Ad
FreeCurrencyRates.com

इंडियन आवाज़     15 Nov 2018 03:39:49      انڈین آواز
Ad

بین الا قوامی خبریں- اکتوبر ٣١

نیلز ہوگل: سابق جرمن نرس نے 100 مریضوں کو قتل کرنے کا اعتراف کر لیا

برلن،31اکتوبر( اے یوایس ) جرمنی میں ایک سابق نرس نے اعتراف کیا ہے کہ انھوں نے اپنے زیرِ نگرانی ایک سو مریضوں کو قتل کیا تھا۔41 سالہ نیلز ہوگل نے یہ اعتراف اپنے خلاف شروع ہونے والے نئے مقدمے کے آغاز پر کیا۔حکام کا کہنا ہے کہ وہ دو مختلف ہسپتالوں میں اپنی زیرِ نگرانی مریضوں کو مہلک مقدار میں ادویات دیتے تھے۔استغاثہ کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد مریضوں پر پہلے حملہ کرنا اور پھر ان کی سانسیں بحال کر کے اپنے ساتھیوں کو متاثر کرنا تھا۔نیلز ہوگال پہلے ہی اپنی زیرِ نگرانی چھ اموات کی وجہ سے عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔تازہ ترین تحقیقات کے مطابق حکام نے الزام لگایا ہے کہ نیلز نے اولڈن برگ میں 36 اور ڈلم ہورسٹ میں 64 مریضوں کو 1999 سے 2005 کے دوران قتل کیا۔جب جج نے ان سے پوچھا کہ ان کے خلاف لگائے گئے الزامات درست ہیں تو ان کا کہنا تھا ’ہاں تقریباً!‘یہ موجودہ مقدمہ تقریباً مئی کے مہینے تک جاری رہے گا۔ اس میں 130 لاشوں کے بقایاجات کا سائنسی معائنہ پیش کیا جانا ہے۔برلن میں بی بی سی کے نامہ نگار جینی ہل کا کہنا ہے کہ جرمنی میں ہیلتھ حکام کے لیے یہ کیس انتہائی حساس ہے کیونکہ ان پر الزام لگایا گیا ہے کہ انھوں نے نیلز ہوگل کی کارروائیوں کو نظر انداز کیے رکھا۔تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے نیلز ہوگل نے اس سے بھی زیادہ لوگوں کو قتل کیا ہو تاہم ان کی لاشوں کو آخری رسومات کے دوران جلا دیا گیا تھا۔مرنے والوں کے لواحقین کے نمائندے کرسچن ماربغ کا کہنا ہے کہ یہ ایک سکینڈل ہے کہ ایک قاتل کو اتنے عرصے بغیر کسی سرکاری نگرانی کے چھوڑ دیا گیا اور اس نے اتنے لوگوں کو مار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ ’ہم کئی برسوں سے اس مقدمے کے لیے لڑ رہے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ ہوگل کو مزید 100 قتل کی سزا ملے گی۔‘توقع کی جا رہی تھی کہ مرنے والوں کے لواحقین کمرہِ عدالت میں بڑی تعداد میں موجود ہوں گے تاہم میڈیا کے اراکین نے نوٹس کیا کہ وہاں کئی سیٹیں خالی پڑی تھیں۔2005 میں نیلز ہوگل کو ڈلم ہورسٹ میں ایک مریض کو غیر تجویز کردہ دوا دیتے ہوئے پکڑا گیا تھا۔ انھیں 2008 میں اقدامِ قتل کے جرم میں سات سال قید کی سزا دی گئی تھی۔2014۔15 میں انھیں مزید دو قتل اور دو اقدامِ قتل کے مقدمات میں سزا دی گئی۔نیلز ہوگل کا کہنا تھا کہ وہ ’دل کی گہرائی سے معافی‘ مانگتے ہیں اور امید ظاہر کی ہے کہ لواحقین کو چین مل جائے گا۔ انھوں نے کہا تھا کہ انھوں نے یہ جرائم کرنے کے فیصلے ’سوچ سمجھ کر نہیں بلکہ موقعے پر‘ ہی کیے۔تاہم مقدمے کے دوران انھوں نے ایک ماہرِ نقسیات کے سامنے اعتراف کیا تھا کہ انھوں نے 30 لوگوں کو قتل کیا تھا۔حکام نے پھر تفتیش کا دائرہ بڑھا کر 130 لاشوں کو نکالا اور ان کے میڈیکل ریکارڈز کا جائزہ لیا۔ جرمن میڈیا کے مطابق جب نیلز ہوگل شفٹ پر ہوتے تھے تو ہسپتالوں میں اموات کا ریٹ دو گنا ہو جاتا تھا۔

آسیہ بی بی کی رہائی کا حکم، کئی شہروں میں احتجاج
اسلام آباد ،31اکتوبر( اے یوایس) پاکستان کی سپریم کورٹ نے سزائے موت کی منتظر مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو توہینِ مذہب کے الزام سے بری کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا حکم دیا ہے۔عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے کے خلاف کئی شہروں میں احتجاج کیا جارہا ہے اور کئی مقامات پر مظاہرین نے شاہراہوں پر دھرنا دے دیا ہے۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں قائم عدالتِ عظمیٰ کے تین رکنی بینچ نے آسیہ بی بی کی اپیل پر محفوظ فیصلہ بدھ کی صبح سنایا۔جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس میاں مظہر عالم خیل بھی بینچ کا حصہ تھے۔بینچ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر آسیہ بی بی کی اپیل منظور کرلی گئی ہے اور اگر وہ کسی اور مقدمے میں مطلوب نہیں تو انہیں فوری رہا کردیا جائے۔آسیہ بی بی کو نومبر 2010ء4 میں پنجاب کی ایک مقامی عدالت نے توہینِ مذہب کا الزام ثابت ہونے پر موت کی سزا سنائی تھی جسے بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ نے بھی برقرار رکھا تھا۔آسیہ بی بی نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اکتوبر 2014ء4 میں سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی جس پر عدالتِ عظمیٰ نے آٹھ اکتوبر کو مختصر سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔ان پر الزام تھا کہ وہ جون 2009 میں صوبہ پنجاب کے ضلع شیخوپورہ میں واقع اپنے گاؤں کی خواتین کے ساتھ بحث و تکرار کے دوران پیغمبر اسلام اور اسلام کی توہین کی مرتکب ہوئی تھیں۔آسیہ اس الزام سے انکاری رہی ہیں۔ وہ اپنے خلاف توہینِ مذہب کا مقدمہ درج ہونے کے بعد سے جیل ہی میں قید ہیں۔عدالتی فیصلے کے خلاف اسلام آباد کی ایک شاہراہ پر احتجاج کے باعث ٹریفک معطل ہے۔عدالتی فیصلے کے خلاف اسلام آباد کی ایک شاہراہ پر احتجاج کے باعث ٹریفک معطل ہے۔مذہبی جماعت ‘تحریکِ لیبک یا رسول اللہ’ نے عدالتی فیصلے کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کی کال دی ہے۔فیصلہ سامنے آنے کے بعد تنظیم کے کارکنوں اور مشتعل مظاہرین نے کئی شہروں میں احتجاج کیا ہے اور جس کے دوران جلاؤگھیراؤ کی بھی اطلاعات ہیں۔احتجاج کے پیشِ نظر اسلام آباد کے انتہائی حساس علاقے ریڈ زون کو کنٹینر لگا کر بند کیا جا رہا ہے۔تحریک لیبک کے کارکنوں نے راولپنڈی اور اسلام آباد کو ملانے والے فیض آباد انٹر چینج کو بھی بند کر دیا ہے اور بعض اطلاعات کے مطابق میڈیا کے نمائندوں پر بھی پتھراؤ کیا گیا ہے۔اسلام آباد کی آب پارہ چوک پر بھی تحریکِ لیبک کے کارکنوں نے راستے بند کر کے احتجاج کیا ہے۔ادھر کراچی اور لاہور میں بھی مختلف مقامات پر مذہبی جماعتوں کے کارکنوں نے ٹائر جلا کر ٹریفک بلا کر دی ہے۔لاہور کے علاقے چیئرنگ کراس پر تحریکِ لبیک کے حامی اور کارکن جماعت کے سربراہ علامہ خادم رضوی کی قیادت میں احتجاج کر رہے ہیں۔کراچی کے کئی مرکزی مقامات اور شاہراہوں پر بھی مظاہرین موجود ہیں جن کے باعث ٹریفک معطل ہوگئی ہے۔عدالت کے فیصلے کے بعد آسیہ بی بی کے وکیل سیف الملوک نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ استغاثہ ان کی مو?کلہ کے خلاف شواہد فراہم کرنے میں ناکام رہا جس کے بعد عدالت نے انھیں رہا کر دیا ہے۔انھوں نے کہا کہ آسیہ بی بی کی رہائی کے فیصلے کے بعد اْنھیں سکیورٹی خطرات کا سامنا ہے۔سیف الملوک آسیہ بی بی کے مقدمے میں بحیثیت وکیل پیش ہونے پر پہلے بھی کئی بار سکیورٹی خدشات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔دوسری جانب استغاثہ کے وکیل غلام مصطفیٰ چوہدری نے آسیہ بی بی کی رہائی کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بارے میں کہا ہے کہ وہ اس فیصلے پر نظرِ ثانی کی اپیل دائر کرنے کا حق رکھتے ہیں۔وائس آف امریکہ سے بات چیت میں وکیل غلام مصطفیٰ چوہدری نے کہا کہ تفصیلی فیصلہ پڑھنے کے بعد اپیل کی گنجائش ہوئی تو ضرور دائر کریں گے۔انھوں نے کہا کہ وہ قانون پر یقین رکھتے ہیں اور آئین و قانون کے مطابق ہی چلنا چاہتے ہیں۔

امریکی تعزیرات سے خوفزدہ ایران ترکی سے پینگیں بڑھانے لگا
واشنگٹن ،31اکتوبر ( اے یوایس) امریکی تعزیرات کی سختی سے بچنے کے لیے، ایران ترکی کی قربت کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔ترکی ایران کی تونائی کا ایک اہم گاہک ہے۔ منگل کے روز ترکی نے ایران کے خلاف تعزیرات کی مخالفت کا اعادہ کیا، جو چار نومبر سے لاگو ہوں گی۔ترک، آذری اور ایرانی وزرائے خارجہ نے کہا ہے کہ ’’ایران کے جوہری معاہدے کے معاملے پر (جسے باضابطہ طور پر ’جوائنٹ کمپریھنسو پلان آف ایکشن‘ کہا جاتا ہے)، اسلامی جمہوریہ? ایران کی جانب سے عمل درآمد کو مد نظر رکھتے ہوئے، جس کی توانائی کے بین الاقوامی ادارے نے بھی تصدیق کی ہے، ہم یکطرفہ تعزیرات کی مذمت کرتے ہیں۔ تعزیرات کے نتیجے میں ہمارے ملکوں کے درمیان تجارتی اور کاروباری ترقی کے شعبہ جات پر منفی اثر پڑے گا‘‘۔ تینوں وزرائے خارجہ نے یہ بات ایک تحریری بیان میں کہی ہے۔بیان جاری ہونے سے قبل، تینوں ملکوں کے وزرائے خارجہ نے استبول میں مذاکرات کیے۔ایران کے وزیر خارجہ، محمد جواد ظریف نے کہا ہیکہ ’’بدقسمتی سے قانون توڑنے والا ایک ملک (امریکہ) دوسرے ملک (ایران) کو سزا دینا چاہتا ہے، جو قانون کی پاسداری کر رہا ہے‘‘۔اْنھوں نے کہا کہ ’’یہ طریقہ کار عالمی نظام کے لیے سنگین نتائج مرتب کرے گا‘‘۔امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ایران پر جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہیں؛ جس بین الاقوامی سمجھوتے کے نتیجے میں ایران کے جوہری پروگرام پر کنٹرول کیا گیا؛ جب کہ ایران کی توانائی کی برآمدات کو ہدف بناتے ہوئے، خصوصی پابندیاں عائد کی جارہی ہیں۔تعزیرات کی کھل کر مخالفت کرنے میں ترکی پیش پیش ہے۔ ترکی کی ’مڈل ایسٹ ٹیکنیکل یونیورسٹی‘ کے بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر، حسین باغی کا کہنا ہے کہ ’’ایران ترکی کا ہمسایہ ہے اور وہ تعزیرات پر عمل درآمد نہیں کرے گا‘‘۔اْنھوں نے مزید کہا کہ ’’عام طور پر ترکی امریکی خارجہ پالیسی کو نہیں مانتا۔ چونکہ آپ امریکی خارجہ پالیسی کو نہیں مانتے کا یہ مطلب نہیں کہ آپ امریکہ کے خلاف ہو۔ ایران کے معاملے پر، امریکہ نے ہمیشہ ترکی کو رعایتیں دی ہیں‘‘۔ہندستان اور چین کی طرح، ترکی ایران کے تیل کا سب سے بڑا گاہک ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تینوں ملک امریکہ کی جانب سے عائد کردہ تعزیرات کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

یمنی قبائلی عمائدین کی نقل و حرکت مقیّد کرنے کے لیے حوثیوں کے اوچھے حربے
صنعاء،31اکتوبر( اے یوایس) یمن میں حوثیوں نے قبائلی عمائدین کی نقل و حرکت پر روک لگانے اور جنگجوؤں کو اکٹھا کرنے کے لیے اْن پر دباؤ ڈالنے کے لیے مزید اقدامات کیے ہیں۔میڈیا ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ جنگجوؤں کو اپنی صفوں میں شامل کرنے کے لیے حوثیوں کی جانب سے عمائدین کو ڈرانے اور دھمکانے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ذرائع کے مطابق حوثیوں کی جانب سے “جنرل اتھارٹی برائے قبائلی اْمور” کے قیام کا اعلان بھی اس مقصد کے تحت عمل میں آیا ہے۔حوثیوں کی سپریم سیاسی کونسل کے سربراہ مہدی المشاط نے قبائلی امور کے محکمے کی تشکیل نو اور اسے حوثی ملیشیا کے زیر انتظام ایک اتھارٹی میں بدل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔المشاط کی جانب سے جاری فیصلے کے تحت نئی اتھارٹی میں حوثیوں کے ہمنوا قبائل کے عمائدین کو مقرر کیا جائے گا تا کہ ان شخصیات کے پیروکاروں کو لڑائی کے محاذوں پر بھیجنے کی راہ ہموار ہو سکے۔

امریکی اسلحہ ساز کمپنیوں کے مطابق سعودی عرب کے معاہدے ویڑن 2030 کے کام آئیں گے
واشنگٹن ،31اکتوبر( اے یویس) امریکی اسلحہ ساز کمپنیوں کے متعدد عہدے داروں نے باور کرایا ہے کہ اسلحے کے معاہدوں کے حوالے سے سعودی عرب کی جانب سے معاملات کا طریقہ کار تبدیل ہو چکا ہے۔ اس تبدیلی کا مقصد مملکت کی معیشت کو فائدہ پہنچانا اور سعودی شہریوں کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہے۔سعودی عرب کو اسلحہ فراہم کرنے والے معاہدے اب محض ہتھیاروں کی درآمد تک محدود نہیں ، ویڑن 2030 پروگرام نے معاہدوں میں بنیادی حیثیت اختیار کر کے کھیل کے اصول بدل دیے ہیں۔اسلحہ سازی کی مشہور کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کی ایک اندرونی یادداشت میں توقع ظاہر کی گئی ہے کہ امریکا کے ساتھ اسلحے سے متعلق حالیہ معاہدوں سے سعودی شہری مستفید ہوں گے۔ اس دوران مملکت میں 10 ہزار ملازمتیں فراہم کی جائیں گی۔امریکی اسلحہ ساز کمپنیوں کے کئی سینئر عہدے داروں نے باور کرایا ہے کہ ریاض کے سمجھوتوں میں مقامی صں عت کی ترقی اور سعودیوں کے لیے ملازمتوں کی فراہمی پر اصرار کیا جا رہا ہے جو کہ ویڑن 2030 کے عین مطابق ہے۔سعودی عرب کے پروگرام ویڑن 2030 میں عسکری صنعت میں مقامی افرادی قوت کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔ اس کا مقصد عسکری اخراجات کے ایک حصّے کی فراہمی تک محدود نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر صنعتی سرگرمیوں اور معاون خدمات کی تلاش پر زور دیا گیا ہے۔ ان میں صنعتی ساز و سامان، کمیونی کیشن اور انفارمیشن ٹکنالوجی شامل ہے۔ویڑن پروگرام کے تحت سال 2030 تک عسکری اخراجات میں مقامی صں عت کا حصّہ 50% تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ سال 2015ء4 تک عسکری اخراجات میں مقامی صں عت کا حصّہ 2

% سے زیادہ نہیں تھا۔

داعش تنظیم اور عراقی سکیورٹی افسران کے درمیان تعلق کا انکشاف

بغداد ،31اکتوبر ( اے یوایس ) داعش تنظیم نے عراقی جیلوں میں قید اپنے بعض ارکان کی رہائی کے لیے جیلوں کے بدعنوان عراقی عہدے داران کو مالی رقوم ادا کیں۔ اس بات کا انکشاف مسلح جماعتوں کے امور کے ماہر ہشام الہاشمی نے اپنی ایک ٹوئیٹ میں کیا ہے۔عراق کے صوبے نینوی میں قیدیوں اور شہداء4 کے امور سے متعلق داعش کی کمیٹی کی جانب سے جاری ایک دستاویز میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سوسہ جیل میں قید داعش تنظیم کے ایک رکن مثنی عبدالجبار اسماعیل کی رہائی کے لیے 5000 ڈالر کی رقم کا مطالبہ کیا گیا۔ اس ڈیل میں عراقی وزارت انصاف کے دفتر کا اہل کار سلام محمد تحسین شامل تھا۔ایک دوسری دستاویز میں انکشاف ہوا ہے کہ عراقی ایڈوکیٹ علی حسین المعینی نے الناصریہ جیل میں قید شخص عامر خطاب کی رہائی کی کوشش کے لیے داعش تنظیم سے 1500 ڈالر اینٹھ لیے۔دیالی صوبے میں داعش کی انتظامیہ کی مہر لگی ایک دستاویز سے معلوم ہوا ہے کہ متعدد افسران اور وکیلوں کے واسطے 7400 ڈالر کے قریب رقم طلب کی گئی۔ یہ رقم مختلف الزامات میں داعش کے سولہ سزا یافتہ ارکان پر سے عدالتی احکامات ختم کروانے کے لیے دی گئی۔اس حوالے سے سیاسی تجزیہ کار سند الشمری نے بتایا کہ شواہد اور دستاویزات کے مطابق حکومت کو چاہیے کہ وہ دیگر بد دیانتی کے سلسلے سے خبردار رہے جو 2014ء4 کی طرح مغربی صوبوں کے امن و امان کو ہلا سکتی ہیں۔ الشمری کے مطابق سکیورٹی اداروں کو بدعنوان عناصر سے پاک کرنا لازم ہو چکا ہے ،،، داعش سے آزاد کرائے جانے والے علاقوں میں سکیورٹی فْول پروف نہیں ہے لہذا دیالی، کرکوک، موصل اور صلاح الدین کے اطراف علاقوں میں جغرافیائی حالات کا فائدہ اٹھا کر تنظیم کی واپسی ممکن ہو سکتی ہے۔ادھر مسلح جماعتوں کے امور کے ماہر ہشام الہاشمی کا کہنا ہے کہ داعش تنظیم نے اپنی صفوں کی از سر نو تنظیم کے واسطے نئی ترکیب کا استعمال شروع کر دیا ہے اور وہ عراق اور شام میں اپنی پے در پے شکستوں کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کے لیے کوشاں ہے۔ تنظیم نے اپنے ڈھانچے کی تشکیل نو کے سلسلے میں فنڈنگ کے طریقوں میں تبدیلی کی ہے اور اب وہ مجرمانہ کارروائیوں کے ذریعے خود مال حاصل کرنے پر انحصار کر رہی ہے۔الہاشمی کے مطابق مالی بحران کے آثار داعش تنظیم کے اقدامات سے واضح ہو رہے ہیں جو عراق اور شام میں آئل فیلڈز سے ہاتھ دھو چکی ہے۔ تنظیم بیرونی فنڈنگ کے نیٹ ورکس سے ھی محروم ہو گئی ہے جو ماضی میں خطیر رقوم فراہم کرتے رہے ہیں۔

امریکی وزیر دفاع کا 30 روز کے اندر یمن کے حوالے سے امن بات چیت کا مطالبہ
واشنگٹن ،31اکتوبر( اے یوایس) امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے آئندہ تیس روز میں یمن کے حوالے سے امن بات چیت اور ملکی بحران کے کسی حل تک پہنچنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ایران پر یمن میں تنازع بھڑکانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ تہران پر لازم ہے کہ وہ اس سے باز آ جائے۔امریکی وزیر دفاع کے مطابق امن بات چیت کی شقوں میں فائر بندی، سرحدوں سے ہتھیاروں کا دور کیا جانا اور میزائلوں کو بین الاقوامی نگرانی کے تحت دینا شامل ہونا چاہیے۔ میٹس نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ سعودی عرب اور امارات اس حوالے سے بات چیت کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ “ہم تمام فریقوں سے چاہتے ہیں کہ وہ سویڈن میں ملاقات کریں اور ہتھیاروں سے خالی سرحدوں کو زیر بحث لائیں تا کہ حوثیوں کی جانب سے گھروں، شہروں اور ہوائی اڈوں کی جانب میزائلوں کے داغے جانے کا سلسلہ روکا جا سکے”۔جیمز میٹس نے واضح کیا کہ “معرکوں کا سلسلہ رکنے سے یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی مارٹن گریفتھ کو موقع ملے گا کہ وہ مختلف فریقوں کو سویڈن میں ایک میز پر اکٹھا کرلیں۔ ہم اب سے ایک ماہ کے اندر تمام فریقوں کو مذاکرات کی میز پر دیکھنا چاہتے ہیں”۔انہوں نے کہا کہ ایرانیوں نے میزائلوں اور ہتھیاروں کی اسمگلنگ کرنے والے بحری جہازوں کے ذریعے جہاز رانی کی آزادی کو معطل کر دیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ کے مطابق ایران مشرق وسطی میں اپنے ایجنٹوں کے ذریعے اس جنگ کو بھڑکا رہا ہے تاہم وہ سزا سے بچ نہیں سکیں گے۔ میٹس نے دوٹوک انداز میں کہا کہ “اس جنگ کو ختم ہونا چاہیے”۔امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ ایرانی حکومت اپنے عوام کا پیسہ بیرون ملک بہا رہی ہے ، شام کی جنگ ایرانی عوام کے لیے بے معنی ہے اور تہران عراق کو اپنے اثر و رسوخ کے دائرے میں لانے میں کامیاب نہیں ہو سکے گا۔میٹس نے مشرق وسطی کے حالات پر روشنی ڈالی اور اس بات پر زور دیا کہ شام میں امن کا یقینی بنایا جانا اس امر کا متقاضی ہے کہ جنیوا مذاکرات کے راستے پر چلا جائے اور ایرانی مداخلت کو روکا جائے۔میٹس نے کہا کہ لبنانی ملیشیا حزب اللہ کو شام سے نکل جانا چاہیے تا کہ وہاں امن ہو سکے۔

حزب اللہ لبنان کو جنگ میں جھونک دینے پر قادر ہے: آنتونیو گوتیریس
اقوام متحدہ،31اکتوبر ( اے یوایس ) اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل آنتونیو گوتیریس نے خبردار کیا ہے کہ لبنانی ملیشیا حزب اللہ اپنے ملک کو گھسیٹ کر جنگ میں لانے کی قدرت رکھتی ہے۔ سلامتی کونسل کو پیش کی جانے والی رپورٹ میں گوتیریس نے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا مطالبہ کیا۔اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے مطابق حزب اللہ ہتھیاروں کے لحاظ سے لبنان کی سب سے طاقت ور ملیشیا ہے۔ انہوں نے اپنی رپورٹ میں استفسار کیا کہ آیا لبنان کی ریاست حزب اللہ کے ہتھیاروں کے بیچ اپنی سیادت اور خود مختاری باور کرانے پر قادر ہے !گوتیریس نے اپنی رپورٹ میں اْس قرار داد پر عمل درامد کا مطالبہ کیا جو لبنان میں ملیشیاؤں کو غیر مسلح کرنے کی متقاضی ہے۔اقوام متحدہ کی رپورٹ میں شام میں جاری تنازع میں حزب اللہ کی شرکت کے نتائج سے بھی خبردار کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق یہ لبنان کی کنارہ کشی کی پالیسی کی خلاف ورزی ہے۔اسی طرح گوتیریس نے حزب اللہ کی طرف سے عسکری مشیروں اور تربیت کاروں کے ذریعے یمن میں حوثیوں کی مدد کا بھی حوالہ دیا اور اسے علاقائی اور عالمی سطح پر ایک بڑا خطرہ قرار دیا۔

انڈونیشیا نے حادثے کے شکار مسافر جہاز کے ملبے کا پتا چلا لیا
جکارتہ،31اکتوبر ( اے یوایس ) انڈونیشیا کی فوج کیسربراہ نے دعویٰ کیا ہے کہ حکام نے سوموار کے روز حادثے کا شکار ہونے والے “لیون ایئر” کے ملبے کا سراغ لگا لیا ہے۔ یہ جہاز سوموار کو علی الصباح پرواز کے کچھ ہی دیر بعد سمندر میں گر کرتباہ ہوگیا تھا۔ طیارے پر 189 افراد سوار تھے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق انڈونیشیا کے آرمی چیف جنرل ھادی تجاگانٹو نے میڈیا کو بتایا کہ ہمیں حادثے کا شکار ہونے والے بدقسمت طیارے کی جگہ کا پتا چل گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “جے ٹی 610” طیارے کا ملبہ مل گیا ہے۔ادھر انڈونیشیا کی ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے ایک عہدیدار بتایاکہ حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کا پتا چلانے کے لیے مقرر کردہ ٹیم کے غوطہ خوروں کو منگل کے روز سمندر میں طیارے کے صوتی سنگل موصول ہوئے تھے۔ بدھ کو انہوں نے جگہ کا تعین کرلیا ہے۔انڈونیشیا کی ٹرانسپورٹ اتھارٹی وائس چیئرمین ھاریو ساتمیکو نے “رائٹرز” کو بتایا کہ ہوائی جہاز سمندر میں 35 میٹر کی گہرائی میں ملا ہے۔قبل ازیں “لیون ایئر” کمپنی کی طرف سے ایک بیان میں?کہا گیا تھا کہ مسافر جہاز بانکال بینانک جاتے ہوئے حادثے کا شکار ہوگیا۔ اس ہوائی جہاز نے ایک گھنٹہ دس منٹ میں اپنی منزل پر پہنچنا تھا۔ طیارے میں عملے سمیت 189 افراد سوار تھے جن میں 181 عام مسافر دو بچے اور دو شیرخوار شامل تھے۔

چین میں ناروے کے سفیر شام کے لیے اقوام متحدہ کے نئے خصوصی ایلچی مقرر
اقوام متحدہ،31اکتوبر ( اے یو ایس ) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے چین میں ناروے کے سفیر جیر بیڈرسن کو شام میں اقوام متحدہ کا نیا ایلچی مقرر کیا ہے۔اقوام متحدہ کے سفارت کاروں نے شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر “رائٹرز” کو بتایا کہ”یواین” سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے چین میں ناروے کے سفیر بیڈرسن کو شام کے لیے نیا امن مندوب مقرر کیا ہے۔ سفارت کاروں کے مطابق سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان روس، چین، امریکا، فرانس اور برطانیہ نے غیر رسمی طورپر اس فیصلے کی توثیق کی ہے۔ادھر یو این جنرل سیکرٹری نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہوں? نے شام کے لیے نئے ایلچی کے تقرر کے لیے شامی حکومت سے بھی طویل مشاورت کی ہے۔ شامی حکومت اور اپوزیشن قوتوں کی طرف سے بھی بیڈرسن کی تعیناتی کی حمایت کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ بیڈرسن شام میں جاری تنازع کے سیاسی حل اور ملک میں جمہوریت کے لیے ان کے پیش رو دی میستورا کے کام کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔خیال رہے کہ اقوام متحدہ شام کے لیے موجودہ ایلچی اسٹیفن دی میستورا نے ذاتی وجوہات کی بناء4 پر اپنے اس اہم عہدے سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف اسلام آباد پہنچ گئے
تہران ،30اکتوبر ( اے یوایس ) ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف پاکستانی حکام کے ساتھ اغوا کیے جانے والے سرحدی محافظین اور علاقائی صورتحال پر بات چیت کرنے کے لیے ’غیر متوقع‘ ایک روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے۔پاکستان پہنچنے پر نور خان ایئر بیس پر پاکستان میں موجود ایرانی سفیر مہدی ہنردوست اور وزارت خارجہ کیاعلیٰ حکام نے ایرانی سفیر کا استقبال کیا۔سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک روزہ دورے پر آئے ہوئے جواد ظریف وزیرخارجہ خورشید محمود قریشی سے ملاقات کریں گے جبکہ وزیر اعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی ملاقات کا امکان ہے۔اس سے قبل ایرانی سفارتکار مہدی ہنردوست نے گزشتہ روز وزیر خارجہ خورشید محمود قریشی سے ملاقات کی جس میں ایرانی وزیر خارجہ کے ’عجلت‘ میں طے کیے جانے والے دورے کے حوالے سے گفتگو ہوئی۔اس حوالے سے دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹویٹ کے ذریعے بتایا کہ ’ایرانی سفیر نے دفتر خارجہ میں وزیر خارجہ سے ملاقات کی۔سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اغوا شدہ ایران کے سرحدی محافظوں کی بازیابی کا معاملہ ایرانی وزیر خارجہ کے دورے کے ایجنڈے میں سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔خیال رہے کہ 2 ہفتے قبل پاکستان کے صوبے بلوچستان سے متصل ایرانی سرحد پر تقریباً 12 سرحدی محافظوں کوعسکریت پسندوں نے اغوا کرلیا تھا جبکہ اس کی ذمہ داری ’جیش العدل‘ نامی عسکری تنظیم نے قبول کی تھی۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ عسکریت پسندوں نے سرحدی گارڈز کو اغوا کے بعد پاکستانی علاقے منتقل کر دیا تھا۔

لبنان اخبار کی سعودی عرب کے خلاف شرانگیز مہم کی عدالتی تحقیقات
بیروت،31اکتوبر ( اے یوایس ) لبنان کے ایک موقر اخبار کی جانب سے ایک منظم پالیسی کے تحت سعودی عرب کی کردار کشی، مملکت کی بدنامی اور حکومت کے خلاف شرانگیز مہم چلانے پر لبنان میں عدالتی تحقیقات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ دوسری جانب لبنان کے صحافتی حلقوں نے بھی اخبار کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف منفی پروپیگں ڈہ کرنے کی شدید مذمت کی ہے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق لبنان کے مرکزی پریس کلب کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیاہے کہ ریاست کے کسی بھی اخبار، جریدے یا اشاعتی ونشریاتی ادارے کو آئین اور قانون کی عمل داری کو یقینی بنائیں اور پیشہ وارانہ اصولوں کی خلاف ورزی سے گریز کریں۔بیان میں کہا گیاہے کہ مقامی جریدے “الدیار” نے سعودی عرب کے حوالے سے ناقابل قبول انداز اختیار کرتے ہوئے سعودی قیادت کی کردار کشی کی ہے۔ اخبار کی انتظامیہ کو اپنی پیشہ وارانہ غیر ذمہ کا اعتراف کرنا چاہیے۔درایں اثناء لبنانی کی ایک اپیل عدالت کے جج سمیر حمود نے پراسیکیوٹر جنرل عماد قبلان کو واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔خیال رہے کہ جریدہ الدیار میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں سعودی عرب کی قیادت کے خلاف غیرمہذبانہ انداز اختیار کیا گیا تھا۔ اس جریدے میں اس سے قبل بھی سعودی عرب کے خلاف خبریں اور مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں۔

اردنی حکومت نے سانحہ بحر مردار کی ذمہ داری قبول کرلی
عمان،31اکتوبر ( اے یوایس ) اردن کے وزیراعظم عمر الرزاز نے کہا ہے کہ گذشتہ جمعرات کے روز بحر مردار کے علاقے میں سیلابی ریلے میں 21 افراد کی ہلاکت کی ذمہ داری حکومت پرعاید ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بحر مردار سانحے کی ذمہ داری قبول کرنے میں کوئی عار نہیں۔ شہریوں کو اس حادثے سے بچانا حکومت کی انتظامی اور اخلاقی ذمہ داری تھی۔العربیہ کے مطابق اردنی پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ حکومت باریکی کے ساتھ بحر مردار حادثے کی تحقیقات کے ساتھ اس میں قصورار قراردیے جانے والے افراد اور اداروں کے خلاف کارروائی کا ارادہ رکھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم آئندہ کے لیے اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات کریں گے۔خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے اردن میں طوفانی بارشوں کے بعد بحر مردار کے علاقے میں سیلاب کے باعث 21 افراد جاں بحق اور 40 سے زاید زخمی ہو گئے تھے۔

پاکستان میں توہینِ مذہب کے قوانین ہیں کیا؟
اسلام آباد ،31اکتوبر ( اے یوایس ) پاکستان میں توہینِ مذہب کے قوانین کے مطابق دینِ اسلام کی توہین کرنے والے کو سزائے موت سنائی جا سکتی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان قوانین کو اقلیتی برادریوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔توہینِ مذہب کے قوانین پہلی مرتبہ برصغیر میں برطانوی راج کے زمانے میں 1860 میں بنائے گئے تھے اور پھر 1927 میں ان میں اضافہ کیا گیا تھا۔1980 اور 1986 کے درمیان جنرل ضیا الحق کی فوجی حکومت کے دور میں متعدد شقیں ڈالی گئیں۔ جنرل ضیا ان قوانین کو اسلام سے مزید مطابقت دینا چاہتے تھے اور احمدیہ برادری (جسے 1973 میں غیر مسلم قرار دیا جا چکا تھا) کو ملک کی مسلمان اکثریت سے علیحدہ کرنا چاہتے تھے۔برطانوی راج نے جو قوانین بنائے ان میں کسی مذہبی اجتماع میں خلل ڈالنا، کسی قبرستان میں بغیر اجازت کے داخل ہونا، کسی کے مذہبی عقیدے کی توہین کرنا، یا سوچ سمجھ کر کسی کی عبادت گاہ یا عبادت کی کسی چیز کی توہین کرنا جرم قرار پائے تھے۔ ان قوانین میں زیادہ سے زیادہ سزا دس سال قید اور جرمانہ تھی۔1980 کی دہائی میں توہینِ مذہب کے قوانین میں اضافہ کیا گیا۔ 1980 میں اسلامی شخصیات کے خلاف توہین آمیز بیانات کو بھی جرم قرار دے دیا گیا تھا جس میں تین سال قید کی سزا مقرر کی گئی۔1982 میں ایک اور شق شامل کی گئی جس میں جان بوجھ کر قرآن کی بیحرمتی کی سزا پھانسی رکھ دی گئی۔ 1986 میں پیغمبرِ اسلام کی توہین کی سزا بھی موت یا عمر قید رکھ دی گئی۔انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کئی سالوں سے توہینِ مذہب کے کیسز پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کیسز میں زیادہ تر مسلمانوں کو ہی پکڑا جاتا ہے۔نیشنل کمیشن فار جسٹس اینڈ پیس کے مطابق 1987 سے لے کر اب تک 633 مسلمانوں، 494 احمدیوں، 187 عیسائیوں، اور 21 ہندؤوں کے خلاف ان قوانین کے تحت مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔ان میں سے زیادہ تر توہینِ قرآن کے مقدمات ہیں اور توہینِ رسالت کے مقدمات قدرے کم ہیں۔ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کیسز میں اقلیتی برادری کا تناسب بہت زیادہ ہے اور اکثر ان کا استعمال ذاتی دشمنیوں اور لڑائیوں کی بنیاد پر ہوتا ہے اور ان کا مذہب سے کم ہی تعلق ہوتا ہے۔نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ توہینِ مذہب کا صرف الزام لگنا، یا ملزم کا دفاع کرنا ہی کسی کے ہدف بن جانے کے لیے کافی ہے۔پاکستانیوں کی اکثریت کا خیال ہے کہ توہینِ مذہب کے مرتکب لوگوں کو سزا ملنی چاہیے۔ تاہم دینی تعلیمات کیا ہیں اور آج کے قوانین ان کو کس طرح لاگو کرتے ہیں، اس حوالے سے زیادہ سمجھ بوجھ نہیں پائی جاتی۔بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ یہ قوانین جس شکل میں جنرل ضیا کے دور میں بنائے گئے وہ براہِ راست قرآن میں سے لیے گئے ہیں اور چنانچہ انسانوں کے بنائے ہوئے نہیں ہیں۔جب اس قانون کے معروف ناقد سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو انھی کے محافظ نے قتل کر دیا تو پاکستان میں لوگوں کی رائے منقسم تھی کہ ان کے قاتل کو ہیرو مانا جائے یا قاتل۔گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو ان کے ہی محافظ نے قتل کر دیا تو پاکستان میں لوگوں کی رائے منقسم تھی کہ ان کے قاتل کو ہیرو مانا جائے یا نہیں۔سلمان تاثیر کے قتل کے ایک ماہ بعد مذہبی اقلیتوں کے وزیر شہباز بھٹی جنھوں نے اس قانون کی مخالفت کی تھی، کو بھی اسلام آباد میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔جب 2016 میں سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کو سزائے موت دی گئی تو ان کے جنازے میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔متعدد سیکیولر جماعتوں کے ایجنڈے پر توہینِ مذہب کے قوانین میں اصلاحات کرنا رہا ہے۔ تاہم اس میں زیادہ پیش رفت نہیں ہوئی جس کی بنیادی وجہ معاملے کی حساسیت ہے۔2010 میں برسرِاقتدار پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے اس حوالے سے ایک بل متعارف کروایا۔ اس بل میں مذہبی جرائم کے حوالے سے پروسیجر میں تبدیلی کے لیے کہا گیا تھا تاکہ یہ کیسز اعلیٰ پولیس افسران کے پاس جائیں اور اعلیٰ عدالتیں ہی ان کیسز کو سنیں۔مگر فروری 2011 میں مذہبی جماعتوں کے زبردست دباؤ کے بعد اس بل کو واپس لے لیا گیا۔ عمران خان نے اپنی انتخابی مہم کے دوران ان قوانین کی حفاظت کرنے کا وعدہ کر رکھا ہے۔

جماعت الدعوہ سے پابندی اٹھانے پر امریکہ کو تشویش
اسلام آباد ،31اکتوبر ( اے یوایس ) امریکہ نے پاکستان کی حکومت کی جانب سے ‘جماعت الدعوہ اور اس کی ذیلی تنظیم ‘فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن’ کو کالعدم تنظیموں کی فہرست سے نکالنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کے ایک ترجمان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا ہے کہ ان دونوں تنظیموں پر پابندی کا خاتمہ ‘فنانشل ایکشن ٹاسک فورس’ (ایف اے ٹی ایف) کے ساتھ تعاون کرنے کے پاکستان کے اعلان سے متصادم ہے۔ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ کو اس اقدام پر سخت تشویش ہے جو ان کے بقول اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قرارداد نمبر 1267 کے خلاف ہے۔ترجمان کے بقول عالمی ادارے کی یہ قرارداد ان دہشت گرد گروہوں کے اثاثے منجمد کرنے اور ان پر مالی وسائل اکٹھے کرنے یا انہیں منتقل کرنے پر پابندی سے متعلق ہے جنہیں اقوامِ متحدہ دہشت گرد قرار دے چکی ہو۔پاکستان کی حکومت نے گزشتہ ہفتے ہی ملک کی ایک اعلیٰ عدالت کے سامنے اعتراف کیا تھا کہ جماعت الدعوہ اور فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن پر پابندی عائد کرنے سے متعلق جو صدارتی آرڈیننس جاری کیا گیا تھا، اس میں توسیع نہ ہونے کی وجہ سے یہ دونوں جماعتیں کالعدم نہیں رہیں۔حکومتِ پاکستان نے رواں سال فروری میں انسدادِ دہشت گردی کے قانون میں ترمیم سے متعلق ایک آرڈیننس جاری کیا تھا جس کے ذریعے ان شدت پسند تنظیموں پر پابندی عائد کردی گئی تھی جن پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے تعزیرات عائد کر رکھی ہیں۔اس آرڈیننس کو جماعت الدعوہ کے سربراہ حافظ محمد سعید نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھاجس کی گزشتہ ہفتے سماعت کے دوران حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا تھا کہ آرڈیننس غیر موثر ہونے کی وجہ سے اب یہ دونوں جماعتیں کالعدم نہیں رہیں۔پاکستان کے آئین کے مطابق اگر صدر کی جانب سے جاری آرڈیننس کی قومی اسمبلی توثیق نہ کرے اور آرڈیننس میں توسیع بھی نہ کی جائے تو وہ خود بخود چار ماہ کے بعد غیر موثر ہوجاتا ہے۔حافظ سعید کی جماعت الدعو? اور اس کی ذیلی تنظیم فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن کا شمار ان تنظیموں میں ہوتا ہے جن پر اقوامِ متحدہ اور امریکہ تعزیرات عائد کر چکے ہیں۔حالیہ برسوں میں پاکستان کو ان کالعدم تنظیموں اور عناصر کے خلاف مو?ثر کارروائی نہ کرنے پر تنقید کا سامنا رہا ہے۔پاکستان میں انسدادِ دہشت گردی کے قومی ادارے (نیکٹا) کی ویب سائٹ کے مطابق جماعت الدعو? اور فلاحِ انسانیت فاو?نڈیشن اب بھی ان تنظیموں میں شامل ہیں جو وزارتِ داخلہ کی ‘واچ لسٹ’ پر ہیں اور جن کی سرگرمیوں کی نگرانی کی جا رہی ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Ad
Ad
Ad

MARQUEE

US school students discuss ways to gun control

             Students  discuss strategies on legislation, communities, schools, and mental health and ...

3000-year-old relics found in Saudi Arabia

Jarash, near Abha in saudi Arabia is among the most important archaeological sites in Asir province Excavat ...

Ad

@Powered By: Logicsart