FreeCurrencyRates.com

इंडियन आवाज़     20 Sep 2017 09:51:15      انڈین آواز
Ad

شہیدِ وطن رام پرشاد بسمل

یاد کرو قربانی

* پروفیسر ارتضیٰ کریم

ہمارا ملک ہندوستان جن شہیدانِ وطن کی قربانیوں کو ہمیشہ سلام کرتا رہا ہے اور کرتا رہے گا ان میں ایک اہم نام رام پرشاد بسمل کا بھی ہے جنھوں نے ملک کی آزادی کی خاطر بہت ساری اذیتیں اور پریشانیاں برداشت کیں۔ پھانسی کے دروازے پر پہنچ کر I wish the downfall of British Empire کہتے ہوئے اور ’وندے ماترم‘ و ’بھارت ماتا کی جے‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے تختہ دار و رسن کو چوم لیا۔ رام پرشاد بسمل اس انقلابی فرد کا نام ہے جس نے 19سال کی عمر میں انقلاب کی راہ اختیار کی اور اسی راہ پر چلتے ہوئے آزادی ملک کی خاطر اپنی جان قربان کردی۔ 11 سال کی انقلابی زندگی میں رام پرشاد بسمل نے وہ کارنامے انجام دیے کہ آج بھی ہندوستان کا ہر فرد ان کی شہادت کو آزادی وطن کی ایک علامت مانتا ہے۔ انھوں نے ہندوستان ریپبلکن ایسوسی ایشن جیسی انقلابی تنظیم قائم کی اور برطانوی حکومت کے چھکے چھڑا دیے۔ اس تنظیم نے یہ عزم کیا تھا کہ وہ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک ملک کو آزادی نصیب نہیں ہوجاتی۔ 1925 کے کاکوری اور 1918 کے مین پوری کی سازش میں کلیدی کردار ادا کرنے والے رام پرشاد بسمل کا ہر ایک عمل ملک کو سامراجی شکنجے سے آزاد کرنے کے لیے تھا۔ ان کا یہ نعرہ تھا :

وطن محبوب ہے اپنا اس پر جسم و جاں قرباں

مخالف وار کر دیکھیں، نہ ہم گردن ہلائیں گے

سرفروشانِ وطن پھر دیکھ لو مقتل میں ہیں

ملک پر قربان ہوجانے کے ارماں دل میں ہیں

اسی انقلابی جذبے کے ساتھ انھوں نے ہندوستان میں قومی انقلابی تحریک کا آغاز کیا اور برطانوی حکومت کے خلاف لڑتے رہے۔ جیل کی کوٹھری میں بڑی بڑی مصیبتو ںکا سامنا کیا مگر ان کے قدم نہیں لڑکھڑائے۔ اپنے وطن کی آزادی کا اتنا جوش اور جنون تھا کہ کتابیں لکھ کر فروخت کرتے اور ان پیسوں سے ہتھیار خریدا کرتے اور اس کا استعمال انگریزوں کے خلاف ہوتا۔ انھوں نے اپنی ماں کے ساتھ مادرِ وطن کے وقار کوبھی بلند کیا۔ عظیم ماں کا یہ وہ بہادر بیٹا تھا جس نے اپنی ماں سے یہ کہا تھا کہ ماں مجھے یقین ہے کہ تم یہ سمجھ کر حوصلہ رکھو گی کہ تمھارا بیٹا ماو ٔں کی ماں بھارت ماتا کی خدمت میں اپنی زندگی کو قربانی کی دیوی کی نذر کردیا اور اس نے تمھاری کوکھ کو کلنک نہیں لگایا۔ اپنے عہد پر قائم رہا۔ جب آزاد ہند کی تاریخ لکھی جائے گی تو اس کے صفحے پر روشن لفظوں میں تمھارا بھی نام لکھا جائے گا اور واقعی اس ماں نے اپنے ملک کی خاطر ممتا کی قربانی دی اور اپنے بیٹے رام پرشاد بسمل کے جوش و جذبہ کو سرد نہیں پڑنے دیا اور جب بسمل کو جیل میں روتے ہوئے دیکھا تو اس ماں نے کہا کہ یہ کیا بزدلی دکھا رہے ہو میں تو بڑے فخر سے سر اونچا کرکے آئی تھی کہ میری کوکھ نے ایسے بہادر کو جنم دیا ہے جو ملک کی آزادی کے لیے بیرونی سرکار سے لڑرہا ہے۔ مجھے ناز تھا کہ میرا بیٹا اس سرکار سے بھی نہیں ڈرتا جس کے راج میں سورج غروب نہیں ہوتا اور تم ہو کہ رو رہے ہو۔ اگر پھانسی کا ڈر تھا تو اس راستے پر قدم ہی کیوں رکھا تھا۔ ماں کے ان جملوں نے بسمل کو بہت حوصلہ دیا اور بسمل نے ان جملوں کی اس طرح لاج رکھی کہ رام پرشاد بسمل کا نام سرفروشانِ وطن میں نمایاں اور جلی حرفوں میں لکھا جاتا ہے۔

o

اس شہید وطن رام پرشاد بسمل کے آبا و اجداد کا تعلق مدھیہ پردیش کی ریاست گوالیار کے مرینہ ضلع کے بروائی گاو ٔں سے تھا۔ ان کے دادا نرائن رائے وہیں پیدا ہوئے تھے لیکن خاندانی جھگڑوں کی وجہ سے اترپردیش کے شاہجہاں پور آگئے۔ یہاں اس خاندان کی ابتدائی زندگی بڑی صعوبتوں میں گزری۔ آمدنی کم تھی۔ گزربسر ناممکن تھا۔ ان کی دادی اناج پیس کر گھر چلاتی تھیں اور دادا نے بھی دونّی چونّی بیچنے کی دُکان کھول لی تھی۔ آہستہ آہستہ حالات بدلے اور ان کے دادا نے شاہجہاں پور میں ایک مکان خرید لیا اور ان کے بیٹے مرلی دھر کو میونسپلٹی میں 15 روپے ماہوار پر ملازمت بھی مل گئی۔ اسی مرلی دھر کے بیٹے رام پرشاد تھے جن کا جنم شاہ جہاں پور میں 11 جون 1897 کو ہوا۔ 7 سال کی عمر میں رام پرشاد کو ان کے والد نے ہندی لکھنا پڑھنا سکھایا اور ایک مولوی صاحب کے یہاں مکتب میں اردو پڑھنے لگے۔ اردو مڈل کے امتحان میں وہ فیل ہوگئے تو انگریزی کی پڑھائی شروع کردی۔ نویں جماعت کے طالب علم تھے۔ سوامی سوم دیو سے ان کا ربط بڑھا اور ادھر ستیارتھ پرکاش کا مطالعہ شروع ہوا۔ سوم دیو کی صحبت اور ستیارتھ پرکاش کے مطالعہ نے ان کی زندگی کا رخ بدل دیا اور ملک کی آزادی کا جذبہ جوش مارنے لگا جبکہ رام پرشاد بچپن میں بہت شریر تھے اور اس کی وجہ سے ان کی بہت زیادہ پٹائی بھی ہوتی تھی۔ اپنے والد کے صندوق سے اکثر روپے پیسے چرا کر ناول خرید لیتے تھے اور خوب پڑھتے تھے۔ رام پرشاد کی والدہ بڑی مذہبی تھیں۔ ان کی والدہ نے ان کی بڑی تربیت کی اور رام پرشاد کی ہر جائز خواہش کو پورا کرنے کی کوشش کرتی تھیں۔ رام پرشاد کی زندگی پر ان کی والدہ کا بہت گہرا اثر ہے۔ والدہ ہی کی وجہ سے ان کی زندگی میں استحکام آیا۔ رام پرشاد نے خود اپنی سوانح حیات میں لکھا ہے کہ اگر مجھے ایسی والدہ نہ ملتیں تو میں ایک معمولی انسان کی طرح دنیاوی چکر میں پھنس کر زندگی گزار دیتا۔

رام پرشاد نے مین پوری سازش میں حصہ لیا جس کے لیڈر پنڈت گینڈا لال دیکشت تھے۔ اس سازش میں شرکت کی وجہ سے بسمل کے خلاف وارنٹ جاری ہوا مگر وہ دیہاتوں میں روپوش ہوگئے۔ اسی زمانے میں انھوں نے کئی اہم کتابیں لکھیں جن میں بولشیوکوں کی کرتوت، من کی لہر، سدیشی رنگ قابل ذکر ہیں۔

رام پرشاد بسمل کو جیل میں بھی دن گزارنے پڑے۔ جب انقلابیوں کی گرفتاری کا سلسلہ شروع ہوا تو رام پرشاد کو بھی گرفتار کیا گیا اور انھیں جیل میں بند کیا گیا۔ انھیں سرکاری گواہ بنانے کی کوشش بھی کی گئی اور پیسے کا لالچ بھی دیا گیا لیکن رام پرشاد بسمل اپنے ارادے پر اٹل رہے۔

کاکوری کیس میں بھی رام پرشاد بسمل آگے آگے تھے۔ کاکوری ریل ڈکیتی کیس میں بہت سے لوگ لکھنو ٔ جیل میں لاکر بند کیے گئے تھے۔ یہ مقدمہ 18 ماہ تک چلا اور اسی مقدمے کے دوران رام پرشاد بسمل جب بھی عدالت جاتے تھے تو یہ شعر ضرور گنگناتے تھے

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے

6 فروری 1927 کو کاکوری کیس کا فیصلہ ہوا تو رام پرشاد بسمل کے ساتھ اشفاق اللہ خان، روشن سنگھ اور راجندر لاہڑی کو پھانسی کی سزا سنائی گئی۔ پھانسی کی کوٹھری میں رام پرشاد بسمل کو ساڑھے تین مہینے رکھ گیا۔ وہاں انھوں نے بڑی تکلیفیں برداشت کیں۔ رام پرشاد بسمل کو 19 دسمبر1927 کو گورکھپور جیل میں پھانسی دے دی گئی۔

رام پرشاد بسمل نے وطن کی آزادی کے لیے جان دے کر آزادی کی مشعل جلا دی۔ پھانسی نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ آزادی کا جوش اور جذبہ اور بھی بڑھنے لگا۔ رام پرشاد بسمل نے صرف اپنے عمل اور قربانی سے نہیں بلکہ اپنی شاعری کے ذریعے بھی ملک کے نوجوانوں کو بیدار کیا اور یہ احساس دلایا کہ غلامی سے آزادی کی زندگی بہت بہتر ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا

رہے رگوں میں رواں اس کے ہم نہیں قائل

بہے جو قوم کی خاطر اُسے لہو کہیے

اس طرح کے اشعار سے انھوں نے اہلِ وطن کو آزادی کی قدر و قیمت کا احساس دلایا۔ وہ نوجوانوں کو خطاب کرتے ہوئے کہتے تھے :

نوجوانو! وقت ہے مٹ جاو ٔ قومی آن پر

دیکھنا بٹّا نہ لگ جائے وطن کی شان پر

چہچہانا بھول جاو ٔ گی وطن خطرے میں ہے

بلبلو! کیا دیکھتی ہو، کھیل جاو ٔ جان پر

انھوں نے اپنی ایک نظم میں بھی اسی جذبۂ آزادی کو بیدار کرتے ہوئے انگریز سامراج کو للکارتے ہوئے کہا تھا :

ظالموں کو ہے ادھر بندوق پراپنی غرور

ہے ادھر ہم بیکسوں کا تیر وندے ماترم

قتل کی ہم کو نہ دو دھمکی، ہمارے صبر سے

تیغ پر ہوجائے گا تحریر، وندے ماترم

ظلم سے گر کردیا خاموش مجھ کو دیکھنا

بول اٹھے گی تب مری تصویر، وندے ماترم

سرزمیں انگلینڈ کی ہل جائے گی دو روز میں

گر دکھائے گی کبھی تاثیر، وندے ماترم

رام پرشاد بسمل نے اپنی شاعری کے ذریعے انقلابی تحریک کو اور بھی شعلہ فشاں بنا دیا۔ وہ اپنے جذباتی انداز میں کہتے تھے :

بلا سے تیر برسیں یا کہ گردن پر چلیں خنجر

مگر رکھ کر قدم آگے نہ ہم پیچھے ہٹائیں گے

خوشی سے گولیاں کھاکر سہیں گے مار سینہ پر

نہ باز آئیں کبھی ہم، سوئے عالم کو جگائیں گے

نہ ڈر ہے جیل کا ہم کو، نہ خوفِ ہتھکڑی کچھ بھی

نہ ذلت دیکھ کر بھی ہم، شکن ماتھے پر لائیں گے

رام پرشاد بسمل نے اپنی اس انقلابی تحریک میں اشفاق اللہ خان کو بھی اپنا ساتھی بنا لیا تھا۔ اشفاق اللہ اور رام پرشاد بسمل کی دوستی نے ہندوستان کی تحریک آزادی میں ایک نئی تاریخ لکھ دی۔ دونوں ہندو مسلم ایکتا کے حامی تھے اور دونوں نے ایک ساتھ مل کر برطانوی غلامی کی زنجیریں کاٹنے کے لیے دار و رسن کی بھی پرواہ نہیں کی اور انگریزوں کے ظلم و استبداد کے خلاف ایسی آواز بلند کی کہ یہ ہر محب وطن ہندوستانی کی آواز بن گئی اور اس اجتماعی آواز کی وجہ سے ہمارے ملک کو آزادی جیسی بڑی نعمت نصیب ہوئی۔

آج بھی ہمارا ملک ان شہیدانِ وطن کو یاد کرتا ہے کہ انہی کی قربانیوں نے ہمیں انگریز سامراج کی غلامی سے نجات دلائی۔ وطن پر مٹنے والوں کے نشان کبھی ختم نہیں ہوتے۔ ان کے جسم مرجاتے ہیں مگر ان کی روحیں زندہ رہتی ہیں۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

* پروفیسر ارتضیٰ کریم ، ڈائرکٹر قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی، FC33/9، جسولہ انسٹی ٹیوشنل ایریا، نئی دہلی 110025

Follow and like us:

Leave a Reply

You have to agree to the comment policy.

Ad

NEWS IN HINDI

बिहार: शरद गुट ने नीतीश की जगह छोटू भाई वसावा को JDU का अध्यक्ष बनाया

जनता दल यूनाइटेड (जदयू) के शरद यादव खेमे ने ...

तस्लीम उद्दीन की मौत बिहार की अक़लियती सियासत का अज़ीम सानेहा

सेराज अनवर अररिया के सांसद और पूर्व केंद ...

मुस्लिम पर्सनल लॉ बोर्ड, ‘फर्जी मौलानाओं’ को बेनक़ाब करेगा

आज कल टीवी पर बहुत सारे मौलाना दिख रहे हैं, ...

Ad
Ad
Ad

SPORTS

Govt approves Revamped Khelo India Programme

AMN / PIB The Union Cabinet chaired by the Prime Minister Narendra Modi today approved the revamped Khelo Ind ...

AFC U-23: 11 players summoned to preparatory camp

  Harpal Singh Bedi / New Delhi Eleven players who represented the country in the AFC U-23 Qualifie ...

Ad

Archive

September 2017
M T W T F S S
« Aug    
 123
45678910
11121314151617
18192021222324
252627282930  

OPEN HOUSE

Mallya case: India gives fresh set of documents to UK

AMN India has given a fresh set of papers to the UK in the extradition case of businessman Vijay Mallya. Ex ...

@Powered By: Logicsart

Help us, spread the word about INDIAN AWAAZ

RSS
Follow by Email
Facebook
Facebook
Google+
http://theindianawaaz.com/%D8%B4%DB%81%DB%8C%D8%AF%D9%90-%D9%88%D8%B7%D9%86-%D8%B1%D8%A7%D9%85-%D9%BE%D8%B1%D8%B4%D8%A7%D8%AF-%D8%A8%D8%B3%D9%85%D9%84/">