FreeCurrencyRates.com

इंडियन आवाज़     17 Dec 2017 11:43:24      انڈین آواز
Ad

خونی تصادم کے چھ سال بعد بھی اسد اقتدار پرقابض، شام تباہ حال

WEB DESK

ملک شام میں خونی تصادم کے آغاز کے چھ سال بعد اسد حکومت کو اب جنگی محاذوں پر کچھ کامیابی تو مل رہی ہے لیکن وہ جنگ ابھی بھی ختم ہوتی نظر نہیں آتی، یہ جنگ لاکھوں انسانوں کی جان لے چکی ہے ملک کے بیشتر حصّہ کو کھنڈر بنا چکی ہے۔

syria-conflictخبر رساں ادارے روئٹرز نے اپنے ایک تفصیلی تجزیے میں لکھا ہے کہ اس کئی سالہ خانہ جنگی کے دوران ماضی میں چند برس ایسے بھی رہے ہیں، جب شامی صدر بشارالاسد پر شدید تنقید کرنے والے کئی علاقائی اور مغربی ملکوں کے رہنما یہ کہتے نہیں تھکتے تھے کہ مستقبل کے شام میں اسد کا کوئی کردار نہیں ہو گا اور انہیں اقتدار سے علیحدہ ہونا ہی پڑے گا۔

بشارالاسد کی اقتدار پر گرفت چند سال پہلے کے مقابلے میں آج دوبارہ قدرے مضبوط ہو چکی ہے
لیکن اب کافی عرصے سے شام میں جنگی صورت حال اور عسکری توازن مسلسل بدل رہے ہیں اور حالات بشار الاسد کے حق میں بہتر ہوتے نظر آ رہے ہیں۔
اس خونریز تنازعے کی ابتدا کے چھ سال بعد آج بشار الاسد کی اقتدار پر گرفت پہلے کی نسبت کچھ مضبوط ہے اور شام کے کئی علاقے بھی دوبارہ حکومتی دستوں کے کنٹرول میں آ چکے ہیں۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ مشرق وسطیٰ کی اس ریاست میں جنگ ختم ہو گئی ہے یا جنگ کے اثرات اب دیکھنے میں نہیں آتے۔ شام کئی سالہ لڑائی، گولہ باری اور فضائی بمباری سے جتنا بھی تباہ ہوا ہے، اس تباہی کا دائرہ روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔
نتیجہ یہ کہ بالکل کھنڈر بن چکا یہ ملک آج کئی حصوں میں بٹا ہوا ہے، جن پر حکومتی دستوں، اسد مخالف باغیوں، وار لارڈز، مغرب کے حمایت یافتہ شامی ملیشیا گروپوں اور داعش کے جہادیوں سمیت بہت سے دھڑے قابض ہیں۔

روئٹرز نے لکھا ہے کہ بہت کم غیر جانبدار مبصرین کا خیال ہے کہ شامی خانہ جنگی عنقریب ختم ہو جائے گی۔ اس سے بھی کم تعداد میں تجزیہ کار یہ کہتے ہیں کہ اسد حکومت کو دوبارہ پورے ملک پر کنٹرول حاصل ہو جائے گا۔

شام کے مختلف حصوں پر کئی مختلف فوجی، باغی، شدت پسند اور جہادی گروپوں کا قبضہ ہے
ان حالات میں یہ بات تقریباﹰ مسلمہ ہے کہ شامی تنازعے میں مختلف بیرونی طاقتوں کے طور پر جتنے بھی ملک براہ راست یا بالواسطہ فریق بن چکے ہیں، ان کی اکثریت اب بظاہر اس حقیقت کو تسلیم کر چکی ہے کہ انہیں اسد کے آئندہ بھی اقتدار میں رہنے کی تلخ حقیقت کے ساتھ سمجھوتہ کرنا ہی پڑے گا۔
اس سے بھی زیادہ پریشان کن سچ یہ ہے کہ کسی کو بھی یہ امید نہیں کہ شام میں قیام امن کے لیے سبھی دھڑوں کی حمایت سے کوئی ایسا دیرپا اور نتیجہ خیز معاہدہ طے پا سکے گا، جس کے سبب بے تحاشا

شامی تنازعے کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ شام میں قیام امن سے متعلق حکومت، اپوزیشن، اقوام متحدہ، امریکا، اور حال ہی میں ترکی، روس اور ایران کی طرف سے کی جانے والی مجموعی طور پر کئی سالہ کوششوں کا کوئی ایسا مثبت یا طویل المدتی نتیجہ نہیں نکلا، جو یہ امید دلا سکے کہ اس ملک کا تباہی کے بجائے واپس امن کے راستے پر سفر شروع ہو گیا ہے۔

شامی شہر حلب کی ایک تازہ تصویر، جسے حکومتی دستوں نے حال ہی میں عسکریت پسندوں کے قبضے سے چھڑا لیا تھا
شام میں امریکا کے ایک سابق سفیر رابرٹ فورڈ کے مطابق حقیقت پسندانہ طور پر دیکھا جائے تو یہ بات ظاہر ہے کہ اسد اقتدار چھوڑ کر کہیں نہیں جا رہے، ’’خاص طور پر حلب پر حکومتی دستوں کے دوبارہ قبضے کے بعد تو اس کی کوئی امید نہیں ہے۔‘‘
خود بشار الاسد بھی اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہہ چکے ہیں کہ شامی خانہ جنگی کے دوران 2012ء اور 2013ء سب سے مشکل ترین سال تھے، ’’اگر ہم نے تب اپنی رخصتی کا کبھی نہیں سوچا تھا تو اب ہم ایسا کیسے سوچ سکتے ہیں؟‘‘
انسانی حوالے سے شامی خانہ جنگی کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ یہ تنازعہ اب تک قریب سوا تین لاکھ انسانوں کی جانیں لے چکا ہے، کئی ملین شہری اندرون ملک مہاجر بن چکے ہیں اور مجموعی طور پر کئی ملین دیگر شامی باشندے خطے کی متعدد ہمسایہ ریاستوں سے لے کر مختلف یورپی ممالک تک میں پناہ لے چکے ہیں اور انسانی ہلاکتوں، مصائب اور مہاجرت کا یہ سلسلہ ابھی جارے رہے گا۔

Follow and like us:
20

Leave a Reply

You have to agree to the comment policy.

Ad

SPORTS

African champion Ernest Amuzu promises to stop Vijender in his track

HARPAL SINGH BEDI / New Delhi African Champion Ernest Amuzu on Friday promised to stop India's star boxer V ...

P V Sindhu storms into final in BWF Dubai World Super Series Finals

Olympic silver-medallist P V Sindhu has stormed into final of women's singles in the BWF Dubai World Super Ser ...

Ad
Ad
Ad
Ad

Archive

December 2017
M T W T F S S
« Nov    
 123
45678910
11121314151617
18192021222324
25262728293031

OPEN HOUSE

Mallya case: India gives fresh set of documents to UK

AMN India has given a fresh set of papers to the UK in the extradition case of businessman Vijay Mallya. Ex ...

@Powered By: Logicsart

Help us, spread the word about INDIAN AWAAZ