FreeCurrencyRates.com

इंडियन आवाज़     20 Aug 2017 03:48:27      انڈین آواز
Ad

صدر جمہوریہ ہند رام ناتھ کووند کی پہلی تقریر

PREZ OATH

نئی دلّی ، 25 جولائی ؍صدر جمہوریہ ہند کا عہدہ سنبھالنے کے موقع پر، 14 ویں صدر جمہوریہ ہند ،جناب رام ناتھ کووند نے آج راشٹر پتی بھون ، نئی دلی میں سابق صدر جمہوریہ ہند ، نائب صدر جمہوریہ ، وزیر اعظم ، اسپیکر ، جسٹس کھیہر اور معزز مہمانان کی موجودگی میں جو تقریر کی ، اس کا متن درج ذیل ہے : ۔
’’ عزت مآب جناب پرنب مکھرجی ،
جناب حامد انصاری ،
محترمہ سمترا مہاجن ،
جسٹس جناب جے ایس کھیہر ،
معزز مہمانان ،
خواتین و حضرات ، اور ہم وطنو ،
بھارت کے صدر جمہوریہ کے عہدہ کی ذمہ سونپنے کے لئے میں آپ سبھی کادل سے شکریہ ادا کرتا ہوں ، میں پوری انکساری کے ساتھ اس عہدے کو قبول کر رہا ہوں ۔ یہاں مرکزی ہال میں آ کر میری کئی پرانی یادیں تازہ ہو گئی ہیں ۔ میں ممبر پارلیمنٹ رہا ہوں اور اسی مرکزی ہال میں، میں نے آپ میں سے کئی لوگوں کے ساتھ تبادلہ خیال کیا ہے ۔ کئی بار ہم متفق ہوتے تھے ، کئی بار غیر متفق ۔ لیکن اس کے با جود ہم سبھی نے ایک دوسرے کے خیالات کا احترام کرنا سیکھا ۔ یہی جمہوریت کا حسن ہے ۔
میں ایک چھوٹے سے گاؤں میں مٹی کے گھر میں پلا بڑھا ہوں ۔ میرا سفر بہت طویل رہا ہے ، لیکن یہ سفر اکیلے صرف میرا نہیں رہا ہے ۔ ہمارے ملک اور ہمارے معاشرے کی بھی یہی کہانی رہی ہے ۔ ہر چیلنج کے باوجود ، ہمارے ملک میں ، ہمارے آئین میں واضح انصاف ، آزادی ، مساوات اور بھائی چارہ کے اصولوں پر عمل کیا جاتا ہے اور میں اس اصول پر ہمیشہ عمل پیرا رہوں گا ۔
میں اس عظیم ملک کے 125 کروڑ شہریوں کو سلام کرتا ہوں اور انہوں نے مجھ پر جو اعتماد ظاہر کیا ہے ، اس پر کھرا اترنے کا عہد کرتا ہوں ۔ مجھے اس بات کا پورا احساس ہے کہ میں ڈاکٹر راجندر پرساد ، ڈاکٹر سروپلی رادھا کرشنن ، ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام اور سابق صدر جناب پرنب مکھرجی ، جنہیں ہم پیار سے ’’ پرنب دا ‘‘ کہتے ہیں ، جیسی ہستیوں کے نقش قدم پر چلنے جا رہا ہوں ۔
ساتھیو ،
ہماری آزادی ، مہاتما گاندھی کی قیادت میں ہزاروں مجاہدین آزادی کی کوششوں کا نتیجہ تھی ۔ بعد میں سردار پٹیل نے ہمارے ملک کو متحد کیا ۔ ہمارے آئین کے خاص معمر بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر نے ہم سبھی کو انسانی وقار اور جمہوری اصولوں کے تئیں حساس بنایا ۔
وہ اس بات سے مطمئن نہیں تھے کہ صرف سیاسی آزادی ہی کافی ہے ۔ ان کے لئے ہمارے کروڑوں لوگوں کی اقتصادی اور سماجی آزادی کا حصول بھی بہت اہمیت کا حامل تھا ۔
اب آزادی حاصل ہوئے 70 برس پورے ہونے جا رہے ہیں ۔ ہم اکیسویں صدی کے دوسرے دہے میں ہیں ۔ وہ صدی ، جس کے بارے میں ہم سبھی کو بھروسہ ہے کہ یہ بھارت کی صدی ہوگی ، بھارت کی حصولیابیاں ہی اس صدی کی سمت اور خاکہ تیار کریں گی ۔ ہمیں ایک ایسے بھارت کی تخلیق کرنا ہے جو اقتصادی قیادت کے ساتھ ہی اخلاقی اقدار بھی پیش کرے ۔ ہمارے لئے یہ دونوں پیمانے کبھی الگ نہیں ہو سکتے ۔ یہ ایک دوسرے سے منسلک ہیں اور انہیں ہمیشہ ایک دوسرے سے وابستہ ہی رہنا ہوگا ۔
ساتھیو ،
ملک کی کامیابی کا راز اس کی گونا گونی میں مضمرہے ۔ گونا گونی ہی ہماری وہ بنیاد ہے جو ہمیں بے مثال بناتی ہے ۔ اس ملک میں ہمیں ریاستوں ، علاقوں ، مذاہب ، زبانوں ، ثقافتوں ، طرز حیات جیسی متعدد باتوں کا مرقع دیکھنے کو ملتا ہے ۔ ہم بہت الگ ہیں لیکن پھر بھی ایک ہیں اور ایک جٹ ہیں ۔
اکیسویں صدی کا بھارت ، ایسا بھارت ہوگا جو ہماری دیرینہ اقدار کے مطابق ہونے کے ساتھ ساتھ چوتھے صنعتی انقلاب کو توسیع دے گا ۔ اس میں نہ کوئی اختلاف ہے اور نہ ہی کسی متبادل کا سوال اٹھتا ہے ۔ ہمیں اپنی روایات اور انجینئرنگ ، قدیم بھارت کے علوم اور قدیم بھارت کی سائنس کو ساتھ لے کر چلنا ہے ۔
ایک طرف جہاں گاؤں پنچایت کی سطح پر سماجیاتی جذبے کے ساتھ تبادلہ خیالات کر کے مسائل کو حل کرنا ہوگا ، وہیں دوسری جانب ڈیجیٹل قوم ہمیں ترقی کی نئی بلندیوں پر پہنچانے میں مدد کرے گی ۔ یہ ہماری قومی کوششوں کے دو اہم ترین ستون ہیں ۔
قوم کی تعمیر محض حکومت کے ذریعہ نہیں کی جا سکتی ۔ حکومت معاون ہو سکتی ہے ، وہ معاشرے کی صنعت کار اور خلاقانہ صلاحیت کو سمت دے سکتی ہے ، محرک بن سکتی ہے ۔ قوم کی تعمیر کی بنیاد ہے قومی وقار ۔
* ہمیں فخر ہے ۔ بھارت کی مٹی اور پانی پر
ہمیں فخر ہے ۔ بھارت کی گونا گونی ، تمام مذاہب کے تئیں یکساں نظریہ اور شمولیت پر مبنی انداز فکر پر
ہمیں فخر ہے ۔ بھارت کی ثقافت ، روایات اور روحانیت پر
* ہمیں فخر ہے ۔ ملک کے ہر ایک شہری پر
* ہمیں فخر ہے ۔ اپنے فرائض کی ادائیگی پر اور
* ہمیں فخر ہے ۔ ہر چھوٹے سے چھوٹے کام پر جو ہم روزانہ کرتے ہیں ۔
ساتھیو ،
ملک کا ہر شہری معمار قوم ہے ۔ ہم میں سے ہر ایک شخص بھارتی روایات اور اقدار کا محافظ ہے اور یہی وراثت ہم آنے والی نسلوں کو دے کر جائیں گے ۔
* دیش کی سرحدوں کی حفاظت کرنے والے اور ہمیں محفوظ رکھنے والے حفاظتی دستے ، قوم کے معمار ہیں ۔
* جو پولیس اور نیم فوجی دستے ، دہشت گردی اور جرائم سے لڑ رہے ہیں ، وہ معمار قوم ہیں ۔
* جو کسان تپتی دھوپ میں دیش کے لوگوں کے لئے اناج پیدا کر رہے ہیں ، وہ معمار قوم ہیں ۔ اور ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہئیے کہ کھیت میں کتنی بڑی تعداد میں خواتین بھی کام کرتی ہیں ۔
* جو سائنس داں 24 گھنٹے انتھک محنت کر رہا ہے ، بھارتیہ خلائی مشن کو منگل تک لے جا رہا ہے یا کسی ویکسین کی ایجاد کر رہا ہے ، وہ معمار قوم ہے ۔
* جو نرس یا ڈاکٹر دور دراز کسی گاؤں میں ، کسی مریض کی سنگین بیماری سے لڑنے میں اس کی مدد کر رہے ہیں ، وہ معمار قوم ہیں ۔
* جس نو جوان نے اپنا اسٹارٹ اپ شروع کیا ہے اور اب خود روزگار دینے والا بن گیا ہے ، وہ معمار قوم ہے ۔ یہ اسٹارٹ اپ کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔ کسی چھوٹے سے کھیت میں آم سے اچار بنانے کا کام ہو ، کاریگروں کے کسی گاؤں میں قالین بافی کا کام ہو یا پھر کوئی لیباریٹری ، جسے بڑی اسکرینوں سے روشن کیا گیا ہو ۔
* وہ قبائلی اور عام شہری جو تبدیلی آب و ہوا کے چیلنجوں سے نمٹنے میں ہمارے ماحولیات ، ہمارے جنگلات ، جنگلاتی زندگی کا تحفظ کر رہے ہیں اور وہ لوگ جو توانائی کی جدید کاری کو فروغ دے رہے ہیں ، وہ معمار قوم ہیں ۔
* وہ عہد بستہ خادم وطن جو پورے خلوص کے ساتھ اپنا فرض نبھا رہے ہیں ، کہیں پانی سے بھری سڑک پر ٹریفک کو کنٹرول کر رہے ہیں ، کہیں کسی کمرے میں بیٹھ کر فائلوں پر کام کر رہے ہیں ،وہ معمار قوم ہیں ۔
* وہ اساتذہ ، جو ذاتی مفاد کے بغیر نوجوانوں کو تعلیم دے رہے ہیں ، ان کا مستقبل طے کر رہے ہیں ، وہ معمار قوم ہیں ۔
* وہ بے شمار خواتین جو گھر پر اور باہر ، تمام ذمہ داریاں نبھانے کے ساتھ ہی اپنے کنبے کی دیکھ بھال کر رہی ہیں ، اپنے بچوں کو دیش کا مثالی شہری بنا رہی ہیں ، وہ معمار قوم ہیں ۔
ساتھیو ،
دیش کے شہری گرام پنچایت سے لے کر پارلیمنٹ تک اپنے نمائندے منتخب کرتے ہیں ، ان نمائندوں میں اپنا اعتقاد اور امید کا اظہار کرتے ہیں ۔ شہریوں کی امیدوں کو پورا کرنے کے لئے یہی عوامی نمائندے اپنی زندگی قوم کی خدمت میں لگاتے ہیں ۔
لیکن ہماری یہ کوششیں صرف ہمارے لئے ہی نہیں ہیں ۔ صدیوں سے بھارت نے ’’ وسودھیو کٹمبکم ‘ یعنی پورا عالم ایک کنبہ ہے ، کے مظاہرے پر بھروسہ کیا ہے ۔ یہ مناسب ہوگا کہ اب بھگوان بدھ کی یہ سر زمین ، امن کے قیام اور ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے میں دنیا کی رہنمائی کرے ۔
آج پورے عالم میں بھارت کے نظرئیے کی اہمیت ہے ۔ پوری دنیا بھارت کی ثقافت اور بھارتیہ روایات کی جانب متوجہ ہو رہی ہے ۔ پورا عالم بین الاقوامی مسائل کے حل کے لئے ہماری جانب دیکھ رہا ہے ۔ خواہ دہشت گردی ہو ، کالے دھن کا لین دین ہو یا تبدیلی آب و ہوا ہو ۔ عالمی پس منظر میں ہماری ذمہ داریوں کی نوعیت بھی عالمی ہو گئی ہے ۔
یہی جذبہ ہمیں ، ہمارے عالمی کنبے سے ، دنیا میں رہنے والے ہمارے دوست اور ساتھیوں سے ، دنیا کے الگ الگ علاقوں میں رہ کر اپنا تعاون دے رہے غیر مقیم بھارتیوں سے جوڑتا ہے ۔یہی جذبہ ہمیں دوسرے ملکوں کی مدد کرنے کے لئے راغب کرتا ہے ، خواہ وہ بین الاقوامی شمسی اتحاد کی توسیع کرنا ہو ، یا پھر قدرتی آفات کے وقت سب سے پہلے مدد کے لئے آگے آنا ہو ۔
ایک قوم کے طور پر ہم نے بہت کچھ حاصل کیا ہے ، لیکن اس سے بھی اور زیادہ کچھ کرنے کی کوشش اور بہتر کرنے کی کوشش اور تیزی سے کرنے کی کوشش ، لگاتار ہوتے رہنا چاہئیے ۔ یہ اس لئے بھی اہم ہے کیونکہ سال 2022 میں ملک اپنی آزادی کے 75 ویں سال کا جشن منا رہا ہوگا ۔ ہمیں اس بات کا لگا تار دھیان رکھنا ہوگا کہ ہماری کوششوں سے معاشرے کی آخری قطار میں کھڑے اس شخص کے لئے اور غریب کنبے کی اس آخری بیٹی کے لئے بھی نئی امیدوں اور مواقع کے دروازے کھلیں ۔ ہماری کوشش کی رسائی آخری گاؤں کے آخری گھر تک ہونی چاہئیے ۔ اس میں ہر سطح پر انصاف ، تیزی کے ساتھ ، کم خرچ پر انصاف دلانے والا نظام بھی شامل کیا جانا چاہئیے ۔
ساتھیو ،
اس دیش کے شہری ہی ہماری توانائی کا اصل منبع ہیں ۔ مجھے پور طرح یقین ہے کہ قوم کی خدمت کے لئے مجھے ان لوگوں سے اسی طرح لگاتار توانائی ملتی رہے گی ۔
ہمیں تیزی سے ترقی یافتہ ہونے والی ایک مضبوط معیشت ، ایک تعلیم یافتہ ، اخلاقی اقدار اور شمولیت پر مبنی معاشرہ ، یکساں اقدار کے حامل اور یکساں مواقع دینے والے معاشرے کی تعمیر کرنا ہوگی ۔ ایک ایسا معاشرہ جس کا تصور مہاتما گاندھی اور دین دیال اپادھیائے جی کے ذہن میں تھا ۔ یہ ہمارے انسانی اصولوں کے لئے بھی اہم ہے ۔ یہ ہمارے خوابوں کا بھارت ہوگا ۔ ایک ایسا بھارت جو سبھی کو یکساں مواقع فراہم کرے گا ۔ ایسا ہی بھارت ، اکیسویں صدی کا بھارت ہوگا ۔ آپ سب کا بہت بہت شکریہ ۔ جے ہند ۔ وندے ماترم ۔

Leave a Reply

You have to agree to the comment policy.

Ad

NEWS IN HINDI

कलिंग-उत्कल रेल हादसा: 50 यात्रियों की मौत का अंदेशा

AMN / मुजफ्फरनगर सिस्टम और रेलवे की घोर लाप ...

यू पी में बड़ा ट्रेन हादसा 20 के मरने की खबर , कई घायल

WEB DESK / AMN उत्तर प्रदेश के मुजफ्फरनगर में बड़ ...

कार्ति चिदंबरम को सुप्रीम कोर्ट ने दिए कड़े निर्देश

पूर्व वित्त मंत्री और कांग्रेसी नेता पी च ...

जेडी-यू NDA एनडीए में होगा शामिल

सभी की निगाहें  aaj  पटना में होने वाली जेडी ...

Ad
Ad
Ad

SPORTS

Ghosh-Sathiyan set up clash with top seeds in final of Bulgaria Open

The Indian pair of Soumyajit Ghosh and G Sathiyan has entered the men's doubles final of the Seamaster 2017 IT ...

Sports Ministry drops para-sports coach Satyanarayana from Dronacharya awardees list

The Sports Ministry has dropped para-sports coach Satyanarayana from the list of this year's Dronacharya award ...

Ad

Archive

August 2017
M T W T F S S
« Jul    
 123456
78910111213
14151617181920
21222324252627
28293031  

OPEN HOUSE

Mallya case: India gives fresh set of documents to UK

AMN India has given a fresh set of papers to the UK in the extradition case of businessman Vijay Mallya. Ex ...

@Powered By: Logicsart