FreeCurrencyRates.com

इंडियन आवाज़     16 Dec 2017 08:18:05      انڈین آواز
Ad

فنون لطیفہ کی مدد سے راہ و رسم بڑھانا

مائیکل گیلنٹ
نیو یارک سٹی میں واقع بیٹری ڈانس کمپنی فنون لطیفہ کے ذریعہ بین الاقوامی سطح پر دوریوں کو پاٹنے کا کام کررہی ہے۔
امریکہ میں جوناتھن ہالینڈر کا انتخاب امریکن فیلڈ سروس نامی ایک تنظیم کے ذریعہ بیرون ملک مطالعہ کی مہم جوئی کی خاطر نمائندگی کے لئے اس وقت ہوا تھا جب وہ ہائی اسکول میں زیر تعلیم تھے۔ یہ فیلڈ سروس اب اے ایف ایس انٹر کلچرل پروگرامس کے نام سے معروف ہے۔
مگر ہالینڈرکویہ کہاں معلوم تھا کہ یہ سفر ان کے عالمی دورے کا پیش خیمہ ثابت ہوگا اور انہیں آدھی دنیا دکھاتے ہوئے انڈیا لائے گا ۔ صرف یہی نہیں یہ سفر ان کے اپنے وطن اور ان کے اپنائے گئے گھروں کے درمیان دوستی ، رقص اور سفارت کا احاطہ کرتے ہوئے دہائیوں تک جاری رہنے والی عملی زندگی کا سنگ بنیاد رکھنے والا بھی ثابت ہوگا۔

رقص کا سفارت کاری کے لئے استعمال
ہالینڈر نیو یارک سٹی میں واقع بیٹری ڈانس کمپنی کے بانی اور آرٹِسٹک ڈائر کٹر ہیں ۔ بیٹری ڈانس کمپنی ایک اختراعی تنظیم ہے جس کا قیام گھر سے باہرانڈیا میںہالینڈر کے تعلیم حاصل کرنے اور رقص سیکھنے کے دوران ہوئے تجربات سے مکمل طور پر ترغیب پاکر کیا گیا ہے ۔
ہالینڈر اپنی تخلیق کو تدریس کے نئے طریقے اور رقص کے لئے اجتماعی جذبے اور ثقافتی سرگرمیوں کے بین الاقوامی تبادلہ پروگرام کو فروغ دینے میں ۴۱ برس کی مصروفیت کی تاریخ کی وجہ سے ایک کثیر جہتی ادارے سے تعبیر کرتے ہیں۔۱۹۷۶ ء میں قائم کی جانے والی بیٹری ڈانس کمپنیہر عمر کے افراد کو رقص سکھاتی ہے جس میں تباہی اور تنازع کے شعبوں پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ کمپنی نے ۷۰ ممالک میں فنون لطیفہ سے متعلق بین الاقوامی جشن ، کانفرنس اور سمپوزیم میں شرکت کی ہے۔
بین الاقوامی سطح پر تعلقات قائم کرنے کی ہالینڈرکی ابتدائی کاوشوں اور اس معاملے پر خاطر خواہ توجہ دینے کا ہی نتیجہ ہے کہ انڈیا کے ساتھ کمپنی کے بڑے گہرے تعلقات ہیں اور یہاں کے معاشرہ میں کمپنی کی جڑیںگہری ہیں ۔ اور یہ کمپنی کے اختراعی اقدامات کا ہی نتیجہ ہے کہ دونوں ملکوں کے رشتے مزید مستحکم ہوئے ہیں۔
اگر ہالینڈرکی دیگر سرگرمیوں کی بات کی جائے تو سنہ ۲۰۰۰ ء میں انہوں نے شہر نیویارک میںانڈو امیریکن آرٹس کونسل نامی ایک تنظیم قائم کی جو انڈیا کی فنکاری ، ادب اور بصری فنون کو فروغ دینے کا کام کرتی ہے۔یہ کونسل ہر برس موسم گرما میں بیٹری ڈانس کمپنیکے ساتھ انڈیا کی ان رقّاصاؤں کے پروگرام کا اہتمام کرتی ہے جن میں سے بیشتر نے امریکہ میں ناظرین کی بڑی تعداد کے سامنے کبھی بھی اپنے فن کا مظاہرہ نہیں کیا ۔
دوریاں پاٹنے کی ہالینڈرکی کوششیں ان کے بعض تخلیقی کاموں میں بھی نظر آ جاتی ہیں ۔سنہ ۱۹۹۷ ء میں انڈیاکے ۵۰ویں یوم ِ آزادی جشن کے موقع پر ہالینڈرنے اسی مناسبت سیبیٹری ڈانس کمپنی کے لئیسانگس آف ٹیگور کے نام سے ایک پروگرام تیار کیا تھا ۔ اس پروگرام کی کوریوگرافی بھی ہالینڈرنے ہی کی تھی۔ اس پروگرام کے ساتھ انہوں نے انڈیا اور سری لنکا کے ۱۷ شہروں کا دورہ کیا تھا۔ وہ کہتے ہیں ’’اس پروگرام نے نوجوان ناظرین کو بتایا کہ ٹیگور کی تخلیقات پرانی نہیں ہوئی ہیں بلکہ نیویارک میں واقع رقص کے میدان میں سرگرم ایک بے خوف کمپنی کے لئے بھی وہ ترغیب کا ایک ذریعہ ہیں ۔‘‘
ہالینڈربتاتے ہیں کہ سنہ ۱۹۹۲ ء میں انہوں نے فل برائٹ لکچرر کے طور پر انڈیا کا دورہ کیا تھا اور’’بہت سارے رقّاصاؤں اور طلبہ کو رقص کی کوریوگرافی اور فلسفے کے امریکی طریقے سے روشناس کرایا تھا۔ان طریقوں میں موضوع کے انتخاب کی آزادی اور کلاسیکل بیلیٹ جیسے بندھے ٹکے طریقے کے استعمال کی بجائے رقص میں ابتداء ہی سے حرکات و سکنات کی نئی اقسام متعارف کرانے کی آزادی شامل تھی۔‘‘
وہ بتاتے ہیں رقص کی زیادہ کلاسیکی شکل کے تئیں ان کے احترام سے مزین اس طریقے نے ایک اہم پیغام دیا۔اپنی بات جاری رکھتے ہوئے وہ کہتے ہیں ’’ نو آبادیاتی نظام قائم ہونے کے بعد کے دور میںاختراعی عمل سے کام لینے کی خواہاں انڈیا کی رقّاصاؤں جیسے مَلّیکا سارا بھائی اور چندر لیکھا پر روایات کو تباہ و برباد کرنے کا الزام عائد کیا گیا جس کی پاسداری کی کوشش کا احیا حال ہی میں کیا گیا تھا۔ ‘‘
ہالینڈرکی کوششوں نے ان کی اور دیگر فنکاروں کی اختراعی محرکات کی حمایت کی اور انہیں رقص کی روایتی قدروں کے احترام کے ساتھ ان میں خود اپنی فنکارانہ آواز کو شامل کرنے کی بھی حوصلہ افزائی کی۔
سنہ ۲۰۱۶ ء میں بیٹری ڈانس کمپنی کی ۴۰ ویں سالگرہ کی تقریب کے لئے ہالینڈرنے حال ہی میں انڈیا کے گلوکار پنڈت راجن اور ساجن مشرا او ر سولو ڈانس کے ماہر اُنّت ہاسن رتناراجو کے فن سے متاثر ہوکر ایک پروگرام تیار کیا تھا۔ ہالینڈربتاتے ہیں ’’ امید ہے کہ اس پروگرام کو ہم انڈیا میں پیش کریں گے ۔ ہمیں اس برس دسمبر میں اور اس کے بعد بھی منعقد ہونے والے پروگراموں میں اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کے لئے کئی دعوت نامے ملے ہیں ۔‘‘
ماضی، حال اور مستقبل
ہالینڈرجب ایک طالب علم کے طور پر پہلی بار انڈیا آئے تھے تو ممبئی میں ایک مہمان نواز کنبے کے ساتھ رہنا شروع کیا تھا ۔ بعد ازاں انہوں نے ملک کے کئی نامورماہر ین سے یہاں کا طرز رقص سیکھنا شروع کیا۔ وہ ہنستے ہوئے بتاتے ہیں ’’۱۶برس کے کسی نا تجربہ کار لڑکے کے لئے یہ ایک ناقابل ِ یقین موقع تھا۔ میں نے جھاویری بہنوں سے منی پوری رقص سیکھا ، گرو پاروتی کمار اور ان کی سرکردہ شاگرد سوچیتا چاپیکر سے بھرت ناٹیم سیکھا۔‘‘
ہالینڈراپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہتے ہیں ’’سب سے حیرت انگیز بات جو مجھے نظر آئی وہ یہ تھی کہ لوگ اپنے وقت اور تحمل کے معاملے میں کتنے فراخ دل تھے ۔ ایسے افراد میں سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی بھی شامل تھیں جنہوں نے میری اور تبادلہ پروگرام میں شامل میرے دیگر امریکی ساتھیوں کی اپنی رہائش گا ہ کے لان میں ضیافت کی تھی۔ ‘‘
ایک غیر ملکی ہونے اور رقص میں مہارت رکھنے والے ایسے شخص کے طور پر جس کی جڑیں اس ملک میں گہری ہیں ، دونوں حیثیتوں میں ہالینڈرانڈیا میں رقص کرنے والوں کو درپیش چیلینج اور مواقع کے تئیں ایک منفرد نظریہ رکھتے ہیں ۔وہ بتاتے ہیں ’’ذہانت سے بھرپور رقص کرنے والوں کی ایک شاندار جماعت کی وجہ سے ہندوستان کے پاس فخر کرنے کے کئی اسباب ہیں ۔ مجھے امید ہے کہ ثقافت کو فروغ دینے کا کام کرنے والے وفاقی ، ریاستی اور مقامی حکومت کے محکمے اپنے بجٹ میں اضافہ کریں گے ، مالی امداد فراہم کرنے کے عمل کو معیاری بنائیں گے ۔ ساتھ ہی ساتھ اس بات کو بھی یقینی بنائیں گے کہ سب سے زیادہ قابل فنکاروں کو حمایت حاصل ہو ۔ مجھے یہ بھی امید ہے کہ انڈیا میں رقص کرنے والی برادری ایک مکمل دستے کی شکل اختیار کرے گی اور سردست انہیں درپیش مالی اور انصرامی چیلینج سے نمٹنے میں بہتر حالات کے لئے متحد ہو کر کام کرے گی۔ انڈیا میں بہت ساری تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں جو ملک میں موجود رقّاصاؤں کی آ نے والی نسل کے حالات کو بہتر بنانے کی طاقت رکھتی ہیں ۔ ‘‘
مستقبل کے لئیہالینڈرکے منصوبوں میں ان کی کمپنی کے ان اختراعی کاموں کو وسعت دینا شامل ہے جسے کمپنی نے ۲۰۱۴ ء میں انسانوں کی غیر قانونی نقل مکانی سے زندہ بچ جانے والوں اور رائے دہی سے محروم طبقات سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے ساتھ شروع کیا تھا ۔ وہ کہتے ہیں ’’مجھے امید ہے کہ ہم اپنے ڈانسنگ ٹو کنیکٹ پروگرام کے تحت پاکستانی اورانڈیا کے نوجوانوں کی ملی جلی جماعت کے ساتھ کام کریں گے۔اس بات کا یقین اس لئے ہے کیوں کہ میں نے اس پروگرام کو فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان، شمالی آئر لینڈ کے کیتھو لک اور پروٹیسٹینٹ فرقوں کے درمیان اور رقص کے امیر طلبہ اور ان طبقات کے طلبہ کے درمیان سرحدوں کو ختم کرتے دیکھاہے جنہیں بہت کم سہولیات دستیاب ہوتی ہیں ۔‘‘
مائیکل گیلنٹ ، گیلنٹ میوزک کے بانی اور چیف ایکزیکٹو افسر ہیں۔ وہ نیویارک سٹی میں رہائش پذیر ہیں۔

بشکریہ اسپین

Follow and like us:
20

Leave a Reply

You have to agree to the comment policy.

Ad

SPORTS

Official emblems for Beijing 2022 Winter Games unveiled

The emblems of the Beijing 2022 Olympic and Paralympic Winter Games have been named "Winter Dream" and "Flight ...

Dubai Open: PV Sindhu to take on Chen Yufei in semis

In Badminton, Rio Olympics and World Championships Silver medalist PV Sindhu will clash with China's Chen Yufe ...

Ad
Ad
Ad
Ad

Archive

December 2017
M T W T F S S
« Nov    
 123
45678910
11121314151617
18192021222324
25262728293031

OPEN HOUSE

Mallya case: India gives fresh set of documents to UK

AMN India has given a fresh set of papers to the UK in the extradition case of businessman Vijay Mallya. Ex ...

@Powered By: Logicsart

Help us, spread the word about INDIAN AWAAZ