FreeCurrencyRates.com

इंडियन आवाज़     29 Apr 2017 11:02:03      انڈین آواز

دنیا میں صرف آٹھ ارب پتیوں کی دولت ٣ ارب ٦٠کروڑ انسانوں کی دولت کے برابر

دنیا میں صرف آٹھ ارب پتیوں کی دولت ٣ ارب ٦٠کروڑ انسانوں کی دولت کے برابر
ڈیووس / سوئٹزرلینڈ

بین القوامی فلاحی تنظیم آکسفیم کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ دنیا میں صرف 8ارب پتی افراد اتنی زیادہ دولت کے مالک ہیں جتنی کہ 3.6ارب انسانوں (دنیا کی آدھی آبادی )کے پاس ہے جبکہ ہندوستان میں صرف 57ارب پتیوں کے پاس اتنی ہی دولت(216ارب ڈالر) ہے جتنی پورے ملک کی 70فیصد آبادی کے پاس ہے۔

worlds-richest-pplبرطانوی ادارے آکسفیم نے امیر اور غریب کے فرق پر تازہ رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق صرف 8لوگوں کے پاس اتنی دولت ہے جو دنیا کے 3ارب 60کروڑ افراد کے برابر ہے، آکسفیم کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ارتکاز دولت کی وجہ سے دنیا سے غربت کے خاتمے کی کوششیں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں، ملٹی نیشنل کمپنیاں اور ارب پتی ٹیکس چوری کرتے ہیں جبکہ غریبوں کو دی جانے والی مراعات کم کر دی جاتی ہیں۔ امیر، غریبوں کا استحصال کر کے امیر تر ہو رہے۔ رپورٹ کے مطابق عدم مساوات کی وجہ سے مغرب میں سیاسی تحریکیں اٹھ رہی ہیں۔ برطانیہ کا یورپی یونین سے اخراج اور ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابات میں جیت اس کا ثبوت ہیں۔ میڈیا کے مطابق یہ رپورٹ سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں پیش کیا گیا ہے .آکسفیم نے اپنی رپورٹ کی تیاری میں 2016ء میں جاری کی گئی ارب پتیوں کی فہرست سے بھی استفادہ کیا ہے،اس فہرست کے مطابق دنیا کے امیر ترین انسان مائیکروسافٹ کے بانی بِل گیٹس ہیں جن کی دولت کا اندازہ 75ارب ڈالر لگایا گیا ہے، دیگر امیر ترین شخصیات میں انڈی ٹیکس کے بانی امانسیو اورٹیگا، وارن بفٹ، ایمیزون کمپنی کے سربراہ جیف بیزوس، فیس بْک کے بانی مارک زکربرگ، اوریکل کمپنی کے مالک لیری ایلیسن اور نیویارک کے سابق میئر بلْوم برگ بھی شامل ہیں۔آکسفیم انٹرنیشنل کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ دنیا میں غربت اور امارت میں تضاد خطرناک حدوں کو چھو رہا ہے،دنیا کے ہر دس انسانوں میں سے ایک کو محض دو ڈالر روزانہ سے بھی کم میں زندگی بسر کرنا پڑ رہی ہے جو شرمناک
شش
غربت کے خاتمے کے لیے سرگرم عمل اس تنظیم کا یہ جائزہ پیر سولہ جنوری کو جاری کیا گیا ہے۔ اس جائزے کے مطابق دنیا کے امیر ترین افراد اور عالمی آبادی کے غریب ترین نصف حصے کے درمیان خلیج اُس سے بھی زیادہ وسیع ہے، جتنا کہ اب تک خیال کیا جا رہا تھا۔
یہ جائزہ سوئٹزرلینڈ کے تفریحی مقام ڈیووس میں پیش کیا گیا ہے، جہاں عالمی اقتصادی فورم کا سینتالیس واں سالانہ اجتماع ہوا رہے گا۔ دنیا بھر کے چوٹی کے سیاسی اور کاروباری نمائندوں کے اس اجتماع کے موقع پر اس تنظیم کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ دنیا کے امیر اور غریب انسانوں کے درمیان خلیج ایک سال پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑی ہو چکی ہے اور یہ کہ عالمی رہنماؤں کو اس خلیج کو کم کرنے کے لیے محض زبانی جمع خرچ سے کہیں زیادہ آگے جا کر ٹھوس اور مؤثر اقدامات کرنے چاہییں۔
آکسفیم کے مطابق اگر بر وقت عملی اقدامات نہ کیے گئے تو عدم مساوات کے خلاف عوامی غم و غصہ بڑھنے کا عمل جاری رہے گا اور سیاسی نظام کو تہ و بالا کر دینے والے اُس طرح کے واقعات زیادہ تعداد میں دیکھنے میں آئیں گے، جیسے کہ مثلاً امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر منتخب ہونے کی صورت میں یا پھر برطانیہ میں منعقدہ ریفرنڈم میں یورپی یونین کو چھوڑ دینے کے حق میں آنے والے فیصلے کی صورت میں دیکھنے میں آئے ہیں۔

’’شرم ناک بات ہے کہ دنیا کے ہر دس انسانوں میں سے ایک کو محض دو ڈالر روزانہ سے بھی کم میں زندگی بسر کرنا پڑ رہی ہے‘‘
یہ جائزہ پیش کرتے ہوئے آکسفیم انٹرنیشنل کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر وِنّی بیانیما نے، جو ڈیووس کے اجتماع میں شرکت کر رہی ہیں، کہا:’’صرف چند ہاتھوں میں اتنی زیادہ دولت کا ہونا اس حقیقت کے تناظر میں شرمناک ہے کہ دنیا کے ہر دس انسانوں میں سے ایک کو محض دو ڈالر روزانہ سے بھی کم میں زندگی بسر کرنا پڑ رہی ہے۔ عدم مساوات لاکھوں انسانوں کو غربت کی دلدل میں دھکیل رہی ہے، یہ ہمارے معاشروں میں شگاف ڈال رہی ہے اور جمہوریت کی جڑیں کمزور کر رہی ہے۔ ‘‘

جہاں اس سال کی رپورٹ میں سوئس بینک کریڈٹ سوئس سے حاصل ہونے والی معلومات کی روشنی میں یہ کہا گیا ہے کہ آٹھ ارب پتیوں کے پاس اتنی دولت ہے، جتنی 3.6 ارب انسانوں کے پاس ہے، وہاں گزشتہ سال کی رپورٹ میں یہ کہا گیا تھا کہ امیر ترین باسٹھ شخصیات اُتنی دولت کی مالک ہیں، جتنی کہ غریب ترین آدھی عالمی آبادی کے پاس ہے۔

آکسفیم نے اپنے جائزے کی تیاری میں جریدے ’فوربز‘ کی ارب پتیوں کی اُس فہرست سے بھی استفادہ کیا ہے، جو مارچ 2016ء میں جاری کی گئی تھی۔ اس فہرست کے مطابق کرہٴ ارض کے امیر ترین انسان مائیکروسوفٹ کے بانی بِل گیٹس ہیں، جن کی دولت کا اندازہ پچھتر ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ دیگر امیر ترین شخصیات میں فیشن ہاؤس Inditex کے اسپین سے تعلق رکھنے والے بانی امانسیو اورٹیگا، مالیاتی شعبے کی سرکردہ شخصیت وارن بفٹ، امیزون کمپنی کے سربراہ جیف بیزوس، فیس بُک کے خالق مارک ذکربرگ، اوریکل کمپنی کے مالک لیری ایلیسن اور نیویارک کے سابق میئر بلُوم برگ بھی شامل ہیں۔

آٹھ امیر ترین شخصیات میں شامل وارن بفٹ 2006ء میں امیر ترین شخص بِل گیٹس اور اُن کی اہلیہ میلنڈا کی فاؤنڈیشن کے لیے چوالیس ارب ڈالر کے عطیے کا اعلان کرتے ہوئےآکسفیم نے معاشروں میں عدم مساوات کے خاتمے کے لیے دولت مندوں سے زیادہ ٹیکس وصول کرنے، عوامی خدمات اور روزگار کے شعبے میں زیادہ سرمایہ کاری، ورکرز کے لیے اچھی اُجرتوں اور تنخواہوں کے معاملے میں حکومتوں کے درمیان زیادہ قریبی اشتراکِ عمل اور امیروں کی ٹیکس چوری کو روکنے جیسی تجاویز پیش کی ہیں۔

Ad
Ad
Ad

SPORTS

Pankaj Advani reaches semifinals of Asian Snooker Championship

Top Indian cueist Pankaj Advani reached the semifinals of the Asian Snooker Championship in Doha today. Advani ...

Zero Tolerance policy to eliminate scourge of doping : Vijay Goel

Harpal Singh Bedi / New Delhi Union sports minister Vijay Goel Thursday stressed the need for a Zero Tolera ...

Ad

Archive

April 2017
M T W T F S S
« Mar    
 12
3456789
10111213141516
17181920212223
24252627282930

OPEN HOUSE

NEPAL TRAGEDY: PHOTO FEATURE

[caption id="attachment_30524" align="alignleft" width="482"] The death toll from Saturday's deadly 7.9 magnit ...

@Powered By: Logicsart