Ad
FreeCurrencyRates.com

इंडियन आवाज़     14 Nov 2018 06:37:08      انڈین آواز
Ad

سپریم کورٹ کا فیصلہ: باہمی رضامندی سے ہم جنس پرستی جرم نہیں

SC
سپریم کورٹ کی پانچ ججوں کی بینچ نے ہم جنس پرستی کو جرم کے زمرے سے باہر کر دیا ہے۔

سپریم کورٹ کی پانچ ججوں کی بینچ نے ہم جنس پرستی کو جرم کے زمرے سے باہر کر دیا ہے۔ سیکشن 377 پر فیصلہ سناتے ہوئے چیف جسٹس دیپک مشرا نے کہا کہ سماجی اخلاقیات کی آڑ میں دوسروں کے حقوق کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں کہا ہے کہ دو بالغ افراد کے درمیان باہمی رضامندی سے بنائے گئے تعلق کو جرم کے زمرے میں نہیں رکھا جا سکتا۔ اس معاملہ میں چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس روهنگٹن ایف نریمن، جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس اندو ملہوترا نے الگ -الگ لیکن رضامندی کا فیصلہ سنایا۔ یہ عرضیاں نوتیج جوهار اور دیگر نے دائر کی تھیں۔ ان درخواستوں میں دفعہ 377 کو چیلنج کیا گیا تھا۔

چیف جسٹس آف انڈیا دیپک مشرا کی صدارت والی پانچ ججوں کی آئینی بینچ نے ہم جنس پرستوں کے حقوق کے کارکنوں سمیت مختلف فریقوں کو سننے کے بعد 17 جولائی کو اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔

دفعہ 377 پر فیصلہ سناتے ہوئے چیف جسٹس دیپک مشرا نے کہا کہ ” ہمیں ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کرنا چاہئے اور انسانیت دکھانی چاہئے اور یہ بھی کہا کہ پرانے خیال کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ سماج کی سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے”۔

چیف جسٹس دیپک مشرا نے کہا کہ ہم جنس پرستوں کو برابر کے حقوق ملنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم جنس پرستوں کو عزت کے ساتھ جینے کا حق ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پرانا حکم صحیح نہیں

تھا۔ وقت کے ساتھ قانون کو بدلنا چاہئے۔

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) نے کہا ہے کہ ہم جنس پرستی جرم نہیں هونے کے باوجود غیر فطری عمل ہے اور سنگھ ایسے تعلقات کو فروغ نہیں دیتا ہے۔

ہم جنس پرستی پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بارے میں پوچھے جانے پرآر ایس ایس کے آل انڈيا پرچارک ارون کماراسے غیر فطری عمل بتایا۔

ہم جنس پرستی جرم تو نہیں مگرغیر فطری عمل، ہم اس طرح کے تعلقات کو فروغ نہیں دیتے: آرایس ایس
آرایس ایس کارکنان ٹریننگ کے دوران: فائل فوٹو

انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ “سپریم کورٹ کی طرح ہم بھی ایسے تعلقات کو جرم نہیں سمجھتے ہیں۔ تاہم ہم جنس پرستی اوران کے تعلقات فطری نہیں ہیں اورنہ ہی ہم اس قسم کے تعلقات کو فروغ دیتے ہیں”۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے آج ہی دو بالغوں کے درمیان باہمی رضامندی سے ہم جنس پرستی کے تعلقات کو جرم کے زمرے سے باہر کر دیا ہے۔ چیف جسٹس دیپک مشرا کی صدارت والی پانچ رکنی آئینی بنچ نے ایک متفقہ فیصلے میں تعزيرات ہند کی دفعہ 377 کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کو قبل کرتے ہوئے ہم جنسی پرستی کو جرم کے زمرے سے باہر کردیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Ad
Ad
Ad

MARQUEE

US school students discuss ways to gun control

             Students  discuss strategies on legislation, communities, schools, and mental health and ...

3000-year-old relics found in Saudi Arabia

Jarash, near Abha in saudi Arabia is among the most important archaeological sites in Asir province Excavat ...

Ad

@Powered By: Logicsart