا گیا ۔ یہ ٹرائل دہلی کے تیس ہزاری کورٹ میں چلا۔ تین ملزم ٹرائل کے دوران چل بسے۔ 2015 میں ٹرائل کورٹ نے کا فیصلہ آیا کہ ملزموں کا جرم ثابت نہیں ہوسکالہذا عدالت انہیں بری کرتی ہے۔ عدالت نے ہر قصورواروں پر 10 ہزار کا جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ قابل غور ہے کہ 1986 میں مرکزی حکومت نے بابری مسجد کا تالا کھولنے کا حکم دیا تھا۔ اس کے بعد مغربی یوپی میں ماحول گرم ہوگیا۔ 14 اپریل 1987 سے میرٹھ میں مذہبی اشتعال پیدا ہوگیا۔ کئی لوگوں کا قتل کیا گیا تو کئی دوکانوں اورگھروں کو آگ کے حوالے کردیا گیا تھا۔ قتل، آگ زنی اورلوٹ کی وارداتیں ہونے لگیں۔اس کے بعد بھی میرٹھ میں فسادات کی چنگاری نہیں ہوئی تھی۔ ان سب کو دیکھتے ہوئے مئی کے ماہ میں میرٹھ شہرمیں کرفیو لگانا پڑا اورشہرمیں فوج کے جوانوں نے مورچہ سنبھالا۔ اسی درمیان 22 مئی 1987 کو پولیس، پی اے سی اورملٹری نے ہاشم پورہ محلے میں تلاشی مہم چلائی۔الزام ہے کہ جوانوں نے یہاں رہنے والے نوجوانوں اوربزرگوں سمیت 100 لوگوں کو ٹرکوں میں بھرکرپولیس لائن لے گئے۔ شام کے وقت پی اے سی کے جوانوں نے ایک ٹرک کو دہلی روڈ پرمراد نگرگنگ نہر پرلے گئے تھے۔ اس ٹرک میں تقریباً 50 لوگ تھے۔ وہاں ٹرک سے اتارکرجوانوں نے ایک ایک کرکے لوگوں کو گولی مارکرگنگ نہرمیں پھینک دیا۔ اس حادثہ میں تقریباً 8 لوگ صحیح سلامت بچ گئے تھے، جنہوں نے بعد میں تھانے پہنچ کر اس معاملے میں رپورٹ درج کرائی تھی۔

مظفرنگرشیلٹرہوم معاملہ: بہار کی سابق وزیرلاپتہ، بہارحکومت نے سپریم کورٹ کو کیاباخبر

نئی دہلی، 31 اکتوبر(اے یوایس) بہار حکومت نے سپریم کورٹ بتایا ہے کہ مظفرپورشیلٹرہوم معاملے کے تناظر میں استعفی دینے والی بہار کی سابق وزیر مبینہ طور پر لاپتہ ہوگئی ہیں۔یہ معاملہ مظفرپورمیں شیلٹرہوم میں 34 لڑکیوں کی مبینہ عصمت دری اور جنسی استحصال سے جڑا ہے۔ گزشتہ روز عدالت عظمی نے بہار پولیس سے پوچھا تھا کہ کیوں ان کی رہائش سے گولہ باردو کی وصولی سے متعلق معاملے میں بہار کے ریاستی وزیرکی گرفتاری نہیں ہوئی۔ بہار حکومت نے آج عدالت کو بتایا کہ وہ ان کو پتہ لگانے میں قاصر ہے۔ پیرکے روز منجو کے شوہر چندرشیکھر ورما نے بیگوسرائے عدالت کے سامنے حوالگی کی تھی۔ ان کے خلاف ، ایک سی بی آئی چھاپے کے دوران بیگوسرائے میں ان کے گھر سے گولہ بارود کا ایک بڑا مقدار ملنے کے معاملے میں آرمس ایکٹ کے تحت معاملے درج ہیں۔ عدالت عظمی ن ے برجیش ٹھاکر کی منتقلی کا بھی حکم دیا ہے جو معاملے میں کلیدی ملزم ہے۔ ٹھاکر بہار میں بھاگلپور سینٹرل جیل میں بند ہے۔ لڑکیوں کے مبینہ جنسی استحصال کا معاملہ اس وقت روشنی میں آیا جب ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز(ٹی آئی ایس ایس)نے ریاست کی سماجی بہبود محکمے کو ایک آڈٹ رپورٹ سونپا۔

رافیل سودا معاملہ:سپریم کورٹ کا مرکز کو مہربندلفافے میں قیمتوں کی تفصیلات دینے کا حکم
نئی دہلی، 31 اکتوبر(اے یوایس)سپریم کورٹ نے مرکز کو متنازعہ ہند۔فرانس سودا معاملے میں مہربندلفافے میں رافیل طیاروں کی قیمتون پر اطلاعات فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے۔حکومت کو دس دن کا وقت دیا گیا ہے۔ عدالت نے مودی حکومت سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ طیارے کے تعلق سے مہربند لفافے میں اسٹریٹجک تفصیلات مہیا کرائے۔ اس معاملے کی اگلی سماعت 14 نومبر کو ہوگی۔ اس سے قبل رواں سال وزیردفاع نرملا سیتارمن نے کہا کہ رافیل جیٹ کی فی یونٹ قیمت کی تفصیلات پارلیمنٹ میں ایک خفیہ شق کی وجہ سے شیئرنہیں کی جاسکتی۔ 2016 میں ہندوستان اور فرانس نے 36 رافیل طیاروں کے ایک معاہدے پر دستخط کئے تھے۔ اکتوبر 2016 میں انل امبانی کی ریلائنس ڈفینس لمیٹیڈ اور ڈیسالٹ نے اس مشترکہ منصوبے کا اعلان کیا۔ اس سے قبل 126 طیاروں کا سودا کیا گیا تھا اور شرطوں کے مطابق 18 کو برآمد کرنا ہے اور 108 ہندوستان ایروناٹکس لمیٹیڈ ڈیسالٹ کی مدد سے تیارکررہی ہے۔ موجودہ سودا 36 طیاروں کی ہے۔ ساتھ ہی کانگریس نے دعوی کیا ہے کہ اس کا سودا بہت ہی سستا ہے۔ کانگریس نے الزام عائد کیا ہے کہ مودی حکومت نے ایچ اے ایل کو چھوڑ کر انل امبانی کی ریلائنس کی حمایت کی۔

وزیراعظم نے دنیا کی سب سے طویل ، اسٹیچوآف یونٹی کوقوم کے نام کیاوقف
نئی دہلی، 31 اکتوبر(اے یوایس)وزیراعظم نریندرمودی نے گجرات کے نرمدا ضلع میں کیوڑیا میں سردار ولبھ بھائی پٹیل کے اعزاز میں تعمیر کی گئی اسٹیچو آف یونٹی کو ملک کے نام وقف کیا۔ مردآہن سردار ولبھ بھائی پٹیل کے 143 ویں یو م پیدائش کے موقع پر 182 میٹرمورتی کی رونمائی کی گئی۔وزیراعظم نے کہا کہ سردار پٹیل کا مجسمہ ، اس شخص کے حوصلے کے بارے میں دنیا کو یاد دلائے گاجس نے ہندوستان کو ٹکڑے ٹکرنے کرنے کی کوشش کو ناکام بنادیا۔ انہوں نے کہاکہ اگرسردارپٹیل نے ملک کو متحد نہ کیا ہوتا توہمیں حیدرآباد میں چارمیناردیکھنے،یا سومناتھ میں خراج عقیدت پیش کرنے یا شیردیکھنے کیلئے ویزا کی ضرورت پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ سردار پٹیل کا مجسمہ ان لوگوں کو بھی یاد دلائے گا جو ہندوستان کے وجود کا سوال کرتے ہیں۔ یہ یادگاری مجسمہ امریکہ میں اسٹیچوآف لبرٹی کی اونچائی سے دوگنا ہے اور سیاحوں کے لئے اسٹیچو کے اندر 135 میٹرس کی اونچائی پر ایک گیلری بنائی گئی ہے۔ مجسمے کے قریب مودی نے ’وال آف یونٹی ‘ کی نقاب کشائی کی جو ملک بھر کے مختلف ریاستوں سے جمع کئے گئے زمینی نمونے کے ساتھ بنائے گئے ہیں۔ اسٹیچوآف یونٹی کے نقاب کشائی کے موقع پر گجرات کے گورنر اوپی کوہلی،وزیراعلی وجے روپانی اور بی جے پی سربراہ امت شاہ موجود تھے۔

اتراکھنڈ: بی جے پی کی جیت کے لئے آرایس ایس سرگرم
نئی دہلی، 31 اکتوبر(اے یوایس)اتراکھنڈ کے بلدیاتی انتخابات میں بی جے پی اورکانگریس کے درمیان جاری ٹکر کے دوران پردے کے پیچھے سے سنگھ پریوارکے کارکنان بی جے پی کے لئے ماحول بنانے میں مصروف ہوگئے ہیں۔ آرایس ایس نے ریاست کی تمام 78 بلدیہ میں اپنے کل وقتی کارکن تعینات کردیئے ہیں۔صرف ہندوآبادی والے علاقوں میں نہیں آرایس ایس کی نظریں مسلم اکثریتی علاقوں میں بھی ہے۔ اس کے لئے آرایس ایس کی ماتحت تنظیم مسلم راشٹریہ منچ ان علاقوں کی رپورٹ پیش کررہا ہے۔ آرایس ایس کا پورا منصوبہ ہے کہ اب مسلم رائے دہندگان کو اپنے پالے میں لایا جائے۔آرایس ایس کی سرگرمی کا ثبوت خود بی جے پی لیڈران دے رہے ہیں۔ بی جے پی کے ریاستی انچارج شیام جاجونے ہلدوانی میں نامہ نگاروں سے بات چیت میں کہا کہ راشٹروادی پارٹی کے سبھی دوست الیکشن میں پارٹی کی مدد کرتے ہیں۔ مختلف تنظیموں، این جی اومدد کرتے ہیں اورسب کوساتھ لے کرچلنا بی جے پی کا کام ہے۔آرایس ایس کی خصوصی نظرمسلم اکثریتی علاقوں میں ہے۔ مسلم راشٹریہ منچ کے ریاستی صدرزیڈ اے وارثی کہتے ہیں کہ بی جے پی حکومت نے مسلم خواتین کے وقارکے لئے بہت کام کئے ہیں۔ تین طلاق اورحلالہ پراٹھائے گئے حکومت کے اقدامات کے بعد بی جے پی کو امید ہے کہ مسلم خواتین پارٹی کے لئے ووٹ کریں گی۔ریاست کے جن 7 میونسپل کارپوریشن میں انتخابات ہورہے ہیں ان میں ہلدوانی، دہرہ دون، کاشی پور، رودرپور اورکوٹ دوار میں مسلم رائے دہندگان کی تعداد بہت زیادہ ہے۔

روپئے میں 38 پیسے کی گراوٹ

نئی دہلی، 31 اکتوبر(اے یوایس)درآمدکنندگان اور پائیدار غیرملکی فنڈ آؤٹ فلوزسے امریکی کرنسیوں کے مطالبے میں اضافے کے دوران امریکہ ڈالر کے مقابلے 40پیسے کی گراوٹ آئی ہے اور ڈالر 74.08 پہنچ گیا ہے۔ فاریکس تاجروں نے بتایا کہ کچھ غیرملکی کرنسیوں کے مقابلے امریکی ڈالر کی مضبوطی مقامی یونٹ پر حکومت اور آربی آئی کے درمیان تنازعہ کا سبب ہے۔ منگل کے روز روپئے میں 23پیسے کی گراوٹ آئی تھی اور امریکی ڈالر 73.68 پر بند ہوا۔ تاہم مستحکم خام تیل کی قیمتیں کچھ مقام پر تیل کی گراوٹوں میں اہم سبب رہیں۔ دریں اثناء ریزروبینک آف انڈیا نے کہا ہے کہ وہ مارکیٹ میں سیالیت برقرار رکھنے کیلئے اوپن مارکیٹ آپریشنز(اوایم او)کے ذریعہ سرکاری بانڈز خریدکرکے نومبر میں سسٹم میں چالیس ہزار کروڑ لگائے گا۔

زیر تعمیر پل کے تین ستون گرے،کوئی نقصان نہیں

آگرہ ،31اکتوبر(اے یو ایس)آگرہ میں منگل کوایک بڑا حادثہ ہوگیا۔ رام باغ کے چوراہے کے قریب یمنا ندی کے اوپرزیر تعمیر پل کے تین ستون گر گئے ، جس سے آس پاس کے لوگوں میں ہڑکمپ مچ گیا۔غنیمت رہی کہ یہ پل تعمیرہورہا تھا اور اس کے نیچے کوئی بھی نہیں تھا، لہٰذا اس حادثے میں جان ومال کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔موقع پر موجود لوگوں کے مطابق واقعہ دوپہر میں ہوا۔ اس پل کی تعمیر میں ملازمین کے دوپہر کے کھانے کے وقت ایک بجے سے دو بجے کاتھا، جس سے خطرناک حادثہ ہونے سے بچ گیا۔ اگر کوئی بھی ملازم ستون گرنے کے وقت موجود ہوتاتو وہاں ایک بہت بڑا نقصان ہوسکتا تھا۔ اس واقعہ کے بعد این ایچ آئی کے اعلی حکام کچھ کہنے سے بچتے نظر آئے اور تقریباً ایک گھنٹہ بعد این ایچ آئی کے جوائنٹ اے جی ایم لکشمی نارائن ریڈی بات کرنے کو تیار ہوئے۔موقع پر موجود لوگوں کے مطابق واقعہ دوپہر میں ہوااس پل کے تعمیری کام میں مزدوروں کے لنچ کا وقت ایک سے دو بجے کا تھاجس سے کوئی خوف ناک حادثہ ہونے سے بچ گیا۔ اگر کوئی بھی مزدور ستون گرنے کے وقت پر موجود ہوتا تو بہت بڑا حادثہ ہوسکتاتھا۔اس حادثہ کے بعداین ایچ آئی کے اعلیٰ افسر کچھ کہنے سے بچتے نظر آئے اور تقریباً ایک گھنٹے کے بعد این ایچ اے آئی کے جوائنٹ اے جی ایم لچھمی نارائن ریڈی بات کرنے کو تیار ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ پل پر بیرنگ صحیح کرنے کا کام چل رہا تھا جس کے فوراً بعد ہی لنچ ہی ہوگیا اور مزدور لنچ کے لئے چلے گئے تھے ۔اسی درمیان تین ستون کسی وجہ سے گر گئے لیکن کوئی بھی حادثہ نہیں ہوا ہے۔ ریڈی نے بتایا کہ پل بنانے کا کام پرائیویٹ کمپنی اورینٹل تعمیراتی کو دیا گیا ہے۔ این ایچ اے آئی کے افسر مسٹر ریڈی سے جب تحقیقات اور کارروائی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے پل گرنے جیسے واقعہ کو ہلکا پھلکا واقعہ بتا کر اپنا پلہ جھاڑ لیا۔

موت بن کر گھر میں گھسا ڈمپر، سو رہے چار لوگوں کی چھین لی زندگی
کوشامبی،31اکتوبر(اے یو ایس)اتر پردیش کے کوشامبی میں ایک دردناک حادثہ ہوا ہے۔جہاں بے قابو ڈمپر اچانک ایک گھر میں گھس گیا ،اس حادثے میں گھر میں موجود خاندان کے چار افرادکی موت ہوگئی۔ دریں اثناء آس پاس کے لوگوں نے اس کی اطلاع پولیس کو دی۔موقع پر پہنچی پولیس نے لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لئے بھیج دیا۔ یہ واقعہ کرارا تھانہ کے علاقے صادق پور کے سمراہا پورگاؤں کا ہے۔ یہ واقعہ بدھ کی صبح چار بجے کے قریب ایک بے قابوڈمپر شیوپرتاپ لودھی کے گھر میں گھس گئے۔ شیوپرتاپ لودھی اپنی بیوی شیوکلی اور ناتی اجے ولد ونود وناتن پرنی بیٹی نریندر کے علاوہ راکیش اور بندر کے ساتھ گھر کے برآمدے میں سورہاتھا۔ قریب تین بجے چترکوٹ سے گٹی لادکر پریاگ راج کی طرف جارہا ڈمپرکراری سے آگے بڑھاتو ڈرائیور کو جھپکی آگئی۔ایسے میں ڈمپر بے قابو ہوگیااور شیوپرتاپ کے گھر میں گھس گیا۔اس دوران ڈمپر سورہے لوگوں پر چڑھ گیا۔ حادثے میں شیوپرتاپ ان کی بیوی،ان کے ناتی اور ناتن کی موقع پرہی موت ہوگئی۔ جبکہ دولوگ سنگین طور پر زخمی ہوگئے۔ وہیں آس پاس کے لوگوں نے حادثے کی جا نکاری پولیس کو دی۔ ساتھ ہی ڈمپر کے ڈرائیور کو پکڑ کراس کی جم کر پٹائی بھی کردی۔موقع پر پہنچی پولیس نے لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لئے بھیج دیا ہے اور زخمیوں کو اسپتال میں بھرتی کردیاگیا ہے۔

غیر قانونی پٹاخہ گودام میں دھماکہ، دو ہلاک
160بہرائچ،31اکتوبر(اے یو ایس)بہرائچ کے کھیری گھاٹ تھانہ علاقہ کے شیوپور بازارمیں ایک غیر قانونی پٹاخہ گودام میں منگل کو ہوئے دھماکے میں ایک طالب علم سمیت دو افراد کی موت ہو گئی اور دو دیگر زخمی ہو گئے۔پولیس سپرنٹنڈنٹ گوروگروور نے بتایا کہ شیوپور بازار کی ایک دکان میں عارف اور صدام الیکٹرانک اشیاء کی دکان چلاتے ہیں۔ دکان کے پیچھے گودام میں ایک بوری میں بھاری مقدار میں پٹاخے رکھے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ منگل کو پٹاخے کے ڈھیر میں اچانک ہوئے دھماکے سے دکان میں بیٹھے صدام اور کھرچالی اور راستے سے گزر رہے طالب علم نفیس اور انیس شدیدطورپر زخمی ہو گئے۔گروور کے مطابق تمام زخمیوں کو علاج کیلئے ضلع اسپتال میں داخل کرایاگیا جہاں نفیس (18) کی علاج کے دوران موت ہو گئی۔ انہوں نے بتایا کہ شدیدطورپر زخمی صدام اور کھرچالی کو میڈیکل کالج لکھنؤ بھیجا گیا جہاں صدام (17) کی موت کی خبر ملی ہے۔ ایس پی نے کہا کہ غیر قانونی پٹاخہ فروخت کرنے اور دوسروں کے خلاف سازش کرنے کے الزام میں ملزم کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔ ضلع مجسٹریٹ مالا شریواستو نے بتایا کہ غیر قانونی پٹاخہ کاروبار پر مؤثر روکنے کے لئے بدھ کو متعلقہ محکموں کے افسران کی میٹنگ بلائی گئی ہے۔ دھماکے کے صورت میں رپورٹ طلب کی گئی ہے اور سخت کارروائی کی جائے گی۔

سپریم کورٹ کا حکم، دہلی این سی آر میں صرف گرین پٹاخے ہی فروخت ہوں گے
نئی دہلی،31اکتوبر(اے یو ایس) سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے کہ صرف دہلی اور این آر سی میں صرف گرین پٹاخے ہی فروخت کیے جائیں گے۔ دوسری ریاستوں میں یہ نظام اس سال لاگو نہیں کیا جائے گا۔ عدالت نے کہا ہے کہ اب گرین پٹاخہ ہی تیار ہوگااور جوپٹاخے پہلے بن چکے ہیں وہ دہلی این سی آر میں فروخت نہیں ہوں گے ۔ انہیں دوسری جگہوں پر فروخت کیا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران پٹاخہ بنانے والوں نے کہا کہ اس وقت گرین پٹاخے کی پیداوار ممکن نہیں ہے یہ مارکیٹ میں بھی دستیاب نہیں ہے۔واضح رہے کہ اس سے پہلے ہی سماعت کے دوران کورٹ نے کہا تھا کہ گرین پٹاخے صرف دہلی این سی آر کے لئے ہی ہیں۔کورٹ آتشبازی کی ٹائمنگ میں تبدیلی کے لیے تیار ہے پر 24 گھنٹے میں دو گھنٹے سے زیادہ آتشبازی کی اجازت نہیں ہے۔ رنجیت کمار نے پٹاخہ بنانے والوں کی طرف سے کہاہے کہ دوہفتوں میں پرانے پٹاخوں کا اسٹاک ختم کرنے کا وقت بڑھایا جانا چاہئے۔ چھ ہفتے دیئے جائیں۔ عدالت نے اس سے انکار کردیاتھا۔ عدالت نے کہا کہ جب آپ روم میں ہیں تو آپ کو رومانوی کی طرح سلوک کرنا چاہئے. شمالی بھارت میں دیویالی کی طرح رات دیویالی کی طرح ہے۔کورٹ نے کہا کہ جب آپ کو روم میں ہوں تو رومنس کی طرح برتاؤ کرنا چاہئے۔ شمالی ہندوستان میں یہاں کی طرح رات کو منائیں دیوالی۔

جہیز کیلئے فون پر دیا تین طلاق، انصاف کیلئے تھانے پہنچی حاملہ خاتون
کانپور،31اکتوبر(اے یو ایس) جہیز ایک لعنت ہے اور یہ ہمارے سماج میں ایک ناسور بنا ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے آئے کہیں نہ کہیں خواتین کومزید جہیز کے لئے اکسایا جارہا ہے اور جہیز کے لالچی اپنی مانگ کو پورا کرنے کے لئے بیوی کو مارتے پیٹتے ہیں یہاں تک کہ طلاق بھی دے دیتے ہیں ایسا ہی ایک معاملہ اتر پردیش کے کانپور ضلع میں پیش آیا جہاں ایک جہیزکے لالچی شوہر نے موٹر سائیکل اور پیسہ نہیں م لنے پر شوہر نے بیوی کو موبائل فون پر طلاق دے دی۔متاثرہ خاتون نے پیر کوشوہر اور اس کے سسرال والوں کے خلاف پنکی تھانے میں شکایت درج کرائی۔ متاثرہ کا الزام ہے کہ جہیز کی مانگ پوری نہ ہونے پر سسرال والوں نے اسے زندہ جلانے کی کوشش کی ۔خاتون کی طرف سے ملی شکایت کے بعد پولیس نے تین طلاق کے نئے آرڈیننس کے تحت لگنے والی مختلف دفعات پر ویچارمنتھن کر رہی ہے۔معلومات کے مطابق رتن پور پنکی واقع کاشی کالونی کی رہنے والی شمس الدین کی بیٹی سمیرہ کا نکاح 25 مارچ، 2017 کو شارق خان کے ساتھ ہوا تھا۔ شارق بابو پوروہ کے منشی پوروہ میں رہتا ہے متاثرہ نے پولیس کو بتایا کہ شارق کویت میں ڈرائیور ہے کچھ مہینے پہلے ہی وہ چھٹی پر آیاتھااورشادی کے بعد کچھ وقت بتانے کے بعد شارق نے اس کے اہل خانہ سے جہیز میں ایک لاکھ روپے اور بائیک کی مانگ شروع کردی۔ متاثرہ نے بتایا کہ جب اہل خانہ نے ان کی مطالبے کو پورا کرنے میں ناکامی جتائی تو سسرال والوں نے لڑکی کا استحصال کرنا شروع کردیا۔ نو ستمبر2018 کو شارق اور اس کے خاندان نے اسے مارا پیٹا اور مٹی کا تیل ڈال کر اسے جلانے کی کوشش سسرال والوں کی اس حرکت سے ڈری سہمی حاملہ خاتون نے اپنے مائیکے آگئی۔ اس کے بعدشارق نے اس کے موبائل پرفون کیا اور تین بار طلاق کہہ کراس سے اپنا رشتہ توڑ لیا۔اس معاملے میں ایس ایس پی اننت دیو کا کہنا ہے کہ حاملہ خاتون نے شوہر اور سسرال والوں کے خلاف جہیز کے لئے ہراساں کرنے، زندہ جلانے کی کوشش اور فون پر طلاق دینے کی شکایت دی ہے۔ تحریر کی بنیاد پر رپورٹ درج ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ پولیس معاملے کی تحقیقات میں مصروف ہے۔

طالب علم کو کرین نے کچلا، موقع پر ہی موت
بلندشہر،31اکتوبر(اے یو ایس) اتر پردیش کے بلندشہر میں اسکول جارہے کلاس تین کے طالبہ کو ایک بے قابو کرین نے ٹکر ماردی اس حادثے میں طالب علم کی موقع پر موت ہوگئی۔ ناراض افراد نے کرین ڈرائیور کی پٹائی کی۔ اتنا ہی نہیں لوگوں نے سڑک پر جام لگادیا۔ اطلاع پاکر پہنچی پولیس نے ناراض لوگو ں کو پرسکون کیا۔ حادثہ دیہات تھانہ علاقے کے اگورا گاؤں میں ہوا ہے۔ یہاں نو سالہ معصوم ایس ڈی پبلک اسکول کو اپنے گھر سے پیدل جارہاتھا۔ تبھی دوسری طرف سے کرین آرہی تھی۔عینی شاہدین کے مطابق توکرین کی رفتار کافی تیز تھی۔ جس کے نتیجے میں بے قابو کرین بچے پر چڑ ھ گیا،بچے کی موقع پر ہی موت ہوگئی۔ اس واقعہ کے بعد مقامی گاؤں نے مبینہ ڈرائیور کو پکڑ لیا اور اس کی جم کر پٹائی کی۔پولیس نے دیہاتیوں کوسمجھا بجھا کر جام کھلوایا۔اس کے بعد بچے کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لئے بھجوایا۔ علاقے میں تناؤ کی حالت بنی ہوئی ہے۔ خورجہ دیہات کوتوالی سمیت آس پاس کے تھانوں کے پولیس اہلکار بھی موجود رہے۔ پولیس مبینہ ڈرائیور کے خلاف کارروائی میں مصروف ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Ad
Ad
Ad

MARQUEE

US school students discuss ways to gun control

             Students  discuss strategies on legislation, communities, schools, and mental health and ...

3000-year-old relics found in Saudi Arabia

Jarash, near Abha in saudi Arabia is among the most important archaeological sites in Asir province Excavat ...

Ad

@Powered By: Logicsart