FreeCurrencyRates.com

इंडियन आवाज़     21 Nov 2017 05:58:22      انڈین آواز
Ad

جی ایس ٹی اتنا ضروری کیوں؟

جی ایس ٹی کا نفاذ ہندوستان کے ٹیکس نظام ٹیکس نظام کی پوری تصویر کو بدل کر دے گا

Launch of GST

عندلیب اختر / نئی دہلی۔-

سامان اور خدمات ٹیکس( جی ایس ٹی) ایک تاریخی ٹیکس اصلاحات کا عمل ہے جو یکم جولائی 2017 سے نافذ العمل ہو گیا ہے اب ملک میں بالواسطہ ٹیکس نظام کی پوری تصویر کو بدل کر رکھ دے گا۔ اس میں مرکز ی اور ریاستی دونوں ٹیکس شامل ہوں گے۔ عام معمول سے بالکل ہٹ کر جی ایس ٹی کا انتظام و انصرام مرکز اور ریاست دونوں ملکر کریں گے
اس تاریخی موقع کو یادگار بنانے کے لئے 30جون۔ یکم جولائی2017 کے نصف شب میں پارلیمنٹ کے سینٹرل ہال میں ایک شاندار تقریب کاانعقاد کیا گیا ۔ اس موقع صدرجمہوریہ ہند، نائب صدر جمہوریہ ہند، وزیراعظم، لوک سبھا کی اسپیکر اور مرکزی وزیر خزانہ سمیت متعدد معزز شخصیات موجود تھیں –

آزادی کے بعد سب سے بڑے ٹیکس اصلاحات کا عمل جی ایس ٹی سے ایک ملک۔ ایک ٹیکس۔ ایک بازار کے مقصد کو پورا کرنے کے لئے راہ ہموار ہوگی۔ جی ایس ٹی سے انڈسٹری ، حکومت اور صارفین سمیت تمام شراکت داروں کو فائدہ حاصل ہوگا۔ اس سے سامان اور خدمات کی لاگت میں کمی آئے گی۔ معیشیت کو فروغ حاصل ہوگا اور مصنوعات اور خدمات کو عالمی سطح پر مسابقتی  بنائے گا۔ علاوہ ازیں اس سے ’’میک انڈیا‘‘پہل کو بڑی تحریک ملے گی۔

جی ایس ٹی نظام کے تحت برآمدات مکمل طور سے زیرورٹیڈ ہوں گی، موجودہ نظام کے بالکل برعکس جہاں بعض ٹیکسوں کی واپسی ریاستوں اور مرکز کے درمیان بالواسطہ ٹیکسوں کی مختلف نوعیت کے سبب ممکن نہیں ہوپاتی ہے۔ جی  ایس ٹی ہندوستان کو ایک عام ٹیکس شرح اور طریقہ کار کے ساتھ ایک مشترک بازار بنادے گا۔ علاوہ ازیں یہ اقتصادی رکاوٹوں کو دور کردے گا۔ جی ایس ٹی بڑے پیمانے پر ٹیکنالوجی پر مبنی ہے اور بڑی حد تک یہ انسانی مداخلت  کو کم کردے گا۔ امکان ہے کہ جی ایس ٹی سے ہندوستان میں آسان تجارت کے عمل  میں بہتری آئے گی۔

 زیادہ تر سامان کی سپلائی میں جی ایس ٹی کونسل کے ذریعہ منظور شدہ ٹیکس، مرکز اور ریاستوں کے ذریعہ عائد کردہ موجودہ مشترکہ بالواسطہ ٹیکس شرحوں(سنٹرل ایکسائز محصول کی شرح، مضمراتی سنٹرل ایکسائز ٹیکس شرح، مضمراتی کلیئرنس کے بعد سروس ٹیکس، ویٹ کی شرح، سی ایس ٹی کے اکاؤنٹ پر ایکسائزڈ ڈیوٹی اور ٹیکس واقع پر وسیع ویٹ، داخلہ ٹیکس وغیرہ )سے نہایت کم ہے۔

آئینی ترمیم ایکٹ 2016 کے بعد جی ایس ٹی کا سفر

8ستمبر2016 کو عزت مآب صدرجمہوریہ ہند کی منظوری کے بعد101 واں آئینی ترمیم ایکٹ 2016 وجود میں آیا۔ بعدازاں 15ستمبر 2016 کو جی ا یس ٹی کونسل کاقیام عمل میں آیا۔

ستمبر 2016 میں اپنے قیام کے بعد سے جی ایس ٹی کونسل نے کل  18میٹنگوں کاانعقاد کیا۔ ان میٹنگوں میں تمام ریاستوں کے وزرائے خزانہ اور ان کے مندوبین نے اپنے ریاستی اور مرکزی سرکاری افسران کے ساتھ شرکت کی اور اس تاریخی ٹیکس اصلاح کو نافذ کرنے کے لئے ضروری قانون اور ضابطے بنائے۔ یہ بہت بڑا کام تھا۔ اس عمل میں27000 سے زائد انسانی محنت کے گھنٹے اور شدید محنت شامل رہی۔ جی ایس ٹی کے جلد نفاذ کے لئے مرکز اور ریاستوں کے افسران نے ملک کے مختلف حصوں میں200 سے زائد میٹنگیں کیں۔

جی ایس ٹی قوانین اور ضوابط کو وضع کرتے ہوئے ٹیکس دہندگان کے لئے تجارت کو مزید آسان بنانا کلیدی اہمیت کا حامل رہا۔ اس کے مطابق  مرکزی  اور ریاستی حکومتوں کی ذمہ داریوں اور کرداروں کو واضح کیاگیا۔ بیحد کم مدت میں جی ا یس ٹی کونسل نے جی ایس ٹی قوانین، جی ایس ٹی ضابطوں، ٹیکس کی شرح کے خاکے بشمول معاوضہ محصول، مختلف ٹیکس شرحوں میں سامان اور خدمات کی درجہ بندی ، ٹیکس میں چھوٹ، ٹیکس کی حد اور ٹیکس انتظامیہ کی ساخت پر مشتمل پورے عمل کو  مکمل کیا۔

جی ایس ٹی کونسل کے تمام فیصلے اتفاق رائے سے لئے گئے ہیں۔ جی ایس ٹی کے قوانین اور ضابطوں کو وضع کرتے وقت تجارت اور صنعت بشمول دیگر اہم شراکت داروں کے ساتھ وسیع صلاح و مشورہ کیا گیا۔ جی ایس ٹی قوانین اور ضوابط کے مسودے کو ویب سائٹ پر ڈال کر لوگوں سے فیڈبیک حاصل کئے گئے۔ علاوہ ازیں عوام سے اس کے بارے میں آراء اور تجاویز  طلب کی گئیں۔

29 مارچ 2017 کو وزیرخزانہ نے مرکزی سامان اور خدمات ٹیکس( جی ایس ٹی) ، بل 2017 ، سامان اور خدمات مربوط ٹیکس( آئی جی ایس ٹی)بل 2017، مرکزکے زیر انتظام علاقوں کے لئے سامان اور خدمات ٹیکس( یو ٹی جی ایس ٹی)،بل2017 اور جی ایس ٹی( ریاستوں کےلئے معاوضہ)، بل2017 کے نام سے سامان اور خدمات ٹیکس جی ایس ٹی چار بل کو  لوک سبھا میں پیش کیا۔اس بل کو لوک سبھا نے29مارچ2017کو منظوری دی جبکہ اس کو  راجیہ سبھا کے ذریعے 6اپریل2017 کو منظوری دی گئی۔جی ایس ٹی کونسل نے  جی ایس ٹی کے حتمی شکل کو درج ذیل طریقے سے منظوری دی ہے:

1۔ریاستوں کےلئے جی ایس ٹی ٹیکس سے چھوٹ کی حد بیس لاکھ روپئے ہے۔ اس کے علاوہ خصوصی زمرے ہیں جہاں اس کی حد 10 لاکھ روپئے ہے۔

2۔ جی ایس ٹی کے لئے 5 فیصد،   12فیصد، 18 فیصد اور 28 فیصد پر مشتمل چار قسم کے ٹیکس سلیب بنائے گئے ہیں۔

3۔مخصوص سامانوں مثلاً لگزری کار،ٹھنڈے مشروبات، پان مسالہ اور تمباکو پر وڈکٹس پر ریاستوں کو معاوضہ کی ادائیگی کے لئے28فیصد کی شرح سے جی ایس ٹی کے اوپرمحصول لگایا جائے گا۔

4۔کمپوزیشن اسکیم کے تحت رقم حاصل کرنے کی حد 75 لاکھ روپئے ہے۔ اس کو سہ ماہی طریقہ سے ادا کرنے کی ضرورت ہوگی۔ مخصوص زمرے کے مینو فیکچرر، خدمات مہیا کرانے والے (ریسٹورینٹ کے علاوہ) کمپیوزیشن اسکیم سے باہر ہیں۔

جی ایس ٹی کے دیگر اہم نکات

  • جی ایس ٹی کے تحت اس بات کی تجویز رکھی گئی ہے کہ تمام تر سودے اور متعلقہ امور، صرف الیکٹرانک طریقہ کار کے ذریعہ ہی انجام دیئے جائیں تاکہ ایک صاف و شفاف انتظامیہ اور ہر طرح کی ٹیکس چوری سے بچا جاسکے۔ اس کے نتیجے میں ٹیکس دہندگان کو ٹیکس کے محکمے سے وابستہ افسروں سے ذاتی طور پر کم سے کم رابطہ کرنا ہوگا۔
  • جی ایس ٹی کے تحت یہ بھی انتظام کیا گیا ہے کہ خود کار طور پر ماہانہ ریٹرن اور سالانہ ریٹرن داخل کئے جاسکیں۔
  • جی ایس ٹی کے تحت یہ بھی انتطام کیا گیا ہے ٹیکس دہندگان کو 60 دنوں کے اندر ان کا ریفنڈ مل سکے اور 90 فیصد ریفنڈ برآمد کاروں کو 7 دنوں کے اندر اندر حاصل ہوجائے۔ دیگر سہولتوں میں جو اقدامات شامل ہیں ان میں ریفنڈ بروقت منظور نہ ہونے کی شکل میں اس ریفنڈ پر سود کا فائدہ اور ریفنڈ براہ راست متعلقہ بینک کھاتے میں ارسال کئے جانے کا انتظام۔
  • موجودہ ٹیکس دہندگان کو جی ایس ٹی کے اس نئے نظام کے تحت لین دین کرنے میں آسانی فراہم کرنے کی غرض سے جامع تغیراتی تجاویز، دستیاب اسٹاک وغیرہ پر قرض کی سہولت۔
  • صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لئے ایسا انتظام جس کے تحت فروخت کار زیادہ غیر ضروری منافع نہ کما سکیں۔

جی ایس ٹی نیٹ ورک کا رول(جی ایس ٹی این)۔ آئی ٹی  ، جی ایس ٹی کی ریڑھ کی ہڈی ہے

جی ایس ٹی این کی تشکیل  پرائیویٹ  لمیٹیڈ کمپنی سے متعلق دفعہ 25 کے طور پر کی گئی ہے اور اس کا کلیدی کنٹرول حکومت کے تحت ہوگا اور یہ ٹیکس دہندگان کے لئے ایک مشترکہ وسیلے کے طور پر کام کرے گی۔ اس کامن پورٹل پر ٹیکس دہندگان اپنے رجسٹریشن اور درخواستیں، فائل نمبر اور ریٹرن داخل کریں گے، ادائیگیاں کریں گے اور ریفنڈ کا دعوی بھی پیش کریں گے۔جی ایس ٹی این کو ایک مضبوط آئی ٹی پلیٹ فارم فراہم کرایا گیا اور یہ 80 لاکھ ٹیکس دہندگان کوایک واجب ذریعہ فراہم کرے گی،ساتھ ہی ساتھ ہزاروں ٹیکس افسروں کو بھی  آسانی فراہم کرے گی۔ جی ایس ٹی کے تحت تمام تر فائلنگ الیکٹرانک طریقہ کار کے تحت ہوگی۔ جہاں ایک طرف جی ایس ٹی این ایک نمایاں چیز ہے وہیں اس کے پس منظر میں سی بی ای سی کا آئی ٹی نظام  بھی کارفرما ہوگا اور مختلف ریاستیں جی ایس ٹی این کے آئی ٹی نیٹ ورک سے مربوط ہوں گی جس کے توسط سے ٹیکس دہندگان کے لئے ایک سرے سے دوسرے سرے تک ایک مضبوط اور سیدھا پروسیسنگ ذریعہ فراہم ہوسکے گا۔64 ہزار ملازمین کو ماہ فروری سے جون 2017 کے دوران جی ایس ٹی پورٹل کے سلسلے میں تربیت دی گئی ہے۔ جی ایس ٹی این، آئی ٹی نظام پر باقاعدگی سے تجربات کئے گئے ہیں۔ اس کی کارکردگی کا بھی امتحان لیا گیا ہے۔ اس پر کن امور کا اثر پڑتا ہے، اسے بھی پرکھا گیا ہے، سکیورٹی اور دیگر ضابطہ جاتی تجربات اور جانچ بھی کی گئی ہے۔

ریاستی ٹیکس انتظامیہ اور آبکاری اور کسٹم کا مرکزی بورڈ موجودہ ٹیکس دہندگان کو باقاعدہ شمار کے تحت لا رہا ہے  تاکہ یہ تمام ٹیکس دہندگان جی ایس ٹی نظام کے تحت آسکیں اور یہ کام 8 نومبر 2016 شروع ہوگیا تھا۔ 66 لاکھ سے زائد ٹیکس دہندگان نے جی ایس ٹی پورٹل پر اپنے کھاتے سرگرم عمل بنالئے ہیں۔

جی ایس ٹی کا استعمال ادائیگی کے معاملے میں بھی چالو کردیا گیا ہے۔ 25 بینکوں کو جی ایس ٹی کے مشترکہ پورٹل سے مربوط کیا گیا ہے اور یہ  تمام تر 25 بینک ای۔ پیمنٹ اور اور کاؤنٹر پیمنٹ سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ این ای ایف ٹی/آر ٹی جی ایس اور کریڈٹ / ڈیبٹ کارڈ کے ذریعہ بھی ادائیگی کی سہولت فراہم کریں گے۔

جی ایس ٹی کا آؤٹ ریچ پروگرام

حکومت نے مختلف تقریبات، ورکشاپوں، میڈیا، ٹیلی ویژن کے ذریعہ عوام تک  جی ایس ٹی کی ترویج و اشاعت کے لئے اپنی جانب سے ایک رسائی پروگرام شروع کیا ہے۔سی بی ای سی کو فیلڈ فارمیشن کے عمل سے گزارا گیا ہے۔ ہر سطح پر اسے عملی بنایا گیا تاکہ یہ صنعت و تجارت سے رابطہ قائم کرسکے اور انہیں جی ایس ٹی کو اپنانے میں مدد دے سکے اور ان کے شبہات کا ازالہ کرسکے۔ سی بی ای سی کی فیلڈ اکائیاں اپنے طور پر موبائل وینوں کے توسط سے مہمات چلاتی رہی ہیں تاکہ وہ ٹیکس دہندگان اور دیگر متعلقہ افراد تک گھر گھر جاکر رابطہ قائم کرسکیں اور  انہیں جی ایس ٹی کو اپنے کے عمل میں تعاون دے سکیں نیز تغیراتی معاملات کی وضاحت بھی کرسکیں۔ مجموعی طور پر 4700 ورکشاپوں کا اہتمام ملک بھر کیا جاچکا ہے۔

ایک وسیع کثیر میڈیا مہم پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعہ چلائی گئی۔ اس سلسلے میں آؤٹ ڈور ہورڈنگ  وغیرہ بھی لگائے گئے ہیں تاکہ ٹیکس دہندگان کو اس نئے نظام کی اطلاعات مل سکیں اور دیگر متعلقہ افراد بھی آسانی کے ساتھ جی ایس ٹی کو اپنا سکیں۔

سی بی ای سی کی تنظیم نو

جی ایس ٹی کے نفاذ نے یہ بات بھی لازم کردی ہے کہ آبکاری اور کسٹم کے سنٹرل بورڈ کی تنظیم نو کی جائے تاکہ جی ایس ٹی کا نفاذ ممکن ہوسکے۔اس تنظیم نو میں ڈھانچہ جاتی تبدیلیاں اور انسانی وسائل کی از سرنو تعیناتی شامل ہے۔ازسرنو تعیناتی اس لئے کی گئی ہے کہ اس نئے نظام کی رسائی دور دراز کے گوشوں تک ممکن ہوسکے۔ جی ایس ٹی کے تحت جن ڈائریکٹوریٹ کو قابل کردار ادا کرنا ہے، انہیں بھی وافر طور پر توسیع دیکر مستحکم بنایا گیا ہے۔

فیلڈ فارمیشنوں کو ازسرنو تنظیم کے بعد 21 سی جی ایس ٹی اینڈ سی ایکس زون، 107 سی جی ایس ٹی اینڈ سی ایکس کمشنریٹ، 12 ذیلی سب کمشنریٹ، 768 سی جی ایس ٹی اینڈ سی ایکس ڈویژن، 3969 سی جی ایس ٹی اینڈ سی ایکس رینج، 48 آڈٹ کمشنریٹ اور 49 اپیل کمشنریٹوں کی شکل دی گئی ہے۔

تربیت

جی ایس ٹی کی آسان ترویج و اشاعت کے لئے یہ بات لازم تھی کہ وافر پیمانے پر صلاحیت سازی کے عمل اور بیداری کے ذریعہ اسے عام کیا جائے۔ قومی اکیڈمی آف کسٹم بالواسطہ ٹیکس اور نارکوٹکس (این اے سی آئی این) نے اپنی جانب سے وسیع تربیتی پروگراموں کا اہتمام کیا۔ پہلے مرحلے میں تقریباً 52000 افسروں کو  پورے بھارت میں کثیر سطحی تربیتی پروگراموں کے ذریعہ ستمبر 2016 سے جنوری 2016 کے دوران تربیت فراہم کی گئی۔تاحال بنائے گئے قوانین، قواعد و ضوابط کے سلسلے میں ایک ریفریشر تربیت کا بھی اہتمام کیا گیا اور 23 جون 2017 تک 17213 ملازمین کو تربیت دی گئی۔ منظور شدہ جی ایس ٹی تربیتی پروگرام کے تحت 20 اداروں کو ’’منظور شدہ تربیت شراکت داروں‘‘ کے طور پر اسناد جاری کی گئی ہیں تاکہ وہ ’’واجبی لاگت پر کوالٹی کی حامل تربیت ‘‘ تجارت و صنعت کے اراکین اور دیگر شراکت داروں کو فراہم کرسکیں۔ 2565 مندوبین کو اب تک (جاری) تربیت دی جاچکی ہے۔ این اے سی آئی این نے بھی اب تک  2611 افسروں اور 92 وزارتوں/  مرکزی سرکاری دائرہ کار کے اداروں سے متعلق افراد کو تربیت فراہم کی ہے۔

اس کے علاوہ انگریزی، ہندی اور 10 علاقائی زبانوں میں 500 ایف اے کیو، جن کا تعلق جی ایس ٹی سے ہے، وہ بھی تربیتی وسائل کے طور پر جاری کئے گئے ہیں۔جی ایس ٹی سے متعلق وضاحت کے لئے مختلف موضوعات پر متعدد فلائیرس کا بھی اہتمام کیا گیا ہے جو جی ایس ٹی کے نظریات کی وضاحت کریں گےاور تجارت و صنعت تک اس کی ترویج و اشاعت کا کام انجام دیں گے۔ پی پی ٹی اور جی ایس ٹی تربیت کے لئے تدریسی ویڈیو اور دیگر تربیتی مواد جو متعلقہ ملازمین کے معاون ہوں گے، بھی جاری کئے گئے ہیں۔

سوشل میڈیا کے توسط سے خدمات کی فراہمی

حکومت نے ٹیکس دہندگان کے سوالات کو ٹھوس بنیادوں پر حل کرنے اور تشفی بخش جواب دینے کے لئے ایک ٹوئٹر سیوا شروع کی ہے۔ یہ ٹوئٹر ہینڈل جس کا نام آسک جی ایس ٹی۔ جی او آئی  ہے، روزانہ ہزاروں ٹیکس دہندگان کے سوالات متوجہ کرتی ہے۔ٹوئٹر پر اکثر و بیشتر پوچھے جانے والے سوالات پر مشتمل ایف اے کیو کی ایک فہرست بھی شائع کی گئی ہے

FOLLOW INDIAN AWAAZ

Follow and like us:
20

Leave a Reply

You have to agree to the comment policy.

Ad

NEWS IN HINDI

राहुल गांधी की ताजपोशी का असर गुजरात में दिखेगा..?

राजीव रंजन नाग / नई दिल्ली अगले चार दिसम्ब ...

अब बिहार से नेपाल के लिए ट्रेन चलेगी

  नई दिल्ली: रेलवे ने बिहार वासियों को ए ...

हार्दिक ने कांग्रेस को समर्थन का एलान किया

  नई दिल्ली : गुजरात में विधानसभा चुनाव ...

UP: अवैध गन्ना खरीद में लिप्त गन्ना माफिया जाएंगे जेल

अवैध खरीद में लिप्त पाए जाने पर चीनी मिलें ...

Ad
Ad
Ad

SPORTS

Women’s Youth Boxing Championships gets off to start in Guwahati

  The AIBA Women's Youth Boxing Championships got off to a colourful start in Guwahati today in the pr ...

Berhanu Legese and Almaz Ayana win 7 Airtel Delhi Half Marathon

HARPAL SINGH BEDI /NEW DELHI The 2017 edition of the Airtel Delhi Half Marathon lived up to its legacy of bei ...

Ad

Archive

November 2017
M T W T F S S
« Oct    
 12345
6789101112
13141516171819
20212223242526
27282930  

OPEN HOUSE

Mallya case: India gives fresh set of documents to UK

AMN India has given a fresh set of papers to the UK in the extradition case of businessman Vijay Mallya. Ex ...

@Powered By: Logicsart

Help us, spread the word about INDIAN AWAAZ

RSS99
Follow by Email20
Facebook210
Facebook
Google+
http://theindianawaaz.com/%D8%AC%DB%8C-%D8%A7%DB%8C%D8%B3-%D9%B9%DB%8C-%D8%A7%D8%AA%D9%86%D8%A7-%D8%B6%D8%B1%D9%88%D8%B1%DB%8C-%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA-%DB%81%DB%92%D8%9F">
LINKEDIN